رشتے اور مطلبی رابطے - حیا حریم

کیسی ہیں، بہت یاد آرہی تھیں آپ۔
کام بتاؤ بس، باقی رہنے دو۔
ان کے جواب میں بے اختیار میرا قہقہہ بلند ہوا۔
میں نے سوچا کہ عموما جب بھی مجھے کوئی کام ہوتا ہے تو میں انہیں فون کرتی ہوں، اس کے علاوہ اگر کبھی راستے میں گزرتے ہوئے انہیں سلام بھی کرلوں تو یوں دیکھتی ہیں جیسے میں ابھی کوئی مدعا پیش کردوں گی۔
اور یہ ایک حقیقت ہے کہ ہم اس تیز رفتار دور میں کسی قریب سے قریب تر کو بھی اسی وقت یاد کرتے ہیں جب ہمیں ان سے کوئی ضروری کام ہو، وگرنہ سالہا سال بیت جاتے ہیں، ایک دوسرے سے ملاقات ہوتی ہے نہ کوئی رابطہ، لیکن جیسے ہی کسی مسئلے میں ان کی کبھی ضرورت آن پڑے تو ہر طریق سے ان کا رابطہ کار مل جاتا ہے، کیونکہ اس میں ہماری کوشش کو دخل ہوتا ہے۔

اب تو خوشی، غمی کے اجتماعات میں نوجوان اور بچے اپنے خاندان کے بیشتر افراد سے ملنا تو کجا ان کا نام بھی پہلی بار سنتے ہیں۔ کیونکہ ترقی اور آلات کے اس دور میں ہم سب اک مقابلہ دوڑ کی طرح بھاگ رہے ہیں، جس میں ہر بھاگنے والا اپنے اردگرد دوڑنے والے سے بے نیاز ہوتا ہے، حتی کہ اسے آخری کنارے پہنچ کر معلوم ہوتا ہے کہ اس کے کتنے ساتھی ٹھوکر کھا کر گرے تھے اور کتنے سلامت منزل مقصود تک پہنچے ہیں۔ تقریبا یہی حال ہمارا ہوتا جارہا ہے، اسی تغافل کی وجہ سے ہم قیمتی اور مخلص لوگوں کو کھو چکے ہیں۔
جبکہ آلات اور سہولیات کے دور میں یہ قدرے سہل ہے کہ ہم کبھی بلا سبب ہی کسی کو میسیج کرکے صرف اس کی خیریت دریافت کرلیں، کبھی یونہی کسی کو مختصر سا فون کرکے اس کا حال احوال پوچھ لیں، کبھی بغیر کسی خوشی یا غمی کے کسی کے گھر چکر لگا لیں اور اسے اپنی قربت کا احساس دلائیں۔

یقین مانیے! اگر ہم بلا غرض اپنے رشتوں کا احساس کرنے لگیں تو یقینا انہیں کھونے سے بچ جائیں گے، وگرنہ کچھ ہی وقتوں میں ہماری نسل نو اپنے گھر میں بسنے والوں کے علاوہ کسی بھی رشتے کو پہچاننے سے انکار کر دے گی۔

Comments

حیا حریم

حیا حریم

حیا حریم ماہنامہ حیا کراچی کی مدیرہ ہیں۔ علوم فقه میں تخصص کے بعد اب علوم قرآن میں ایم فل کر رہی ہیں۔ آن لائن تعلیم و تربیت اکیڈمی برائے قرآن و علوم عربیہ کی انچارج ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.