شہرت یا رسوائی، ویب سائٹس مالکان کے لیے - محمودفیاض

کسی شاعر نے کبھی کہا تھا کہ بدنام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا۔ آج عرصے بعد سوشل میڈیا کے آنے سے یہ مصرعہ سچائی کی نئی منزلوں کو چھونے لگا ہے۔ اب صحیح یا غلط کا تصور نہیں رہا، جو بھی نظروں میں آگیا، اس کی قسمت بن گئی۔ پہلے چینلوں کے کھل جانے سے ریٹنگ کی دوڑ نے سب کو یہ سکھا دیا کہ ریٹنگ اچھی یا بری نہیں ہوتی، بس ریٹنگ ہوتی ہے اور آمدنی لاتی ہے۔ اب سوشل میڈیا پر آئے روز کھل جانے والی نئی نئی ویب سائٹس نے بھی اس دوڑ میں اپنے گھوڑے دوڑانا شروع کر دیے ہیں۔ ویب سائٹ میں رینکنگ ہوتی ہے، جو یہ بتاتی ہے کہ کوئی ویب سائٹ کتنی مقبول ہے۔ رینکنگ کی اس دوڑ نے سوشل میڈیا میں بھی وہی رویے متعارف کروا دیے ہیں جس میں ہر کوئی یہ محسوس کر رہا ہے کہ رینکنگ رینکنگ ہوتی ہے اور وہ مقبولیت لاتی ہے۔ اس سے کوئی غرض نہیں کہ یہ رینکنگ کس طرح کے کونٹینٹ سے حاصل کی جاتی ہے۔
۔
حالیہ دنوں میں بعض ویب سائٹس پر چھپنے والی کچھ تحریروں سے یہ بحث ایک دلچسپ صورتحال اختیار کر گئی ہے۔ مجھے اتفاق سے ایسے کئی سوشل گروپس میں بات کرنے کا اتفاق ہوا جہاں لوگ اس پر بات کر رہے تھے۔ ان میں ویب سائٹس کے مدیران و مالکان بھی شامل تھے۔
۔
ان بحثوں میں ایک نکتہ نظر تو یہ تھا کہ نظریاتی ویب سائٹس کو اپنے مضامین میں ایک معیار برقرار رکھنا چاہیے۔ اظہار رائے کی آزادی اپنی جگہ مگر اخلاقی اقدار اور زبان و بیان کی شائستگی کو ملحوظ رکھا جائے تو بہتر ہے۔ اس سے ویب سائٹ کی توقیر میں اضافہ ہوگا، اور وقت کے ساتھ ساتھ اس کی ریڈرشپ بڑھ جائے گی، جس کے ساتھ ہی رینکنگ میں بھی اضافہ ہو جائے گا۔
۔
دوسرا نقطہ نظر بھی اپنی جگہ کم اہم نہیں تھا۔ ایسے بہت سے لوگ تھے جو اس نقطہ نظر کے حامی تھے کہ ویب سائٹ پر ریڈرز کو آنا چاہیے، چاہے وہ کسی بھی طرح سے آئیں۔ اگر صرف سنجیدہ مضامین پیش کیے جائیں گے تو ریڈرز نہیں آئیں گے۔ اس لیے یہ بہت ضروری ہے کہ ایسے مصالحہ دار مضامین شامل رکھے جائیں جن سے رینکنگ بڑھتی رہے۔ کیونکہ اگر رینکنگ بڑھے گی تو ریڈرز خود بخود سنجیدہ مضامین کو بھی پڑھ لیں گے۔ اگر رینکنگ نہ بڑھی تو ہماری ویب سائٹ کون دیکھے گا۔
۔
پہلے نقطہ نظر سے تو کوئی ذی ہوش انکار نہیں کرے گا کہ اعلیٰ اخلاقی اقدار کا حصول ایک بہتر انسانی معاشرے کے آئیڈیل کی حیثیت رکھتا ہے۔ البتہ دوسرے نقطہ نظر کا تنقیدی جائزہ لیتے ہیں کہ آیا کیا واقعی سوشل میڈیا پر اچھائی برائی کے پیمانوں سے بے نیاز صرف رینکنگ ہی کامیابی کی سیڑھی ہے؟
۔
اپنے پاکستان سے ہی مثال لیتے ہیں اور حالیہ دور ہی کی مثال لیتے ہیں۔ آپ کو یاد ہوگا کہ پچھلے دور حکومت میں ہمارے سارے کے سارے دانشور ”ایک زرداری سب پہ بھاری“ کے قائل ہو چکے تھے اور قوم کو بھی قائل کرنے کی کوشش میں تھے۔ زرداری صاحب نے جس طرح اپنے پینتیروں سے سارے اداروں اور عدلیہ کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگائے رکھا، سارے دانشور واہ واہ کر اٹھے کہ اصل سیاست تو یہی ہے، کتنے پرانے اور گھاگ سیاستدانوں کو دھوکہ دے دیا یا دوسرے لفظوں میں چالاکی سے مات دے دی آصف زرداری نے۔ مگر آج ان دانشوروں سے آصف زرداری کا مقام و مرتبہ دوبارہ پوچھا جائے تو وہ کہیں گے کہ آصف زرداری نے اپنے پانچ سالہ دور حکومت میں اس پارٹی کو مار دیا جو کئی لیڈرز کے مرنے کے باوجود چالیس سال سے زندہ تھی۔
۔
نتیجہ اس مثال سے یہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ کاٹھ کی ہنڈیا ہر بار نہیں پکائی جا سکتی۔ یا ایک اور سیانے کے قول کے مطابق آپ کسی کو ہر بار، یا ہر کسی کو ایک بار بیوقوف بنا سکتے ہیں، مگر آپ ہر کسی کو بار بار بیوقوف نہیں بنا سکتے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے معاشرے کی گری پڑی حالت کے باوجود عوام نے آصف زرداری کی گھٹیا سیاست کو رد کر دیا۔ اور وعدے قران و حدیث نہیں ہوتے، کہنے والے سیاستدان کو تاریخ کا بھگوڑا بنا دیا۔
۔
اب آپ الیکٹرانک میڈیا کی مثال لے لیں۔ جن چینلز نے سنسنی خیزی، اور منفی خبریت کو اپنی رینکنگ کا ذریعہ بنایا ، شروع میں تو یونہی لگا کہ ایک زرداری سب پہ بھاری، کہ ریٹنگ کا جن آسمان کو چھونے لگا، مگر رفتہ رفتہ لوگ اس کو سمجھنے لگے، اور آج ایسے چینلز کی لوگوں کے ذہنوں میں ایک مستقل تصویر بن چکی ہے۔ اور اکثر لوگوں نے ایک گھٹیا پروگرام کی وجہ سے پورا چینل ہی دیکھنا چھوڑ دیا ہے۔
۔
میرا خیال ہے کہ اگر ہم اپنے اردگرد دیکھیں تو ہمیں طرح طرح کی ایسی مثالیں ملیں گی، جس میں وقتی فائدہ کچھ کم ذہنوں کو اس حد تک متاثر کرتا ہے کہ وہ اسی کو آفاقی سچ سمجھنے لگ جاتے ہیں۔ اور ان میں سے جو بزعم خود دانشور ہوتے ہیں، وہ دوسروں کو بھی سمجھانا شروع کر دیتے ہیں کہ بھائی جی اب یہی چلن ہے، یہی رستہ ہے۔
۔
مگر جو نظر رکھتے ہیں، وہ سمجھ جاتے ہیں کہ آفاقی سچ بدلا نہیں کرتے۔ اصلی کامیابی فوراً نہیں ملا کرتی، اور اکثر مسلسل محنت اور لگن سے ملا کرتی ہے۔ اور وہی مستقل ہوتی ہے۔ عارضی فائدے والے عارضی فائدہ ہی لے پاتے ہیں۔
۔
سوشل میڈیا کے ویب مالکان سے درخواست ہے کہ ایسے رویوں کی حوصلہ شکنی کی جائے جو آپ کو وقتی رینکنگ تو دے دیں مگر اصل میں آپ کی شناخت ایک نظریاتی پلیٹ فارم سے نفسانی تسکین کے کونے میں تبدیل کر دیں۔
۔
امید ہے میرے اس تجزیے سے وہ لوگ متفق ہوں گے جو ایسے سوشل پلیٹ فارم کا آغاز کرتے ہوئے قومی خدمت اور محنت کے جذبے سے سرشار تھے اور مسلسل مسابقت جن کو ایسی وقتی بوسٹر ڈوز کی طرف مائل کر چکی ہے اور وہ کنفیوز ہیں کہ ہماری عوام تو جنسیات پر پڑھنا چاہتی ہے تو ہم وہی کیوں نہ چھاپیں۔
۔
میرا مشاہدہ ہے کہ جو رسالے، میگزین، یا ویب سائٹس اپنے آغاز میں جنسیت اور سنسنی خیزی کے دلدادہ کو بحیثیت ریڈر قبول کر لیتے ہیں، بالاخر وہی ان کی پہچان بن کر ان کی رسوائی کا باعث بن جاتے ہیں۔ اب فیصلہ انہوں نے خود کرنا ہے کہ ان کو محنت والی شہرت چاہیے، یا راتوں رات مل جانے والی رسوائی۔
؎ فیصلہ تیرا تیرے ہاتھوں میں ہے، دل یا شکم

Comments

محمود فیاض

محمود فیاض

محمود فیاض نےانگلستان سے ماس کمیونیکیشنز میں ماسٹرز کیا اور بین الاقوامی اداروں سے وابستہ رہے۔ آج کل وہ ایک عدد ناول اور ایک کتاب پر کام کر رہے ہیں۔ اساتذہ، کتابوں اور دوستوں کی رہنمائی سے وہ نوجوانوں کے لیے محبت، کامیابی اور خوشی پر لکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.