توکل کیا ہے، شرائط و علامات کیا ہیں؟ شاکر اللہ چترالی

عبادت کی حقیقت یہ ہےکہ انسان ربوبیت کے آگے تدبیر و اختیار ترک کردے، جب ’اتمامِ مقام عبدیت‘ ترکِ تدبیر پر موقوف ہے تو بندے کو سزاوار ہے کہ تدبیر کو ترک کردے اور تسلیم و تفویض کی راہ چلے تاکہ مقامِ اکمل اور مسلک افضل تک پہنچے۔ یوں بھی جب انسان کو انجام کار کی خبر نہیں ہے، اور اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کسی بات میں نفع سمجھ کر اس کی تدبیر کی، لیکن الٹا اس میں نقصان ہوگیا۔ بسا اوقات مصیبت کی راہ سے فوائد حاصل ہوگئے اور فوائد کی راہ سے مصیبتیں پہنچ گئیں۔ جی ہاں! ایسا بھی ہو جاتا ہے کہ مضرت کی راہ سے مسرت مل گئی اور مسرت کی راہ سے مضرت آگئی۔ اکثر بار محنت میں منت اور منت میں محنت پوشیدہ ہوتی ہے۔ بہت دفعہ دشمنوں کے ہاتھ سے منفعت اور دوستوں کے ہاتھ سے ایذا پہنچتی ہے۔ جب ایسا قصہ ہے تو عاقل سے کیسے ممکن ہے کہ اللہ کے آگے تدبیر چلائے حالانکہ اتنی خبر نہیں کہ مسرت کہاں ہے کہ اس کو حاصل کرے اور مضرت کہاں ہے کہ اس سے بچے؟

جاننا چاہیے کہ ’تقدیر کے آگے تدبیر نہیں چلتی‘، اس حقیقت کے باوجود بھی نصوص کی روشنی میں اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ تدبیر مشروع ہے، جس کی ایک ممکنہ حکمت اظہار ضعف ہےکہ ’اے اللہ! ہم کمزور ہیں، ہم میں برداشت اور صبر کی ہمت نہیں‘۔ دوسری ممکنہ حکمت یہ ہو سکتی ہے کہ تدبیروں کی ناکامی سے انسان اسباب کے پردہ میں پنہاں مدبرِحقیقی اور مسببُ الاسباب کو پہچان لے چنانچہ عموماً خواص کے ساتھ یہی ہوتا ہے کہ ان کی تدبیریں بے کار رہتی ہیں البتہ عوام کا معاملہ ذرا مختلف ہے۔

ترک ِتدبیر یا ترکِ اسباب کے سلسلے میں یہ اصول سمجھنا چاہیے کہ اسباب کی تین قسمیں ہیں
(۱) اسباب قطعیہ مثلاً کھانے سے بھوک کا مٹنا، اگرچہ بطور خارق عادت کے بغیر کھانے کے بھی بھوک مٹ سکتی ہے۔ ایسے اسباب کو ترک کرنا شرعاًحرام ہے.
(۲) اسباب ظنیہ جیسے معاش کے مختلف اسباب۔ ایسے اسباب میں حکم یہ ہے کہ اگر نفس میں قوت پاوے اور پریشانی نہ ہو تو ترک جائز ہے، البتہ ایسے اسباب میں مکمل انہماک بہر صورت ناجائز ہے.
(۳) اسباب وہمیہ جن پر مسببات کا مرتب ہونا بعید ہو جیسے شیخ چلی طرز کے منصوبے، تو ایسے اسباب کا ترک واجب ہے۔

اسی ترک ِتدبیر یا ترک ِاسباب کا اصطلاحی نام ’’توکل ‘‘ ہے۔ توکل ایک عظیم ایمانی صفت ہے۔ تکمیل ایمان کے لیے ہر مسلمان کا اس سے متصف ہونا ضروری ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی مدد اور رزق کو کھینچ لاتی ہے۔ دنیا میں شیطان سے بچنے اور آخرت میں بلا حساب کتاب دخولِ جنت کا ذریعہ ہے. اس مختصر تحریر میں دس ذیلی عنوانات قائم کر کے اسی صفت توکل کو بیان کرنے کوشش کی گئی ہے۔

۱) تعریف
لغوی معنی
:[pullquote]توکل الشخص فی الامر: اذا اظہر الشخص العجز و اعتمد علی غیرہ[/pullquote]

کسی بھی معاملے میں اپنی عاجزی ظاہر کرکے کسی اور پر بھروسہ کرنا

اصطلاحی معنی:
حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی فرماتے ہیں: توکل ایسی تفویض کلی ہے جس کی وجہ سے اسباب کا اختیار کرنے کا سلسلہ ختم ہو جائے۔
خاندانِ نقشبند کے سرخیل حضرت بایزید بسطامیؒ فرماتے ہیں: اپنی تدبیر کو اس کی تدبیر میں فنا کر دینا اور اللہ تعالی پر بطور وکیل اور مدبر راضی ہونا توکل ہے۔
مشہور صوفی بزرگ امام قشیری فرماتے ہیں: توکل معاملات کی اللہ تعالیٰ کو سپرد کرنے کا نام ہے جس کی علامت تقدیر کو دیکھتے ہوئے تدبیر ترک کردینا ہے اور موجود کے مقابلےمیں موعود پر یقین رکھنا ہے، اس کی نشانی اسباب کے نہ ہونے کے باوجود اضطرابی کیفیت کا نہ ہونا ہے۔
شیخ عبد القادر جیلانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: تمام تر اسباب کو ترک کرنا توکل ہے.
شیخ ابن العربی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عالم دنیا میں مختلف اشیاء کے لیے موضوع اسباب کی عدم موجودگی میں اضطراب اور پریشانی کا ہونا توکل ہے۔

۲) توکل اور قرآن کریم
ارشادربانی ہے:
اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلہِ عَلَيْہِ تَوَكَّلْتُ عَلَيْہِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُوْنَ (یوسف۶۷)

حکم اللہ کے سوا کسی کا نہیں چلتا۔ اسی پر میں نے بھروسہ کر رکھا ہے، اور جن جن کو بھروسہ کرنا ہو، انہیں چاہیے کہ اسی پر بھروسہ کریں۔

حضرت یعقوب علیہ السلام نے نظرِبد یا کسی بھی ممکنہ شرّ سے بچنے کی تدبیر بتانےکے بعد تدبیر کی حقیقت بھی واضح فرما دی۔ عمل سے بتا دیا کہ تدبیر جائز ہے اور قول سے بتا دیا کہ تدبیر بمقابلہ تقدیر ہیچ ہے جس سے کسی بھی مسلمان کے لیے یہ لائحہ عمل معلوم ہوا کہ تدبیر ضرور کرے مگر بھروسہ اللہ پر ہی ہو مگر افسوس سے کہنا پڑتا ہےکہ اسباب نہ ہوں تو نگاہیں اللہ تعالیٰ کی طرف مکمل انکساری سے اٹھتی ہیں مگر اسباب ہوں تو دل کو نسبتاًتسلی رہتی ہے، یہ توکل کے فقدان کی علامت ہے، دونوں حالات میں کیفیت یکساں رہنی چاہیے۔
[pullquote]ارشاد ربانی ہے: اِنَّہٗ لَيْسَ لَہٗ سُلْطٰنٌ عَلَي الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَلٰي رَبِّہِمْ يَتَوَكَّلُوْنَ(النحل۹۹)[/pullquote]

شیطان کا بس ایسے لوگوں پر نہیں چلتا جو ایمان لائے ہیں، اور اپنے پروردگار پر بھروسہ رکھتے ہیں۔

اس آیت میں اس کا بیان ہے کہ جو شخص ایمان اور توکل کو ٹھیک کرے، اس پر شیطان کا بس نہیں چلتا کیونکہ شیطان دو طرح سے آتا ہے یا تو عقائد میں شک ڈال دیتا ہے یا مخلوق کی طرف مائل کرکے اس پر اعتماد کراتا ہے۔ شک کی نفی ایمان سے ہوگئی اور اعتماد علی الخلق کی نفی توکل سے ہو جائے گی۔ پس ایمان اور توکل علی اللہ اس لعین اور اس کے شر سے بچنے کا اصل ذریعہ ہے، مگر افسوس کہ حفاظت اور بچاؤ کے اس اصل اور حقیقی سامان سے دنیا کی اکثریت آج غافل و محروم ہے۔ اکثریت بےایمانوں کی ہے۔ یا پھر برائے نام ایمان رکھنے والوں کی۔ اور بھروسہ بھی ان کا اللہ پاک کے بجائے اور طرح طرح کی ضعیف و بےجان مخلوق بلکہ وہمی اور فرضی حیلوں، حوالوں اور بےحقیقت چیزوں پر ہوتا ہے۔ والعیاذ باللہ

۳) توکل احادیث مبارکہ کی روشنی میں
ارشادِ نبوی ہے: تم کو اگر اللہ پر پورا بھروسہ ہوتا جیسا ہونا چاہیے تو تم کو اس طرح رزق دیتا کہ صبح کو بھوکے آشیانوں سے آتے ہیں اور شام کو سیر ہوکر لوٹتے ہیں (ترمذی شریف)
ایک اور حدیث میں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ جب نبیﷺ معراج تشریف لے گئے تو آپﷺ سے کہا گیا: آپ کی امت کے ستر ہزار آدمی ایسے ہیں جو بغیر حساب و کتاب جنت میں داخل ہوں۔ آپ ﷺ نےفرمایا: یہ وہ لوگ ہیں جو نہ داغتے ہیں نہ جھاڑ پھونک کرتے ہیں اور نہ ہی بدفالی لیتے ہیں بلکہ اپنے رب پر بھروسہ اور توکل کرتے ہیں۔ (ترمذی)

۴) اقوال ِصوفیاء فی التوکل
شیخ عبد القادر جیلانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: متوکل رب کے وعدے پر مطمئن رہتا ہے، صاحب تسلیم اللہ تعالیٰ کے علم پر اکتفاء کرتا ہے، تدبیر اور دعا بھی نہیں کرتا اور صاحب تفویض اللہ تعالیٰ کے حکم پر راضی برضا رہتا ہے۔
امام قشیری فرماتے ہیں: عام متوکلین پر جب نوازش ہوتی ہے تو شکر کرتے ہیں اور ابتلاء میں صبر کرتے ہیں۔ خواص ملنے پر ایثار کرتے ہیں اور نہ ملنے پر شکر کرتے ہیں۔
شیخ ذوالنون مصری: معبودانِ کثیرہ کی اطاعت سے نکل کر معبودِ واحد کی اطاعت میں لگ جانا اور اسباب اور تدبیر کو ترک کر دینا توکل ہے.
شیخ ابو عبد الرحمن السلمی: تمام احوال میں کفایت کی جو اللہ تعالیٰ نے ضمانت لی ہے، اس پر بھروسہ کر کے اپنے معاملات کو مکمل طور پر اللہ تعالیٰ کے سپرد کرنا اور خود سےتدبیر و کوشش کے لیے متحرک نہ ہونا توکل ہے۔

۵) طبقات ِ متوکلین:
پہلا طبقہ: وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے یوں سپرد کیا کہ جلب منعت اور دفع مضرت کے لیے اسباب کوترک کردیا۔
دوسراطبقہ: وہ لوگ ہیں جنہوں نے صرف ضروریات کی حد تک جلب منفعت اور دفع مضرت کے لیے اسباب کو اختیار کیا۔
تیسرا طبقہ: وہ لوگ ہیں جنھوں نے ضروری اور غیر ضروری ہر طرح کے معاملات میں اسباب کو اختیار کیا مگر نظر ان کی مسبب الاسباب ہی پر رہی۔

۶) توکل کے درجات
پہلا درجہ توکیل: ناموافقات میں شکایت ترک کرنا۔ یہ صالحین کا توکل ہے۔
دوسرا درجہ تسلیم: تقسیمِ معائش میں اپنے مقررہ حصے پر دلی رضامندی۔ یہ ابرار کا توکل ہے۔
تیسرا درجہ تفویض: صرف رضامندی نہیں بلکہ پسندیدگی بھی ہو۔ یہ انبیاء کا توکل ہے۔
تیرا غم بھی مجھ کو عزیز ہے
کہ تیری دی ہوئی چیز ہے

۷) مراتبِ توکل
ادنیٰ مرتبہ: متوکل کا اعتماد اللہ تعالیٰ پر اس درجہ میں ہو جتنا اعتماد مؤکل کا اپنے قابل اعتماد وکیل پر ہوتا ہے مگر اس کو تھوڑا سا کھٹکا رہتا ہے۔
متوسط مرتبہ: متوکل کا اعتماد اللہ تعالیٰ پر اس طرح ہو جس طرح بچے کا اعتماد اپنی ماں پر ہوتا ہے، ذرہ برابر شک اور تھوڑا سا کھٹکا بھی نہیں ہوتا ہے۔
اعلیٰ مرتبہ: انسان اپنی حرکات و سکنات میں اللہ تعالیٰ کے سامنے ایسا ہو جیسا مردہ بدستِ زندہ وہ ہر گھڑی بتسلیم و رضا اپنے ساتھ قضا و قدر کے معاملات کا نظارہ کر رہا ہوتا ہے۔

۸) حکایات در توکل:
ایک جماعت شیخ جنید بغدادی کے پاس آگئی اور کہنے لگی کہ ہم رزق طلب کر رہے ہیں، روزی کی تلاش میں ہیں۔
حضرت نے فرمایا: اگر اس کی جگہ معلوم ہے تو ضرور تلاش کرلو!
و ہ کہنے لگے: اللہ تعالیٰ سے مانگیں گے.
حضرت نے فرمایا: اگر یہ سمجھتے ہوکہ وہ تمھیں بھول گئے ہیں تو پھر بےشک دعا کر کے ان کو یاد دلا دو!
پھر وہ کہنے لگے: مسجد میں جا کر توکل کر کے بیٹھ جائیں گے.
حضرت نے فرمایا: یہ تجربہ کرنے والی بات ہے اور تجربہ کرناگویا شک کرنا ہے.
اس پر کہنے لگے: کیا طریقہ اور تدبیر اختیار کرنا چاہیے؟
حضرت فرمانے لگے: ہر حیلہ و تدبیر کو ترک کرناچاہیے۔

حضرت شقیق بلخی فرماتے ہیں کہ ایک بار قحط کے ایام میں کسی جگہ گزر ہوا، ایک غلام کو دیکھا کہ خوش وخرم ہے، اس مصیبت کی خبر نہیں جس میں لوگ گرفتار ہیں، میں نے پوچھا: اے جوان! تجھ کو خبر نہیں کہ لوگ کس بلا میں مبتلا ہیں؟ کہنے لگا: مجھ کو تو پرواہ نہیں، میرے مالک کے پاس ایک گاؤں ہے، ہر روز کے خرچ کےلائق ہمارے یہاں آجاتا ہے، میں نے اپنے دل میں کہا: اگر اس کے مالک پاس ایک پورا گاؤں ہے تو میرے مالک کے پاس تمام آسمان و زمین کے خزانے ہیں، مجھ کو اس کے مالک پر بھروسہ کے مقابلے میں اپنے مالک پر توکل کرنا زیادہ زیبا ہے۔ یہی سبب میری آگاہی کا ہوا. (تقدیر و تدبیر)

شیخ تاج الدین بن زکریا عثمانی ؒ فرماتے ہیں: ایک عورت کے پاس اس کا بھتیجا بچپن میں زیر تربیت تھا۔ وہ اس کے لیے فرصت میں چھپ کے سے کھانا تیار کرکے الماری میں رکھ دیتی تھی۔ جب بچہ کھانا مانگتا تو وہ اسے کہتی، جاؤ! الماری کے پاس جا کر اللہ تعالیٰ سے مانگو، وہی آپ کوکھانا دے دیں گے۔ یہ سلسلہ کافی مدت تک جاری رہا. ایک دن وہ کہیں چلی گئی، اسے دیر ہوگئی، پھر یاد آنے پر جلدی جلدی آنے لگی تاکہ اس بچے کا اعتقاد خراب نہ ہو۔ آ کر بچے سے کہنے لگی بھوک لگ گئی؟
بچہ بولا: نہیں میں نے کھانا کھا لیا.
پوچھا: کہاں سے کھایا؟
بچہ بولا : اللہ تعالیٰ نے دے دیا جس طرح مجھے روز دیتا ہے.
پھر اسے اسی طرح کھانا ملتا رہا، یہاں تک کہ فوت ہوگیا، اس لیے کہتے ہیں کہ عوام کا کھانا یمین ( ہاتھ کی کمائی) میں ہے اور خواص کا کھانا یقین میں ہے۔

ایک شخص کی حکایت ہے کہ قبروں میں سے کفن چوری کرتا تھا، پھر توبہ کرلی، اس نے ایک عارف سے کہا کہ میں نے ایک ہزار کفن چرائے ہیں، مگر میں سب مردوں کے منہ قبلے سے پھرے ہوئے پائے. اس عارف نے کہا کہ بدگمانی رزق نے ان کے منہ کو قبلے سے پھیر دیا، یعنی چونکہ رزاق پر بدگمانی کر کے کہ دیگا یا نہیں؟ دوسرے اسباب کی طرف رخ کرتے تھے، اس کی سزا میں یہ رخ ظاہری بیت اللہ سے پھرگیا (تقدیر و تدبیر)

۹) اقسام توکل
مبتدی کا توکل: طلبِ معاش کے اسباب کو ترک کرنا.
متوسط کا توکل: اللہ تعالیٰ کی تلاش میں طلبِ معاش ہی کو ترک کرنا.
منتھی کا توکل : اللہ تعالیٰ کی محبت میں ماسوا کے ساتھ ہر تعلق کو ختم کرنا.

۱۰)علامات ِتوکل
عوام کے ہاں توکل کی علامت یہ ہے: فقیر سوال نہ کرے، بن مانگے ملے تو رد نہ کرے، ضرورت پوری ہونے پر ذخیرہ نہ کرے.
خواص کے توکل کی علامت یہ ہے: فقیر ہر حال میں قلبی طور پر نہایت پر سکون اور مطمئن رہے، ہر خطرے میں گر کر بھی اس کا دل مضطرب و متحرک نہ ہو