اسلامی بینکاری اور پروفیسر عمران احسن نیازی کی آراء (3) - محمد ابوبکر صدیق

اسلامی بینکوں کے سارے معاملات؛ اکاؤنٹ اوپننگ، قرضہ جات کے اجرا، دستاویزات کی ڈسکاؤنٹنگ یا دیگر طرق، گارنٹی، ایل سی جاری کرنا، رہن، مورٹگیج وغیرہ جیسے سب معاملات پر پارلیمنٹ کی قانون سازی ہونی چاہیے، ورنہ اسلامی بینکاری غیر قانونی متصور ہوگی۔ اس طرح اسلامی بینکاری کا ایک ایسا ماڈل وجود میں آئے گا جو قانونی ہونے کے ساتھ اسلامی بھی ہوگا۔ یعنی پارلیمنٹ کی قانون سازی کے ذریعے ہر ایک پروڈکٹ کا اسلامی ڈھانچہ مقرر ہوجائے گا تو پھر ہر اسلامی بینک پر لازم ہوجائے گا کہ وہ اپنی اپنی ویب سائٹس پر اپنے کنٹریکٹ کی کاپیاں، گارنٹی، اور دیگر ڈاکومنٹس کو ڈال دیں جس تک ہر کسی کی رسائی ہو۔ اس طرح قانون سازی اسلامی بینکاری کو قانونی جواز بھی ملے گا اور اسلامی ہونے کا اعتماد بھی۔ اس کے بغیر اسلامی بینکاری غیر قانونی ہے۔ اگر اسلامی بینکاری موجود ہ طرز پر اسی طرح چلنے دی جاتی ہے تو پھراسی پر قیاس کرتے ہوئے عوام الناس کو آفر کرنے والی دوسری پرائیویٹ اسکیموں کو بھی اجازت دے دی جائے۔ (پیرا گراف نمبر 5)

دعوے کا تجزیہ :
اسلامی بینکاری پر قانون سازی سے متعلق تو اسلامی بینکاری کے حاملین بھی قائل ہیں جیسا کہ گزشتہ قسط میں اس کا ذکر ہوچکا ہے۔

اس دعوے میں دو معلومات غلط ہیں۔ اول یہ کہ اسلامی بینک قرضہ جات کا اجرا بالکل نہیں کرتے۔ دوسرا اسلامی بینکوں کو دستاویزات کی ڈسکاؤنٹنگ کی بھی اجازت نہیں ہے، کیونکہ وہ سود کے زمرے میں آتی ہے۔ اس لیے ایوفی شریعہ اسٹینڈرڈ بھی اس کی اجازت نہیں دیتا۔ لیکن کچھ احباب اس پر مُصِر ہوتے ہیں کہ اسلامی بینک سودی بینکوں کی طرح قرضہ جات میں ہی ڈیل کرتا ہے۔ اسلامی بینک کا مرابحہ، مضاربہ، سلم وغیرہ کچھ بھی ہو، اُن کے نزدیک وہ سب کچھ حقیقت میں قرض ہی ہے جس کے مختلف نام رکھے جاتے ہیں۔اس صورت میں سوائے دعا کے کچھ نہیں کیاجا سکتا۔

قانون سازی کے بعد اسلامی بینکاری کی ہر پروڈکٹ کی اسلامی صورت متعین ہوجائے گی، کا دعوی قابل غور ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا وہ ایک صورت تمام فقہی مکاتب فکر کے لیے یکساں قابل عمل ہوگی؟ کیونکہ محترم نیازی صاحب اور ان کے مؤقف کے حاملین اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ اسلامی بینکاری نظریہ تلفیق پر چل رہی ہے تو کیا یہاں تلفیق آپ کے لیے قابل قبول ہوگی؟

اسلامی بینکاری کی جن دستاویزات کا ذکر کیاگیا ہے وہ ساری کی ساری مہیا ہوجاتی ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ کلائنٹ کی سائن شدہ کاپی تو نہیں دی جاتی اور وہ تو کوئی بھی نہیں دیتا۔ پروڈکٹس سے متعلق جنرل ڈاکومنٹس تو اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی ویب سائٹ پر درج ذیل لنک پر موجود ہیں اور تمام اسلامی بینک انھی سے استفادہ کرتے ہیں۔

[http://www.sbp.org.pk/press/essentials/Essentials-Mod-Agreement.htm]

اسی طرح دیگر اسلامی بینکوں کی دستاویزات بھی ان کی ویب سائٹس پر مل جاتی ہیں۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان بینکوں اور دیگر مالیاتی اداروں کے لیے ریگولٹری اور سپر ویژن اتھارٹی ہے جو ایک حکومتی ادارہ ہے، جس نے بینکنگ کمپنی آرڈیننس میں اسلامی بینکنگ سے متعلق ترمیم کے ذریعے اسلامی بینکنگ کو قانونی جواز فراہم کیا ہے اور لائسنس جاری کیا ہے۔ اس کے علاوہ دیگر قانون سازی کی اہمیت کو واضح کرنا راقم کے دائرہ کار سے باہر ہے۔ لیکن اس سے یہ کہاں ثابت ہوتا ہے کہ اگر یہ قانون سازی نہ ہو تو نظام بھی اسلامی نہیں رہتا۔ اور اس پر قیاس کرتے ہوئے دیگر پرائیویٹ اداروں کو بھی اجازت دے دی جانی چاہیے والی بات بھی قیاس مع الفارق کی صورت ہے۔ جب حکومت پاکستان کے ایک ادارے نے جازت دے دی ہے اور اسے ریگولیٹ اور سپروائز کر رہا ہے تو کیا قانونی جوازکے لیے یہ کافی نہیں ہے! نیز مقننہ کی قانون سازی کا تعلق کسی چیز کے شرعی جواز اور عدم جواز سے نہیں ہے۔ شرعی جواز و عدم جواز کا تعلق فقہ اور فقہا کے مرہون منت ہے، ورنہ کئی ایسے قانون ہیں جو مقننہ نے بنائے ہیں لیکن شریعت سے متصادم ہیں اور خود محترم نیازی صاحب اس پر بارہا لکھ بھی چکے ہیں۔

Comments

محمد ابوبکر صدیق

محمد ابوبکر صدیق

محمد ابوبکرصدیق بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے شعبہ اکنامکس، اسلامی بینکنگ میں تدریس کے فرائض سر انجام دیتے ہیں۔ قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے معاشیات میں ماسٹر، اسلامی یونیورسٹی سے ایم ایس اسلامک بینکنگ کیا، اب پی ایچ ڈی اسکالر ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.