دورہ آسٹریلیا، کیا پایا؟ شاہد اقبال خان

ہمارے تجزیہ نگاروں اور کرکٹ فینز کے ساتھ ایک مسئلہ یہ رہا ہے کہ جیت کے وقت غلطیوں اور شکست کے بعد مثبت باتیں تلاش کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔ ایک فتح کے بعد اگلا چیلنج اس فتح کے تسلسل کو برقرار رکھنا ہوتا ہے جو ظاہر ہے غلطیاں ڈھونڈ کر انھیں سدھارے بغیر ممکن نہیں۔ شکست کے بعد بڑا چیلنج شکست کے سلسلے کو روکنا ہوتا ہے۔ شکست کے بعد فتح حاصل کرنے لے لیے غلطیوں سے سیکھنا تو ضروری ہے ہی مگر اس سے بھی زیادہ اہم بات ٹیم کا مورال ہوتا ہے کیونکہ گرے ہوئے مورال کے ساتھ جتنی بھی تیاری کی جائے، بیکار ثابت ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میں شکست کے بعد ہمیشہ ٹیم کی مثبت باتیں تلاش کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔

دورہ آسٹریلیا ہمیشہ کی طرح ناکام ثابت ہوا۔ بارہ سال سے جاری سلسلے میں ایک اور اضافہ ہوا۔ آن پیپر پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم آسٹریلیا سے کافی بہتر تھی۔ امید یہ تھی کہ پاکستان آسٹریلیا کو تاریخ میں پہلی بار اس کی سرزمین پر ٹیسٹ سیریز ہرانے میں کامیاب ہو جائے گا، مگر اسے ہوم کنڈیشنز میں ہرانا کبھی بھی آسان نہیں تھا۔ ٹیسٹ سیریز پاکستان نے صرف تین سیشنز میں ہاری۔ پہلے ٹیسٹ کے دوسرے دن کا تیسرا سیشن، دوسرے اور تیسرے ٹیسٹ کے آخری دنوں کے درمیانی سیشنز کو اگر نکال دیا جائے تو پاکستان آسٹریلیا پر باقی تمام سیشنز میں حاوی رہا۔ یہ ایک سیشن میں میچ ہارنا اس بات کو ظاہر کرنے کے لیے کافی ہے کہ پاکستان کی شکست کی اصل وجہ کرکٹ نہیں بلکہ نفسیاتی کمزوری ہے۔ بنگلہ دیش کی ٹیم بہت اچھی کرکٹ کھیل کر بھی پہلا ٹیسٹ اور پہلی ون ڈے سیریز جیتنے کے لیے کافی سال ترستی رہی کیونکہ مسلسل شکستوں کی وجہ سے ان میں یہ اعتماد ختم ہو چکا تھا کہ وہ جیت سکتے ہیں۔ آسٹریلیا میں پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم کی شکست کی وجہ بھی یہی عدم اعتماد تھا جو مسلسل بارہ سال تک ہارنے کی وجہ سے ذہنوں پر سوار رہا۔

یہ بھی پڑھیں:   ہندوستان میں پہلی اور سب سے بڑی کاروباری یونیورسٹی - جہانزیب رضی

ٹیسٹ سیریز میں اظہر علی کی شکل میں پہلی بار کسی پاکستانی بیٹسمین نے آسٹریلوی باؤلرز کو ناکوں چنے چبوائے۔ اظہر علی نے نہ صرف ڈبل سنچری بنا کر کسی بھی پاکستانی بلے باز کا آسٹریلیا میں سب سے لمبی اننگز کھیلنے کا ریکارڈ بنایا بلکہ سیریز میں چار سو سے زیادہ رنز بنا کر ایک سیریز میں آسٹریلیا میں سب سے زیادہ رنز کرنے والے پاکستانی بھی بنے۔ اسد شفیق اور سرفراز احمد کا یہ پہلا دورہ آسٹریلیا تھا مگر دونوں نے نچلے نمبرز پر آنے کے باوجود شاندار کھیل کا مظاہرہ کیا، خاص کر اسد شفیق کی پہلے ٹیسٹ میں سنچری کو تو مزاحمت کی مثال کے طور پر بہت سالوں تک یاد رکھا جائے گا۔ مصباح الحق اپنے کیرئیر میں پہلی بار آؤٹ آف فارم نظر آئے۔ اتنے بڑے بلے باز کا پہلی بار آؤٹ آف فارم ہونا کسی کو اس بات کی اجازت نہیں دیتا کی اس پر تنقید کی جائے۔ یونس خان نے ناکامیوں کے بھنور میں سے اچانک نکل کر بڑی اننگز کھیلنے کی روایت کو برقرار رکھا اور سب ممالک میں سنچری کرنے والے پہلے بلے باز بننے کا منفرد اعزاز بھی اپنے نام کیا۔

پاکستان کی باؤلنگ عمومی طور پر پاکستان کا ٹرمپ کارڈ رہی ہے اور اس سیریز میں بھی محمد عامر اور یاسر شاہ پر ہی تکیہ تھا مگر وہ دونوں اچھی باؤلنگ کے باوجود تاثر چھوڑنے میں ناکام رہے۔ محم عامر، شعیب اختر، وقار یونس اور بریٹ لی کی طرح کا باؤلر نہیں جو تن تنہا ایک ہی سپیل میں میچ جتوا سکے۔ وہ وسیم اکرم، گلین میگراتھ اور شان پالک سے مماثلت رکھتا ہے۔ ایسے بولرز بلے باز کو ٹریپ کرتے ہیں جس سے بلے باز غلط شارٹ کھیل کر آؤٹ ہوتا ہے۔ ان باؤلرز کو دوسرے اینڈ سے بھی سپورٹ کی ضرورت ہوتی ہے، ورنہ یہ مؤثر ثابت نہیں ہوتے۔ اگر وسیم اکرم، میگراتھ اور پالک کے وہ میچز نکال لیے جائیں جن میں ان کے ساتھ کوئی سٹار باؤلر نہیں کھیل رہا تھا تو ان میچز میں ان کی کارکردگی بہت عام سی دکھائی دیتی ہے۔ یاسر شاہ کے ساتھ بھی یہی مسئلہ رہا۔ امارات میں ایک اضافی سپنر کے کھیلنے کی وجہ سے یاسر کو پرپشر بنانے کا موقع ملتا ہے جو آسٹریلیا میں نہیں ہو سکا۔

یہ بھی پڑھیں:   رک جائیے، پلیز رک جائیے - عامر ہزاروی

ون ڈے سیریز میں کسی کو بھی پاکستان کے جیتنے کی امید نہیں تھی کیونکہ پاکستان کی ون ڈے ٹیم ابھی تشکیل نو کے مرحلے سے گزر رہی ہے مگر پاکستان ٹیم نے سیریز بڑے مارجن سے ہارنے کے باوجود اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ پاکستان نے سیریز میں چا بار آسٹریلیا کو شکست کے خطرے سے دوچار کیا مگر پھر وہی نفسیاتی مسائل آڑے آئے اور میچ فنش نہیں کیا جا سکا۔ انفردای طور پر بابراعظم اور شرجیل خان نے آسٹریلوی پیس اٹیک کی جس طرح سے درگت بنائی، یہ پاکستان کرکٹ کے لیے ایک نیک شگون ہے۔ شرجیل خان اگر آسٹریلیا کی باؤنسی وکٹوں اور بڑے گراؤنڈز پر رنز بنا سکتا ہے تو ایشیائی وکٹوں پر وہ تمام ٹیموں کے لیے بڑے خطرے کی گھنٹی ہے۔ بابراعظم تاریخ کے بڑے بلے بازوں میں شامل ہونے جا رہا ہے۔ محمد حفیظ اور جنید خان نے بھی انٹرنیشنل کرکٹ میں اچھی واپسی کی۔ محمد عامر کو اننگز کے آغاز کے لیے ون ڈے میں جنید اور حفیظ کی شکل میں اچھا باؤلنگ پارٹنر ملا ہے جس سے اس کی ون ڈے میں کارکردگی میں بھی نمایاں فرق آیا ہے۔ ٹیسٹ میں بھی جنید خان اور محمد آصف کی شمولیت سے محمد عامر ایک بالکل ہی مختلف اور خطرناک باؤلر نظر آئے گا۔