سی پیک پر خدشات کیوں غلط ہیں؟ ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

سی پیک پر خدشات کا اظہار کرنے والے دوستوں کی خدمت میں عرض ہے کہ آپ کی تمام باتیں سر آنکھوں پر، اس میں سے بھی آپ کا اخلاص سب سے زیادہ لائق تحسین، لیکن خدشہ کو خدشہ رکھیں، نوشتہ دیوار نہ بنائیں. کچھ بنیادی فریم ورک ضرور سامنے رکھیں تاکہ اس معاملہ کو ڈسکس کرتے ہوئے کچھ معروضی حقائق سامنے رہیں۔ مثلاً :

1۔ کیا سی پیک سے پہلے یا اس کے بغیر چین پاکستان یا عالمی منڈیوں میں ایک حاوی عنصر نہیں؟ دنیا بھر کی منڈیاں ”میڈ ان چائنہ“ سے لبالب نہیں ہیں؟

2۔ دوسرے ممالک بشمول امریکہ ، یورپ، آسٹریلیا ، بھارت وغیرہ کے ساتھ چین کے تجارتی تعلقات کا توازن کیا ہے۔ اور کیا ہمارے ہاں یہ توازن اس عموم سے ہٹ کر یا غیر معمولی ہے؟ صرف ریکارڈ کے لیے عرض ہے کہ پچھلے سال امریکہ نے چین کو 116 ارب ڈالر کا مال بیچا اور اس سے 484 ارب ڈالر کا مال درآمد کیا.

3۔ پھر ہمیں یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ اگر بھارت کے ساتھ 73 ارب ڈالر کی تجارت میں بھارت کو لگ بھگ 53 ارب ڈالر کا خسارہ ہے تو وہاں پر چین کو ایسٹ انڈیا کمپنی کیوں نہیں کہا جا رہا جبکہ بھارت اور چین کے مفادات بھی مختلف ہیں اور ایک دوسرے کے متعلق عزائم بھی معاندانہ ہیں۔
یہی نہیں بلکہ بھارت کو ایک اور ضمن ایسی ہی صورتحال کا سامنا ہے۔ اپنی مارکیٹس کو ریٹیل کی سطح تک FDI کے لیے کھول دینے کے بعد اب بھارت کا تاجر، بالخصوص چھوٹا تاجر بالکل غیر محفوظ ہوگیا ہے۔ اب اسے ملٹی نیشنلز کی براہ راست مسابقت کا سامنا ہے جو اپنے بےپناہ سرمایہ اور قوت خرید کے باعث مارکیٹ کو اپنی منشا سے چلا سکتی ہیں۔ پھر بھی وہاں شور نہیں۔ کیوں ؟
اس لیے کہ معیشت کو متحرک رکھنے کے لیے سرمایہ کی ضرورت ہوتی ہے جو نئے ادارے بناتا ہے اور پھر اس سے روزگار کے نئے مواقع سامنے آتے ہیں جو معاشی خوشحالی اور ”طلب“ کے نئے در وا کرتے ہیں. اس طلب کے لیے نئی رسد کی ضرورت ہوتی ہے. یعنی، نئے کارخانے اور پھر نئی ملازمتیں. اور یوں، مثبت سائیکل چلتا رہتا ہے ۔ نہ صرف یہ، بلکہ اس سے ایک بہتر تربیت یافتہ اور منظم ورک فورس بھی قومی معاشی دھارے میں شامل ہوتی ہے جس سے عمومی قومی پیداوار میں بہتری کا رجحان پیدا ہوتا ہے۔

4۔ پاکستان کے ساتھ چین کی 10.028 ارب ڈالر کی تجارت ہے۔ جس میں ہماری درآمدات 8.126 اور برآمدات 1.903 ہیں۔ کیا یہ توازن لگ بھگ اسی طرح نہیں جو چین اور بھارت کا ہے؟ اس کے مقابلہ پر پاکستان اور بھارت کا تجارتی توازن یہ ہے کہ بھارت سے درآمدات 170 کروڑ اور برآمدات محض 8۔35 کروڑ ڈالر ہیں۔ یہ توازن پاک چین توازن کے مقابل زیادہ خراب ہے لیکن یہاں تو ہمیں صبح شام تجارت کرنے کے ثمرات بتائے جاتے ہیں۔ یہاں تو نہ کسی کو کشمیر کا خیال آتا ہے اور نہ ہی بھارت کی پاکستان مخالف پالیسیاں کوئی رکاوٹ بنتی ہیں۔

5۔ اگر کسی معیشت میں بیرونی سرمایہ کاری نہیں ہو رہی تو پھر قرضوں پر انحصار کرنا پڑتا ہے جو کسی بھی صورت پہلی ترجیح نہیں ہوتی۔ چلیں ہو بھی، تو کم از کم پاکستان کو کون قرض دے گا؟ پچھلی دو دہائیوں میں کسی بڑے پراجیکٹ کے لیے کیا significant فنڈنگ حاصل کر سکا پاکستان؟
جس ملک میں کوئی کرکٹ کھیلنے کو تیار نہیں، وہاں اگر آپ اتنی سرمایہ کاری لے آتے ہیں جس سے آپ کا انفراسٹرکچر اور توانائی کے منصوبے کھڑے ہو جاتے ہیں، امن و امان پہلی ترجیح بن جاتا ہے اور خسارے میں ڈوبے قومی ادارے بہتر انداز میں چلنے کی امید پیدا ہو جاتی ہے تو کیا یہ منفی پیشرفت ہے جس پر نوحے پڑھے جائیں؟

6۔ ہر ملک اور قوم کے لیے لازم ہے کہ وہ بین الاقوامی تعلقات میں اپنے مفادات کا تحفظ کرے۔ یہ ایک مستقل چیلنج رہتا ہے جس سے مفر نہیں۔ لیکن کیا یہ رائی کا پہاڑ بنا دینے سے ہو سکتا ہے یا قومی مکالمہ کو زیادہ تعمیری بنا دینے سے؟
ہم اپنے بچوں کی تعلیم کا بندوبست کرتے ہیں، اتنی بھاگ دوڑ کرتے ہیں تاکہ ان کا مستقبل سنور جائے۔ لیکن یہ امکان تو ہر وقت سامنے رہتا ہے کہ تمام تر محنت اور تعلیم کو ٹھیک سے مکمل کر دینے کے باوجود اسے نوکری ہی نہ ملے۔ لیکن آپ اپنے سمیت کسی ماں باپ کو جانتے ہیں جنہوں نے محض اس خدشہ کے پیش نظر بچوں کو سکول سے ہی اٹھا لیا ہو، یا یہ کہا ہو کہ سکول بھیجنے کا مطلب بچے کو بےروزگار بنانا ہے؟

زندگی کی ہر کامیابی کے راستہ کا پہلا سنگ میل ناکامی ہی ہوتا ہے۔ انسان اور اقوام ساری محنت ناکامی میں سے ”نہ“ کے خاتمے کے لیے کرتے ہیں اور اسے کامیابی میں بدل دیتے ہیں۔ یہ محنت خود ہی کرنا ہوتی ہے. دوسرے کے مفاد میں سے اپنے لیے راہ نکالنا ہوتی ہے. کوئی منہ میں روٹی نہیں ڈالتا. لیکن یہ کیا کہ محدب عدسہ پکڑ کر ”ناکامی“ پر اس طرح دھر دیں کہ ”نہ“ کے علاوہ کچھ نظر ہی نہ آئے!

Comments

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش کی دلچسپی کا میدان حالاتِ حاضرہ اور بین الاقوامی تعلقات ہیں. اس کے علاوہ سماجی اور مذہبی مسائل پر بھی اپنا ایک نقطہ نظر رکھتے ہیں اور اپنی تحریروں میں اس کا اظہار بھی کرتے رہتے ہیں.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com