دی ڈریم فائنل - احمد خلیق

راجر فیڈرر اور رافیل نڈال۔۔۔ ٹینس کی دنیا کے دو عظیم کھلاڑی اور عظیم ترین حریف، بلکہ اگر کہا جائے کہ کھیلوں کے جدید عہد کے چند بڑے حریفوں میں سے ایک تو بے جا نہ ہوگا۔

کرکٹ کے متوالے پاکستان میں شاید اس دعوی کا اندازہ بغیر اس بات کے نہ کیا جاسکے کہ اپنے دور عروج میں ان دو کھلاڑیوں کا مقابلہ ایسے ہی سمجھا جاتا تھا جیسے پاکستان اور بھارت کسی کرکٹ مقابلے میں آمنے سامنے ہوں، اور اگر فائنل ہو تو کیا کہنے، بلاشبہ پھر دونوں قومیں کئی دن قبل سے ہی جنون ہی کیفیت میں مبتلا رہتی ہیں۔ مگر مزے کی بات یہ ہے کہ اس حریفانہ جوڑی کے مابین منافرت یا حسد کی جگہ دوستی اور احترام کے جذبات کارفرما ہیں۔ اس صورت کو سمجھنے کے لیے محمد علی اور جو فریزیئر کی مثال ہے کہ باکسنگ رنگ کے اندر تابڑ توڑ مکے برساتے سورما باہر عام زندگی میں ایک دوسرے کے قدردان اور مداح تھے، بالکل اسی طرح فیڈرر اور نڈال ٹینس کورٹ سے باہر اچھے دوست ہیں اور رفاہ عامہ کے کئی موقعوں پر نمائشی میچز کھیل چکے ہیں۔

29جنوری2017ء کو میلبرن کے راڈلیور ارینا میں یہی حریفانہ جوڑی ایک بار پھرفائنل میں ٹکرانے جا رہی ہے، اور شاید ٹینس کے شائقین کے لیے ان بڑے حریفوں کو آپس میں کھیلتے دیکھنے کا یہ آخری موقع ہو، مداحوں پر دیوانگی کی سی کیفیت طاری ہے، ان کے لیے تو گویا یہ میچ آف دی سینچری ہونے جا رہا ہے۔ اور کیوں نہ ہو کہ آسٹریلین اوپن شروع ہونے سے پہلے کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ اپنے کیریئر کے آخری سالوں میں یہ دونوں کھلاڑی ایسا محیر العقل کھیل پیش کرتے ہوئے فائنل تک رسائی حاصل کر لیں گے۔ حالیہ سال نوواک جوکووچ اور اینڈی مرے کے بام عروج پر ہیں اور فیڈرر اور نڈال کی حیثیت متاع گم گزشتہ کی سی ہے، پر نہ جانے پھر ایسا کیا ہوا کہ اول الذکر دونوں کھلاڑی ابتدائی راؤنڈز میں ہی باہر ہو گئے جبکہ ماضی کے ان بے تاج بادشاہوں نے مرکزی حیثیت حاصل کر لی۔ جب یہ دونوں کوارٹر فائنل میں پہنچے تو سب سے پہلے امریکہ کے اینڈی راڈک نے ان کے فائنل میں آمنے سامنے آنے کی آرزو ظاہر کی اور اسے دی ڈریم فائنل کا نام دیا۔ سیمی فائنل میں پہنچتے دیکھ کر سب اس خواب زریں کو حقیقت میں بدلتا دیکھنے لگے اور یکے بعد دیگرے دو کانٹے دار مقابلوں کے بعداب یہ خواب سچ ہونے کو ہے۔ معلوم ہوتا ہے جیسے سب فکس تھا۔

کچھ بات ان عظیم کھلاڑیوں کے باہمی مقابلوں کی ہو جائے۔ 12 سالوں پر محیط یہ جوڑی اب تک 34 مواقع پر مدمقابل آ چکی ہے، جس میں سے 23 میں نڈال فاتح ٹھہرا، جبکہ 11 میں فیڈرر نے کامیابی سمیٹی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ٹینس کے اکثر ماہرین کے نزدیک راجر فیڈرر دنیائے ٹینس کا عظیم ترین کھلاڑی ہے جو اب تک 17 گرینڈ سلیم جیت چکا ہے جبکہ نڈال دوسرے نمبر پر 14 کے ساتھ پیٹ سیمپراس کے ساتھ براجمان ہے۔ لیکن پھر یہ سوچ آتی ہے کامیابی کے تناسب میں اتنا فرق کیوں؟ تو اس کا جواب ہے جگہ اور کھیل کے انداز کا فرق۔ اگر فیڈرر گراس اور ہارڈ کورٹس کا چیمپیئن ہے تو نڈال کو کلے کورٹ کا بےنظیر بادشاہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ دونوں حریف اب تک کلے کورٹ پر 15 دفعہ آمنے سامنے آ چکے ہیں جس میں سے نڈال کو 2 کے مقابلے میں 13 میں کامیابی ملی، گراس کورٹ پر یہی تناسب فیڈرر کے حق میں 2-1 ہے جبکہ ہارڈ کورٹ پر نڈال کو 7 ہاروں اور 9 جیتوں کے ساتھ سبقت حاصل ہے۔ اگر گرینڈ سلیم مقابلوں کی بات کی جائے تو یہ دونوں 11 دفعہ ایک دوسرے سے زور آزمائی کر چکے ہیں جن میں سے 8 فائنل تھے۔ یہاں بھی نڈال کو برتری حاصل ہے، وہ مجموعی طور پر 11 میں سے 9 میں کامیاب ٹھہرا، مطلب یہ ہوا کہ 8 فائنلز میں سے بھی 6 میں اسے جیت کی خوشی ملی، جبکہ دو ہاریں 2006ء اور 2007ء کے ومبلڈن فائنلز میں مقدر ہوئیں۔

ان دو عظیم کھلاڑیوں نے 2005ء سے لے کر 2010ء تک مسلسل 6سال اے ٹی پی ورلڈ رینکنگ پر آگے پیچھے راج کیا ہے ، جبکہ جولائی 2005ء سے لے کر اگست 2009ء تک لگاتار 211 ہفتے ایسے تھے جب ان دو کے علاوہ کوئی اور کھلاڑی 1 اور 2 درجہ بندی پر قبضہ نہ کر سکا، درجہ بندی پر یہ حکمرانی اپنے آپ میں ایک ریکارڈ ہے۔ اسی طرح ان 6 سالوں میں ہونے والے 24 گرینڈ سلیم فائنلز میں سے 21 میں (فیڈرر 12، نڈال 9) کسی ایک نے کامیابی حاصل کی۔ اگر ہم اسی عرصہ کو کچھ اور محدود کریں تو 2005ء سے 2007ء کے دورانیہ میں 11 مسلسل فائنلز انہی دو میں سے کسی ایک نے جیتے۔

اگر بات ہو یادگار مقابلوں کی تو بغیر کسی شک و شبہ کے ان دونوں نے ٹینس کو کئی تاریخ ساز مقابلے دیے ہیں، پر سردست صرف دو پر اکتفا کیا جاتا ہے۔ پہلا 2009ء کا آسٹریلین اوپن فائنل اور دوسرا سال قبل ہونے والا ومبلڈن 2008ء کا فائنل۔ آسٹریلین اوپن 2009ء کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ فیڈرر اور نڈال پہلی دفعہ کسی ہارڈ کورٹ گرینڈ سلیم کے فائنل میں مد مقابل ہونے جا رہے تھے۔ فیڈرر 13 گرینڈ سلیم جیت چکا تھا اور اسے پیٹ سیمپراس کے آل ٹائم 14 گرینڈ سلیم ٹائٹلز کو برابر کرنے کے لیے ایک اور جیت کی ضرورت تھی۔ اور دو وجوہ سے فیڈرر پسندیدہ بھی تھا، ایک وہی کہ ہارڈ کورٹ کا نڈال سے زیادہ ماہر ہونا اور دوسرا نڈال ایک دن کم آرام کے بعد کھیلنے آ رہا تھا۔ نڈال نے تاریخ کے ایک طویل ترین (5گھنٹے اور 14 منٹ) سیمی فائنل کا سامنا کیا تھا۔ ماہرین کا خیال تھا کہ اسی تھکن اور کم مہارت کی وجہ سے نڈال ہار جائے گا۔ لیکن نڈال نے سب کو غلط ثابت کر کے یہ مقابلہ پانچ سیٹس میں 4 گھنٹے اور 23 منٹ بعد 7-5، 3-6، 7-6، 3-6 اور 6-2 سے اپنے نام کر لیا۔ اس مقابلہ کی خاص بات ونر اور رنر اپ کو دی جانے والی ٹرافی کی تقریب تھی کہ جس میں فیڈرر اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکا اور چند الفاظ بول کر رو پڑا. یہ منظر مخالف اور موافق سب کے لیے بہت جذبات لیے ہوئے تھا۔ ٹینس کے ہر دل عزیز کھلاڑی کو اس حال میں دیکھنا ہر کسی کے لیے مشکل تھا۔ بعد میں جب نڈال بولنے آیا تو اس نے فیڈرر کو دلاسا دیا اور تعریف کر کے اس کا حوصلہ بڑھایا، جبکہ 2008ء کے ومبلڈن فائنل کو ٹینس پنڈتوں کے نزدیک نہ صرف اس ٹورنامنٹ بلکہ ٹینس کی 132 سالہ تاریخ کا سب سے بڑا مقابلہ تسلیم کیا جاتا ہے۔ یہ مقابلہ کئی دفعہ بارش کے باعث روکنا پڑا اور نصف شب تک جاری رہا اور آخر کار 4گھنٹے اور 48 منٹ کے طویل دورانیہ کے بعد پانچ سیٹس بعد 6-4، 6-4، 6-7، 6-7 اور9-7 کے سکور لائن سے نڈال کی جیت کی صورت میں اختتام پذیرہوا۔ یہ اب تک ومبلڈن کی تاریخ کا طویل ترین دورانیہ کا مقابلہ ہے۔ اس مقابلہ کی خاص بات یہ تھی اس سے قبل نڈال فرنچ اوپن کے کلے کورٹ کے علاوہ کسی اور میدان پر گرینڈ سلیم نہیں جیتا تھا، اور پچھلے دو سالوں سے فیڈرر کے ہاتھوں ومبلڈن میں شکست سے دو چار ہو رہا تھا اور اسی وجہ سے اس کا نام چینل گرینڈ سلیم (فرنچ اوپن اور ومبلڈن ایک ہی سال جیتنا) کی فہرست میں شامل ہونے سے رہ رہا تھا، مگر اس دفعہ جیت کر اس نے تاریخ میں تیسرے کھلاڑی کے طور پر اپنا نام درج کروا لیا۔ مزے کی بات یہ کہ اس سے پہلے فیڈرر بھی اس اعزاز کا حامل نہیں تھا کیونکہ پچھلے تین سالوں سے وہ فرنچ اوپن میں نڈال سے شکست کھا رہا تھا، لیکن خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ اگلے سال ہی 2009ء میں جب نڈال کو پہلی دفعہ فرنچ اوپن کے پری کوارٹر فائنل میں شکست ہوئی تو فیڈرر نے موقع ضائع کیے بغیر اس کا فائدہ اٹھایا اور فرنچ اوپن جیت لیا۔ اس طرح نہ صرف اسے کیریئرگرینڈ سلیم (کھلاڑی کا کم از کم ایک دفعہ چاروں سلیم جیتنا) کا اعزاز حاصل ہو گیا بلکہ بعد میں ہونے والا ومبلڈن جیت کر چینل گرینڈ سلیم کی فہرست میں بھی شامل ہو گیا۔ اسی طرح فیڈرر کی فرنچ اوپن جیت نے اسے پیٹ سیمپراس کے برابر لا کھڑا کیا اور ومبلڈن نے ایک قدم آگے بڑھ کے آل ٹائم 15واں گرینڈ سلیم کا حقدار بنا دیا۔ نڈال نے اپنا کیریئر گرینڈ سلیم 2010ء میں یو ایس اوپن جیت کر مکمل کیا۔

اب تک فیڈر ر نے سب سے زیادہ 17 گرینڈ سلیم اپنے نام کر رکھے ہیں، جن میں سے4آسٹریلین اوپن، 1فرنچ اوپن، 7ومبلڈن اور 5یو ایس اوپن شامل ہیں۔ فیڈرر نے اپنا آخری گرینڈ سلیم ومبلڈن 2012ء میں جیتا تھا، اس کے بعد وہ 2014ء کے ومبلڈن اور 2015ء کے ومبلڈن اور یو ایس اوپن کے فائنلز تک پہنچا لیکن جیت اس کا مقدر نہ بنی۔ دوسری طرف نڈال کے حصہ میں 14 گرینڈ سلیم ہیں، جن میں سے 1 آسٹریلین اوپن، 9 فرنچ اوپن (ریکارڈ، سوائے 2009ء کے 2005ء سے 2014ء تک ہرسال)، 2ومبلڈن اور 2 ہی یو ایس اوپن شامل ہیں۔ نڈال نے اپنا آخری گرینڈ سلیم 2014ء کا فرنچ اوپن جیتا تھا، لیکن اس کے بعد وہ پھر کسی فائنل تک بھی رسائی حاصل نہ کر سکا اور پے در پے جسمانی مسائل کی وجہ سے یا تو اولین راؤنڈز میں ہی باہر ہو جاتا یا پھر سرے سے کھیلتا ہی نہیں تھا۔ بہر کیف اگر بات کی جائے اس جوڑی کے درمیان ہونے والے آخری گرینڈ سلیم مقابلہ کی تو وہ 2011ء کا فرنچ اوپن کا فائنل تھا کہ جس میں نڈال 4 سیٹس میں کامیاب ہوا۔ شائقین کو 6سال بعد ان دونوں سورماؤں کو ایک بار پھر مقابلہ کرتے دیکھنے کا موقع مل رہا ہے اور اسی باعث ان کا شوق و خروش قابل دیدنی اور کسی صورت بے جا نہ ہے۔

آسٹریلین اوپن 2017ء میں فیڈرر کا ڈرا نڈال کی نسبتا تھوڑا مشکل تھا، فائنل میں پہنچنے سے قبل اس نے تین ٹاپ 10 سیڈز کو ہرایا جن میں ٹامس برڈچ، کی نیشیکوری اور سٹینسیلاس وارنکا شامل تھے۔ اس کے بر عکس نڈال کو دو ٹاپ 10 سیڈز کا سامنا کرنا پڑا، ایک گیل مونفلز جبکہ دوسرا میلوس راونک۔ دونوں نے سیمی فائنل میں پانچ سیٹس کے صبر آزما مقابلوں کے بعد کامیابی حاصل کی۔ فیڈرر نے ہم وطن وارنکا کو شکست دی جبکہ نڈال نے ڈی مٹروو کو اعصاب شکن مقابلہ میں 4منٹ کم 5گھنٹے میں زیر کیا۔

سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا آسٹریلین اوپن 2009ء نشرمکرر ہونے جا رہا ہے؟ کچھ ماہرین ماضی کے مجموعی ریکارڈ کو دیکھ کر اب بھی نڈال کو پسندیدہ سمجھ رہے ہیں، لیکن دوسروں کے نزدیک یہ 8 سال پہلے کی بات تھی، اب حالات اور جسمانی ساخت وہ نہیں رہی کہ نڈال اس تھکن کو جھیل پانے میں کامیاب ہو سکے، جبکہ دوسری طرف فیڈرر نے عمر (35) کے اس حصے میں بھی قابل رشک کھیل پیش کیا ہے اور وہ ہر ممکن طور پر تاریخ کو دہرانے نہیں دے گا۔ توپھر کون جیتے گا؟؟ یہ تواب پاکستانی وقت کے مطابق 1 بج کر30 منٹ (پی ایم) پر شروع ہونے والا مقابلہ دیکھ کر ہی اندازہ ہو گا۔

آخر میں انکشاف بھی کرتے چلیں کہ فیڈرر کے تمام تر احترام اور ٹینس کے بہترین کھلاڑی ہونے کے باوجود مجھے نڈال پسند ہے اور میں اسی کے نعرے لگائوں گا۔۔۔ ویموس رافا!!!!

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com