قائداعظم، مولانا مودودی اور تحریک پاکستان - سردارجمیل خان

کبھی کبھی حیرت ہوتی ہے کہ دو قومی نظریہ کی شاندار، مدلل اور مؤثر تشہیر کرنے، اسلامیان ہند کو بیدار کرنے نیز کانگریس اور متحدہ قومیت کے علمبرداروں کی مٹی پلید کرنے کے باوجود مولانا مودودی رح نے کھل کر قائد اعظم رح کی سیاسی حمایت کیوں نہیں کی؟ حمایت نہ کرنے کی بنیادی وجہ مسلم لیگ کی صفوں میں موجود وہ کرپٹ جاگیردار تھے جنہیں قائد اعظم رح خود کھوٹے سکے کہا کرتے تھے، جن کے بارے سردار عبدالرب نشتر نے کہا تھا کہ منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے، یا مولانا مودودی رح ”سید“ اور ”سلسلہ مودودیہ“ کے احساس برتری میں مبتلا تھے؟

بہرحال وجہ جو بھی تھی جماعت اسلامی کو آج تک پاکستان مخالفت کا طعنہ برداشت کرنا پڑ رہا ہے؟ کارگل، کشمیر، افغانستان،1965/1971 میں لازوال قربانیاں مگر یہ گھسا پٹا طعنہ پھر بھی جماعت اسلامی کے ساتھ چمٹا دیا گیا ہے۔

علامہ اقبال، شریف الدین پیرزادہ، فیض احمد فیض، میاں محمد شفیع، مولانا ظفر احمد انصاری، قمرالدین جیسے زعماء امت نے حتی کہ قائد اعظم رح نے خود بھی مولانا مودودی رح کے کام کو سراہا اور دو قومی نظریہ کے حق میں ديے گئے زبردست دلائل اور کانگریس کے حامیوں کے زبردست تعاقب کا خیر مقدم کیا۔ جماعت اسلامی کے مرکزی رہنما قمر الدین رح نے مولانا مودودی کی ہدایت پر قائد اعظم رح سے ملاقات کی تو قائد اعظم رح نے فرمایا: ”میں مولانا مودودی اور جاعت اسلامی کے کام کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں مگر ہم ایک ہنگامی صورتحال سے دو چار ہیں۔ اگر ہم آج اسلامیان ہند کے لیے الگ وطن حاصل نہ کر سکے تو کل جماعت اسلامی بھی اپنا کام مکمل نہ کر سکے گی.“

پاکستان بننے کے فورا بعد قائد اعظم رح کی ہدایت پر مسلسل ایک سال تک مولانا مودودی رح کو ریڈیو پاکستان پر خطبات کے لیے بلانا مولانا کی خدمات کا اعتراف ہی تو تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   ناپسندیدہ شخصیات کے پسندیدہ کارنامے - میرافسرامان

کسی نے مولانا مودودی رح کے کٹر نظریاتی مخالف معروف شاعر و دانشور فیض احمد فیض رح سے پوچھا،
کیا مولانا مودودی پاکستان کے مخالف تھے؟؟
فیض نے جواب دیا،
”یہ انکشاف تو پاکستان بننے کے بعد ہوا کہ مولانا پاکستان کے مخالف تھے.“

ستم ظریفی یہ ہے کہ تاریخ سے نابلد ہر ان پڑھ، جاہل شخص، اور جگت باز مسخرا جب چاہے منہ اٹھا کر ہانک دیتا ہے کہ جماعت اسلامی پاکستان کی مخالف تھی اور بےچاری جماعت اسلامی بھی 69 سال سے بیک فٹ پر کھڑی بےبسی کی تصویر بنی ہوئی ہے۔

قائد اعظم رح ایک عرصہ تک کانگریس کے رکن اور اہم رہنما رہے، پاکستان بننے سے چند سال پہلے تک کنفڈریشن سمیت مختلف آپشن بھی ڈسکس کرتے رہے جبکہ دوسری جانب مولانا رح نے بلاشبہ مسلم لیگ کے طریق کار اور طرز عمل کی اوپن حمایت کرنے کے بجائے تنقید کی مگر مولانا ایک لمحہ کے لیے بھی کبھی کانگریس کے ممبر رہے نہ کبھی متحدہ قومیت کے وطنی تصور کو قبول کیا۔

قرارداد پاکستان 1940ء میں منظور ہوئی جس کا سیدھا صاف مطلب یہ ہے کہ اس کے بعد وہی شخص پاکستان مخالف ہو سکتا ہے جو یا تو انگریز کا وفادار ہو، یا کانگریس کا حصہ ہو یا پھر متحدہ قومیت کا حامی۔
کیا ان تین باتوں میں کوئی ایک بات بھی ایمانداری سے مولانا مودودی رح کی طرف منسوب کی جا سکتی ہے؟

متعصب لوگوں کو جب تعصب اور حسد کا ہیضہ ہوتا ہے تو غلاظت کی بدبودار قے جماعت اسلامی اور مولانا مودودی رح کے خلاف الزام تراشی کی شکل میں انڈیلتے ہیں۔ فاتر العقل افراد کو جانے دیجییے مگر ہر وہ شخص جسے اللہ نے عقل سلیم سے نوازا ہو، وہ تحریک پاکستان کے تناظر میں لکھی گئی مولانا کی کسی بھی تصنیف کی چند سطریں پڑھ کر ہی اندازہ کر سکتا ہے کہ مولانا مودودی رح کی فکر، فلسفے اور جدوجہد کا موضوع صرف اور صرف دو قومی نظریہ اور برصغیر کے مسلمانوں کی فلاح تھی۔