انسان پر بندروں کے مظالم - آصف شاہ

یورپی معاشرے میں مذہبى رہنماؤں کی جانب سے سینکڑوں برس تک مذہب کی خود ساختہ غلط تشریح اور اس کی بنیاد پر عوام کے استحصال کے خلاف چودھویں صدی عیسوی میں جو شدید ردعمل پیدا ہوا، اس نے ایک تحریک برپا کی، جو اب ایک ازم بن چکا ہے جس کو لبرل ازم کا عنوان دیا جاتا ہے. لبرل ازم کو ہر اس خیال، نظریے، عقیدے اور عمل سے دشمنی ہے جو نفس انسانی کی بےلگام آزادی پر کسی قسم کی پابندی لگائے. اس تحریک کے فکری رہنماؤں نے دین عیسی علیہ السلام میں در آنے والے بگاڑ کی اصلاح کرنے کے بجائے دین عیسوی ہی کو بے دخل کر دیا. معاشرتی اقدار، قوانین اور اخلاقیات کی تشکیل کے لیے مذہب کی جگہ خود ساختہ اور متفرق خیالات کا سہارا لیا گیا. مذہب سے باغی ان لوگوں نے دنیا کے مختلف ملکوں کو تاراج کر کے وہاں حکومتیں قائم کیں تو اپنے لبرل نظریات ہی کو مقبوضہ معاشروں کی تشکیل نو کی بنیاد بنایا. لبرل ازم کے فکری طوفان بدتمیزی کے سامنے چین کے تاؤازم، کنفیوشس ازم، جاپان کے شنٹوازم، بدھ مت ازم، ہندوستان کے ہندو مت اور یہودیت اور عیسائیت سمیت تمام مذاہب ریت کی دیوار ثابت ہوئے.

ایک دین اسلام ہے جو اپنی فکری بنیاد اور معاشرتی اقدار کی مضبوطی کی وجہ سے میدان میں اپنی پوری قوت کے ساتھ موجود ہے. یہی سبب ہے کہ تمام لبرل قوتیں اس وقت دین اسلام سے بیر کھائے بیٹھی ہیں اور وہ تمام مسلمان جو دین اسلام کو اس کی اصل شکل میں اس کی روح کے ساتھ قائم کیے ہوئے ہیں اور قائم رکھنا چاہتے ہیں، لبرل ازم کے نشانے پر ہیں.

لبرل ازم میں انسان حیاتیاتی طور پر ایک حیوانی وجود (بندر کی ترقیافتہ شکل) ہے، اس لیے مشاہدہ یہ ہےکہ اپنے تحفظ کے لیے کوئی اقدام کرتے وقت لبرل لوگ کسی خونخوار حیوان ہی کا سا برتاؤ کرتے ہیں. چند مثالیں ملاحظہ فرمائیں. یورپیوں نے براعظم امریکہ کے اصل باشندوں red Indians کے قتل عام سے درندگی و بربریت کا آغاز کیا اور لاکھوں لوگوں کا نام ونشان مٹا دیا. پہلی جنگ عظیم (1914ء--1918ء) کے دوران پونے دو کروڑ، اور دوسری جنگ عظیم (1939ء--1945)میں ان لبرل قوموں نے 6 تا 8 کروڑ لوگ ہلاک کیے. 1945ء میں امریکی ایٹمی حملے کے نتیجے میں صرف دو شہروں ہیروشیما اور ناگا ساگی میں تقریبا ﮈیڑھ لاکھ لوگ مارے گئے، لاکھوں زخمی اور تابکاری کے اثرات سے بیمار ہوئے. دوسری جنگ عظیم کے بعد اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کے قوانین کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہوے لبرل امریکہ نے ویت نام پر حملہ کیا اور 20 سال میں یکم نومبر 1955ء تا تیس اپریل 1975ء تک بیس لاکھ سے زیادہ لوگوں کو ہلاک کیا. عراق پر امریکی حملے اور پھر شام کی جنگ کے نتیجے میں لاکھوں انسان مارے جا چکے ہیں. افغانستان میں بھی پہلے سوویت یونین اور پھر امریکہ نے لاکھوں انسان قتل کیے.

گزشتہ سو برس کی تاریخ ان خدا فراموش، مذہب بیزار اور خود کو بندر کی اولاد سمجھنے والوں کو وحشی درندہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے. جبکہ اسلام کی نظر میں انسان حیاتیاتی طور پر حیوانی کے ساتھ ایک اخلاقی وجود بھی ہےاور یہی اس کی اصل پہچان ہے. جبلی طور پر انسان کے اندر پایا جانے والا ”ضمیر“ یہ قوت رکھتا ہے کہ کسی قسم کے خارجی دباؤ اور قانون کے بغیر حیوانی خواہش پر قابو پاکر کسی بھی غلط کام سے اس کو روک لے. اسلام کی نظر میں انسانیت کا انحصار ان بلند اخلاقی اقدار کو اپنانے پر ہے جو انسانی ضمیر کی مطابقت میں انسانوں کے خالق نے عطا کیے ہیں. یہ اقدار تاریخ کے مختلف ادوار میں ظاہر ہونے والے پیغمبروں کا یکساں اور مشترکہ ورثہ ہیں، اور یہی انسان کو دوسرے حیوانوں سے ممتاز کرنے کے لیے کافی ہیں، چنانچہ حقیقی مسلمان آج بھی ان اقدار کو سینے سے لگائے ہوئے ہیں، اور لبرل ازم کے علم برداروں سے ”بنیاد پرست“، ”انتہا پسند“ اور ”دہشت گرد“ کے القابات وصول کر رہے ہیں.

خلاصہ یہ کہ لبرلز اور اسلام کی جنگ اپنے پورے نقطہ عروج پر ہے. لبرلز خونخوار درندے کی طرح ریاستی قوت کے نوکیلے پنجوں سے بے پناہ وسائل کے جبڑوں کے ساتھ اسلام کو اس کی شاندار تہذیب سمیت نگلنا چاہ رہے ہیں جبکہ اسلام پسند شکاری کی طرح دلیل کے ہتھیار سے حکیمانہ دعوت کے جال کے ساتھ اس درندے کو شکار کرنا چاہ رہے ہیں. اعصاب کی اس جنگ میں آخری فتح بہرحال حق کی ہوگی.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */