کیا میرا گاؤں بھی چلا جائے گا؟ ونود ولاسائی

کچھ دن پہلے نگرپارکر سے اسلام کوٹ آ رہا تھا. گاڑی میں ایک بوڑھا سا شخص بھی سوار تھا. ہاتھ میں سہارے کے لیے لکڑی تھی، بال سفید، چہرے پر جھُریاں، ہاتھ جیسے گنے کی مشین سے ہو کر نکلے ہوں، بس ہڈیاں ہی تھیں، خون تو تھا مگر جوانی میں شاید.!

سوچتا ہوں میں جب بوڑھا ہوں گا، تب میرا بھی یہی حال ہوگا. چہرے پر مسکراہٹ ہوگی نہ لب ترسیں گے. ہاتھ میں موبائل ہوگا نہ ٹیبل پر لیپ ٹاپ کیونکہ تب مجھے دنیا دکھائی نہیں دے گی، میرے نظر چلی جائے گی، میں اندھا ہو جاؤں گا، تب میرے پوتے اور پوتیاں بوڑھا بوجھ سمجھ کر دور بھاگیں گی، اورں میں شاید ایک چار پائی پر زندگی سے باتیں کرتے کرتے آہستہ آہستہ انجام کی طرف چلتا جاؤں گا، اور ایک دن ہمیشہ کےلیے غائب ہو جاؤں گا. قدموں کی آہٹ ہوگی نہ خلل ہوگا دورِ جدیدیت کی نیند میں.
اُف میرا بھی کیا حال ہوگا؟

بھائی صاحب! بھائی صاحب!
ہیلو..!
جی جی ..... کنڈیکٹر کی دو تین بار آواز سن کر تصورات کی پرچھائیوں سے واپس آیا.
جی بھائی!
کرایہ دو.
کرایہ نکال کر اسے دیا،
اور میری نظر پھر سے بوڑھے شخص پر ٹک گئی جو کھڑکی سے باہر دیکھ رہا تھا. کوئی طلب تھی، اس کے چہرے پر کوئی خواب تھا لیکن مایوسی سے جُھریوں والا چہرہ بہت عجیب لگ رہا تھا. کافی دیر میں اس کی طرف دیکھتا رہا. گاڑی نگر پارکر کا سخت وجود طے کرتی صحرائے تھر میں داخل ہوئی، ریت کے لمبے ٹیلے اور ان پر سوکھے درخت، کتنا عجیب ہے نا. ساون کی بوندیں انھیں جنت کی فضا بخش دیتی ہیں اور پھر سال کے نو مہینے یہ سوکھا ٹُنڈ لگتا ہے.

وہ بوڑھا شخص مسلسل کھڑکی سے باہر ہی دیکھ رہا تھا، اب اُس کے چہرے پر اتنی مایوسی اور بے بسی تھی جسے اگر الفاظ میں بیان کرنے کی کوشش کی جائے تو شاید اُس کیفیت کی توہین ہوگی. تھوری دیر بعد ڈانو پر بس رُکی، کافی مسافر وہاں پر اُترے، بوڑھے شخص کے پاس والی سیٹ خالی ہوئی، میں نے موقع کا فائدا اُٹھاتے ہوئے اپنا بیگ اُٹھایا اور جا کر پاس بیٹھ گیا. وہ اب تک باہر ہی دیکھ رہا تھا، اس کی پلک بھی نہیں جھپک رہی تھی، میں نے قریب سے دیکھا اُس کی بوڑھی آنکھوں میں آنسو تھے جو آنکھوں سے نکل کر تھر کے ریت کے ٹیلوں کی طرح دکھنے والے گالوں سے نیچے آ کر کپڑوں پر گر رہے تھے، اس رم جھم سے کپڑے بھیگ چُکے تھے. مجھے بہت عجیب لگا اور سوچنے لگا کہ یہ چچا کیوں رو رہا ہے؟ شاید اس کو گھر والوں نے گھر سے نکال دیا ہے، بیٹے عزت نہیں دیتے یا اللہ رحم کرے کوئی اپنا جہاں سے چل بسا ہے، کوئی تو مسئلہ ہوگا ورنہ یہ اس عمر میں آنسوؤں کی ندی کیوں بہا رہا ہے.

ہمت کر کے اس کے کاندھے پر ہلکی سی تھپکی کی، اور بلایا، چچا، چچا.
دو بار بلانے سے اس نے میری طرف دیکھا، اس کی آنکھیں کوئی چشمہ تھیں، اور گال کوئی ندی..
چچا! آپ .... آپ کیوں رو رہے ہیں؟ کیا پریشانی ہے؟
اس نے پلو سے آنسو پونچھے اور پوچھا، آپ تھر کے ہو؟
ہاں! چچا میں تھر کا ہی ہوں. میں نے جواب دیا.
تو سمجھ جاؤ کہ ان آنسوؤں کے معنیٰ کیا ہے.
مجھے کچھ سمجھ نہیں آیا، مگر خاموش ہو گیا.
کچھ دیر بعد چچا نے متوجہ کرتے ہوئے کہا، بیٹا! وہ دیکھو! وہ جو دور ہرے بھرے درخت دکھائی دے رہے ہیں.
ہاں چچا!
اور وہ جو لکڑی اور گھاس سے بنے چونرے دیکھ رہے ہو؟
ہاں! چچا دیکھ رہا ہوں.
وہ...... وہ اب نہیں رہیں گے، وہاں سے کالے پانی کی ندی بہے گی.
وہ جو قبرستان ہے ان کی ساری قبریں کھودی جائیں گی، ان سے میرے تھر کے رہنے والے عظیم انسانوں کی لاشیں نکلیں گی، جن کی کھوپڑیوں کو بال اور ٹانگوں کو بیٹ بنا کر یہ مخلوق کھیلے گی.

باہر دیکھتا ہوں تو میرے ماضی کے ہم جولی یاد آتے ہیں، جن کے ساتھ انھی ٹیلوں پر بیٹھ کر ہم رچو گُنگناتے تھے، ریت کے یہ ٹیلے لبیک کہہ کر آوازوں کو ہماری طرف کرتے تھے، اس سے ایسی موسیقی جنم لیتی تھی جس کے سہارے ہم آج بھی درد رکھتے، اپنے سارے تھر کو مقدس عبادت گاہ سمجھتے ہیں. تھر میں کہیں بھی ایک لکڑی کاٹی جاتی تھی تو ہمیں ایسے درد ہوتا تھا جیسے کسی نے ہمارا بازو کاٹ دیا ہو.

اب یہ آئے ہیں، نہ جانے کون ہیں. مشینوں کے ساتھ ہمارا سب کچھ اُجاڑ رہے ہیں، اُکھاڑ کر پھینک رہے ہیں. ہم سے سب کُچھ چھین رہے ہیں، ہماری تہذیب، ہماری ثقافت، رواداری، خلوص اور ہماری پہچان، کُچھ نہیں رہے گا ہمارے پاس، اب تو سر کی چھت بھی چلی جارہی ہے .... کس کو کہیں ...

اب میری آنکھوں میں آنسو بھر رہے ہیں کہ میری ....... میری قبر بھی تھر میں نہیں بنے گی، میرا تھر مجھے اتنی بھی جگہ نہیں دے گا کہ سکون سے اس کی گودی میں سو سکوں... ہم تھر واسیوں کا ایک ہی مذہب ہے، اور وہ ہے رواداری اور بھائی چارہ، ہماری عبادت گاہیں یہ ریت کے ٹیلے ہیں، یہ ہماری عبادت گاہیں مسمار کر رہے ہیں، ہم سے ہمارا وجود چھین، ہمارا مذھب چھین رہے ہیں ...

اسلام کوٹ آگیا، سب اُترنے لگے، وہ بوڑھا چچا بھی آنسو پونچھتے نیچے اُتر گیا....
مگر مگر مجھے درد دے گیا، آنکھوں میں اب تک آنسو ہیں، اور مجھے بھی ڈر ہے کہ کیا ...... کیا میرا گاؤں بھی چلا جائے گا....

Comments

ونود ولاسائی

ونود ولاسائی

ونود ولاسائی نوکوٹ تھرپارکر سے تعلق رکھتے ہیں۔ سندھ یونیورسٹی جامشورو میں ایم فل سماجیات کے طالِب علم ، اور سماجی و ہیومن رائٹ کارکن ہیں۔ اسٹوری رائٹر کے طور پر شناخت بنانا چاہتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.