کیا 1000 نوجوان تیار ہیں؟ ڈاکٹر عمیر محمود صدیقی

حضرات انبیاء کرام علیہم السلام انسانیت کے نجات دہندہ ہیں۔گذشتہ کئی برسوں سے انبیاء کرام علیہم السلام کی عزت و عصمت کے خلاف توہین کی مہم جاری ہے۔ مسلمان دماغ مفلوج ہوتے دکھائی دیتے ہیں اور اس کیفیت میں محض ریلی نکالنے کے سوا کوئی اور حل سجھائی نہیں دیتا۔

ذرائع ابلاغ کی وسعت، تنوع اور تیزی کے باعث حالات بہت تبدیل ہو چکے ہیں۔ غیر اہل علم کے اقدامات اور دشمن کے پروپیگنڈا کے باعث قدیم اور جدید ذہن میں خلیج بھی بڑھتی جا رہی ہے۔ ڈنمارک، ناروے، فرانس اور امریکہ اور دیگر مغربی ممالک میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے واقعہ کے بعد سے توہین رسالت کی باقاعدہ ایک مہم شروع کی گئی جس میں مختلف اخبارات، ویب سائٹس اور ذرائع ابلاغ کو زیر استعمال لاتے ہوئے شان رسالت میں گستاخی کا ارتکاب کر کے پوری دنیا کے مسلمانوں کے دلوں میں آگ لگا دی گئی اور یہ سلسلہ تا حال جاری ہے۔ دنیا جدید سائنس اور ذرائع ابلاغ کی سرعت، سہولت اور جدت کی وجہ سے ایک قصبہ میں تبدیل ہو چکی ہے اور اپنے گھر سے ہزاروں میل دور کسی دوسرے ملک کے باشندوں تک اپنی بات پہنچانا اب نہایت ہی آسان اور مفت ہو چکا ہے، اور حقیقتا انسان دنیا کو اپنے ہاتھ کی ہتھیلی پر دیکھ سکتا ہے۔

جس طرح اہل اسلام اور سلیم الطبع لوگ چاہے وہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتے ہوں، اس سہولت کو اپنی دعوت و تبلیغ کے لیے استعمال کرتے ہیں، اسی طرح بعض شرپسند عناصر جدید ذرائع ابلاغ کو دنیا میں بسنے والوں انسانوں کی دل آزاری، مذہبی شخصیات کی توہین اور دیگر شر انگیز مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اسی طرح مختلف اخبارات اور ویب سائٹس نے مختلف خاکے بنا کر اس کا انتساب نبی کریم ﷺ کی طرف کرنے کا ایک لا متناہی سلسلہ شروع کر رکھا ہے ، جس کا بڑا مقصد مالی مفادات حاصل کرنا ہے۔ بعض ویب سائٹس پر یہ پیغام بھی دیا گیا ہے کہ ہمارا ادارہ فلاں توہین آمیز خاکے شائع کرنے والا ہے اور اس کے لیے ہم ووٹنگ کروانا چاہتے ہیں۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ یہ خاکے شائع نہ کیے جائیں تو ہماری ویب سائٹ پر No کا بٹن کلک کریں۔ اگر معین دن تک منع کرنے والوں کی تعداد زیادہ ہوئی تو ہم یہ خاکے شائع نہیں کریں گے۔ اس طرح سادہ مسلمان یہ پیغام مختلف ذرائع استعمال کر کے ایک دوسرے کو بھیجتے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ مسلمان ان خاکوں کے شائع نہ کرنے کے لیے ووٹ دیں، حالانکہ زیادہ ویب سائٹ وزٹ ہونے پر اس ادارے کو بے پناہ مالی فائدہ ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   13 سے 19 سال کے بچوں کے لیے چند کار آمد باتیں - جاوید اختر ارائیں

اہل علم و دانش کو چاہیے کہ امت کو ایک راہ عمل عطا کریں تاکہ اس وقت توہین رسالت کی عالمی مہم کے رد عمل کے طور پر مثبت اور مؤثر اقدامات کیے جا سکیں۔ اسلام میں بعض سزائیں علامتی بھی ہیں جیسے چور کے ہاتھ کاٹ دینا، وہ اپنا ہاتھ جہاں کہیں لے کر جائے گا ایک علامت بن جائے گا کہ آئندہ کوئی چوری نہ کرے ۔ توہین رسالت کی اس عالمی مہم کے رد عمل میں کیا 1000 مسلمان نوجوان اس نوعیت کی ریلی نکال سکتے ہیں کہ وہ اس بات کا اعلان کریں کہ نبی کریم ﷺ کی توہین کے باعث ہمارے دل انتہائی افسردہ ہیں، لہذا ہم آج سے ڈاڑھی کی سنت کو زندہ کرنے کا عہد کرتے ہیں. اسی طرح 1000 لڑکیاں اعلان کریں کہ وہ آج سے عشق نبی میں مکمل حجاب کریں گی. ہم غلامی رسول میں زندگی قبول کرتے ہیں۔

ہر مرتبہ کسی واقعہ کے رد عمل میں کسی سنت کو زندہ کریں، اس کے اثرات یقینا رسمی طریقہ احتجاج سے زیادہ مختلف ہوں گے۔ تو پھر کیا احتجاج میں 1000 نوجوان ڈاڑھی رکھنے اور لڑکیاں حجاب کے لیے تیار ہیں ؟

Comments

ڈاکٹر عمیر محمود صدیقی

ڈاکٹر عمیر محمود صدیقی

ڈاکٹر عمیر محمود صدیقی شعبہ علوم اسلامیہ، جامعہ کراچی میں اسسٹنٹ پروفیسر اور کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف ٹی وی چینلز پر اسلام کے مختلف موضوعات پر اظہار خیال کرتے ہیں۔ علوم دینیہ کے علاوہ تقابل ادیان، نظریہ پاکستان اور حالات حاضرہ دلچسپی کے موضوعات ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.