اماں جی کا سجدے پہ اعتبار - سید عبدالرؤف حسین شاہ

گھر کی اوپر والی منزل پہ ہماری رہائش تھی. آج کافی عرصے بعد اماں جی شہر تشریف لائی تھیں لیکن شام سے ہی ان کی طبیعت ناساز تھی. میں انہیں ایک ڈاکٹر کے پاس لے گیا، ڈاکٹر نے شوگر ٹیسٹ کی اور جان چھڑاتے ہوئے ایک دو گولیاں تھما کر واپس بھیج دیا، کمرے میں آئے، میں نے پانی ابال کر انہیں دیا، ساتھ دودھ پتی بھی خدمت میں پیش کی. وہ پہلے ہی گولیاں کھانے سے ڈر رہی تھیں کہ کہیں شوگر ہائی نہ ہوجائے، لیکن میں نے یہ دلیل دیتے ہوئے گولیاں دی کہ اماں جان ڈاکٹر نے گولیاں دی ہیں تو کچھ دیکھ کر ہی دی ہیں، آپ کھا لیں، وہ میری بات سے انکار نہ کر سکیں۔ گولی کھائی، دودھ پتی نوش کی اور لیٹ گئیں. کچھ ہی وقت گزرا تھا کہ ان پر شدید کپکپی طاری ہوگئی، سارا جسم کانپے لگا. مجھے اٹھایا اور شکوہ کیا کہ بیٹا میں اسی لیے گولی نہیں کھا رہی تھی. وہ پریشانی کے عالم میں اٹھیں اور باربار یہی کہے جا رہی تھیں کہ آج میں زندہ نہیں رہوں گی، اور زبان سے لفظ نکلنے کے ساتھ اس پر بھی کپکپی واضح محسوس ہوتی، جبکہ جوں جوں میں ان کی زبان سے یہ لفظ سنتا، میری بےچینی اور پریشانی دل کی گہرائیوں تک اتر جاتی، لیکن میں بےبس تھا. ہاتھ تھامتے ہوئے پوچھا کہ اماں اگر آپ بہتر سمجھیں تو میں اسلام آباد پمز ہسپتال لے جاتا ہوں. ہسپتال کا نام سنتے ہی جھڑک کر بولیں، بیٹا! میرا پنڈی اسلام آباد کے ڈاکٹروں سے اعتبار و بھروسہ اٹھ گیا ہے۔ میں بےچین ہوکر بیٹھ گیا، جوں جوں وقت گزرا، ان پر کپکپی اور بےچینی کی کیفیت شدید ہوتی گئی۔

کچھ دیر بعد کہنے لگیں کہ مجھے وضو کرواؤ۔ سردی اور ٹھنڈ میں جب انہوں نے وضو کا کہا تو مجھے اور پریشانی ہوئی کہ ایسا نہ ہو سردی سے مزید صیحت خراب ہوجائے، خیر جلدی سے پانی گرم کیا اور خدمت میں پیش کیا، انھوں نے وضو کیا اور فوراً کھانپتے ڈھلکتے مصلے پر کھڑے ہوکر رات کے نصف حصے میں نوافل پڑھنے شروع ہوگئیں. جوں جوں نماز پڑھتی جاتیں، کپکپی میں واضح کمی آتی گئی، کافی دیر میں بھی چھوٹے سے کمرے کی نکڑ میں بیٹھ کر ان کی اللہ کریم سے راز و نیاز کے انداز و اطوار کو بڑے انہماک سے نوٹ کرتا رہا. جب دعا و نماز پڑھ کر فارغ ہوئیں تو ان کی صحت کافی حد تک سنبھل چکی تھی. مصلے سے اٹھتے ہوئے پہلے مجھے کہا کہ سوئے نہیں؟ پھر ساتھ ہی اپنے عمل کی وضاحت کرتے ہوئے کہنے لگی، کہ بیٹا دنیا سے اعتبار اٹھ جائے مسئلہ نہیں، مسئلہ تب ہے جب اللہ سے اعتبار اٹھ جائے۔۔! اور جب اعتبار میں کمی ہوتی دیکھو تو فوراً سجدے میں گِرجایا کرو، ایمانی چارجنگ کا سب سے بہترین عمل ہی اللہ کریم کی بارگاہ میں سربسجود ہونا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   عظیم ماں - لطیف النساء

آج اماں جی کے اس عمل نے میرے تجربے اور ایمان کی قوت میں بےپناہ اضافہ کیا، اور ایسا نسخہ فراہم کیا جسے ہرمشکل میں استعمال کرکے مشکل و آزمائش کو بےاثر کر دیتا ہوں.

Comments

سید عبدالرؤف حسین شاہ

سید عبدالرؤف حسین شاہ

سید عبدالرؤف حسین شاہ جرمنی میں مقیم ہیں۔ خطابت اور تدریس سے وابستہ ہیں۔ اصلاح احوال اور نیکی کی دعوت ان کی دلچسپی کا موضوع ہے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.