سکھر شہر کی دلکشی - ببرک کارمل جمالی

سکھر پاکستان کا 14واں بڑا شہر اور صوبہ سندھ کا تیسرا سب بڑا شہر ہے، اور ایسے ہے جیسے ہمارا گھر ہے۔ ملک کے کسی بھی کونے میں جانا ہو تو ہم سکھر کا رخ کرتے ہیں۔ اور جہاں بھی دل کرے اندرون یا بیرون ملک، کہیں بھی چلے جاتے ہیں.

سکھر شہر ہزاروں سال پرانا ہے اور اپنی رنگا رنگ ثقافت اور دلکش نظاروں کی وجہ سے مشہور ہے۔ دنیا بھر میں معروف کھجوروں کے بڑے بڑے باغات بھی یہیں موجود ہیں۔ دنیا کی قدیم داستانیں اور قدیم روڈ رستے اسی شہر سے منسلک اور ہو کر گزرتے ہیں. سکھر دریائے سندھ کے کنارے پر واقع ہے، 1397 میں ایشیا کا سب سے بڑا فاتح امیر تیمور اسی دریائے سندھ کے رستے سے ہندوستان آیا تھا۔

دریائے سندھ کے مغربی کنارے پر آباد یہ شہر اپنے چند دلچسپ اور پرکشش مقامات کے باعث دیگر شہروں کے مقابلے میں ایک جداگانہ حیثیت رکھتا ہے. سکھر یا کسی اور شہر جانا ہو تو میں صبح سویرے بلوچستان میں واقع اپنے گھر سے سکھر کی جانب روانہ ہو جاتا ہوں. کئی ہوٹل اس شہر کی پہچان ہیں. کہیں پر بھی ڈیرہ ڈال لیتا ہوں. ایک دفعہ ایک ہوٹل پر بیٹھ کر چائے کا آرڈر دیا کہ اسی اثنا میں ایک فقیر آگیا. بھائی پانچ روپے کا سوال ہے. جوابا دس روپے فقیر کو دیتے ہوئے کہا کہ بھائی دعا کرو، آج کا دن اچھا گزرے، فقیر نے چند دعائیں دیں اور آخر میں کہا کہ اللہ سندھو دریا کے واسطے سب کام اچھے کر دے گا۔ ایک لمحے کے لیے فقیر کی دعا پر غور کیا کہ آخر سندھو دریا کی حیثیت اتنی ہے کہ فقیروں نے دعا بھی اس کے نام سے دینی شروع کر دی ہے۔ اسی دوران بوٹ پالش والا بھی آگیا، اس نے پچاس کا نوٹ مانگا جبکہ چائے والے نے چالیس روپے، ایک پراٹھے اور ایک چائے کی قیمت دے دی، حیران تھا کہ بوٹ پالش والے کی قیمت ان سے بھی سے زیادہ تھی۔ واہ سندھو دریا واہ۔

اس دن کچھ پل شہر میں گزارنے کے بعد چند مقامات کی سیر کے لیے نکل کھڑے ہوئے. ہم سکھر شہر کو بہت قریب سے دیکھنا چاہتے تھے۔ اسی خواہش میں سب پہلے سکھر بیراج گئے، جو انجینئیرنگ کا ایک حیرت انگیز کمال اور شاہکار ہے۔ 1932ء میں تعمیر کیا جانے والا یہ بیراج 10 ملین ایکڑ سے زائد رقبے کی حامل زمین کی آبپاشی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ بیراج سے نکلنے والی تین نہروں کا ایک دلچسپ نظارہ بھی اس کے حسن میں اضافہ کرتا ہے، جو دادو کینال، رائس کینال اور کیرتھر کینال کے نام سے جانی جاتی ہیں. ان میں سے کیرتھر کینال کا پانی میرے پیارے بلوچستان کی سرزمین سیراب کرتا ہے جبکہ باقی دونوں کینالوں کا پانی سندھ دیس کی سیرابی کےلیے ہے۔ رات کے وقت بیراج رنگا رنگ روشنیوں کے بدولت انتہائی خوبصورت دکھائی دیتا ہے۔

سکھر اگر کوئی شخص گیا اور اس نے ریل کا پل نہ دیکھا تو سمجھیے کہ کچھ بھی نہ دیکھا، جس طرح لاہوری کہتے ہیں کہ جس نے لاہور نہ ویکھا وہ پیدا ہی نہیں ہوا، یہی مثال اس پل کی بھی ہے۔ یہ سکھر کا مشہور لینس ڈاؤن پل ہے جو قینچی پل کے نام سے مشہور ہے. یہ ریلوے پُل 1889ء میں تعمیر کیا گیا لیکن اس وقت انجنیئر اس کے استحکام کے حوالے سے پرامید نہیں تھے ۔ پل پہ کھڑے ہو کر ایسا خوبصورت نظارہ دریا سندھ کا دیکھاجو بہت خوبصورت بھی تھا اور دل دہلا دینے بھی۔
صبح کا سورج اپنی کرنیں دریا پر ایسے پھیلا رہا تھا جیسے ماں بچے کو گود میں سلا رہی ہو۔ ایک دوست سے پل کے بارے میں کچھ معلومات حاصل کیں تو حیرانی ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ پہلی مرتبہ اس پل سے گزرنے والی ٹرین پر کچھ قیدی سوار کیے گئے تھے، تجرباتی طور پر پہلی ٹرین کو پھانسی کی سزا پانے والے قیدیوں کے ساتھ گزارا گیا، تجربہ کامیاب رہا چنانچہ اس خوشی میں ان تمام قیدیوں کو آزاد کر دیا گیا۔

سکھر کے مرکز میں واقع معصوم شاہ قدیمی و تاریخی مقام ہے، اسے میر معصوم شاہ کا مینارہ کہا جاتا ہے- یہ پہاڑی پر واقع ہے، اور اس کی تعمیر میں پکی اینٹیں اور چونے کا پتھر استعمال ہوا ہے۔ یہ 84 فٹ چوڑا، 84 فٹ لمبا ہے اور گولائی میں سیڑھی کے قدموں کی تعداد بھی 84 ہے۔ سید میر محمد معصوم بکھری مغل شہنشاہ جلال الدین اکبر کے اُمراء میں شامل تھے، اور مریدین میں اتنے محبوب تھے کہ کچھ عاشقوں نے اس مزار کے اوپر سے چھلانگ لگا کر اپنی جان قربان کر دی تھی۔ عشق بھی کیا چیز ہے کہ عاشقوں کو اس مقام پر لاتا اور جان قربان کر دینے پر آمادہ کرتا ہے. ہم نے بھی دیکھا، اور سوچا کہ چلو! آج ہم بھی آزما لیں، پھر سوچا جان ہے تو جہاں ہے، سو عاشقوں کے اس گروپ میں شامل ہونے سے باز رہے۔

یہاں پر مشہور فاتح اسلام محمد بن قاسم کی تاریخی مسجد کی باقیات موجود ہیں. یہ مسجد 711 عیسوی میں محمد بن قاسم نے تعمیر کروائی تھی. 17 سال کی عمر میں سندھ فتح کر کے محمد بن قاسم ملتان کی طرف بڑھے تھے۔

دریائے سندھ کے کنارے پر موجود لب مہران ہے، اس جگہ کی خوبصورتی مشہور ہے، دریا کی موجیں اور حسین درخت، مل کر لوگوں کے دل میں جگہ بنا لیتے ہیں، لب مہران پر کئی سندھی گانے فلمائے گئے، اور بہت مشہور ہوئے۔ مقامی شہریوں کے لیے یہ تفریح سے بھرپور مقام ہے. خاص کر اتوار کے دن شہریوں کی ایک بڑی تعداد اس مقام کا رخ کرتی ہے. یہاں نہ صرف کھانے پینے کی اشیاﺀ کے اسٹال موجود ہوتے ہیں بلکہ دریا میں کشتی کی سواری سے بھی لوگ لطف اندوز ہوا کرتے ہیں۔

صبح سے شام ہوگئی، سکھر شہر چھٹی کی اجازت تو نہیں دے رہا تھا، مگر مجبورا الوداع اس شہر دلدار کو الوداع کہنا پڑا، اور اس کی یادیں آپ کے سامنے پیش کر دی ہیں.