اسلامی بینکاری اور پروفیسر عمران احسن نیازی کی آراء (2) - محمد ابوبکر صدیق

اسلامی بینکاری کے معاملات کو اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور شریعہ بورڈ کے افراد کی اجازت پر چھوڑنے کے بجائے پارلیمنٹ یا عدالتی نظام کے ذریعے قانونی قرار دیا جانا چاہیے ۔ بالفاظ دیگر اس بارے میں لازمی طور پر واضح قانون سازی کی جانی چاہیے کیونکہ شریعہ بورڈز کی حیثیت ایک مفتی کی سی ہے جس کے فتوے کو صرف ذاتی مفاد میں قبول کیا جاتا ہے جبکہ اس کے ساتھ کسی دوسرے کا مفاد وابستہ نہ ہو۔ نیز یہ فتوے افراد پر لازم بھی نہیں ہوتے کہ وہ اسے اپنے اوپر نافذ کریں۔ (پیرا گراف نمبر 4)

دعوے کا تجزیہ :
اس حد تک تو اسلامی بینکاری کے حاملین بھی قائل ہیں کہ اسلامی بینکاری نظام کو ریاستی سرپرستی حاصل ہونی چاہیے اور اس کے لیے باقاعدہ قانون سازی کی جانی چاہیے ۔ موجودہ حکومت نے اسلامی بینکاری کی جانب توجہ دی ہے، امید ہے اس بارے میں مستقبل قریب میں کوئی نہ کوئی پیش رفت ہوگی۔

جہاں تک اس دعوے کا دوسرا حصہ ہے، اس کے لیے اس پہلو پر غور کرنا ضروری ہے کہ اسلامی بینکاری کے معاملات کسی افرادی نہیں بلکہ اجتماعی نوعیت کے ہیں۔ ماضی بعید میں معاملات فرد کی سطح پر دیکھے جاتے تھے۔ فقہ کی کتب میں ایک دو یا چند افراد کے معاملات سے متعلق مسائل کا حل ملتا ہے لیکن فی زمانہ اقتصادی معاملات افراد کی سطح سے نکل کر اداراتی سطح تک آ پہنچے ہیں۔ فقہا نے اجتماعی اجتہاد کے ذریعے شریعت کے بنیادی اصولوں کی روشنی میں نئے اصول و ضوابط متعارف کرائے تاکہ معاشرے کے اجتماعی سطح کے اقتصادی امور میں یکسانیت بھی پیدا ہو اور افراد کی سطح تک سہولت بھی پہنچے۔ شریعہ بورڈ کے ممبر علماء عمومی طور پر اپنے اسلامی بینکوں کو ان اصولوں پر چلاتے ہیں جو مسلمانوں کے جید علما نے اجتماعی اجتہاد کے ذریعے مقرر کیے ہیں۔ مجمع الفقہ الاسلامی جدہ اور ایوفی جیسے اداروں میں اجتماعی اجتہاد کے کام کو بطریق احسن سرانجام دیا جا رہا ہے۔

عوام میں اسلامی بینکاری سے متعلق پائے جانے والے تذبذب کی بنیاد علما کے فتاوی نہیں ہیں بلکہ اسلامی بینکاری نظام کی معلومات کا عوامی سطح تک نہ پایا جانا ہے لیکن کسی حد تک لوگوں میں علماء کے فتاوی کی ساکھ پر تشویش پائی جاتی ہے جس کی وجہ بھی لاعلمیت ہے۔ عوامی تشویش کسی نظام کے عدم جواز کی دلیل نہیں ہوتا ورنہ تو شاید ہی کوئی نظام ہوگا جس پر عوام تشویش کا شکار نہ ہو۔ عوام کا کام ہے اہل علم کے پاس جائے اور اپنے لیے تشفی قلب کا سامان کرے۔

یہ دعوی کہ فتوے افراد پر لازم نہیں ہوتے تو اس پر عرض ہے کہ عوام کو جب اس بات کا علم ہوجائے کہ اسلامی بینک کس طرح اپنے شریعہ بورڈ کے ممبر علماء کے فتووں کا پابند ہوتا ہے تو ان کے لیے بھی یہ بات کسی حد تک تسلی کا باعث ہوتی ہےکہ وہ اس پر اعتماد کریں۔ نیز اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے قوانین اور سپر ویژن میں اسلامی بینکوں کا کام کرنا افراد کی انویسٹمنٹ کے محفوظ ہونے کے لیے کافی ہے۔ اس کے علاوہ اسلامی بینکوں کے ڈیپازٹس پر The Deposit Protection Corporation Act, 2016 موجود ہے۔ اس بارے میں قانون سازی کا عمل تدریجا جاری ہے۔ رہی بات کہ اسلامی بینکوں پر نافذ فتوے کسی فرد پر لازم نہیں ہوتے، تو جناب ایسے تو حکومت اور پارلیمنٹ کی قانون سازی بھی کسی فرد پر نافذ نہیں ہوتی۔ اگر اس نے اعتبار نہیں کرنا تو وہ حکومت کا بھی نہیں کرےگا۔ عوامی اعتبار کے بنیادی اسباب کچھ اور ہوا کرتے ہیں تاہم حکومتی سرپرستی اس باب میں ایک سبب ضرور ہے لیکن صرف یہی ایک ہی سبب نہیں ہے۔ لہذا پارلیمنٹ یا عدالتی قانون سازی کا نہ ہونا اسلامی بینکاری کے عدم جواز کی دلیل نہیں بنتا ۔

Comments

محمد ابوبکر صدیق

محمد ابوبکر صدیق

محمد ابوبکرصدیق بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے شعبہ اکنامکس، اسلامی بینکنگ میں تدریس کے فرائض سر انجام دیتے ہیں۔ قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے معاشیات میں ماسٹر، اسلامی یونیورسٹی سے ایم ایس اسلامک بینکنگ کیا، اب پی ایچ ڈی اسکالر ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.