صحافت کے درسی تقاضے - مولانا سکران

آج کا دن صحافیوں کی سیکیوریٹی کے حوالے سے عالمی سطح پر یاددہانی کا تقدس رکھتا ہے اور اس سلسلے میں صفحہء قرطاس پر نت نئی کہانیاں اور تجاویزات زیر قلم آچکے ہونگے۔ہمارے ہاں ایک صحافی کی پیشہ ورانہ زندگی میں آنے سے پہلے بھی انکی تعلیم و تربیت اور ذہن سازی کے حوالے سے کافی حد تک تشنگی پائی جاتی ہے جسکو بجھانے کے لئے عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ کسی زمانے میں صحافت کے میدان میں درسگاہ کی سند اور ادارے کے لیبل تک نہیں پوچھا جاتا تھا۔

لیکن وقت کے ساتھ ساتھ سب کچھ بدل گیا اور ابلاغ عام نے دیگر علوم و فنون کی طرح ترقی کے زینے پر چڑھ کر جامعات میں اپنی پہچان قائم کی تو روز بروز تحقیق کے نئے دریچے اس مکتب میں کھلتے گئے۔ ماضی قریب تک صحافت جو کالم نگاری، فیچر نگاری، تجزئے، رپورٹس، اداریہ، اور آگے جاکر کھیلوں کی خبریں ۔ جرائم کی خبریں، شوبز کی خبریں، حالات حاضرہ، جیسے موضوعات پڑھانے اور سمجھانے تک محدود تھی وسیع سے وسیع تر ہوکر بےپایاں و بیکراں بن گئی ہے۔ بیرونی دنیا کے تعلیمی اداروں میں ہر سال ابلاغ عامہ کے شعبہ جات میں نئے کورس کے اندراج کے ساتھ ساتھ وہاں کے موجودہ نصاب کا ازسرنو جائزہ اور تجدید کی جاتی ہے تاکہ مستقبل کا صحافی اور ماہرابلاغ زمانے کی رفتار سے چلنا اور حالات کی آہنگ سے بولنا سیکھ سکے۔ وہاں کی فیکلٹی میں ابلاغ کے پروفیسروں کے ساتھ ادبی نقاد، ٹیکنالوجی کے ماہرین اور فیلڈ ورکرز بھی کام کرتے نظر آئیں گے جو طالب علموں کے مختلف انداز سے تہذیب و تادیب کرتے ہیں۔

اس کے مقابلے میں ہماری یونی ورسیٹیوں میں ٹیم اپروچ کا رجحان مفقود ہے۔ انٹرڈسپلنری کورس ہونے کے باوجود طلبائ ابلاغ عامہ سے متعلق دیگر مضامین سے تعارفی حد بھی آشنا نہیں ہوجاتے۔ مثلا صحافت اور ادب کا چولی دامن کاساتھ ہے۔ برنارڈ شا نے کہا تھا؛ صحافت اعلٰی درجے کا ادب ہے۔ باین ہمہ ہمارے ہاں ادبی صحافت پر کوئی کورس متعارف نہیں ہوا۔ ملک میں ادیبوں اور نقادوں کی بہتات ہونے کے باوجود اس پر کام نہ ہوسکا۔ میڈیا سائیکالوجی کے نام سے کوئی مضمون نفسیات یا ابلاغ کے کسی انسٹیٹیوٹ میں نہیں پڑھایا جاتا۔ آن لائن صحافت پر، دیر آید درست آید کے مصداق تجربہ کاری شروع ہوئی مگر ابلاغ بزریعہ کمپیوٹر کے نام سے ہر ایک واقف نہیں۔ سائنسی ،صحتی اور جنگی رپورٹ لکھنے پر جتنے ورکشاپ، سیمینار اور چھوٹے چھوٹے کورس باہر کی دنیا میں کرائے جاتے ہیں ہمارے انکا عشرعشیر نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   بلوچستان یونیورسٹی اور یونیفارم - گہرام اسلم بلوچ

ہمارے ہاں تو کاروباری صحافت کا کورس بھی چند ایک جامعات تک مخصوص و محدود ہے۔ صحافت کا ایک اہم کام جس کے اثرات سے ہم بالکل محفوظ تو نہیں، البتہ دوسروں کو متاثر نہیں کرسکے، پروپیگنڈہ ہے۔ عصر حاضر کے میڈیا کا استعمال انفارمیشن، ایجوکیشن اور اینٹرٹینمنٹ کے ساتھ ساتھ پروپیگنڈہ کے لئیے لابدمنہ کی طرح ہے۔ وار پروپیگنڈہ کی اہمیت تو پہلی جنگ عظیم سے دنیا پر عیاں ہوچکی تھی۔ گلوبلائزیشن کی وجہ سے کمرشل پروپیگنڈہ بھی معصوم ذہنوں کو خیرہ کرنے لگا۔ اس کے پیش نظر مختلف ممالک میں اشتہار بازی، پروپیگنڈہ اور پبلیسیٹی کے نام سے الگ شعبے قائم ہونے لگے۔ برین واشنگ کے موضوع پر لیب اور فیلڈ میں تجربات آزمانے لگے۔ اور قدیم نظریات کی نئی تشریح و توضیح ہونے لگی۔ اسکے برعکس ہمارا نصاب تو میڈیا کے لوگوں پر اثرات سے آگے نہیں گیا۔ ایم فل کی تکمیل کے لئے میں سٹیریوٹائپنگ پروپیگنڈہ کے موضوع پر اپنا مقالہ لکھنے کا عزم کر بیٹھا تو تلاش بسیار کے بعد معلوم ہوا کہ اردو میں پروپیگنڈہ پر صرف تین کتابیں آج تک لکھی گئی ہیں۔ اور اگر حسین حقانی کی یہ بات حقیقت پر مبنی ہو کہ پاکستان کا وار پروپیگنڈہ مینوول انیس سو انتالیس کے انگریزوں کا مرتب کردہ ہے تو ہم جیسی غافل و کاہل قوم دنیا میں کہیں ہوگی؟

ہمارے ہاں ایک المیہ بلکہ المیے پر نوحہ یہ بھی ہے کہ کئی ایک کمیونیکیشن انسٹیٹیوٹ کے پاس اپنا میڈیا ہاوٰس نہیں ہوتا اور طلبائ کو ٹی وی، ریڈیو یا اخبار میں انٹرنشپ دلوانے کے لئے یار دوستوں کی منتیں کرنی پڑتی ہیں۔ یہاں برازیل میں ہر سال دیکھتا ہوں کہ مختلف میڈیا کے ادارے اپنے ہاں پیڈ انٹرن شپ کے لیے خود طلبائ کو دعوت دیتے ہیں اور ان میں سے ہونہار بچوں کو مستقل طور پر اپنے ہاں جاب پہ رکھتے ہیں۔ پاکستان میں میڈیا کے ساتھ فری کام کرنا ہو تو بھی جوکھوں کا کام ہوتا ہے۔ میڈیا کے پروفیشنل کورس کے لئے ہینڈ آن پریکٹس لازمی ہوتا ہے جس کے لئے ایک بہترین سٹوڈیو کا قیام ناگزیر ہے مگر فنڈ کی کمی کی وجہ سے بعض میڈیا ڈیپارٹمنٹ ایسا نہیں کرسکتے۔ ایسے میں باہر کی میڈیا ہاوٰس سے استفادہ کرنا ہوتا ہے۔ صحافتی اداروں میں کسی کی نگرانی میں ہو کر ان سے سیکھ جانا بھی بعض اوقات آزمائش ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   پولیٹیکل اسلام؛ کام کا اسلوب اور فکر معاش - ڈاکٹر حافظ اسامہ اکرم

ایک حتمی کام جس کا اندازہ سب کو ہونا چاہیے اور جس میں میڈیا آرگنازیشن اور ماس کمیونی کیشن ڈیپارٹمنٹ اپنا اپنا رول ادا کرسکتے ہیں تحقیق و تدوین کا شعبہ ہے۔ بعض یونی ورسیٹیوں کے پاس پی ایچ ڈی کے حامل سپروائزر اتنے ذیادہ نہیں ہوتے تو بعض سپروائزر کسی کی نگرانی کے لئے تیار نہیں ہوتے۔ سوچ سمجھ کر کسی غیر اہم یا نا مناسب موضوع پر ریسرچ کروانا یا پھر کسی اور کے لکھے ہوئے تھیسیس سے لفظ بہ لفظ نقل کرنا، مقررہ موضوع کو کئی ایک طالب علموں سے کریدنا، یہ سارے زوال پزیر رجحانات ہیں۔ موجودہ عشرے میں سوشل سائنسیز میں شماریات کا استعمال برق رفتاری سے بڑھ رہا ہے۔ اس سلسلے میں اسپیشل سافٹ ویئر بھی منظر عام پر آچکے ہیں جس میں ڈیٹا کو خاص ترتیب دے کر نتیجہ نکالنا پڑتا ہے اور یہ کام وہی بندہ کرسکتا ہے جس نے شماریات کا کچھ پڑھا ہو۔ اس بنائ پر ہر ڈیگری کے نصاب میں شماریات کا کورس لازمی ہونا چاہیے۔ ساتھ ہی قوالیٹیٹیو ریسرچ کو قوانٹیٹیٹیو ریسرچ سے ایک الگ مضمون کے طور پر پڑھانا چاہئے۔ ملک میں مختلف جامعات کے تھیسیس کا ایک ایسا انڈیکس ہونا چاہیے جس تک ہر ایک کی آسانی سے رسائی ہوسکے۔ تب جاکے ہم دوسری اقوام کے کندھے سے کندھا ملا کر چلنے کے قابل ہوجائیں گے۔