بیٹی کا احساس - سائرہ ممتاز

نعمتیں اتار کر کسی قوم یا فرد کو آزمایا جاتا ہے، آپ تو بیٹا پا کر خوش ہوتے ہیں، تکبر سے سینہ چوڑا کر کے چلتے ہیں، جس کے پانچ چھ بیٹے ہوں وہ تو اپنے آپ کو دنیا کا بادشاہ اور فاتح عالم سمجھنے لگتا ہے، مزید ستم یہ کہ رشتہ دیکھتے ہوئے لڑکے والوں کی ادائیں ہی نرالی ہوتی ہیں، گویا کوئی فاتح قوم کا سربراہ مفتوح کے کسی جنگی قیدی پر کوئی احسان عظیم کر رہا ہو، آپ جانتے ہی نہیں ہیں کہ آپ پر کون سی آزمائش اتاری گئی ہے؟

اس سلسلے کی پہلی تحریر: عورت اور احساس

آپ خیال کرتے ہیں کہ آپ سے نماز، روزے، حقوق و فرائض جو دوسرے دنیاوی امور میں ہوتے ہیں، ان کا سوال ہوگا؟ ہرگز نہیں، یہ جو اولاد دی گئی ہے اور جسے فتنہ کہا گیا ہے، یہ آزمائش یہی بیٹے ہیں، بیٹیاں جنہیں آپ نظرانداز کر دیتے ہیں، وہ آپ کی اچھی تربیت کے صلے میں آپ کے لیے باعث اجر و ثواب ہیں، جس جنت کے حصول کے لیے آپ مارے مارے پھرتے ہیں، گلے میں بارود ڈال کر اپنے ہی باپ کی نسل کشی کرتے جاتے ہیں، وہ تو فقط دو یا تین بیٹیاں ہی آپ کو لے کر دے سکتی ہیں. کیا کسی مذہب کے بیوپاری نے کبھی یہ بات بھی بتائی ہے؟

یہ جو بیٹی کے نام کے ساتھ احساس کا رشتہ جڑا ہے، کتنا نازک ہے؟ ذرا سوچیے کہ بیٹی صرف ایک ماہ کی ہی کیوں نہ ہو، آپ اس کے پردے کا تقدس بھی رکھتے ہیں، جبکہ وہ چار ڈاکٹروں اور نرسنگ اسٹاف کے ہاتھوں سے ہوتی ہوئی آپ تک پہنچی، لیکن ایک باپ کے لیے پھر بھی اسے بےپردہ دیکھنا مشکل ہوتا ہے، کیوں؟ یہ صرف احساس ہی تو ہے کہ بیٹی ہے بیٹی، جب یہی بیٹی بڑی ہوتی ہے تو کیا اس کا احساس، نزاکت، اس کی حرمت کم ہو جاتی ہے؟ نہیں بلکہ بڑھتی جاتی ہے، وہ مکمل آپ کی ذمہ داری پر ہے. جب آپ بیٹے کو حد سے زیادہ آزادی دے کر غفلت کا شکار ہو جاتے ہیں، اور آنکھیں موند کر سمجھنے لگتے ہیں کہ لڑکا ہے، اسے کیا فرق پڑنے والا ہے، تو یقین کیجیے کہ فرق اسی دن سے پڑ جاتا ہے، اسی لمحے سے آپ کی آزمائش شروع ہونے لگتی ہے.

یہ بھی پڑھیں:   میرے پیارے عبداللہ - سعدیہ مسعود

صرف بیٹی کو ہی دنیا کی نظر سے نہیں چھپانا ہوتا بلکہ اپنے بیٹے کو یہ سبق دینا کہ باہر جو لڑکیاں تمھیں نظر آتی ہیں، یہ بھی کسی کی بیٹیاں ہیں جن کا احترام تم پر فرض ہے، یہ بھی آپ کی ذمہ داری ہے اور یہ طے شدہ حقیقت ہے کہ اگر آپ اپنی ذمہ داری سے غفلت برتیں گے تو یہ غفلت کسی عفریت کے روپ میں آپ کی اپنی بیٹی تک لوٹ آئے گی! یہ وہی اٹل حقیقت ہے جسے کاٹنا کہتے ہیں. جو بویا جائے گا، وہی کاٹا جائے گا.

آپ نے بارہا پڑھا ہوگا کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا کی آمد پر کھڑے ہو کر اپنی شہزادی کا استقبال کرتے تھے، نہ صرف تعظیم کو کھڑے ہوتے تھے بلکہ اپنے کاندھوں پر رکھی چادر اپنی بیٹی کے قدموں تلے بچھا دیتے تھے. کیا یہ بات آپ کے صرف لاشعور میں اترتی ہے؟ کیا اس بات نے کبھی آپ کے شعور کو نہیں جھنجھوڑا؟ اللہ کے نبی کا کوئی فعل صرف یونہی تو نہیں ہوا کرتا؟ صرف ایسے ہی تو نہیں ہوتا، وہ تو مثال قائم کرنے کے لیے ہوتا ہے وہ تو سبق سکھانے اور تعلیم دینے کے لیے ہوتا ہے، تو اس بات سے آپ نے کبھی کچھ سبق سیکھا؟

(جاری ہے)

Comments

سائرہ ممتاز

سائرہ ممتاز

سائرہ ممتاز کو تاریخ، ادب، ثقافت، زبان، تصوف، معاشرے، اور بدلتی ہوئی اقدار جیسے موضوعات میں دلچسپی ہے۔ صحافت اور اردو میں ماسٹرز کیا ہے۔ نسل نو کو زیورتعلیم سے آراستہ کرنا ان کا شوق ہے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.