بھارتی فلموں کی نمائش پر پابندی کس نے ختم کی؟ رضوان الرحمن رضی

یقین مانیے کہ اس امر کا خدشہ تو شاید ذہن کے کسی نہاں خانے میں موجود تھا لیکن اس بات کی توقع قطعاً نہیں تھی کہ یہ اس قدر جلد ہو جائے گا، کیوں کہ نظریہ پاکستان کے سپاہی اور (سرکاری نوکری سے ریٹائرمنٹ کے بعد) میاں محمد نواز شریف کے نظریاتی سپاہی، جناب عرفان صدیقی کی اس محاذ پر موجودگی سے ہمیں نجانے کیوں غلط فہمی تھی کہ شاید یہ معاملہ کسی ’’باوقار‘‘ طریقے سے حل ہو۔ لیکن وزیراعظم کے مشیر جو الیکٹرانک میڈیا میں شام چھ سے رات بارہ بجے والے ’باندر کلا‘ پروگراموں میں ایک حکومتی کردار ہوتے ہیں، ان کا جب ایکسکلوسو انٹرویو 9 بجے والے خبرنامے میں چلا اور کسی بھی اخبار کے صفحہ تین پر دو کالمی خبر والی شخصیت کو اچھال کر فرنٹ پیج پر لایا گیا تو ہمارا ماتھا ٹھنکا۔

اب صورتِ حال یہ ہے کہ جناب عرفان صدیقی کی سربراہی میں قائم کی گئی وزارتِ اطلاعات کی ایک خصوصی کمیٹی کی فرمائش پر (نظریہ پاکستان کے محافظ) جناب میاں محمد شریف نے عین اس وقت ملک میں بھارتی فلموں کی اجازت دی ہے جب قوم مظلوم کشمیریوں کے ساتھ یومِ یکجہتی منانے کے لیے کمر کس رہی ہے۔ یہ بات قابلِ ہضم نہیں کہ جناب عرفان صدیقی یا ان کے موجودہ باس میاں نوازشریف اس سے آگاہ نہیں ہوں گے کہ 5 فروری کو یومِ یکجہتی کشمیر منایا جانے لگا ہے کیوں کہ میاں نواز شریف نے پنجاب کے حکمران کے طور پر یہ دن منانے کی روایت (اپنی اُس وقت کی سیاسی حریف بے نظیر بھٹو کو کشمیر فروش ثابت کرنے کے لیے) خود ہی ڈالی تھی، تو پھر کیا ہی اچھا ہوتا کہ اس فیصلے میں چند دنوں کی تاخیر کر لی جاتی؟ لیکن وہ کیا ہے کہ آج کل بھارتی فلم ’رئیس‘ بڑا بزنس کر رہی ہے اور کوئی بھی تاخیر جناب صدیقی صاحب کے سابق باس کے لیے مالی خسارے کا موجب ہو سکتی تھی، جنہوں نے اس فلم کی بکنگ کروا رکھی ہے۔
’نوکری ‘ کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے
وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے
(احمد فراز کی روح سے معذرت کے ساتھ)

ہماری خوش فہمی کی وجہ یہ تھی کہ یہ پابندی سرے سے پاکستان نے تو لگائی ہی نہیں تھی کیوں کہ پاکستانی قوانین کے مطابق تو کسی طور یہاں پر بھارتی فلم درآمد ہو ہی نہیں سکتی، اس لیے پاکستانی سینما مالکان یا پھر کسی اور فریق کی کیا اوقات بچتی تھی؟ تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان میں جو فلمیں آ کر نمائش کے لیے پیش ہو رہی ہیں، وہ کیسے آ رہی تھیں؟ تو سیدھی سی بات ہے کہ اس قانون کو موم کی ناک بنا لیا گیا تھا۔ بھارتی فلموں کے نمائش کنندگان کی طرف سے طرف سے فلم کے آغاز میں دو یا تین سلائیڈز کا اضافہ کر دیا جاتا کہ یہ فلم دبئی میں فلاں فلاں ادارے نے بنائی ہے، اور فلاں ادارے کے پاس اس کے بین الاقوامی نمائش کے حقوق موجود ہیں، اور یہ فلم وہ ادارہ پاکستان بھجوا رہا ہے، تاہم اس کی ’’عکس بندی‘‘ بھارت میں کی گئی ہے۔ اور ہمارے ملک کا جلبِ زر کا مارا طبقہ اشرافیہ قانون کی اس موم کی ناک کو اپنے حق میں مروڑ لیتا اور یوں یہ فلم حلال ہو کر براستہ دبئی پاکستان پہنچ جاتی۔

تو کیا میاں نواز شریف کا بھارتی فلموں کی درآمد پر پابندی ختم کرنے کا وہ حکم جو ان میڈیا ہاؤسز نے ہم تک پہنچایا ہے، اس کے ذریع ملک کے مروجہ قوانین میں تبدیلی ہوگئی؟ لیکن وہ کیا ہے کہ قانون میں تبدیلی کے لیے تو ہم نے ایک پارلیمنٹ رکھی ہوئی ہے یا پھر ہمارے ہاں مغل اعظم ثانی کا دور چل رہا ہے؟ جناب بیرسٹر طفراللہ خان جیسی نابغہ روزگار اور اہل ِ علم شخصیت اس قانونی موشگافی پر قوم کی راہنمائی فرمائیں تو احسان ہوگا، اگرچہ قوم ان کے احسانوں کے بوجھ تلے پہلے ہی دبی ہوئی ہے۔ ہم تو جناب پروفیسر ڈاکٹر احسن اقبال کی طرف سے اس بیان کے انتظار میں بھی ہیں کہ جب وہ فرمائیں کہ بھارتی فلموں کی درآمد سی پیک کا حصہ ہے جس سے خطے میں خوشحالی کے ندی نالے بہہ نکلیں گے۔

ویسے درونِ خانہ حقیقت یہ ہے کہ بھارتی فلموں پر پابندی ہماری طرف سے نہیں لگائی گئی تھی بلکہ بھارتی فلموں کے تیار کنندگان و برآمد کنندگان کو بھارتیہ جنتا پارٹی کے جن سنگھیوں نے ان کے دفاتر میں جا کر دھمکیاں دی تھیں کہ اگر ان کی فلمیں کسی بھی رستے سے جا کر پاکستان میں نمائش پذیر ہوئیں تو وہ ان کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے۔ اس پر بھارتی فلم برآمد کنندگان نے پاکستانیوں کو فلمیں دینے سے انکار کر دیا کیوں کہ بی جے پی کم از کم ان کو بھارت کی ان ریاستوں میں تو اپنی فلموں کی نمائش کرنے سے روک ہی سکتی تھی جہاں ان کی حکومت تھی۔ اور یوں وہ پورے بھارت کی منڈی سے محروم ہو سکتے تھے۔ ویسے بھی بھارت کے لئے پاکستان سو سے زائد ممالک میں سے ایک منڈی ہے، وہ محض ایک منڈی کے لیے اپنا کاروبار کیوں خراب کرتے، اس لیے پاکستان کو فلم بھیجنے سے بھارتیوں نے انکار کیا جبکہ ہم تو دیدہ و دل فرشِ راہ کیے بیٹھے تھے۔ بھارت کی طرف سے اس اعلانیہ پابندی کے جواب میں ہم نے بھی خون لگا کر شہیدوں میں شامل ہونے کا اعلان کرتے ہوئے ان فلموں پر پابندی کا اعلان کردیا۔
رند کے رند رہے ہاتھ سے جنت نہ گئی

فلموں کے کاروبار میں خرابی کا آغاز بھارت کی طرف سے کسی نہ کسی واقعے کو بہانہ بنا کر پاکستان کے بازو مروڑنے کی مہم سے شروع ہوا۔ جب بھارتی انتہاپسند حکومت نے کشمیر میں اپنے مظالم سے توجہ ہٹانے کے لیے پٹھانکوٹ، سرجیکل سٹرائیک اور اوڑی واقعات کی ’نوٹنکیاں‘ شروع کیں اور وہاں کام (کی بھیک مانگنے) کے لئے جانے والے پاکستانی خواتین و حضرات اداکاراوں پر غیر اعلانیہ پابندی لگا کر ان پر حملے کی دھمکیاں دیں۔ ویسے کام کی بھیک مانگنے جانے والے ان لوگوں کی ذہنی سطح کس قدر گھٹیا، پست اور ذلیل ہے کہ ایک اداکار ’’عدنان صدیقی‘‘ کے حوالے سے اخبار میں یہ خبر چھپی ہے کہ انہیں بھارت میں ایک فلم میں اداکاری کے لیے جانے کا ویزہ ملنے پر ایسے مبارکبادیں مل رہی ہیں جیسے انہیں جنت کا ویزہ مل گیا ہو۔ ویسے ایسی ذہنیت کو تو واقعی اصلی جنت کا ٹکٹ مل ہی جانا چاہیے۔

لیکن ادھر ہماری جمہوری حکومت نے ہمیں یہ بتایا کہ یہ پابندی حکومتی سطح پر نہیں تھی، بلکہ سینما مالکان نے اپنے طور پر یہ فیصلہ کیا تھا۔ تو پھر اگر سینما مالکان اپنی ہٹ پر قائم ہیں (جو تاحال ہیں) تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بھارت سے درآمد ہونے والی فلمیں نمائش کے لیے کہاں پیش کی جائیں گی؟ اور ان فلموں کی درآمد کو کھلوانے کے لیے ملک کے تین بڑے میڈیا ہاؤسز کیوں دردِ زہ میں مبتلا تھے؟

اگر ذرا غور فرمائیں تواس وقت ملک میں فلموں کے درآمد کنندگان اور نمائش کنندگان تین بڑے گروہوں میں تقسیم کیے جا سکتے ہیں جن کی سربراہی پاکستان کے تین بڑے میڈیا ہاؤسز (جیو، ایکسپریس اور اے آر وائی) کر رہے ہیں۔ باقی درآمد کنندگان یا تو ان کے تتمے ہیں، یا کمیشن ایجنٹس۔ جب بھی کوئی فلم درآمد ہو رہی ہوتی ہے یا اسے منگوایا جانا مقصود ہوتا ہے تو یہ میڈیا ہاؤسز اپنے اخبارات اور ٹی وی چینلز میں ایسی فلموں کے لیے ماحول بنانا شروع کر دیتے ہیں، ہر نیوز بلیٹن میں ان فلموں کی جھلکیاں دکھا کر عوام کا اشتیاق بڑھاتے ہیں، اور سینما میں لگائی گئی ان فلموں کے ذریعے من کی مراد (سرمایہ) پاتے ہیں۔

فلموں کے نمائش کنندگان میں تین بڑے حصے دار ہیں، ان میں سے ایک تو غیرروایتی سیٹھ جو حال ہی میں شعبے میں آئے ہیں (جن کا ذکر آئندہ سطور میں آئے گا)، دوسرے مانڈی والاز (یعنی پیپلز پارٹی) اور تیسرے اپنے ڈی ایچ اے والے۔ لو کرلو گل۔ ملک کے طبقہ اشرافیہ کے تمام عناصرِ اربعہ تو اکٹھے ہو گئے تو باقی کیا بچا؟
پکچر ابھی باقی ہے دوست
اس لیے باقی کل

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */