ابو جی! آپ سلامت رہیں - سعدیہ نعمان

اللہ رب العزت والدین کا سایہ سر پہ قائم رکھیں۔
والدین کا حق بھی ہم کہاں ادا کر پاتے ہیں۔

اس دفعہ بھی ابو کے پاس بیٹھ کے میں نے اور بچوں نے ان کے ماضی کو کریدا۔ کچھ باتیں ریکارڈ کیں۔ سوچا تحریر کروں گی۔
یہ تحریر بھی تین سال سے کاغذوں میں پڑی ہے۔ کوشش ہے مکمل کر لوں۔

نشتر ہسپتال ملتان میں افسر شماریات کی پوسٹ پر اپنی عمر کے 35 سال ایک جہاد کرنے والے، نرسنگ سکول کی LHV اور نرسنگ اسٹوڈنٹس کے لیے چہرہ کے پردہ کی اجازت دلوانے والے، ہاسٹلز میں ایک شاندار لائبریری کا قیام عمل میں لانے اور کرپشن فری ماحول کو متعارف کروانے والے، اپنی ذات میں انجمن، اپنا کام اپنے ہاتھ سے کرنے کی روایت پہ قائم، میرے ابو جی، اللہ انھیں سلامت رکھے۔

وہ کھلونوں کے درمیان پڑی تھی، پھر ڈرائنگ روم میں داخل ہو نے پر ایک بک ریک پر کتابوں کے درمیان اسے پڑے دیکھا، پھر کھانے کے میز پر بھی ایک دن نظر آگئی، یہ ایک مٹیالے سے رنگ کی چھوٹی سی مستطیل شکل کی ٹوکری تھی جو ایک جیسی تین کی تعداد میں دیکھ کے مجھ سے رہا نہ گیا اور عفیفہ سے ایک ٹوکری ما نگ ہی لی جو اس نے بخوشی دے دی اور میں نے اپنے سامان میں رکھ لی۔

گھر واپس پہنچ کر میں نے اسے نکال کے صاف کیا اور بچیوں کے مطالعہ کی میز پہ رکھ دیا۔ بچیاں بھی حیران تھیں کہ آخر اس ٹو کری میں ماں کو کیا نظر آیا جو ماموں کے گھر سے اٹھا لائی ہیں۔ ان کے سوال پر میں بس مسکرا کے رہ گئی. اب انہیں کیا معلوم کہ اس میں کیسا طلسم ہے اور کیا کشش ہے؟

رات سب کو سلانے کے بعد جوں ہی بستر پر لیٹی تو وہ ٹوکری مسکراتی ہوئی میرے سامنےآگئی، ساتھ میں ابو جی اونچے قد کے ساتھ کھڑ ے تھے۔ نشتر ہسپتال ملتان کی رہائشی کالونی کا تین کمروں، برآمدے اور باورچی خانہ پر مشتمل ایک گھر، صاف ستھرا صحن، اس کے اطراف میں بنی کیاریاں، ان کیاریوں میں جامن اور مالٹاکے درخت، موسمی پھولوں کےگملوں کی قطار، اور ان میں چہکتے رنگ برنگے پھول، کیاری کے ساتھ کونے میں کھڑی سائیکل اور سائیکل کے اگلے حصے میں لٹکی ایک ٹوکری جو ابو جی کے اپنے ہاتھوں سے بُنی ذرا کہیں سے وزن پڑنے پر ٹوٹ جاتی تو خوبصورتی سے دوبارہ تیار کر لیتے.

اس سائیکل سے ہمارا سارا بچپن جڑا تھا۔ ابو جی، سائیکل اور ہم چاروں بہن بھائی۔ یہ ٹوکری تو دراصل استعارہ ہے، ایک روزن جس سے گزر کر ہم اپنے ماضی میں جا پہنچتے ہیں۔ ہر جمعہ چھٹی کے روز ابو جی سویرے ہی فجر کی نماز کے فوراً بعد جوگرز پہن کے ایک دو تھیلے لیتے اور خوب تیاری کے ساتھ سبزی منڈی چلے جاتے، واپس آتے تو سائیکل کا پچھلا اسٹینڈ اور آ گے لگی ٹوکری رنگ برنگ کی سبزیوں اور پھلوں سے بھری ہوتی، یہ سب ہفتہ بھر کے لیے کافی ہوتا. اگلا کام امی کا ہوتا، وہ سبزیوں کو صاف ستھرا کر کے اور دھو کر سنبھال لیتیں۔

پھر جمعہ ہی کے روز ریڈیو پاکستان ملتان سے بچوں کا پروگرام براہِ راست نشر ہوتا۔ امی ہمیں تیار کرتیں اور ابو سے اقوالِ زریں، مختصر تقریر، کوئی نظم ان کی موتیوں جیسی لکھائی میں لکھواتیں، ہمیں نہ صرف بولنے بلکہ درست تلفظ سے بو لنے کی پریکٹس کرواتیں اور ہم ابو کے ساتھ سائیکل پہ سوار ہو کر ریڈیو اسٹیشن کی عمارت میں پہنچ جاتے. ابو سائیکل کو پارکنگ میں کھڑا کرتے، اپنا پرانا ریڈیو لے کر عمارت کے وسیع لان میں بیٹھ جاتے اور ہمیں اندر بھیج دیتے۔ ہم پروگرام میں حصہ لیتے، امی گھر میں اور ابو لان میں یہ پروگرام سنتے، پھر ہم سائیکل پر سوار ہو کر گھر واپس آ جاتے۔ عام دنوں میں دفتر سے واپس آ کے بھی ہم نے کبھی ابو کو آرام کرتے نہ دیکھا، وہ کسی نہ کسی کام میں مصروف ہو جاتے۔ سائیکل کے پہیوں کی چرخ چوں چرخ چوں سنتے ہم کبھی یہ اندازہ نہ لگا پائے کہ اس سارے سفر میں ابو جی کا کتنا پسینہ بہا ہے۔

ابو جی کی صبح فجر سے پہلے ہی ہو جاتی، اور اللہ کا کرم ہے کہ اب تک یہی تسلسل ہے۔ ہم بستروں میں دبکے رہتے، ابو نماز کی تیاری کرتے جاتے وقت ہم سب کو آوازیں دیتے، ہم اچھا ابو کہہ کر پھر نیند کی آغوش میں چلے جاتے، ابو نمازِ فجر سے واپس آتے، اور پھر ہماری دوڑیں لگتیں کہ اب پھر ابو کیا کہیں گے، ابھی تک سو رہے ہیں۔ ہم غنودگی کے عالم میں نماز ادا کرتے اور ادھر ابو قرآن پاک ترجمہ اور تفسیر کی جلد اور ڈائری قلم سامنے رکھے بلند آواز سے تلاوت کرنے لگتے، پھر تفسیر پڑھتے اور نوٹس لیتے، تفہیم القرآن، تفسیر ابن کثیر، فی ظلال القرآن او تیسیر القرآن جیسی تمام تفاسیر ہم نے ابو کے زیرِ مطالعہ دیکھیں، نماز کے معاملے میں بے حد حساس۔ چھٹیوں میں نانی گھر سب جمع ہوتے ہیں تو علی الصبح ہر دروازے پر دستک کے ساتھ ”صلوٰت صلوٰت“ کی بلند اور مانوس آواز ابو کی ہوتی ہے، جو اس وقت تک آتی رہتی ہے جب تک کہ گھر کا ہر بچہ بڑا نماز ادا نہ کر لے.

یہ بھی پڑھیں:   ایک کشمیری والد کا سکول میں داخلہ کے منتظر ننھے بیٹے کے نام خط - ابو لقمان

ہم سب بہن بھائی اپنے کاموں اور چیزوں کی فہرست ابو کے ہاتھ میں تھما کے بے فکر ہو جاتے، پھر ابو جانیں اور ابو کا کام۔ حفصہ تو اکثر ہی ابو کے سر پر سوار ہوتی، کچھ خاص ہی تھا کہ ابو اس کی کوئی بات ٹالتے نہ تھے، ہم آنکھیں بھی دکھاتے تو بھی وہ اپنے مخصوص انداز میں لمبا سا ابووو کہتے ہوئے خاموشی سے ایک لسٹ ان کے آگے کر دیتی۔ ابو کسی بھی ناگواری کے بغیر اٹھتے اور اپنی سائیکل اٹھا کے چلتے بنتے، ہم آوازیں دیتے رہ جاتے کہ ابو جی کوئی بات نہیں، ذرا آرام کر لیں، فوری جا نا کوئی ضروری تو نہیں لیکن وہ اتنا ہی کہتے، افشی نے کچھ چیزیں منگوائی ہیں، وہ لے آؤں۔ پھر ابو کی واپسی پر ان کے ہاتھ میں پکڑے شاپر میں جھانکتے تو ”اہم اشیاء“ میں ٹافیاں، ناز پان مصالحہ، ڈنگ ڈانگ، ببل گم، کرُ کُرے، رنگ برنگی سونف اور مزید الم غلم شامل ہوتا، افشی مسکراتے ہوئے لفافہ پکڑتی اور کمرے میں غائب ہو جاتی، پھر یہ ”گمشدہ اشیاء“ بن جاتیں، اور اس وقت نکلتی جب سب گھر والے گپ شپ لگا رہے ہوتے، حفصہ خاموشی سے مٹھیوں میں کچھ دابے کمرے سے برآمد ہوتی اور بنا کچھ بولے سب کے ہاتھوں میں ایک ایک آئٹم رکھتی جاتی، پھر یہ اچانک ضیافت بڑا مزا دیتی۔ شادی کے بعد بھی اس کی اس عادت میں کوئی تبدیلی نہ آئی بلکہ سسرالی عزیز و اقارب اور سسرالی بچوں کو بھی اس اچانک اور معصوم ضیافت کا چسکہ لگ گیا۔

خیر بات ہو رہی تھی ابو کی۔ نشتر ہاسپٹل ملتان کے افسر شماریات کے عہدے پر کم و بیش تیس سال گزار کے جب ابو جی ریٹائر ہوئے، تب بھی ابو اتنے ہی مصروف پائے جاتے جتنا کہ ملازمت کے دوران۔ ہم ابو سے کہتے کہ ابو جی! یہ نشتر تو کمبل ہی ہو گیا ہے، اور ابو جی ہنس کے جواب دیتے کہ بیٹا نشتر مجھے نہہیں چھوڑتا اور نہ میں ہی نشتر کو چھوڑ سکتا ہوں۔

اب ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ناشتے سے فارغ ہو کر اور تیاری کے بعد ابو ایک کاغذوں کا پلندہ ایک دو رسالے کتابچے ہاتھ میں لیے نکلیں گے اور مخصوص انداز میں بولیں گے ”اچھا اب میں نشتر جا رہا ہوں“، اب کوئی پوچھے کہ آپ کو اب نشتر میں کیا کام ہے، تو کاموں کی ایک طویل فہرست سامنے آ جاتی۔ کسی کو مفت دوائی دلوانی ہے، کسی مریض کے آپریشن سے متعلقہ ڈاکٹر سے ملنا ہے، کسی کے لیے ایمبو لینس کا انتظام کرنا ہے، کسی بیمار کی عیادت کرنی ہے وغیرہ وغیرہ۔

بچپن میں نشتر میں ہم یوں گھوما کرتے جیسے خالہ کا گھر ہو۔ بڑے فخر سے ابو کی انگلی تھامے ہر وارڈ اور ہر کوری ڈور سے گزرتے گول مول سیڑھیاں چڑھتے اترتے، اندر ہی اندر کبھی ڈینٹل سیکشن تو کبھی میڈیکل کالج، کبھی وارڈ اور کبھی روزی گارڈن سے ہوتے ہوئے انتظامی بلاک آن پہنچتے، جہاں سر اونچا کر کے ایک کمرے کے باہر لگی تختی کو بار بار پڑھتے افسر شماریات اکرام الحق، لیکن انگریزی میں statistical officer نے تا دیر ہمیں الجھائے رکھا۔ پھر ہم اس طرح اونچے سر سے دفتر کے اندر گھومنے والی کرسی پر جا بیٹھتے اور ابو کی سیٹ پر بیٹھ کے نجانے کن ہواؤں میں اُڑتے رہتے، چچا امام دین اللہ بخشے (جو کہ ابو کے دفتر کے باہر بنے بنچ پہ چپڑاسی کی ڈیوٹی دیتے تھے، لیکن ہمیں ابو کے سلوک سے ہمیشہ یہ لگا کہ وہ ابو کے برابر کے افسر ہیں) کو اندر باہر آتا جاتا دیکھتے اور کچھ دیر وہاں گزار کے گھر آ جاتے۔

یہ بھی پڑھیں:   جنوبی ایشیا کا پہلا انسداد تشدد مرکز - رانا اعجازحسین چوہان

نشتر والے گھر میں اکثر ہی کوئی نہ کوئی مہمان آئے رہتے، جو مریض کو چیک کروانے ہی آتے اور کئی دفعہ ان کا قیام لمبا ہو جاتا، مگر امی ابو دونوں کو کبھی بے زار ہوتے یا کوئی ناگوار جملہ بولتے نہ سنا، بلکہ بہت خوشی سے مہمان نوازی کرتے۔ اور ہم بہن بھائیوں کی تو موج ہو جاتی، اکثر ایسا ہوتا کہ امی نے ٹیسٹ لینا ہوتا، خاص طور پر معاشرتی علوم کا تو ہماری جان نکل جاتی، ہم پڑھنے کے بجائے سب مل کر دعا کرتے کہ یا اللہ کوئی مہمان آ جائے، اور عموما ہماری دعا سنی جاتی، گھنٹی بجتی اور ادھر ہمارے بستے بند ہو جاتے، اور دل شکر کے کلمے پڑھتا کہ شکر ہے ان کارخانوں اور صنعتوں سے جان چھوٹی، جو ہمیں کبھی یاد نہ ہوئے تھے۔

خیر بات سائیکل اور اس کی ٹوکری سے چلی تھی اور ہم یادوں کی رو میں بہے چلے گئے۔ ان پرانے موسموں کی بھی عجب اک بہار ہوتی ہے۔ یادوں کی بارات لیے چلے آتے ہیں، آنکھوں میں نمی اور لب پہ مسکان چھوڑ کے پلٹ جاتے ہیں اور بندہ پھر روزمرہ کے کاموں میں مصروف ہو جاتا ہے۔ یوں یہ چکی چلتی رہتی ہے۔

ہم سب اکثر سوچتے کہ ابو جی کو کبھی افسردہ نہیں دیکھا، ہمیشہ مطمئن ہوتے ہیں، کیا ابو کو کبھی کوئی بات محسوس نہیں ہوتی، کبھی کوئی پریشا نی نہیں ہوتی، کیسے ابو نے ہم تینوں بیٹیوں کو سر پر پیار اور لبوں پر دعائیں رکھ کے رخصت کر دیا۔

پھر ہمیں اپنے ایسے سوالوں کا جواب اس دن ملا، جب جنوری کی ایک سرد شام ابدی نیند سوئی ہوئی حفصہ کو لیے ایمبولینس گھر کے گیٹ پر رکی تو ہم نے دیکھا کہ ابو ایمبولینس کے دروازے میں ہی بیٹھتے چلے گئے، ان کی سسکیاں رکتی نہ تھیں، وہ بار بار یہی کہتے جاتے، میری پیاری بیٹی میری سب سے لاڈلی اور سب سے چھوٹی بیٹی چلی گئی، پھر لگا وقت ٹھہر گیا ہے، اس دن احساس ہوا کہ حشر کا دن کیسے اتنا طویل ہوگا۔

اب بھی یہ سائیکل اپنی ٹوکری سمیت گھر کے گیراج میں پورے اعزاز کے ساتھ موجود ہے، یوں کہ کار اور موٹر سائیکل بھی اس کے مقابلے میں ہیچ نظر آتے ہیں، وہ زبانِ بے زبانی سے ایک پیغام دے رہا ہے کہ دیکھو، تین عشروں پر محیط اس زندگی میں جہاں کئی رشتے ناطے بھی ساتھ چھوڑ گئے، مجھے دیکھو میں نے کیسی وفا نبھائی ہے کہ کسی مشکل میں اپنے مالک کا ساتھ نہیں چھوڑا۔ رات گزر چُکی ہے، سورج طلوع ہو گیا ہے.

کچھ دیر پہلے پاکستان فون پر ابو جی سے میں نے بات کی ہے اور ابو جی کو ہنستے ہوئے سالگرہ مبارک بولا ہے، ابو بھی خوب ہنسے ہیں، بچوں نے بھی نانا ابو کو ہیپی برتھ ڈے بولا ہے، بچوں جیسی خوشی لیے ابو بچوں سے کہہ رہے ہیں، شکریہ بچو! آپ نے یاد رکھا، ورنہ مجھے تو کبھی یاد نہیں رہا۔ مجھے پتہ ہے کہ سالگرہ کا کوئی تصور ابو کی زندگی میں نہیں ہے لیکن یہ تو محض اک بہانہ تھا، ایک ایسے چہرے پر مسکراہٹ لانے کا بہانہ جو ہمارے چہروں پر خوشی بکھیرنے کے لیے سالوں خود کو گُھلاتا رہا۔ اللہ جی! ابو کا سایہ ہمارے سروں پہ قائم رکھنا آمین

Comments

سعدیہ نعمان

سعدیہ نعمان

سعدیہ نعمان سعودی عرب میں مقیم ہیں، بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے ابلاغ عامہ میں ماسٹر کیا، طالبات کے نمائندہ رسالہ ماہنامہ پکار ملت کی سابقہ مدیرہ اور ایک پاکیزہ معاشرے کے قیام کے لیے کوشاں خواتین کی ملک گیر اصلاحی و ادبی انجمن حریم ادب کی ممبر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • بہت خوب اسری باجی۔۔۔
    ہماری مشرقی روایات کا جنازہ نکالا جا رہا ہے۔ یہی تو وہ محاذ ہے جس پر دشمن پے در پے وار کر رہا ہے اور اس سے بچاؤ کے لیے کوئی بھی تدبیر نہیں کی جا رہی۔