سب کافر تو مسلمان کون؟ سید ثمر احمد

شروع میں ہی وہ بات کہے دیتے ہیں جو ان شاء اللہ ساری زندگی نفع دے گی۔ یاد رکھو جس شخص کے ایمان کا 1% چانس بھی ہو تو اس کو کافر کہنے کی جرات نہ کرو۔ کیا نہیں جانتے کہ کفر کا فتوٰی پلٹ آتا ہے۔ یعنی ایک کافر ہوا ہی ہوا، جس پہ لگ رہا ہے وہ یا جو لگا رہا ہے وہ۔ کیوں ایمان کو سولی چڑھاتے ہو؟ کیا یہ اتنی سستی چیز ہے؟ کیا زبان قابو میں نہیں رہتی؟ نفرت کی دعوت سے اتنا متاثر کیوں ہوگئے کہ دل اس سے بھر گیا؟ کیا حضورﷺ یہ سکھانے آئے تھے؟

ابنِ انشا نے خوب کہا، دنیا میں دو طرح کے دائرے ہوتے ہیں، ایک ریاضی کا دائرہ اور ایک اسلام کا دائرہ۔ پہلے اس میں داخل کرنے کا کام لیا جاتا تھا، اب اس سے نکالنے کا کام لیا جاتا ہے۔ پیر ضیا الدین کہنے لگے، ’شیعہ بھی کافر، بریلوی بھی کافر، دیوبندی بھی کافر، اہلحدیث بھی کافر، سب تو کافر ہوگئے پھر مسلمان کدھر گئے؟ پیر ہارون گیلانی گویا ہوئے، ’یہ نفرتیں کہاں سے آگئیں، ہم نے جن سے عشق سیکھا انہوں نے تو انسان سے محبت کرنا سکھائی‘۔ مفتی محمد خان قادری کہنے لگے ’بس پیٹ کے دھندے ہیں، ہم کچھ کہیں تو کہا جاتا ہے کہ تمہارے تو دانے لگے ہوئے ہیں، تم یہ باتیں کر سکتے ہو‘ بھائی دین کے سپاہی بنو‘۔مفتی محمد شفیع اور غالباََ مولانا انور شاہ کشمیری سخت پریشان کہ حضور کو کیا جواب دیں گے کہ عمر ساری مسلکوں کے دفاع کے چکر میں گزار دی اور کرنے کا اصل کام کیا ہوا؟۔ شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی ساری زندگی سنی شیعہ تفریق کے خلاف جدوجہد کرتے رہے۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کو تو اپنی محفل میں تطبیق کی کوششوں کی وجہ سے طعنے سننے پڑے۔ ملائیت کب کسے بخشتی ہے، خواہ وہ برِصغیر کا سب سے بڑا ذہن ہی کیوں نہ ہو۔ سلطان باہو نے اظہارِ حقیقت کیا کہ میرے سامنے اس فرقہ پرستی کا نام نہ لو، ابکائی آتی ہے،
نہ میں سنّی نہ میں شیعہ، میرا دوہاں تودل سڑیا ہو
مْک گئے سب خشکی پینڈے جدوں دریا رحمت وچ وڑیا ہو
کئی من تارے تر تر ہارے کوئی کنارے چڑھیا ہو
صحیح سلامت پار لگ گئے باہو جنہاں مرشد دا لڑ پھڑیا ہو

بریلویوں سے کہا کہ نیتوں پہ شک نہ کرو اور گستاخ و کافر کو زبان کے کھیل نہ بناؤ۔ ظاہر پہ اعتبار کرو، بات کہنے والے پہ یقین کرو، باطن کا معاملہ ہمارے سپرد کیا ہی نہیں گیا۔ اہلِ حدیثوں سے کہا کہ ہر چیز کو شرک و بدعت نہ بنا دیا کرو، رسومات اور کلچر بدعت نہیں ہوتے۔ توحید مسلمانوں میں اتنی واضح ہے کہ شرک کا امکان کم ترین سطح پر ہے، کوئی آپ کے خیال سے متفق نہ ہو تو وہ مشرک اور بدعتی نہیں ٹھہرتا۔ دیوبندیوں سے کہا کہ صرف ہمارے بزرگ ہی حق کا معیار نہیں ہوتے، شدت سے مجتنب رہو۔ تشیع سے درخواست کی کہ اہلِ بیت کی محبت سب جگ میں عام ہے، دوسروں کو بےوفا خود کو باوفا کہنے سے باز آؤ (ہم صرف مسلمان کہتے ہیں، مجبوری میں مسالک کے نام لیے)۔ مگر جہاں تعصب آجائے وہاں حق کا سورج صرف وہی نظر آتاہے جو ہماری کھڑکی سے طلوع ہو۔ وہاں حق پرست وہی سجھائی دیتا ہے جو میرا ہمنوا ہو۔

مولاناطارق جمیل گلگت کی امام بارگاہ میں گئے، نماز ادا کی، خطبہ دیا ’نفرتیں دریائے گلگت میں بہا دو‘۔ اس گناہگار نے عام آدمی سے پوچھا کہ مولانا طارق جمیل آئے تھے، کیا بنا؟ کہنے لگا بڑی خیر ہوئی۔ امن کا وہ دور دیکھا کہ جو علاقے ایک دوسرے کے لیے ممنوعہ تھے، مغرب کے بعد بھی وہاں لوگ بےخطر گھومتے پھرتے تھے۔ ایک دیوبندی دوست کو مثال پیش کی، اور باتیں تو بن نہ پائیں، کہنے لگے وہ تو دکھانے کے لیے تھا، اکیلے میں مولانا نے انہیں تنبیہ بھی کی اور انہوں نے اعتراف بھی کیا کہ خدارا ہم حق بات کیسے کہیں، اب عمریں گزر چکی ہیں. جماعتِ اسلامی کے ایک بزرگ مقبول عالم بتانے لگے کہ ایک صاحب ہمارے رشتہ دار کی طرف آئے، انہوں نے ہمارا تعارف کرایا، بڑے تپاک سے ملے. جیسے ہی انھیں خبر ہوئی کہ ہمارا تعلق جماعت سے ہے، فوراََ کھچ گئے اور روکھے بن گئے۔ ہم نے پوچھا کیا ہوا، تو ناراضی سے اعتراض کیا تمھارا راستہ ٹھیک نہیں، ایمان خراب ہے، عقائد کا مسئلہ ہے۔ ہم نے عرض کی بھائی! میں خدا اور اس کے رسول جناب ِمحمد ﷺ پر یقین رکھتا ہوں، بھلائی کے جتنے کام ہو سکیں کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہوں، کوشش ہوتی ہے سائل کی جتنی امداد ہوسکے کردوں۔ اگر خدا نے قیامت کے روز آپ سے یہ کہا کہ یہ تو میرا پیارا بندہ تھا، مجھے محبوب تھا تو بتائیے آپ کے پاس کیا جواب ہوگا۔ وہ ماتھے پہ بل ڈالے جواب دیے بغیر چلے گئے۔

یہ جو صوفیا تھے، انہیں اتنی عظیم کامیابی مختصر عرصے میں ملی۔ بت کدے میں اندھیرے شکست کھاتے چلے گئے، کبھی تو سوچو دل کیسے بدلتے چلے گئے، اکھّڑ مزاج لوگ کیوں موم ہوتے چلے گئے، راز بھی نہیں پر بتادوں کہ گلے لگائے رکھتے تھے اور بدل ڈالتے تھے، نفرت کی رتّی بھی ان کے ہاں نہیں پائی جاتی تھی۔ شیخِ اجمیر کے سجادہ نشین کہنے لگے کہ تم شیعہ سنّی کی بات کرتے ہو، یہ تو سب اپنے ہیں، ان لوگوں نے تو غیروں کو چمٹائے رکھا۔

لوگ مناظروں سے نہیں محبت سے بدلتے ہیں۔ یہ شعلہ بیانیاں آگ نہیں لگائیں گی تو کیا کریں گی، لوگ جمعے کے خطبوں میں اپنے ہی بھائیوں کے خلاف سینے بھر کے اٹھتے ہیں۔ کیا جواب دوگے واعظو۔ کچھ ذمّہ داری کااحساس کرو۔ پتہ ہے ہم نے قرآ ن کی آیات کیوں بیان نہیں کیں؟ کیونکہ فرقہ پرستی کے حق میں ایک آیت بھی پیش نہیں کی جاسکتی۔ خدا کے رنگ میں رنگنے اور اسی کی طرف بلانے کی آیات سے قرآن بھرا پڑا ہے۔

مسلمانو! اپنے ایمان کی فکر کرو، اپنے گریبانوں میں جھانکو، کیا تم نے ہدایت یافتہ ہونے کی سند پا لی ہے؟ کیا خدا نے تمھیں اعمال قبول ہونے کا سرٹیفیکٹ عطا کردیا ہے؟ کتنی نمازیں ایسی ہیں جن پہ تمھیں قبولیت کا یقین ہے؟ کتنے افعال ایسے ہیں جن پہ نجات کی امید کرسکتے ہو؟ یقین جانو! خدا نے پردے رکھے ہوئے ہیں، وہ اٹھا دے تو کوئی منہ دکھانے کے قابل نہ رہے۔ زبانوں کو لگام دو، دل کو ٹیڑھے پن سے بچاؤ، فتوؤں کی نہیں محبت کی زبان بولو، بدگمانی نہ کرو، ہر ایک کو خود سے بہتر انسان سمجھو، برتری کا نشہ چھوٹے لوگوں میں ہوتا ہے، متکبر نہ بنو کہ دوسروں کو حقیر سمجھنے لگو، تکبر والا جنت کی خوشبو بھی نہ پا سکے گا۔ باطن میں جھانکنے کی کوشش نہ کرو۔ خدارا دل کی آنکھوں سے قرآن پڑھو، سیرت کی خوشبو سونگھو، خوشبودار بن جائو گے۔ رحمت للعالمین کے امتیو رحمت بنو.

میں نے جو کچھ بھی کہا بس محبت میں کہا
مجھ کو اس جرمِ محبت کی سزا مت دینا

Comments

سید ثمر احمد

سید ثمر احمد

کمیونی کولوجسٹ، ٹرینر، موٹیوٹر، مصنف، سیاح، نعت خواں، مبلغ اور استاد ہیں۔ ڈائریکٹرز، پرنسپلز، اساتذہ، طلبہ، والدین اور نوجوانوں کے ساتھ ملک کے مختلف حصوں میں پروگرامز کرچکے ہیں۔ ایک کتاب ’اختلاف، ادب اور محبت‘ کے مصنف ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.