رقص اور ماتم ساتھ ساتھ - ارشد زمان

ڈان نیوز کے پروگرام ذرا ہٹ کے، میں مبشر زیدی، وسعت اللہ خان اور ضرار کھوڑو بہت جھنجھلاہٹ اور کنفیوژن کےعالم میں پتہ نہیں کیا کہنا چاہ رہے تھے؟
انھیں اعتراض تھا کہ کراچی میں کیوں”تحفظ اسلام“ کے نام پہ اور ”توہین رسالت“ کےخلاف ریلی نکالی گئی؟
اور کیوں توہین مذہب اور توہین رسالت پہ مبنی پیجز چلانے والوں کے خلاف اپنے جذبات کا اظہار اور انھیں سخت سزا دینے کا مطالبہ کیاگیا؟
انھوں نے سوال اٹھایا کہ کدھر گیا ”نیشنل ایکشن پلان“؟
ایک ہی سانس میں انھوں نے خود توہین رسالت اور توہین مذہب کے مرتکبین کے غائب ہونے پر غصے کا اظہار فرمایا اور سوال اٹھایا کہ کدھر گیا قانون، ضابطہ، انسانی حقوق اور انصاف؟

محترمین کو کوئی یاد دلائے کہ جناب اگر بالفرض گستاخان مذہب و رسالت اور ریاست مخالف عناصر کو ملکی اداروں ہی نے اٹھایا ہے تو واویلا کس بات پر؟
رونا کس قانون اور انسانی حقوق کا ہے؟
یہ تو عین قانون کے مطابق ہوگا۔

اگر یہ حضرات اور شور مچانے والے دوسرے دوست ذرا اپنے حافظے پہ زور دیں تو انھیں یاد آئے گا کہ ان کے ملک میں قومی اسمبلی سے باقاعدہ ایک بل پاس ہوا ہے، جسے قانون کا درجہ ملا ہے یعنی ”تحفظ پاکستان بل“ جس کی رو سے ملکی ادارے کسی کو اٹھا کر نوے دنوں تک اپنے پاس رکھ سکتے ہیں۔

اس بل کو پاس کرانے کے لیے انھی چیخنے والے احباب کی طرف سے ایک زبردست ماحول بنایا گیا تھا اور انھی لبرل و سیکولر حضرات نے اپنی تمام تر توانائیاں اس کی حمایت میں صرف کر ڈالی تھیں، اور اس کے پاس ہونے پر خوشی کے شادیانے بجائے تھے۔ اور جن لوگوں نے اس بل پر سوالات اٹھائے تھے، اور تحفظات اور خدشات کا اظہار کیا تھا، ان کے خلاف بھی ان حضرات نے ایک بڑا ماحول بنوانے میں اپنی خدمات پیش کی تھیں۔

بھائی قانون تو قانون ہوا کرتا ہے اور اس کا احترام سب پر فرض اور لازم بھی ہوتا ہے، اسی بات کی آپ بھی تلقین کیا کرتے ہیں، اس لیے اب جبکہ اپنے بندے گرفت میں آ چُکے ہیں اور اونٹ بلکہ ”بھینسا“ پہاڑ کے نیچے آیا ہے تو رونے دھونے کی کیا ضرورت؟

ان حضرات کو فکر انسانی حقوق اور قانون کی عملداری کی نہیں بلکہ اصل ایشو ہر قسم کی ”آزادی“ کا حصول ہے، وگرنہ وہ اصولی طور پر تمام گمشدہ افراد کا نوحہ پڑھ لیتے اور مطالبہ کرتے کہ جس کا جو بھی گناہ ہے، اسے ضرور سزا ملنی چاہیے مگر انسانی حقوق کی پامالی کی قیمت پر نہیں بلکہ قانونی ضابطوں اور انصاف کے تمام تقاضوں کو پورا کرنے کے بعد، مگر یہ تو دہائیاں دے رہے تھے کہ اہل مذہب کو سبق سکھانے کے لیے کوئی بھی راستہ اپنایا جائے، اور جو بھی قانون، عدالتوں، اور تہذیب کی بات کرے، اسے بھی دہشت گردوں کا ساتھی تصور کیا جائے۔ مقصود ان کا یہ ہےکہ اسلامی تہذیب و تمدن، روایات، اقدار اور تاریخ کو مشکوک ٹھہرایا جائے اور اسلام، اسلامی شعائر اور توہین رسالت کےحوالے سے جو حساسیت موجود ہے، اسے کم اور بالآخر ختم کر دیا جائے۔ تمام تحریروں، تقریروں اور مباحث کی تان یہیں پر آ کر ٹوٹتی ہے۔

”بھینسیوں“ اور ”موچیوں“ کے قضیے پر ”روشنی“ ڈالتے ہوئے امتیاز عالم صاحب فرما رہے تھے کہ ”جرات تحقیق، پاک سرزمین پر سر اٹھانے والوں، تکفیری دہشت گردوں کو ملامت کرنے والوں کو دن دہاڑے دارالحکومت سے اٹھا لیا گیا، ریاست اور شدت پسند گروہ، قانون ہاتھ میں لینے والے خود جلاد بننے نکل کھڑے ہوئے ہیں، تکفیر اور توہین گھڑنے کی فیکٹریاں اب بند کر دینی چاہییں۔ قلمی تکفیر کاسلسلہ بند ہونا چاہیے اور حضور ﷺ نے کبھی کسی خارجی اور گستاخ کے ساتھ ایسا نہیں کیا تھا.“

ذرا ان کی بیباکی کو ملاحظہ کیجیے کہ وہ ان بدتمیزوں اور بےشرموں کی مسلسل مذہب، شعائر اسلام اور رسول اللہ کے حوالے سے بکواسات اور خرافات کو ”جرات“ اور ”تحقیق“ سے تعبیر کر رہے ہیں، اور ساتھ یہ درس بھی دے رہے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی خارجی اور گستاخ کے ساتھ ایسا نہیں کیا تھا۔ یعنی جس بھی خبیث کے دل میں جو بھی آجائے وہ بکتا رہے، اسے کچھ نہ کہا جائے، بلکہ آزادی اظہار رائے کے نام پہ اسے ہاتھ میں سرٹیفکیٹ تھما دیا جائے کہ سب کچھ کہنے اور کرنے کی مکمل آزادی ہے، اور اگر کوئی بات محسوس ہو تو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے عفو و درگزر کے اسباق کو سامنے رکھتے ہوئے صرف نظر کیاجائے۔

دیدہ دلیری کی انتہا دیکھیے کہ آنجناب ریاست کو بھی ماننے کے لیےتیار نہیں ہیں اور فرما رہے ہیں کہ ”ریاست ۔۔۔۔ خود قانون ہاتھ میں لینے والے، خود جلاد بننے کھڑے ہوئے ہیں۔“

اب تک تو یہ حضرات اپنے سیکولر اور لبرل خیالات کو معاشرے پر زبردستی ٹھونسنے کےلیے کسی بھی ضابطے، قاعدے اور حدود کو خاطر میں نہیں لاتے اور کسی بھی قسم کی رکاوٹ کو سامنے نہ آنے دینے کےلیے پٹیاں پڑھاتے چلے آ رہے ہیں کہ مذہب کا حکومتی معاملات سے کیا لینا دینا؟ مگر اب تو دوقدم آگے بڑھ کر ریاست کی بےبسی اور ہاتھ جوڑ کر لبرلزم کے سامنے جھکنےکا مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے.

اگر ریاست ”قانون ہاتھ میں لے کر جلاد“ نہیں بنتی تو یہ قانون کس کے ہاتھ میں تھمایاجائے گا؟
اگر ہر کسی کی خواہشات کی تکمیل کے لیے ریاستی قانون کو قربان کیا جانے لگے تو پھر ریاست کا وجود کہاں باقی رہے گا؟

ہم پھر گزارش کریں گے کہ اسی ”جلاد“ ریاست کے ہاتھ میں یہ قانون آپ ہی نے تھمایا تھا، تحفظ پاکستان بل کی صورت میں۔ جتنا نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد ضروری ہے، اتنا ہی تحفظ پاکستان بل کاخیال رکھنا اور اس قانون کا احترام لازمی ہے کہ یہ بھی اسی پلان کا حصہ ہے۔

ان بے چاروں کی حالت عین اس مصداق ہے کہ ”ایک شخص دشمن کی لاش پر رقص کررہا تھا، مگر جونہی نشہ اترا تو پتہ چلا کہ اس لاش کےساتھ پڑی لاش اس کے بھائی کی ہے۔“
رقص اور ماتم ساتھ ساتھ۔
کیا تھا، کیا ہے، کیا ہوا اور کیا کیاجائے؟؟

Comments

ارشد زمان

ارشد زمان

ارشد زمان اسلام کے مکمل ضابطہ حیات ہونے پر یقین رکھتے ہیں۔ اسلام اورمغربی تہذیب پسندیدہ موضوع ہے جبکہ سیاسی و سماجی موضوعات پر بھی طبع آزمائی کرتے ہیں۔ تعلیم و تربیت سے وابستگی شوق ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.