فوکس اور عظمت - سید قاسم علی شاہ

پریشانی میں کمزور انسان کے پاس صرف دو ہی آپشن ہوتے ہیں، پہلا بھاگ جانا اور دوسرا ہاتھ کھڑے کر دینا۔ انسان نے جب اس کرہ ارض پر رہنا شروع کیا تو اس وقت وہ کمزور تھا، اور اسی کمزوری کی وجہ سے اس نے یہ دونوں کام بہت کیے، سیلاب آنے پر وہ پہاڑوں کی طرف بھاگ جاتا اور جانور کے حملہ کرنے پر اپنے ہاتھ کھڑے کر دیتا۔ انسان کی بنیادی نفسیات میں ہے کہ جب بھی کوئی مسئلہ اس کی اوقات سے باہر ہوتا ہے یا تو وہ بھاگ جاتا ہے یا پھر اس کو تسلیم کر لیتا ہے۔ الزام لگانا، بچ جانا، برا بھلا کہنا، یہ بھی انسانی نفسیات ہے، جب انسان کسی کام کو کرنے کی کوشش کرتا ہے، اور ہو نہیں پاتا، تو کہتا ہے کہ یہ نہیں ہو سکتا۔ جس طرح بیٹھنا جینز میں شامل ہے، چلنا جینز میں شامل ہے، بلوغت جینز میں شامل ہے، بال سفید ہونا جینز میں شامل ہے، اسی طرح انسان کے مزاج کا ایک حصہ فطرت ہے، وہ بھی جینز میں شامل ہے۔ ہر شخص جس کا کوئی مزاج ہو، وہ تھوڑا بہت کام سے ضرور بھاگتا ہے، وہ اس سے بچنے کی کوشش ضرورکرتا ہے۔ منور صابر صاحب کہتے ہیں کہ لوگوں کو نہیں کھولا جا سکتا، لیکن کام کے آگے سب کھل جاتے ہیں۔

دنیا کے جتنے نامور لوگ تھے، انہوں نے دلوں کو فتح کرنے کا راز پا لیا تھا، انہیں پتا لگ گیا تھا کہ انسان سوچتا کیوں ہے، اس کے سوچنے کے اسباب کیا ہیں، ان رازوں کا پا لینا ان کی عظمت تھی۔ عظمت کے سفر میں انسانی مزاج کو سمجھنا بہت ضروری ہے، جب بھی انسان عظمت کی طرف جاتا ہے تو پورے فوکس کے ساتھ اپنے کام پر توجہ دیتا ہے تو وہ کام اس کی گرفت میں آ جاتا ہے، پھر قدرت اس کو انعام دیتی ہے اور وہ انعام اس کی منزل ہوتا ہے۔ اگر قائداعظم محمدعلی جناحؒ پاکستان بنانے کے ساتھ ساتھ اپنی وکالت کو بھی جاری رکھتے تو یہ ممکن نہیں تھا کہ وہ کسی ایک منزل پر پہنچ پاتے، جس طرح پاکستان بننے کا عمل تھا اسی طرح جناح سے قائداعظمؒ بننے کا عمل تھا۔ اگر ایک شخص کروڑ روپیہ کماتا ہے تو ایک کروڑ اتنا قیمتی نہیں ہوگا جتنا وہ شخص، کیونکہ وہ دوبارہ کروڑ روپیہ کما سکتا ہے، جو ایک بار کامیاب ہو سکتا ہے، وہ دوبارہ بھی کامیاب ہو سکتا ہے، جس کو ایک بار عظمت کا ذائقہ ملا ہے، وہ دوبارہ بھی حاصل کر سکتا ہے۔

فوکس کامیابی کا کلیہ ہے، فوکس کے بغیر کامیابی ممکن نہیں ہے، فوکس کا مطلب ہےکہ تن من دھن لگا دینا، اپنی خواہشات کو ذبح کر دینا، فقط ایک چیز کو سامنے رکھنا۔ سابق وزیراعلی ٰحنیف رامے میں بیک وقت کئی خصوصیات تھیں، وہ سیاستدان بھی تھے، شاعر بھی تھے اور مصور بھی، ایک دفعہ وہ حضرت واصف علی واصفؒ کے پاس گئے اور ان سے کہا کہ کوئی نصیحت فرمائیں، آپ ؒ نے فرمایا کہ جس طرح ہانڈی میں ایک چیز پکتی ہے، اسی طرح آپ کے پاس جتنے ہنر ہیں، ان میں سے ایک کو ہانڈی میں ڈالیں، باقی کو چولہے میں ڈال دیں. اس وقت انہیں اس بات کی سمجھ نہ آئی لیکن جب بات سمجھ آئی تو نصیحت کی کہ مجھے میانی صاحب کے قبرستان میں دفن کرنا، پوچھا گیا کیوں؟ تو جواب دیا کہ یہاں پر بہت بڑا آدمی دفن ہے، بعض اوقات نصیحت فوری سمجھ نہیں آتی، کچھ عرصہ بعد اس کی سمجھ آتی ہے۔ عظمت کے لیےفوکس سب سے اہم چیز ہے، فوکس کے بعد دن اور رات کے معنی بدل جاتے ہیں، پھر نہ دن کے اجالے کی خبر ہوتی ہے اور نہ رات کی تاریکی کی، مائیکل انجیلو جب مجسمہ بنا رہا ہوتا تھا تو اس کو وقت کا احساس نہیں رہتا تھا، جب مجسمہ بن جاتا تو پتاچلتا کہ پندرہ دن گزر چکے ہیں، کئی دفعہ وہ جب اپنے بوٹ اتارتا تو اس کی ساتھ کھال بھی اتر جاتی تھی، یہ فوکس کی انتہا تھی۔ بعض اوقات انسان کسی چیز کے بنانے میں اتنا گم ہوتا ہے اور جب وہ چیز بنا لیتا ہے تو حیران ہوتا ہے کہ یہ تو میرے گمان میں نہیں تھا، میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ اتنا خوبصورت نظارہ بن جائے گا۔

ہندو ازم میں لوگ فوکس حاصل کر نے کے لیے چالیس دن کے اوشو کو جوائن کرتے ہیں، جس میں انہیں دس دن بےلباس رہنا پڑتا ہے، دس دن مانگ کر کھانا پڑتا ہے، دس دن خاموشی ہوتی ہے جبکہ آخری دس دن نصیحت ہوتی ہے، کسی نے گرو سے کہا کہ چالیس دن کا اوشو بہت مشکل ہے، کیا اس کا کوئی شارٹ کٹ ہے؟گرو نے جواب دیا ہاں ہے، جس کو سچی محبت ہو، اور وہ اسے نہ ملے تو جو اس کا انجام ہوگا، وہی چالیس دن کے اوشو کا انجام ہے. اس نے کہا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ جو درد چالیس دن بعد پیدا ہوتا ہے، وہی درد محبت نہ ملنے کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ جب فوکس مل جاتا ہے تو منزل نظر آنا شروع ہو جاتی ہے، پھر اس منزل کو پانے کے لیے قربانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ فوکس بندے کو ابنارمل رویے کی طرف لے جاتا ہے، اس کو تکلیف میں بھی راحت محسوس ہوتی ہے. حضرت علامہ اقبال ؒ فرماتے ہیں
خدا کرے زخم دور ہی نہ ہوں کبھی
بڑا مزہ ہے کلیجے پہ تیر کھانےمیں

آنسواور اضطراب ٹوٹے برتن میں ہی پیدا ہوتا ہے۔ دنیا میں جتنے بھی نامورلوگ ہوتے ہیں، وہ تھوڑے سے ابنارمل ہوتے ہیں۔ فوکس میں نفع و نقصان کا تصور بدل جاتا ہے، اگر تصور نہیں بدلا تو اس کا مطلب ہے کہ فوکس نہیں ہے، فوکس کا مطلب ہے کہ پہلے بندہ کھا کر خوش ہوتا تھا اور اب کھلا کر خوش ہوتا ہے، پہلے حاصل کا نام کمائی تھی اب دینےکا نام کمائی ہے۔ حضور اکرم ﷺ گھر تشریف لاتے ہیں اور ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھتے ہیں کہ آج گھر میں کیا بچا ہے؟ اس دن بکری ذبح ہوئی ہوتی ہے جس کے چند ٹکڑے بچ گئے ہوتے ہیں، باقی بانٹ دیے ہوتے ہیں. آپ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ آج یہی بچا ہے، آپﷺ نے فرمایا جو بانٹ دیا وہ بچا ہے۔ حضرت صوفی برکت علی ؒ فرماتے ہیں مال رکھنے کے لیے دنیا کی سب سے محفوظ جگہ غریب کی جیب ہے. آپ رکھ کر دیکھیں دس گنا واپس آئے گا، ہم مال کو ان تجوریوں میں رکھتے ہیں جہاں پر وہ چوری ہونا ہوتا ہے۔ جب نفع و نقصان کا تصور بدلتا ہے تو جس چیز پر فوکس ہوتا ہے، اس کی گروتھ بہت زیادہ ہوتی ہے لیکن دوسری چیزیں اس کے مقابلے میں دب جاتی ہیں. مثال کے طور پر اگر کوئی پروفیشنل باڈی بلڈر ہے، اس کا جسم تو بہت اچھا بن جائے گا مگر اس کا آئی کیو اچھا نہیں بنے گا، جس طرح جسم کو ورزش کی ضرورت ہوتی ہے، اسی طرح ذہن کو بھی ورزش کی ضرورت ہوتی ہے ۔

جب بندہ عظمت کے سفر میں آگے نکل جاتا ہے، تو پھر زمانہ اس سے متفق نہیں ہوتا۔ جب عظمت ملتی ہے تو بندہ تنہائی کا شکار ہو جاتا ہے، یہی عظمت جب حضرت خواجہ غلام فرید ؒ کو ملی تو آپ ؒ فرمانے لگے کہ
کی سناواں حال دل دا
کوئی محرم راز نہ ملدا
جب حضرت واصف علی واصف ؒ کو ملی تو آپ ؒ فرمانے لگے کہ
سن واصف شیشہ کی کہندا
توں وی کلا میں وی کلا
تنہائی کے بعد الزامات اور تہمتیں لگنا شروع ہوجاتی ہیں۔ عظمت بغیر قیمت کے نہیں ملتی اور جو بغیر قیمت کے ہوتی ہے، وہ عظمت نہیں ہوتی، حضرت امام زین العابدین رضی اللہ عنہ جب دنیاسے گئے تو ان کی کمر کو دیکھا گیا تو ان کی کمر پر اس بوجھ کے نشانات تھے جو وہ غریبوں اور محتاجوں کے لیے اٹھاتے تھے، یہ عظمت کی انتہا ہے۔ سقراط کے سامنے جب زہر کا پیالہ رکھا گیا تو وہ مسکرانے لگا اور کہنے لگا کہ یہ مجھے تو مار سکتے ہیں لیکن میرے افکار کو نہیں مار سکتے. عظمت کے لیے انسان موت کو بھی گلے لگا لیتا ہے. حضرت واصف علی واصف ؒ فرماتے ہیں کہ عظمت کے سفر کا کمال یہ ہے کہ عام انسان کو تو موت مار دیتی ہے لیکن بڑے انسا ن کی موت اس کو اور بڑا بنا دیتی ہے۔