ادھوری ملکہ - ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

تم بانجھ ہو
بانجھ ..
مطلب سمجھتی ہو نہ اس کا۔!!
بنجر .. خالی زمین...

تم بچہ پیدا نہیں کر سکتی۔
ہم اپنے بیٹے کی محرومی نہیں دیکھ سکتے۔
لہذا اس کی دوسری شادی کر رہے ہیں، تم چاہو تو اسی گھر میں رہتی رہو، روٹی کپڑا ملتا رہے گا۔
جانا چاہو تو ہمارا بیٹا تمہیں فارغ کر دیتا ہے.
کل ہم نکاح کرنے جا رہے ہیں.

آنسوؤں بھری آنکھیں اپنے شریک حیات کی طرف اٹھیں .. کچھ توقع کچھ مان تھا .. شاید اس کا دل پسیج جائے، شاید اسے محبت میں توحید پرستی کے اپنے دعوے یاد ہوں۔
لیکن کیا دیکھا کہ اس کے شوہر کی شکل و شباہت رکھنے والا ایک اجنبی کھڑا ہے، جو اسے نہیں پہچانتا۔
اگر ابھی شوہر نے نرمی دکھائی تو کل آنے والی بیوی کا معاملہ کھٹائی میں پڑ جائے گا، اور اب اس بنجر زمین کا کرنا بھی کیا ہے۔
کہاں جائے گی ؟؟؟ جیسے رکھوں گا رہے گی۔ ? بےچاری دو روٹی کھاتی رہے گی، اب اس کو کہاں دنیا کے دھکے کھانے کے لیے نکالوں۔
شوہر نے اپنے دل میں رحم کے جذبات محسوس کیے۔

ایک بے بس ہرنی جیسی بدکی ہوئی اس کی بیوی جیسے شکاریوں کے نرغے میں پھنسی ہوئی تھی۔ اس کا کرب اور بےبسی اس کے خاموش آنسوؤں سے ظاہر تھی۔
تاج چھینا جا چکا تھا، تخت سے اتارا جا رہا تھا،
اب قید تنہائی کا زنداں قبول کر لے یا جلاوطنی،
یہ اس معزول ملکہ کی صوابدید پر منحصر تھا ..

ہاہاہا

وہ دل ہی دل میں اپنی بےبسی پر ہذیانی قہقہے لگاتے ہوئے سوچتی رہی۔
میری مرضی اب بھی باقی ہے .. اب بھی کوئی فیصلہ میں ”اپنی مرضی“ سے کر سکتی ہوں۔
جلاوطنی قبول کر کے اسے کھل کر کھیلنے دوں۔ اپنی سلطنت کو کسی دوسرے کے ہاتھ میں جانے دوں اور خود گمنام ہو جاؤں۔
یا اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے تخت پر دوسری ملکہ کو بیٹھے دیکھوں۔
میرا تاج اس کے سر پر ہو، اور میرا حیثیت اک باجگزار کی سی ہو.
کیوں؟
کیوں؟

میں نے تو ایسا نہیں چاہا. میں نے تو محبت سے، خدمت سے اپنی سلطنت کے بادشاہ اپنے سرتاج کا دل جیتنے کی ہر ممکن کوشش کی .. ساس کو ماں کہا اور سسر کو باپ مانا .. دیور، جیٹھ اور نندوں کو اپنے بہن بھائیوں کا متبادل مانا .. اپنی ذات کی نفی کر دی .. تو آج یہ کیسا امتحان ہے؟؟
اس امتحان کا کورس تو مجھے کبھی پڑھایا ہی نہیں گیا .. یہ ایسے سوالات ہیں جن کی تیاری کسی درس گاہ میں نہیں کروائی جاتی۔۔
آخر میری ماں نے مجھے کیوں نہیں سکھایا کہ طلاق یا سوکن میں سے کیا چننا بہتر ہے۔۔

آج بانجھ میں ہوں! اگر یہی بانجھ میرا شوہر ہوتا تب دنیا اس کے ساتھ کیا سلوک کرتی۔!
تب مجھے کیا چوائس دی جاتی ..
کیا بانجھ صرف عورت ہوتی ہے. مرد کا غرور اسے اپنی کمی چھپانے کے لیے دوسری تیسری چوتھی کا نقاب اوڑھنے کی اجازت دیتا ہے۔

بیٹیاں پیدا کرنا عورت کا قصور،
بچے پیدا نہ کر سکنا عورت کا قصور،
ڈھل جانا تھک جانا عورت کا قصور،

بچے پیدا کرنا عورت کی ذمہ داری
خاندانی منصوبہ بندی کرنا عورت کی ذمہ داری،
اور ان سب کے نتیجے میں بانجھ، بوڑھی بیمار یا کمزور ہونا بھی عورت کا قصور۔

انصاف کرو .. دو تین یا چار کے درمیان بعد میں
پہلے ایک بیوی کو تو انصاف کے ساتھ رکھ لو۔۔

یہ تحریر ان لوگوں کے لیے جو ایک سے انصاف نہیں کرسکتے، لیکن اسلام کو صرف اپنی دلی جذبے اور خواہش کی تکمیل کے لیے استعمال کرتے ہیں کہ اولاد نہ ہونے پر مرد دو کیا چار شادیاں کر سکتا ہے۔
اگر ان میں سے بھی اولاد نہ ہو تو عورت کیا کرے؟؟

عورت اگر بانجھ ہے تو اسے بےگھر کرنے کا فیصلہ اسی کے ہاتھوں سونپ دیاجاتا ہے۔
مرد کو کیوں نہیں بےگھر کیا جاتا ۔۔۔ ؟؟

Comments

ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

دل میں جملوں کی صورت مجسم ہونے والے خیالات کو قرطاس پر اتارنا اگر شاعری ہے تو رابعہ خرم شاعرہ ہیں، اگر زندگی میں رنگ بھرنا آرٹ ہے تو آرٹسٹ ہیں۔ سلسلہ روزگار مسیحائی ہے. ڈاکٹر ہونے کے باوجود فطرت کا مشاہدہ تیز ہے، قلم شعر و نثر سے پورا پورا انصاف کرتا ہے-

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.