پیاسی جمہوریت - محمودفیاض

بوڑھی بیمار ماں نے بخار کی شدید پیاس میں پکارا "پانی … پانی”
بڑا بیٹا جو آنکھوں سے اندھا تھا، ٹٹولتے ہونے پانی کا گلاس لے کر آگے بڑھا
ٹھوکر لگی، اور گلاس سے پانی گر گیا،

منجھلا بیٹا آگے بڑھا ، خالی گلاس اٹھایا اور مرتی ماں کے منہ سے لگا دیا
ماں بولی "بیٹا پانی پانی ”
اس سے چھوٹا اٹھا ، گلاس میں دیکھا، پانی نہیں تھا، پھر بولا "بھائی .. اس میں پانی تو نہیں ہے، پر ماں کی خاطر مان لیتا ہوں ”
ماں پھر کراہ کر بولی "پانی ، پانی "

شور سن کر، بڑی بیٹی آئی، گلاس پکڑا اور ماں کے منہ سے لگا دیا
"پیو ماں پیو !!” بیٹی محبت سے بھر پور آواز سے بولی
پانی ہوتا تو ماں پیتی ” آہ .. پیاس سے میرا گلا سوکھ ..” ماں کی آواز ٹوٹ گئی

بیٹی نے گلاس میں جھانکا .. اور دکھی آواز میں بولی .. "ماں، پانی گلاس میں واقعی نہیں ہے، پر کیا کروں، اس گھر کی سلامتی کی خاطر بھائی کے ساتھ ہوں، وہ پانی لایا ہے تو پانی ہوگا اس میں ، تم پی لؤ "

سب سے چھوٹا بیٹا کھیلتا ہوا اندر چلا آیا، اسنے ماں کو مرتے دیکھا، گلاس میں جھانکا اور چیخا "اس میں تو پانی نہیں ہے، ماں کو پانی دو ، ماں کو پانی دو”
"چپ بدمعاش، پانی ہے، بڑے بھائی لے کر آئے ہیں، پانی ہے ” چھوٹی بہن بولی
"مگر انکو تو نظر نہیں آتا ” سب سے چھوٹے نے اعتراض اٹھایا
"تو تم کو کیا؟ وہ ماں کے بڑے بیٹے ہیں، صحیح ہیں”
"مگر گلاس میں دیکھو تو” ، چھوٹا پھر چلایا
"دیکھا ہے، دیکھا ہے، ہمیں بھی پتہ ہے ، پانی نہیں ہے مگر کیا اسکی وجہ سے گھر کو توڑ دیں ؟ ” چھوٹے سے بڑے نے اسکو گھورا

"تم سب چھوڑ دو، میں ماں کو پانی دیتا ہوں، لاؤ گلاس مجھ کو دو ” چھوٹے نے راہ نکالتے ہوئے کہا

"کیا، کیا ؟” ، منجھلا بیٹا چلایا- اب تم ہمیں سکھاؤ گے پانی کیسے پلاتے ہیں

"بد تمیز، بڑوں کے سامنے زبان چلاتے ہو ” ، چھوٹی بہن نے ڈانٹا

"لعنت ہے تم پر، یہ ہے تمہاری اس گھر سے محبت ؟” چھوٹے سے بڑے نے اسکے سر پر تھپڑ رسید کیا

چھوٹا روتے روتے باہر نکل گیا، "ماں مر جاۓ گی پیاسی "

"شکر اللہ کا، گھر بچ گیا ” سب نے نفرت بھری نظروں سے باہر جاتے بدتمیز بچے کو دیکھا

ماں نے ایک ہچکی لی ، اور اسکی روح نے پرواز بھر لی
.
نوٹ:‌کوشش کر کے ماں‌کی جگہ ہمارے ملک کو رکھ کر سوچیں جس کو اصلی جمہوریت کی ضرورت ہے، مگر ہم جمہوریت کا خالی گلاس بار بار اس کو دے رہے ہیں، اور سمجھ رہے ہیں کہ اس سے ہمیں‌جمہوریت کے وہی فائدے ملنے لگیں گے جو دیگر ترقی یافتہ ممالک کو مل رہے ہیں.

ٹیگز

Comments

محمود فیاض

محمود فیاض

محمود فیاض نےانگلستان سے ماس کمیونیکیشنز میں ماسٹرز کیا اور بین الاقوامی اداروں سے وابستہ رہے۔ آج کل وہ ایک عدد ناول اور ایک کتاب پر کام کر رہے ہیں۔ اساتذہ، کتابوں اور دوستوں کی رہنمائی سے وہ نوجوانوں کے لیے محبت، کامیابی اور خوشی پر لکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.