وہ آپ کی اپنی بہن ہو سکتی ہے - صبا فہیم

اسے نیٹ پر اس لڑکی سے بات کرتے تیسرا دن تھا. آج اس نے تہیہ کر رکھا تھا کہ اس لڑکی کو دیکھ کر ہی رہے گا. اپنی چکنی چپڑی باتوں سے لڑکیوں کو شیشے میں اتارنے کا فن اسے خوب آتا تھا مگر جانے کیوں ندا نامی یہ لڑکی اس کی باتوں میں ہی نہیں آ رہی تھی. جتنا اصرار کیا مگر اس کا جواب پکی ناں تھا.

عمیر کا تعلق اوباش لڑکوں کے ایک ایسے گروہ سے تھا جو معصوم اور نادان لڑکیوں کو بہلا پھسلا کر ان کی تصاویر اور ویڈیوز بنا کر ان کو بلیک میل کرتے تھے. آج وہ دوستوں سے شرط لگا کر آیا تھا کہ اس لڑکی کو پٹا کر ہی چھوڑوں گا..

اس نے ایک پلان بنایا اور شیطانی مسکراہٹ کے ساتھ نیٹ آن کیا، ویب کیم سیٹ کیا، ندا کو ایک میسج کیا، اور انتظار کرنے کہ وہ کب آن لائن ہوگی.
کچھ دیر بعد ندا کا میسج آیا، جی فرمائیے! کیا ضروری بات ہے جو آپ کو پوچھنی ہے؟
اس نے جواب دیا. ”مجھے ابھی ایک اور دوست کا میسج آیا ہے، جس نے بتایا کہ آپ حقیقت میں لڑکی ہو ہی نہیں، آپ تو کوئی لڑکا ہو، جو مجھے بےوقوف بنا رہا ہے. اب تو مجھے بھی آپ کی پروفائل پر شک ہے. اب آپ ہی ہیں جو میرے اس شک کو دور کر سکتی ہیں. آپ مجھے اپنا فون نمبر دے دیں یا پھر تھوڑی دیر کے لیے اپنا ویب کیم آن کر دیں تاکہ میرا شک دور ہو جائے.“
ندا نے انکار کرتے ہوئے کہا، ”معاف کرنا، میں ایسا کام نہین کر سکتی، میں ایک شریف لڑکی ہوں.“
عمیر بولا، ”دیکھیں میں بھی ایک شریف لڑکا ہوں، دو منت کی تو بات ہے. میں قسم کھاتا ہوں کہ میں آپ کا بھروسہ کبھی نہیں توڑوں گا. آپ کو کبھی تنگ نہیں کروں گا، اچھا اپنی تسلی کےلیے آپ یوں کریں کہ ویب کیم پر آ جائین، فی الحال اپنا چہرہ نہ دکھائیں، آواز ہی سنوا دیں.“
ندا.. ”ھمممم، سوچتی ہوں.“

عمیر نے وار کاری پڑتا دیکھ کر کہا. ”اب اور کیا سوچنا، آپ اچھی لڑکی ہو، اور آپ کے سخت رویے کی وجہ سے میرے دل میں آپ کی قدر اور بڑھ گئی ہے. میں آپ سے ہمیشہ کی دوستی چاہتا ہوں اور کبھی مایوس نہیں کروں گا.“
ندا.. ”اوکے. میں صرف تھوڑی دیر کے لیے ویب کیم آن کروں گی، چہرہ نہیں دکھاؤں گی، کیونکہ بھائی نے سختی سے منع کیا ہوا ہے، میں ان کا بھروسہ نہیں توڑ سکتی، صرف آواز سن لینا، تاکہ آپ کا شک دور ہو جائے.“
عمیر بہت خوش تھا کہ چلو ابھی اتنا تو مانی، آہستہ آہستہ اتار لوں گا شیشے میں..!
ویب کیم آن ہوتے ہی اس سے پہلے کہ ندا عمیر کو دیکھ پاتی، عمیر کی آنکھیں پھٹ گئیں اور وہ بجلی کی سی تیزی سے پیچھے ہٹا جیسے اسے کسی سانپ نے ڈس لیا ہو، وہ کرسی پر گر کر بری طرح کانپنے لگا.
کمرے کی پچھلی دیوار پر ٹنگی دھندلی سی نظر آتی تصویر اس کے اپنے والدین کی تھی، اور اسی دیوار کے کونے پر طاق میں رکھی ہوئی گڑیا، جو اس نے اپنی چھوٹی بہن کو لا کر دی تھی.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */