یہ سندھ اسمبلی ہے! احسان کوہاٹی

لعنت لعنت۔۔۔
راکٹ وزیر۔۔۔۔
ملکہ ترنم۔۔۔۔
اتنے دن بعد آنا ہوا ہے پھربھی آرام نہیں آیا۔۔۔
دواپی اکر آیا کریں اوردواہلا کر پیاکریں ۔۔۔
راکٹ وزیر۔۔۔
عاشقانہ موسم۔۔۔
چیمبر میں آجائیں ۔۔۔

سیلانی نے یہ پھبتیاں، طنز، طعنے، تشنے کسی چنڈو خانے میں نہیں سنے، یہ سندھ واسیوں کے خون پسینے کی کمائی کے چار سو کروڑ روپوں سے بننے والی اس عمارت کی بیٹھک کے ہیں، جسے میں اور آپ سندھ اسمبلی کہتے ہیں، جسے پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما مقدس ایوان کہتے ہیں اور درسی کتب مقننہ کہتی ہیں، یہاں قانون سازی ہوتی ہے، قانون ساز بیٹھتے ہیں، ایک ایک لفظ پر گھنٹوں بحث ہوتی ہے، فل اسٹاپ اور قامہ پر سوال اٹھتے ہیں، آج اسی اسمبلی کی پریس گیلری میں موجود سیلانی ان لوگوں کے زبان و بیان کے رنگ دیکھ کر دنگ ہوا بیٹھا تھا جو بڑے فخر سے خود کوعوام کے چنے ہوئے نمائندے بتلاتے ہیں ،ان کی آنیاں جانیاںان بڑی بڑی لینڈ کروزروں میں ہوتی ہیںجن میں پٹرول نہیں ہمار خون جلتا ہے ، آج یہی عوامی نمائندے ،قانون ساز ’’ایکسپوز ‘‘ہو رہے تھے ،نیوز چینلز کو ’’چٹ پٹے‘‘ ٹکرز دے رہے تھے،وہاں موجود نیوز چینلز کے نمائندے فون کان پر لگائے اپنے اپنے دفاتر میں مقدس ایوان میں ہونے والے بازاری پن کا احوال بتا رہے تھے اور سیلانی کو متحد سوویت یونین کا وہ وزیر یادآرہا تھا جودرحقیقت امریکی خفیہ ایجنسی کا ایجنٹ تھا وہ کے جی بی کی واچ لسٹ میں شامل رہا لیکن اس نے کبھی پکڑائی نہیں دی ،سوویت یونین کے سمٹ کر روس بننے کے بعد کے جی بی ایک ریٹائرڈ ایجنٹ کی اس سے ملاقات ہوئی تو اس نے مسکراتے ہوئے کہا ایک بات بتائیں ہمیں علم تھا کہ آپ سی آئی اے کے پے رول پر ہیں لیکن آپ ایک زیرک اور چالاک انسان تھے ہم کبھی آپ کو پکڑ نہیں سکے ،مجھے صرف یہ بتائیں کہ آپ کے ذمہ کام کیا تھا؟

روسی سیاست دان نے کے جی بی کے ایجنٹ کی اس بات پر دل کھول کر قہقہہ لگایا اور کہا ’’میرا کام چن چن کر نااہل لوگوں کو بڑی بڑی ذمہ داریوں دلوانا تھا۔۔۔‘‘

سندھ اسمبلی میں ہونے والی ہلڑ بازی اور اراکین کے لب و لہجے سے سیلانی سوچ رہا تھا کہ یہاں کون یہ کام کر رہا ہے؟کس نے اوباشوں لفنگوں تلنگوں کے سے انداز میں بازاری لب و لہجہ اسمبلی میں لانے والے امداد پتافی کو خدمات و امور جیسے محکمے کی اہم وزارت دلوائی؟ وہ زیادہ دیر اس بارے میں نہیں سوچ سکا، مضبوط شیشے کی دیوار کے پار سے اٹھنے والا شور پریس گیلری تک پہنچ رہا تھا، جمعہ کے روز سندھ اسمبلی کے موجودہ سیشن کا دوسرا روز تھا، اسمبلی کے طریقہ ء کار کے مطابق ایوان کی کارروائی کا آغاز تلاوت اور نعت سے ہوا، اسپیکر کی نشست پر ڈپٹی اسپیکر شہلا رضا صاحبہ پوری شان و تمکنت کے ساتھ براجمان تھیں، تلاوت اور نعت کے بعد فاتحہ خوانی کاسیشن ہوتا ہے، ہونے کو تو اس میں اراکین اسمبلی اپنے لواحقین عزیز و اقارب میں سے کسی کے چل بسنے پر فاتحہ پڑھتے ہیں لیکن اب اس میں بھی مسابقت آچکی ہے، اس میں بھی مقابلہ ہوتا ہے، اس سے مرحومین کو فائدہ ہو یا نہ ہو، پیپلز پارٹی کی ایک رکن کو فائدہ ضرور ہو چکا ہے، سیلانی نے انہیں کبھی شاید ہی کوئی تحریک قرارداد پیش کرتے ہوئے دیکھا ہو لیکن وہ اسمبلی اجلاس کی اس فاتحہ خوانی میں اپنی مرحوم سیاسی قیادت کی مغفرت کی دعا کے لیے ضرور کھڑی ہوتی رہی ہیں، اس دعا سے ان کی دلی مراد بر آئی اور انہیں جھنڈے والی گاڑی دے کر وزیر بنا دیا گیا۔

فاتحہ خوانی کے بعد وقفہ سوالات شروع ہوا، آج محکمہ ورکس اینڈ سروسز کے وزیر امداد علی پتافی کی باری تھی، ٹنڈوالہیار کے بی اے پاس پتافی صاحب نوجوان اور وڈیرے زادے ہیں، مزاج میں بھی وہی وڈیرا پن ہے، اپنی بات سے متصادم کوئی بات پسند نہیں کرتے، اختلاف رکھنے والا ان کی جاگیر پر ہو تو نجانے کیا کریں لیکن اسمبلی میں وہ جو کر سکتے ہیں، کر گزرنے سے نہیں چوکتے. انہوں نے غیر سنجیدہ اندازمیں اپنے محکمے کے بارے میں سوالوں کے جواب دینا شروع کیے جن سے اپوزیشن مطمئن دکھائی نہیں دے رہی تھی، پھر فنکشنل لیگ کی نصرت سحر عباسی کیسے خاموش رہتیں؟ وہ سندھ اسمبلی کی سب سے متحرک رکن ہیں، انہوں نے پہلے تو سوالوں کے تشفی جواب نہ ملنے پر وزیر اعلی سے نوٹس لینے کے لیے کہا اور پھر وزیر موصوف کی قابلیت بے نقاب کرنے کی ٹھان لی، انہوں نے اسپیکر سے کہا کہ یہ جو تحریری جواب دیے گئے ہیں، ان میں یہ لفظ صحیح طرح سے پڑھا نہیں جا رہا، یہ کیا لکھا ہوا ہے؟ وزیر موصوف سے کہیں ذرا سمجھا دیں، اس پر وزیر صاحب کھڑے ہوئے اور انہوں نے جواب دیتے ہوئے کہہ دیا کہ یہ کوئی راکٹ سائنس تو نہیں ہے. اگلے سوال پر نصرت سحر عباسی صاحبہ نے پھر کوئی بات پکڑ لی اور سوال کرتے ہوئے انہیں زیر لب راکٹ منسٹر بھی کہہ دیا، پتافی صاحب نے یہ بات پکڑ لی، فورا حساب چکتا کرتے ہوئے ذومعنی لہجے میں گویا ہوئے،
’’پتہ نہیں کسی کو کیسے پتہ چلا کہ میں راکٹ منسٹر ہوں، معزز رکن نے راکٹ دیکھا ہوگا لیکن میرے پاس راکٹ نہیں ہے‘‘۔

پتافی صاحب کے یہ الفاظ تو گرفت میں نہیں آسکتے تھے، لیکن ان کے لب و لہجے نے ان کے جملے کو وہی معنی پہنا دیے جس کی وہ خواہش رکھتے تھے. سیلانی ہی نہیں پریس گیلری میں موجود تمام صحافی اور اراکین اسمبلی بھی حیران رہ گئے، ڈپٹی اسپیکر بھی پتافی صاحب کا منہ تکنے لگیں اور پھر انہوں نے یہ الفاظ کارروائی سے حذف کرا دیے لیکن نصرت سحر عباسی اور امداد علی پتافی میں ٹھن گئی. اسمبلی میں ساتھ رہنے کی وجہ سے اراکین اسمبلی ایک دوسرے کے بارے میں کچھ نہ کچھ تو جان ہی لیتے ہیں، پتہ چل ہی جاتا ہے کہ کون کتنا قابل اور کتنے پانی میں ہے، نصرت صاحبہ کو بھی علم تھا کہ امداد علی پتافی کی انگریزی بہت کمزور ہے، وہ ضمنی سوال لیے پھر کھڑی ہو گئیں اور اسپیکر صاحبہ سے کہنے لگیں’’میڈم! وزیر صاحب سے کہیں کہ یہ جواب مجھے پڑھ کر سنا دیں.‘‘
ان کے اس سوال پر ایوان میں بیٹھے ارکین کے لبوں پر بے ساختہ مسکراہٹ دوڑ گئی، وہ جانتے تھے کہ انگریزی میں تحریر جواب پڑھنا وزیر موصوف کے لیے اچھا خاصامشکل ہوگا لیکن وزیر موصوف کھڑے ہوگئے کہ اب معاملہ ان کی ناک کا تھا، انہوں نے پہلے تو نصرت سحر عباسی کو ڈرامہ کوئین قرار دیا پھر کہنے لگے،
’’یہ سب ڈرامے ٹیلی ویژن پر آنے اور اخبار میں فوٹو چھپوانے کے لیے کر تی ہیں‘‘
نصرت صاحبہ اس پر احتجاج کرنے لگیں، جواب میں پتافی صاحب کی زبان سے بھی پھول جھڑنے لگے، اس گل پاشی پر اراکین اسمبلی تھیٹر کے اس منظر سے لطف اندوز ہو رہے تھے، حتٰی کہ ایوان میں موجود وزیر اعلی کے لبوں پر بھی مسکراہٹ موجود تھی۔
بات شاید ختم ہوجاتی لیکن وزیر موصوف کی انا کو ٹھیس پہنچی تھی یا پھر انہیں ساتھی رکن کا تمسخر اڑانے میں لطف آ رہا تھا، وہ معنی خیز لہجے میں کہا ’’آپ میرے چیمبر میں آجائیں، میں پڑھ کر سنادوں گا.‘‘
یہ الفاظ کسی بم سے کم نہیں تھے، انداز محلے کے اس اوباش اور چھڑے لونڈے جیسا تھا جوگلی میں کھیلتی لڑکیوں سے گڑیا چھین کر جیب میں ڈال کر کہے کہ کمرے میں آ کر لے لو۔

سیلانی کا خیال تھا کہ اس پر ایوان میں موجود تمام خواتین نہیں تو کم از کم اپوزیشن ضرور احتجاج کرے گی اور کچھ نہیں تو کم از کم ایوان میں اس لب و لہجے پر واک آؤٹ تو ہوگا ہی لیکن ایوان میں صرف نصرت سحر عباسی اور ڈپٹی اسپیکر شہلا رضا کی آواز گونج رہی تھی، نصرت سحر چیخ چیخ کر کہہ رہی تھیں کہ اسپیکر صاحبہ انہوں نے چیمبر میں بلانا ہے تو اپنی ماؤں بہنوں کو بلائیں، ہم نے سوال یہاں کیا ہے، جواب بھی ایوان میں دیں۔ یہ ان کا مائنڈ سیٹ ہے، یہ عورت کی اسی طرح تذلیل کرتے ہیں۔ نصرت سحر چیختی رہ گئیں، لیکن نہ ایم کیو ایم کی ہیر سوہو کھڑی ہوئیں نہ سیما افضال سید نے ساتھ دیا، مسلم لیگ کی سورٹھ تھیبو نے بھی عورت کی تذلیل خاموشی سے سہہ لی، پیپلزپارٹی سے وابستہ خواتین اراکین کو بھی کچھ غلط محسوس نہ ہوا، ہاں محسوس ہوا تو ڈپٹی اسپیکر کو لیکن انہوں نے امداد پتافی کو ڈانٹنے کے بجائے فورا بات بنالی
’’ہم ایک دوسرے کا بہت احترام کرتے ہیں، غم خوشی میں ایک دوسرے کے گھر بھی جاتے ہیں اور چیمبر میں جا کر بات بھی کرتے ہیں.‘‘
شہلا رضا نے بات سنبھالنے کی کوشش کی اور ساتھ ہی یہ الفاظ کارروائی سے حذف کرنے کی ہدایت بھی دے کر سوال کھڑا کر دیا کہ جب یہ الفاظ قابل اعتراض نہیں تو انہیں کارروائی سے حذف کیوں کیا گیا؟

اب اسمبلی میں یہ لب و لہجے استعمال ہوں گے؟ نثار کھوڑو جو اپنی ہر دوسری تقریر میں مقدس ایوان اور ایوان کے تقدس کی بات کرتے ہیں اب وہ اس پر کیا کہیں گے؟ یہ سب کسی گلی کے نکڑ پر ہوتا تو شاید سیلانی تحریر کرتا نہ کوئی نوٹس لیتا کہ اوباش لوگوں کی زبان ہی یہی ہوتی ہے، لیکن یہ تو ایوان تھا، اور یہ سب قائد ایوان کے سامنے ہوا، جو ایک سید زادہ بھی ہے، لیکن وہ خاموش تھا کہ شاید اب پیپلز پارٹی صفوں میں ماں بہنوں کو عزت دینے والے جیالے نہیں رہے تھے. بلاول ہاؤس سے ایسوں ہی کی لینڈکروزر پر جھنڈا لگتا ہے انہی سے کام چلانا ہے۔ سیلانی ہکا بکا شیشے کی دیوار سے ایوان میں ہونے والی کارروائی دیکھتا رہا، دیکھتا رہا اور دیکھتا چلا گیا۔

Comments

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی کراچی کے سیلانی ہیں۔ روزنامہ اُمت میں اٹھارہ برسوں سے سیلانی کے نام سے مقبول ترین کالم لکھ رہے ہیں اور ایک ٹی وی چینل سے بطورِ سینئر رپورٹر وابستہ ہیں۔ کراچی یونیورسٹی سے سماجی بہبود میں ایم-اے کرنے کے بعد قلم کے ذریعے سماج سدھارنے کی جدوجہد کررہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.