طالب علم کی خود کشی، کس سے منصفی چاہیں - نیر تاباں

ٹیچر کے عشق میں جان دینے والے ساتویں جماعت کے طالب علم کی داستان سن کر سوچ میں پڑ گئی ہوں. کل سے سوچ سوچ کر دماغ شل ہو گیا ہے۔ آخر وجہ کیا ہوئی کہ ایک نوجوان نے محبت کے جذبے میں اپنی جان ہی دے دی۔

کیا بے حیائی اور فحاشی کو فروغ دیتا ہوا ہمارا میڈیا؟ جس کی مہربانی سے آج بچوں کے کچے ذہن وقت سے پہلے بڑے ہو گئے۔ پالنے سے پاؤں نکلتے ہی جنم جنم کے پیار میں مبتلا ہو گئے۔ اور اس حد تک ہو گئے کہ اپنی جان تک لینے سے گریز نہیں کی. ٹین ایجرز کی محبت کو اتنا fantasize کر کے دکھایا جاتا ہے، اور فلموں ڈراموں سے لیکر خبروں تک موت کو اتنا ارزاں دکھایا جاتا ہے کہ اس کی وحشت جیسے دل سے ہی نکال دی ہو. بےحسی کا دور دورہ ہے!

کیا مخلوط تعلیم؟ کہ جب جنید بغدادی سے پوچھا گیا - ایں مرشدی ، کیا مرد عورت کو پڑھا سکتا ہے؟ دونوں اکھٹے پڑھ سکتے ہیں؟ کہا اگر پڑھانے والا بایزید بسطامی ہو، پڑھنے والی رابعہ بصری ہو، جس جگہ پڑھایا جا رہا ہو وہ بیتُ اللہ ہو، جو کچھ پڑھایا جا رہا ہو کلام ُ اللہ ہو، پھر بھی اجازت نہیں ہے __!

کیا پرائیویٹ سکولز؟ جن کا اوڑھنا بچھونا صرف پیسہ ہے؟ جہاں بچوں کو روحانی اور ذہنی تربیت سے زیادہ ”رومانوی“ تربیت کے مواقع حاصل ہیں؟

ہمارا معاشرہ؟ جہاں آپ کے اور میرے سامنے سب کچھ ہو رہا ہے اور ہم آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں؟

ہم والدین؟ جنہوں نے اپنے بچوں کے اور اپنے درمیان اتنے فاصلے پیدا کر رکھے ہیں کہ ہمیں پتہ ہی نہیں کہ بچے کہاں جاتے ہیں؟ کس سے ملتے ہیں؟ فوں پر کس سے باتیں کرتے ہیں؟ کیا باتیں کرتے ہیں؟ ہم نے بچوں کو ڈنڈے کے زور پر پالا اور وہ ہم سے ڈرتے گئے۔ ہم نے انہیں ہمارا احترام کرنا تو سکھا دیا، لیکن ان سے دوستی نہ کر سکے۔ مائیں اپنی سوشل لائف میں اور سوشل میڈیا میں مصروف، باپ پیسہ کمانے اور دوستوں کی محفلوں میں مصروف، اور یوں بھی باپ نے پہلے دن سے تربیت والا سارا کام ماں کے ذمے ڈال کر خود کو اس ذمہ داری سے آزاد کر دیا ہے۔ اب آپ ہی بتائیں کہ جب اماں اور ابا دونوں کے پاس ہی اولاد کو دینے کے لیے وقت نہیں، تو اولاد سے کوئی توقع کیسے کی جائے۔

یہ بھی پڑھیں:   یہ بیکار ڈگریاں - علی معین نوازش

گورنمنٹ کا قصور ہے کہ وہ انڈین چینلز کیوں چلنے دے رہی، آپ کی بات بجا۔ میڈیا فحاشی کو فروغ دے رہا ہے، بالکل صحیح! لیکن بچوں کو اس میڈیا تک access کس نے دی؟ گھر میں ٹی وی کا کنٹرول تو ہمارے ہاتھ میں تھا۔ کمپیوٹر تو بچے کو بیڈ روم میں ہم نے رکھنے کی اجازت دی۔ parental control تو ہم نے نہیں لگایا۔ مخلوط تعلیمی ادارے میں تو ہم نے بچے کو بھیجا اور ایسا بھیجا کہ مڑ کے خبر ہی نہ لی۔ کزنز کے ساتھ بچے ضرورت سے زیادہ close ہوئے تب بھی ہم نے کوئی نوٹس نہ لیا.

کیا میڈیا، کیا تعلیمی ادارے، کیا حکومتی کارکردگی ، کیا والدین.... سبھی ایک ہی دوڑ میں دوڑ رہے ہیں. کس کو الزام دیں، کس سے منصفی چاہیں...

Comments

نیر تاباں

نیر تاباں

نیّر تاباں ایک سلجھی ہوئی کالم نگار ہیں - ان کے مضامین دعوتِ فکر و احتساب دیتے ہیں- بچّوں کی نفسیات اور خواتین کے متعلق ان موضوعات پر جن پہ مرد قلمکاروں کی گرفت کمزور ہو، نیّر انھیں بہت عمدگی سے پیش کرسکتی ہیں- معاشرتی اصلاح براستہ مذہب ان کی تحریر کا نمایاں جز ہے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.