اسلامی بینکاری، چندگزارشات - محمد ابوبکر صدیق

تاریخ گواہ ہے کہ ابوجہل کے گھر سے اسلام کا عظیم علم بردار نکلا، اور ہلاکو خان کی پشت سے فاتح اسلام کا تولد ہوا۔ قدرت کے کام نرالے ہی ہوتے ہیں۔ حضرت اقبال ؒ نے اسی طرف اشارہ کیا تھا ”پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے“۔ سودی نظام معیشت کی گود سے اسلامی بینکاری نظام کا ظہور بھی کچھ ایسے ہی ہے۔ تاہم اس نظام کو اپنی آبیاری کے لیے قحط الرجال کا سامنا ہے۔ جب تک ایسے افراد پیدا نہیں ہوتے جو شرعی علوم کے ساتھ ساتھ جدید معاشی و مالیاتی اعلی ٰ تعلیم ہوں، اس نظام میں کمیاں رہیں گی، تاہم اس میں جمود طاری نہیں ہے۔ اسلامی بینکاری پر جہاں تخریبی تنقید کے نشتر برسائے جارہے ہیں، وہیں تعمیری تنقید کے ذریعے اس نظام کی خامیوں کو بتدریج دور کر نے کی کوشش بھی جاری ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ یہ کام چشم زدن میں ہونے کا نہیں۔ سودی نظام معیشت کو اپنے پنجے گاڑنے میں جہاں تین سے زائد صدیاں لگ گئیں، وہاں اس کے متبادل نظام کو اپنی جگہ بنانے کے لیے بھی تو وقت درکار ہوگا۔

آج دنیا کا شاید ہی کوئی تعلیمی ادارہ ہو جہاں سودی نطام معیشت کی افراد سازی نہ ہو رہی ہو اور افراد سازی کا یہ کام صدیوں سے جاری ہے، لیکن اسلامی بینکاری نظام کو اپنی پیدائش کے دن سے تاحال مخالفت کا سامنا ہے۔ کچھ احباب کو یہ تو گوارا ہے کہ سودی نظام چلتا ہے تو چلتا رہے، مگر اسلامی بینکاری نظام کسی طرح ختم ہوجائے اور بس۔ ان کے قلم کبھی سودی نظام معیشت کے خلاف نہیں اٹھے، لیکن اسلامی بینکاری نظام کا گریبان چاک کرنے میں انہوں نے کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی۔ پس پردہ سازش کیا ہے؟ اللہ ہی کو معلوم ہے۔ سودی بینکوں نے بھی اس بارے کافی پیسہ پانی کی طرح بہایا ہے اور بہا رہے ہیں کہ کسی طرح یہ بات عام کر دی جائے کہ اسلامی بینکاری درحقیقت سودی بینکاری ہی ہے، تاکہ لوگ سودی بینکوں سے اپنا پیسہ نکلوانا شروع نہ کردیں۔ اس کے لیے ٹی وی شوز اور پروگرام بھی کیے گئے اور عوام میں غلط معلومات پھیلائی گئیں۔

کتنے ہی افسوس کی بات ہے کہ اسپیشلائزیشن کے زمانے میں جہاں میڈیکل کے شعبے سے وابستہ ہونے کے باوجود ایک فزیشن سرجری کے لیے مریض کو کسی سرجن کے پاس بھیجتا ہے، خود اس کام میں ہاتھ نہیں ڈالتا، فزکس کے ٹیچر بیالوجی، اور بیالوجی کے ٹیچر ریاضی کے میدان میں گھوڑے نہیں دوڑاتے، وہاں ایک عام آدمی جس کا نہ تو شریعت سے لینا دینا اور نہ ہی جدید معاشی اعلی تعلیم سے کوئی تعلق، وہ اسلامی بینکاری پر اپنا فتوی دے رہا ہوتا ہے کہ یہ اسلامی نہیں ہے۔

ایک بات سمجھنا ہوگی کہ فی زمانہ اسلامی بینکاری دو ذہنوں کی تخلیق ہے، ایک شرعی علوم سے بہرہ ور ذہن اور دوسرا جدید معاشی و مالیاتی علوم سے بہرہ ور۔ تب جا کر اسلامی بینکاری نظام وجود میں آیا۔ ان میں سے کسی ایک کو بھی نکال دیں تو یہ نظام نہیں چل سکے گا۔ تاہم جب ایک ہی ذہن میں یہ دونوں علوم جاگزیں ہوں گے اس نظام میں بہتری تب آئے گی۔ افراد سازی کا یہ کام وقت ضرور لے گا لیکن نا امید نہیں ہیں کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ اسلام کی کوکھ بانجھ نہیں ہے۔ اب یہ شمع جلی ہے تو اجالا تو ہوگا اور چار دانگ عالم میں اس کی مقبولیت از خود مخالفین کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ باقی رہی نظام میں کمزوریوں کی بات تو وہ وقت گزرنے کے ساتھ ختم ہوں گی۔ کیونکہ سودی نظام آج جتنا مضبوط ہے، یہ پہلے دن سے نہیں ہے بلکہ وقت کے ساتھ آج اس مقام تک پہنچا ہے۔ جب اس نظام کو وقت دیا جا سکتا ہے تو اسلامی بینکاری کو کیوں نہیں؟

کہا جاتا ہے کہ اسلام مکمل ہوچکا، اب کس بات کو وقت چاہیے؟ تو اس پر عرض ہے جناب!

اسلام تو مکمل ہوچکا، مگر افسوس کہ وقت گزرنے کے ساتھ مسلمان نامکمل ہوتا گیا۔ وقت کے دھارے گزرتے رہے مگر مسلمان آغوش غفلت میں سوگئے. اسلاف کی علمی میراث تک کو بھلا دیا۔ علم کے مراکز کوفہ، بصرہ، سمرقند، بخارا، اندلس و بغداد وغیرھم سے مغرب اور یورپ کی جانب ٹرانسفر ہوتے رہے اور انہیں اس بات کا احساس تک نہ ہوا، ایجادات پر جہاں اُ ن کے اسلاف کی چھاپ تھی وہاں مسلمان اس سے کوسوں دور ہوتے چلے گئے کہ دنیا انہیں سوئی بھی درآمد کرنے کے طعنے دینے لگی۔ فرقہ وارانہ غیر اہم مباحث میں کتابیں کالی کر دیں لیکن اپنی نئی نسل کو سوائے باہمی نفرت و عناد کے کچھ نہ دے سکے۔ یہ ہے وہ تصویر جو چیخ چیخ کر بول رہی ہے کہ تم دنیا سے کتنا پیچھے رہ گئے ۔ اسلام تو مکمل ہے لیکن مسلماں ابھی نامکمل ہے۔

اس لیے علمی اعتبار سے مغرب کی دنیا مقابلہ کرنے کے لیے ہمیں افراد بھی چاہییں اور وقت بھی۔ اسی طرح تعلیمی اداروں کا کردار بھی اہم ہے۔ اس وقت صرف گنتی کے چند ادارے ہیں جو اسلامی بینکاری میں ڈگری لیول کی تعلیم دے رہے ہیں جن میں سرفہرست بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد ہے۔ اس کے علاوہ منہاج یونیورسٹی لاہور بھی اہم ہے کیونکہ ان کے پاس بھی شرعی نظام تعلیم کے قابل علماء موجود ہیں اور ساتھ ہی ساتھ اکنامکس اور فنانس کے شعبے بھی ہیں۔ یونیورسٹی آف مینیجمنٹ ایند ٹیکنالوجی لاہور، انسٹی ٹیوٹ آف مینیجمنٹ سائنسز پشاور میں بھی اب اسلامی بینکنگ کی تعلیم دی جانے لگی ہے۔ اگرچہ یہ ادارے ابھی نئے ہیں لیکن ابتدا تو ہوئی۔ تاہم ان سب اداروں میں صرف بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کا شعبہ اکنامکس ہی سرفہرست ہے کیونکہ اسلامک اکنامکس اینڈ فنانس کے میدان میں اس کے افراد پوری دنیا کے نامور اداروں تک پہنچے ہیں اور خدمات سرانجام دی ہیں۔

اسلامی بینکاری کی ایم ایس اور پی ایچ ڈی ڈگری کی تعلیم اس حوالے سے بھی بہت اہم ہے کہ یونیورسٹیاں اب اپنے ہاں اسلامی بینکاری کا شعبہ بنا رہی ہیں اور انہیں اس کے لیے اساتذہ کی ضرورت ہوگی جن کے لیے 18 سالہ متعلقہ تعلیم لازمی ہوتی ہے۔ اس طرح یہ شعبہ نوکری کے مواقع میں بھی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ اسلامی بینکاری ترویج کے لیے لازمی ہے کہ اسلامی بینک ان طلبہ کو ترجیح دیں جو اسلامی بینک کی ڈگری کے حامل ہوں، تاکہ ان کے معاملات میں بہتری آئے۔ اسلامی بینکاری نظام پر گفتگو یا لکھتے وقت اس پہلو کو سامنے رکھا جائے تو امید ہے نتیجہ بہتر ہوگا۔

Comments

محمد ابوبکر صدیق

محمد ابوبکر صدیق

محمد ابوبکرصدیق بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے شعبہ اکنامکس، اسلامی بینکنگ میں تدریس کے فرائض سر انجام دیتے ہیں۔ قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے معاشیات میں ماسٹر، اسلامی یونیورسٹی سے ایم ایس اسلامک بینکنگ کیا، اب پی ایچ ڈی اسکالر ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.