عصر حاضر کی صورت حال اور اس کا حل - اعجازالحق اعجاز

ایشے بی (Achebe) نے اپنے ناول Things Fall Apart میں سماجی اور تہذیبی شکست و ریخت کو موضوع بنایا ہے۔ اس ناول کا ٹائٹل ڈبلیو بی ایٹس (W B Yeats) کی نظم The Second Coming سے مستعار ہے۔ نظم کی یہ لائنیں قابل غور ہیں:
Turning and turning in the widening gyre
The falcon cannot hear the falconer
Things fall apart;the centre cannot hold
More anarchy is loosed upon the world

ہم دور حاضر میں اسی قسم کی شکست و ریخت سے گزر رہے ہیں۔ یہاں کا نام نہاد فالکن سیکولرازم اور لبرل ازم کے کاغذی پر لگائے پوری آزادی اور بغیر کسی روک ٹوک کے بلند پروازی کی کوشش کر رہا ہے اور فالکنر کی نہیں سن رہا بلکہ اس کا انکار کر رہا ہے، اس کا انجام خدا بخیر کرے کیوں کہ وہ اس کائناتی اصول کو فراموش کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ صنوبر باغ میں آزاد بھی ہے اور پابہ گل بھی، اور یہ کہ شجر سے پیوستہ رہنے ہی میں ڈالی کی سلامتی اور بقا ہے۔

اب نامور مؤرخ کے کے عزیز کے یہ الفاظ ملاحظہ کیجیے:
ـ''Two different loyalties pull us in opposite directions,two different,sometimes
contrary systems of life attract us.''
وہ مزید کہتے ہیں:
ـ ''A complete synthesis of any two cultures is an impossible dream.''

ایک وقت تھا کہ یونان میں سو فسطائیاں نے ہنگامہ برپا کر رکھا تھا ۔وہ ہر اخلاقی ضابطے کی بیخ کنی دلائل سے کر رہے تھے۔ وہ اتنے مدلل تھے کہ لکڑی کی کرسی کو سونے کا ثابت کر دیتے تھے۔ خرد کو جنوں اور جنوں کو خرد ثابت کر دینا ان کے بائیں ہاتھ کی کرشمہ سازی تھی۔ ان کا کام تھا اخلاق کے حوالے سے تشکیک پیدا کرنا جس سے معاشرے میں انارکی پیدا ہو رہی تھی۔ ایک نامور سوفسطائی پروٹا گورس کہتا تھا کہ انسان ہی معیار کائنات ہے۔ انھوں نے اخلاقی موضوعیت کو فروغ دیا جس کا مطلب ہے جتنے انسان اتنے ہی خیر و شر کے معیارات۔ ایک اور سوفسطائی غور جیاس یہ کہتا تھا کہ معروضی علم کا کوئی وجود نہیں اور اخلاق کا کوئی معروضی اور قطعی معیار نہیں۔ ایسے میں ایک صاحب فکر و نظر پیدا ہوا جس نے اپنی دانش سے اس طلسم کا توڑ نکالا اور اخلاقی معروضیت کو بحال کیا۔ اس عظیم مفکر کا نام سقراط ہے۔ اس نے سوفسطائیوں کا مقابلہ انھی کے ہتھیاروں سے کیا اور صداقت اور خیر کو اضافی نہیں بلکہ ازلی و ابدی اقدار قرار دیا جو مستقل بالذات ہیں۔ اس نے تشکیک پسندی کے جالوں کو ہٹا کر خیر کی حیثیت اصل حیثیت کی بازیافت کی۔ اس نے کہا کہ خیر اور صداقت کو سمجھنے کے لیے ایک نقطہ ارتکاز ہونا چاہیے اور میرے خیال میں یہ نقطہ ارتکاز مذہب ہے۔ آج نام نہاد سیکولر ازم وہی سوفسطائی حربے استعمال کر کے ہم سے ہمارا فوکل پوائنٹ چھیننے کی ناکام کوششوں میں مصروف ہے، اور طاغوت ہر سو اپنے دام پھلا رہا ہے۔

ہم اس وقت دو مختلف قسم کی شدت پسندیوں کا شکار ہیں جو ہماری وحدت کو پارہ پارہ کر رہی ہیں۔ ایک طرف مذہبی شدت پسندی ہے تو دوسری طرف سیکولر شدت پسندی۔ مذہبی شدت پسند اگر کسی قسم کی لچک سے محروم ہیں اور اپنے مؤقف سے سر مو انحراف کے قائل نہیں تو دوسری طرف سیکولر اور لبرل شدت پسند ہیں جو ہر مذہبی اور تہذیبی قدر کی اکھاڑ پچھاڑ چاہتے ہیں۔ ان کا رویہ اصلاحی نہیں بلکہ انتقامی ہے۔ یہ سوشل ورکر نہیں بلکہ سوشل انارکسٹ ہیں۔ انھیں مذہب کے بطور سماجی اور تہذیبی قوت کے مثبت کردار کا ادراک ہی نہیں۔ یہ بحیثیت مجموعی تعمیر کے نہیں بلکہ تخریب کے قائل ہیں۔ ان کا ردعمل عام طور پر اضطراری اور ہنگامی نوعیت کا ہوتا ہے۔ آج کل یہ باور کرانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آزادی رائے ان کا حق ہے اور انھیں بالجبر اس حق سے محروم کیا جا رہا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ اس آزادی کا بےدریغ اور منفی استعمال کر رہے ہیں اور کوئی انھیں پوچھنے والا نہیں۔ جو لوگ گرفت میں لیے گئے ہیں، ان کا بازیاب کرایا جانا اور منظر عام پر لایا جانا ضروری ہے، تاکہ ان کے کیے دھرے کی اصل حقیقت سامنے آسکے۔

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وطن عزیز میں ہر جگہ آزادی رائے کا ناجائز فائدہ اٹھایا جا رہا ہے، اور کسی قسم کی کوئی روک ٹوک نہیں، تو انھی چند حضرات کو کیوں گرفت میں لیا گیا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ انھوں نے ملکی سلامتی کے حوالے سے کچھ مسائل کھڑے کیے ہوں جن کا نوٹس لیا جانا بہت ضروری ہو گیا ہو۔ انھیں ہمارا میڈیا سماجی کارکن کہہ کر ان کے بارے میں ہمدردی کے جذبات پیدا کر رہا ہے۔ اس سے پہلے کہ یہ مزید ہمدردیاں سمیٹیں، یہ ضروری ہے کہ انھیں قانون کے دائرے میں لا کر ان کی اصل حقیقت کو طشت ازبام کیا جائے۔ آزادی رائے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ لاکھوں انسانوں کی دل آزاری کا باعث بناجائے اور دین اور مذہبی و معاشرتی اقدار کا مضحکہ اڑایا جائے۔

ہیگل کے نزدیک تضاد اور اختلاف خیال کی جدلیاتی حرکت اور ترقی کا باعث ہے، مگر اس اختلاف کا ایک سلیقہ ہے۔ اختلاف کا طریقہ یہ ہے کہ آپ انتہائی سلجھے ہوئے اور شائستہ انداز میں دلائل کے ساتھ اپنا مؤقف پیش کریں مگر اس مؤقف کو دوسروں پر مسلط کرنے کی کوشش نہ کریں۔ ایک طرفہ تماشا کہ یہ لوگ کہتے ہیں ہمارے رذائل کا جواب دلائل سے دیجیے۔ یہاں یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ ملک کی ایک بہت بڑی اکثریت نہ مذہبی انتہا پسندی کو پسند کرتی ہے اور نہ لبرل اور سیکولر انتہا پسندی کو۔ یہ معتدل لوگ ہیں جو اپنی مذہبی اور تہذیبی اقدار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ جو پیغمبر آخرالزماں سے بے پناہ عقیدت رکھتے ہیں اور ان کی ناموس کی حفاظت کو اولیت دیتے ہیں۔سیکولر طبقہ انتہائی کم تعداد ہے مگر میڈیا کے زور پر اپنے مؤقف کو اکثریت پر مسلط کرنا چاہتا ہے۔ کیا یہ جمہوری رویہ ہے؟

ہماری اپنی ایک تہذیبی شناخت ہے اور جو لوگ اس کی حفاظت کرنا چاہتے ہیں، ان کا موقف صائب ہے۔ البتہ ہمیں اسلام کی اصل روح کو سمجھنا چاہیے اور اس میں اور تنگ نظر ملائیت میں فرق کو روا رکھنا چاہیے۔ اسلام تنگ نظری نہیں بلکہ روشن خیالی کا دین ہے اور یہ صرف تقلیدی روش کو اپنانے کی تلقین نہیں کرتا بلکہ عہد حاضر کے جملہ مسائل کا عقلی و فکری حل بھی چاہتا ہے۔ اسلام کی روح جامد نہیں بلکہ ارتقا پذیر (Evolutionary) ہے۔ بدقسمتی سے ہم نے اجتہاد کے دروازے بند کر رکھے ہیں اور ہمارے علماء کی اکثریت جدید علوم سے دور ہے اور فروعی مسائل کو اولیت دیتی ہے جن کا تعلق ماہیت (Essence) سے زیادہ ظواہر (Appearances) سے ہے۔ ہمیں یہ سمجھنے کی اشد ضرورت ہے کہ اسلام کی عمارت کن اصولی بنیادوں پر کھڑی ہے۔ یہ نہ سمجھنے کا نتیجہ فرقہ واریت اور دہشت گردی کی صورت میں سامنے آرہا ہے۔

اسلام رواداری اور برداشت کا مذہب ہے، مگر ہر اصول کی کوئی نہ کوئی تعینات (Determinations) ہوتی ہیں۔ آزادی رائے کا ہرگز مطلب نہیں کہ ہم اسلام کی بنیادی روح پر سمجھوتہ شروع کر دیں۔ اسلام ایک کلیت کے اصول پر چلتا ہے اور یہ عیسائی ادعائیت (Dogmatism) اور راسخ العقیدگی سے ایک مختلف جوہریت کا حامل ہے۔ روشن خیالی کے بہت سے عناصر پہلے ہی سے اس جوہریت میں موجود ہیں جنھیں ملائیت نے دھندلا دیا ہے۔ اقبال نے اسلامی فکر کی تشکیل کا ایک پر خلوص تجربہ کیا تھا اور اپنے دور کے فکری مسائل کا ادراک کیا تھا اور ان کا حل پیش کرنے کی کوشش کی تھی۔ اس قسم کی تشکیل نو (Reconstuction) کی ضرورت ہر دور میں ہے۔ اگر اس قسم کی تشکیل نو ہوتی رہتی تو آج یہ سیکولر ازم اور لبرل ازم کافی حد تک اسلام کی اس تحرک پسندی کے سامنے اپنے آپ کو بے بس پاتی۔

Comments

اعجاز الحق اعجاز

اعجاز الحق اعجاز

اعجازالحق اعجاز پی ایچ ڈی سکالر ہیں، اردو اور اقبالیات میں ایم فل اور انگلش اور اردو میں ماسٹر کیا ہے۔ دو کتب اقبال اور سائنسی تصورات، اقبال اور ولیم شیکسپئیر کے مصنف ہیں۔ اردو، انگریزی، فارسی ادبیات، فلسفہ اور سائنس دلچسپی کے شعبے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.