سائنس، بین الاقوامی ہم آہنگی اور یک نظریاتی ایجنڈا - محمد نعمان کاکاخیل

رات کی تاریکی میں آسمان کی طرف دیکھنے سے چاند ستاروں اور اجرام فلکی سے متعلق سوالات ہر ذہن کے اندر ابھرتے رہتے اور ہر بندہ زندگی کے کسی نہ کسی لمحے اس کے اوپر سوچتا رہتا۔ ہم کائنات کے اس چھوٹے سے ٹکڑے ( زمین) کے اوپر زندگی بسر کر رہے ہین جو کہ ایک متوسط ستارے (سورج) کے گرد مسلسل گردش میں ہے اور آکاشگنگا کہکشاں (Milky way Galaxy) سے تقریباً 2700 نوری سالوں (Light years) کے فاصلے پر ہے۔ ماہرین فلکیات کے بقول یہ کہکشاں سینکڑوں اربوں کہکشاوؤں میں سے ایک ہے۔ اس وسیع و عریض اور پھیلی ہوئے کائنات کے اندر ہمارے یہ چھوٹے موٹے اختلافات بہت ہی حقیر نظر آتے ہیں۔ یہی نقطۂ نظر ان تمام جنگوں، تنازعات، سانحوں اور مسائل کے باوجود ایک منفرد انداز سے سوچنے کا خام مال مہیا کرتا ہے۔

امن دنیا کے اندر تمام قوموں کا ایک ساتھ ایک سازگار اور بے خوف و خطر ماحول کے اندر کام کرنے اور معمولات زندگی سرانجام دینے کا نام ہے جبکہ ترقی تمام اقوام کو اُس طرز زندگی پر لانے کا عمل ہے جس کا کل آج سے بہتر اور تابناک ہو۔ کیا ایسی کوئی صورت ممکن ہے کہ زمین کے اس 30 فیصد حصے کے اوپر امن و سکون کے ساتھ رہا جائے؟

اگر موجودہ دور میں ایک لفظ میں جواب دیا جائے تو ’سائنس‘ کی بدولت ہی ایک تجربہ گاہ (لیبارٹری) کے اندر مختلف قوموں، ملکوں، نسلوں، زبانوں اور اصلیتوں کے لوگ ایک ملائم اور پر امن ماحول کے اندر رہتے ہوئے تحقیقی و تکنیکی کام کے اندر مصروف نظر آتے۔ جہاں اختلافات سیاسی، لسانی، صوبائی، فرقہ وارانہ اور نسلی بنیادوں کے برعکس خالصتاً منطقی بنیادوں پر ہوتے اور ہر اختلاف رائے کو احترام کی نظر سے دیکھے جانے کے ساتھ ساتھ اس کو ایک نئی تحقیق کی طرف راستہ تصور کیا جاتا ہے۔ یہ سب اسی لیے ممکن ہے کہ انسانوں کے اس گروہ کا مقصد اور ہدف ایک ہی ہے۔ کائنات کی پوشیدہ پیچیدگیوں کے ممکنہ حل کا یک نظریاتی ایجنڈا ان تمام افراد کو ایک ہی جگہ کام کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ افراد کے مالی اور خاندانی پس منظر سے قطع نظر خالصتاً ان کی سائنسی تجسس اور دریافت کی بنیاد پر ان کوجانچا جاتا ہے اور انتخاب کیا جاتا ہے اور یہ افراد ایک متنوع پس منظر سے تعلق رکھنے کے باوجود پر امن طریقے سے کام کر رہے ہوتے۔ صرف مقامی سطح پر ہی نہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی یہ مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   فواد چوہدری، خالی نقشے اور نیپال میں خودکشی - محمد عرفان ندیم

یورپین تحقیقی ادارہ CERN ان تمام مذکورہ دعوؤں کا مظہر ہے۔ جہاں انڈیا و پاکستان، اسرائیل و ایران اور روس و یوکرائن سے تعلق رکھنے والے محققین ایک ساتھ ایک ہی پلیٹ فارم کے اوپر کام کر رہے ہوتے ہیں۔ یہاں سائنس دانوں کا مقصد اور ہدف طاقت کا حصول نہیں بلکہ مکمل طور پر علمی اور تحقیقی ہوتا۔ سائنس دان اپنے علوم، تجربے اور ذاتی تحقیقی کارگزاریاں درس گاہوں اور کلاس رومز کے اندر نئے طلبہ کے ساتھ بانٹتے نظر آتے اور ان کا یہ جوش و خروش اور تحقیقی جذبہ متعدی ہوتا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ سائنس صنعت و حرفت، اختراع و جدت طرازی اور طب وغیرہ کے علاوہ بین الاقوامی امن و سلامتی کا بھی ضامن ہے۔

یہاں یہ سوال ضرور ذہن کے اندر ابھرتا ہے کہ ایٹم بم، ہائیڈروجن بم، میزائل، راکٹ اور دوسرے ایٹمی ہتھیاروں کے ہوتے ہوئے سائنس کیسے امن کا ضامن ہو سکتا ہے؟ لیکن دنیا کے اندر ماضی قریب میں ایٹمی توانائی کے پر امن استعمال کے بجائے ایٹمی ہتھیار کی طرف سائنس دانوں کو لگانے کے اندر کس کا ہاتھ تھا اور یہ کیسے ممکن ہوا؟ یہ بحث ایک الگ اور مکمل مختلف موضوع ہے جس کا یہاں تذکرہ مقصود و مطلوب نہیں ہے۔ یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ سائنس نے انسانی زندگی بدل کر رکھ دی ہے۔ انسان کے سوچنے کے انداز سے لے کر اس کی مادی زندگی میں انقلاب برپا کر دیا ہے۔

پاکستان کے اندر بھی جدید خطوط پر استوار تحقیقی ادارے قائم کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ طلبہ اور نئی نسل کے اندر سائنسی تشنگی کو محرک کرنے کے ساتھ ساتھ ان کو جدید تحقیق سے اپ ڈیٹ رکھنا اور ان کی رہنمائی کرنا اس میدان سے وابستہ افراد کی ترجیح ہونی چاہیے جبکہ اختراعی عمل (creativity process) اور جدت طرازی (Innovation) کا ماحول پیدا کرنا حکومت وقت کی سنجیدہ پالیسیوں کی بدولت ہی ممکن ہے تاکہ افراد کو یک نظریاتی ایجنڈا مہیا کر کے ایک پلیٹ فارم پر لایا جا سکے، کیونکہ اس گوں ناگوں منتشر نظریات کے ماحول میں یک نظریاتی ایجنڈے پر عمل درآمد کے بغیر یکجہتی و ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔

Comments

محمد نعمان کاکاخیل

محمد نعمان کاکاخیل

محمد نعمان کاکا خیل بنیادی طور پر شعبہ طبیعیات سے وابستہ ہیں۔ سنجیدہ قلم نگاری کے ذریعے نوجوان نسل کی تربیت میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ اس وقت کینگ پوک نیشنل یونیورسٹی ساؤتھ کوریا میں پی ایچ ڈی ریسرچ سکالر ہیں اور یونیورسٹی آف واہ میں تدریس کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.