امتیاز عالم اور غیر مہذب بیانیہ - ڈاکٹر رانا تنویرقاسم

آ ج کے روزنامہ جنگ میں اپنے کالم میں امتیازعالم صاحب فرماتے ہیں کہ:
”جرات تحقیق، پاک سرزمین پر سراٹھانے والوں، تکفیری دہشت گردوں کو ملامت کرنے والوں کو دن دیہاڑے دارلحکومت سے اٹھا لیا گیا، ریاست اور شدت پسند گروہ، قانون ہاتھ میں لینے والے خود جلاد بننے نکل کھڑے ہوئے ہیں، تکفیر اور توہین گھڑنے کی فیکٹریاں اب بند کردینی چاہییں۔ قلمی تکفیر کاسلسلہ بند ہونا چاہیے اور حضور ﷺ نے کبھی کسی خارجی اور گستاخ کے ساتھ ایسا نہیں کیا تھا. “

جناب امتیاز صاحب کیا آپ بتانا پسند فرمائیں گے کہ آپ نے سلمان حیدر اور اس کے ساتھیوں کی حرکات کی تحقیق کرلی ہے اور کیا بھینسا، روشنی وغیرہ کو وہ نہیں چلارہے تھے؟ آپ نے یہ کیسے فرض کرلیا کہ وہ بالکل پاک صاف ہیں۔ اب تک کی رپورٹس کے مطابق متنازعہ اور توہین آمیز مواد تو انھی پیجز سے برآمد ہو رہا ہے۔ آپ نے انہیں جرات مند اور پاک سرزمین پر سر اٹھانے والا کیسے قرار دے دیا۔ آپ ایک سینئر صحافی ہیں، بجائے اس کے کہ آپ کہتے کہ معاملہ کی تحقیقات ہونی چاہیے، انہیں بازیاب کرایا جائے اور اگر وہ اس طرح کی سرگرمی میں ملوث ہوں تو قانون کے مطابق انہیں سزا دی جائے۔ آپ نے تصویر کا ایک رخ پیش کرکے دراصل ان کے نظریات وخیالات کی حمایت کی، اور جو لوگ ان کی اہانت آمیز حرکات پر بول یا لکھ رہے ہیں، ان کو آپ برا بھلا کہہ رہے ہیں۔ کیا آپ کا یہ بیانیہ خود تعصب پر مبنی نہیں۔ میرے نزدیک آپ کا مجوزہ مہذب بیانیہ مہذب نہیں بلکہ غیرمہذب ہے. آپ سمجھتے ہیں کہ صرف آپ ہی اس ملک میں امن اور ترقی کے داعی ہیں اور باقی سب فسادی اور جاہل ہیں۔

اللہ تعالی، پیغمبر اسلامﷺ، امہات المؤمنین، صحابہ کرام اور اسلامی شعائر کا کھلم کھلا مذاق اڑانے کوآپ جرات تحقیق قرار دیتے ہیں، جبکہ اس کے خلاف آواز بلند کرنے والے تکفیری دہشت گرد قرار پائے ہیں. امتیاز عالم صاحب! کسی کو بغیر تحقیق کے تکفیری دہشت قرار دینا کون سی صحافتی اخلاقیات ہیں؟ طرفہ تماشا ہے کہ جو اصلا تکفیر اور کروڑوں مسلمانوں کی دل آزاری کے مرتکب ہیں، ان کی آپ وکالت فرما رہے ہیں، اور جن کے دل زخمی ہیں، ان پر الزام لگا رہے ہیں. تکفیر اور توہین گھڑنے کی فیکٹریاں واقعتا بند ہونی چاہییں، قانون ہاتھ میں لینا چاہیے اور نہ ہی کسی کو جلاد بننے کی اجازت ہو نی چاہیے۔ بالکل درست! کاش آپ بھینسا گروپ کی ہرزہ سرائیوں کا بھی ذکر فرما دیتے، جو آئین و قانون کی خلاف ورزی کر رہے تھے۔

بدقسمتی سے شدت پسندی پر مبنی چند افراد کے انفرادی فعل کی آڑ میں پاکستان میں ’دانش وروں‘ کا ایک غول اسلام اور بانی اسلام پر بڑے مخصوص انداز سے حملہ آور ہے۔ ان کی اکثریت قرآن وسنت کے علم سے بے بہرہ ہے۔ اسلام کا مطالعہ بھی وہ شاید مولوی دشمنی کی بنیاد پر کرنا پسند نہیں کرتے۔ وہ ایمانیات اور عقائد کو نشانہ بنانا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ ان کا استدلال عقلی اور منطقی ہر لحاظ سے ناقابل فہم ہے۔

آزاد خیالی اور ترقی پسندانہ سوچ ظاہراََ بڑی پرکشش نظر آتی ہے مگر اس طبقہ کے لوگوں کا مسئلہ یہ ہے کہ نظریاتی تنگ نظر ی اور انتہاپسندی کے دائروں نے انھیں بھی جکڑ رکھا ہے۔ ایک کم علم اور کج فہم انسان سے تو توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ اپنی ہٹ دھری اور ضدکی بنا پر دلیل کے بجائے گالی کو ترجیح دیتا ہے مگر ایک دانشور اور صاحب علم ہونے کا دعویدار تنگنائیوں میں مبتلا ہو جائے تو اس سے بڑھ کر علمی زوال کی اور کیا نشانی ہو سکتی ہے۔

امتیاز عالم نے بھی اسی تشویش کا اظہار کیا جو کل امریکہ اور برطانیہ نے کیا کہ سلمان حیدر اور اس کے ساتھیوں کو کچھ نہ کہا جائے۔ انہوں نے تو دو ہاتھ آگے بڑھ کر ملحدانہ اور سرکش خیالات کے حامل سوشل ایکٹوسٹ کی وکالت کا حق ادا کیا۔ اظہار رائے کا ان کے پاس حق ہے، وہ ہم چھین نہیں سکتے مگر جس طرح انہوں نے سلمان حیدر وغیرہ کے خلاف آواز اٹھا نے والوں کو تکفیری قرار دیا، اور بڑے فتویانہ انداز میں اس مفروضے کو پیش کیا، وہ محل نظر ہے. یہ کہنا کہ آنحضور ﷺ نے اپنے مخالفین اور خارجیوں پر کبھی ہتھیار نہیں اٹھایا تھا، واقعاتی طور پر غلط ہے، نہ صرف باقاعدہ جنگیں ہوئی، بلکہ توہین کے مرتکبین اور جھوٹی نبوت کے دعویداروں کا خصوصی طور پر استیصال کیا گیا. خلیفہ اول سیدنا ابوبکر صدیق کی مشکلات اور مسائل کے باوجود منکرین نبوت کے خلاف جنگیں یادگار ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   عمران خان کا خطاب، وابستہ توقعات اور میری رائے - منیم اقبال

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ انسانی ہمدری اور قانون کی بالادستی کا حقیقی تقاضا ہے کہ ہر شہری کو قانون وانصاف کا برابر موقع ملنا چاہیے۔ غائب افراد کو حاضر کرکے ثبوتوں کے ساتھ ان کے خلاف مقدمہ درج کرکے قانون کے تقاضے پورے کیے جائیں۔ اسی طرح ترقی یافتہ معاشرے جب روشن خیال آئیڈیالوجی کی بنیاد پر مظلوم اقوام کے لوگوں یا اپنے ہی ملک میں بسنے والی اقلیتوں کا قتال کراتی ہیں تو وہ بھی قابل مذمت ہیں۔ معصوم لوگوں کا محض خود سے مخالف نظریات رکھنے کی پاداش میں قتلِ عام خواہ کسی مذہبی رجعت پسند کے ہاتھوں سے ہو یا آزاد اور روشن خیالی کے مبلغ کی دہشت پسند طبع کا نتیجہ ہو، ایک ہی جیسے افعال ہیں۔ امریکہ، برطانیہ اور مغرب میں لاتعداد ملحد صرف ملاؤں، پادریوں اور راہبوں کے ردِ عمل میں پیدا ہوئے ہیں۔ انھیں سرمایہ داری نظام کے بطن میں تضادات کی نوعیت اور شدت سے کوئی غرض نہیں ہے، نہ ہی انھیں اس نظام کی انسانوں پر برپا کی جانے والی دہشت و بربریت سے ہی کچھ لینا دینا ہے۔ سماج کو طبقاتی یعنی سائنسی بنیادوں پر بھی وہ سمجھنا نہیں چاہتے ہیں۔ وہ عہد حاضر میں برپا کی گئی ہر قسم کی دہشت پسندی کو قومی سطح پر طبقاتی تقسیم اور قومی اور بین الاقوامی کے مابین تضاد کی بنیاد پر سمجھنے کے بجائے صرف مذہب کا شاخسانہ قرار دیتے ہیں۔۔

توہین رسالت کی سزا کی بات ہوتی ہے تو لبرل یا سیکولر طبقہ یہ کہتا ہے کہ آپ ﷺ کی سیرت سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ آپ اپنے اوپر ہونے والے ظلم کو معاف کر دیا کرتے تھے۔ آپ پر بہت طعنہ زنی کی جاتی رہی، آپ کو ایذا دی گئی اور طائف کی وادی میں آپ پر پتھراؤ تک کیا گیا، حتیٰ کہ خونِ مبارک آپ کے جوتوں میں جم گیا، آپ نے تب بھی کسی کو سزا نہ دی تو پھر ایسے رحمۃ للعالمین اور محسن انسانیت ﷺ کی توہین پر قتل کی سزا کی ٹھیک نہیں۔ امتیاز عالم صاحب نے بھی کچھ اسی طرح کی بات کی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ آپ کی سیرتِ مطہرہ کا رحمت، درگزر کا پہلو بڑا ہی واضح ہے جس کا اعتراف مسلمانوں کے علاوہ غیر مسلموں نے بھی کیا ہے، تاہم قرآن وسنت کی نصوص اور صحابہ کرام کے واقعات سے یہ امر ایک مسلمہ اُصول کے طور پر ثابت شدہ ہے کہ شانِ رسالت میں گستاخی کی سزا قتل ہی ہے، نبی کریمﷺ نے خود مدینہ منورہ میں اپنے بہت سے گستاخان کو قتل کرنے کا براہِ راست حکم صادر فرمایا، اور صحابہ کرام کی مجلس میں اس دشنام طرازی کے جواب میں اُن کو قتل کرنے کی دعوتِ عام دی۔ ایسے جانثار صحابہ کی آپ نے حوصلہ افزائی کی اور اُن کی مدد کے لیے دعا بھی فرمائی جیسا کہ خالد بن ولید، حضرت زبیر، عمیر بن عدی اور محمد بن مسلمہ کے واقعات احادیث میں موجود ہیں کہ اِن کے ہاتھوں قتل ہونے والے گستاخانِ رسول کو قتل کرنے کے لیے آپ نے کھلی دعوت دی تھی۔ محمد بن مسلمہ کو آپ نے خود کعب بن اشرف کے قتل کی مہم پر بھیجتے ہوئے اُن کے لیے اللہ تعالیٰ سے نصرت کی دعا فرمائی، ایسے ہی حضرت حسان بن ثابت کے حق میں اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ ”روح القدس کے ذریعے ان کی مدد فرما!“

دین کے ابتدائی دور میں آپ کے پاس کوئی قوت موجود نہ تھی، اس لیے اللہ کے رسول ﷺ نے درگزر سے کام لیا، ایسے تمام واقعات مکے کے ابتدائی دور سے متعلق ہیں، دوسری وہ کیفیت ہے جب اسلامی ریاست کا قیام عمل میں آ چکا اور شریعت بطور قانون نافذ ہوگئی، اس کیفیت میں ریاست کی یہ ذمہ داری تھی کہ وہ ریاس اور مسلمانوں کے حکمران اور مذہبی پیشوا کی ناموس کی حفاظت قوت کے ساتھ کرے. بعض آیاتِ مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ چونکہ مسلمان اس وقت خود ایسے شاتمانِ رسالت کی سرکوبی کی قوت نہ رکھتے تھے، حتیٰ کہ بیت اللہ میں نماز سرعام پڑھنے سے بھی بعض اوقات گریز کرنا پڑتا تھا، سو اُس دور میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اس اذیت پر صبر و تحمل کی تلقین کی اور نبی کریمﷺ کو خود دلاسا دیا کہ آپ کی شان میں دریدہ دہنی کرنے والے دراصل اللہ کی تکذیب کرتے ہیں، جنہیں اللہ ہی خوب کافی ہے، عنقریب وہ وقت آنے والا ہے جب پتہ چل جائے گا کہ کون مجنوں اور دیوانہ ہے؟ چنانچہ مکہ مکرمہ اور مدینہ کے ابتدائی سالوں میں دشنام طرازی کرنے والے مشرکین کو اللہ تعالیٰ نے خود نشانِ عبرت بنا کر موت سے ہمکنار کیا. قرآنِ کریم میں صحابہ کو ایسے وقت صبر وتحمل کی ہدایت کی گئی:
”البتہ ضرور تم اپنے مالوں اور جانوں کے بارے میں آزمائے جاؤگے اور تم اہل کتاب اور مشرکین سے اذیت کی بہت سی باتیں سنو گے۔ اگر تم صبر کرو او راللہ کا تقویٰ اختیار کرو تو یہ بڑے حوصلہ کا کام ہے۔“ آل عمران 186
سیدنا اُسامہ بن زید روایت کرتے ہیں کہ’نبی ﷺ اللہ تعالیٰ کے حکم کی بنا پر ان کے بارے میں درگزر سے کام لیتے تھے حتیٰ کہ اللہ نے آپ کو ان کے بارے میں اجازت دے دی۔ پھر جب آپ نے غزوہ بدر لڑا اور اللہ تعالیٰ نے اس غزوے میں قریش کے جن کافر سرداروں کو قتل کرنا تھا، قتل کرا دیا۔“ (صحیح بخاری: رقم 5739)

یہ بھی پڑھیں:   عمران خان کا خطاب، وابستہ توقعات اور میری رائے - منیم اقبال

وساوس پیدا کرنے والے یہی مغالطہ دیتے ہیں، مکے کے ابتدائی دور کے واقعات کی مثالیں پیش کرتے ہیں اور اسلامی ریاست کا قیام عمل میں آنے کے بعد کے واقعات کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔ مسلمانوں کو قوت مل جانے کے بعد کے ایسے واقعات پر حضور ﷺ کے ردعمل کی مثالیں حاضر ہیں، نبی کریم ﷺ نے خود کعب بن اشرف یہودی کو اپنی نگرانی میں قتل کرایا۔ ابو رافع سلام بن الحقیق یہودی کو اپنے حکم سے قتل کرایا۔ آپ نے عبد اللہ بن عتیک کو اس یہودی کو قتل کرنے کی مہم پر مامور کیا۔ حضرت زبیر کوآپ ﷺنے ایک مشرک شاتم رسول کو قتل کرنے بھیجا۔ عمیر بن اُمیہ نے اپنی گستاخِ رسول مشرک بہن کو قتل کیا اور آپ نے اس مشرکہ کا خون رائیگاں قرار دیا۔ بنوخطمہ کی گستاخ عورت عصما بنت ِمروان کو عمیر بن عدی خطمی نے قتل کردیا اور نبی کریمﷺ نے اس فعل پر عمیر بن عدی کی تحسین کی۔ دورِ نبوی میں ایک یہودیہ نبی کریم ﷺکو دشنام کیا کرتی اور گستاخی کرتی تھی۔ ایک مسلمان نے گلا گھونٹ کر اس کو قتل کردیا تو آپ نے اُس کا خون رائیگاں قرار دیا۔ سیدنا عمر بن خطاب نے اپنے دورِ خلافت میں بحرین کے بشپ کی گستاخی پر اس کے قتل پر اظہارِ اطمینان کیا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے ایسے شخص کو قتل کیا جو آپ ﷺ کے فیصلے پر راضی نہیں تھا۔ (الصارم المسلول ابن تیمیہ رحمہ اللہ)

ہمیں شخصی اذیت دینے والے اور آپ کی رسالت پر زبان طعن دراز کرنے والوں میں بھی فرق کرنا ہوگا۔ جن لوگوں نے آپ کو جسمانی اذیت دی، آپ نے اپنی وسیع تر رحمت کی بنا پر ان کو معاف فرما دیا، لیکن جو لوگ آپ کے منصب ِرسالت پر حرف گیری کرتے تھے، اس کو طعن و تشنیع کا نشانہ بناتے تھے، اُنہیں آپ نے معاف نہیں کیا کیونکہ منصب ِرسالت میں یہ گستاخی دراصل اللہ تعالیٰ کی ذات پر زبان درازی ہے، جیسا کہ قرآنِ کریم میں بیسیوں مقامات پر اللہ تعالیٰ نے اپنا اور اپنے رسول مکرم کا تذکرہ یکجا کیا ہے۔

پہلے دہشت گرد ی نے اسلام کے خوبصورت چہرے کو مسخ کرنے کی کوشش کی۔ اب دانشورانہ دہشت گردی سے قوم کا پالا پڑا ہوا ہے۔ اسلام کے خلاف تاریخ کی اس بدترین جنگ کے اندر امت کے عقیدے اور شریعت کا علم تھام کر میدان میں اترنے کا وقت آگیا ہے۔ ہمیں ایسے موحد اور صالح دانشور وں کی ضرورت ہے جو نظریات کے اس عظیم ترین گھمسان اور تہذیبوں کے اس بےرحم ترین تصادم کے اندر امت کو اس کا ہاتھ پکڑ کر چلائیں، اور جو اِس بحر ظلمات کے اندر سے اس کے لیے راستہ بناتے ہوئے آگے بڑھیں، اور جو ایک زیرک و مکار دشمن کے حربوں سے نبرد آزما ہونے کے لیے اِس قوم کو علم اور فکر اور تدبیر اور بصیرت سے لیس کریں۔ اسلام دشمن قوتوں نے اپنے مقاصد کے لیے ہر طرف ہم پر ’دانش وروں‘ کے غول چھوڑ دیے ہیں جو ہمارے اِس بچے کھچے نظریاتی وجود کو بڑی بےرحمی کے ساتھ بھنبھوڑ رہے ہیں۔ اس کے آگے بندباندھنے کی ضرورت ہے.

Comments

ڈاکٹر رانا تنویر قاسم

ڈاکٹر رانا تنویر قاسم

ڈاکٹر رانا تنویر قاسم انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور کے اسلامک سٹڈیز ڈیپارٹمنٹ میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں، مذاہب ثلاثہ میں امن اور جنگ کے تصورات کے موضوع پر پی ایچ ڈی کر رکھی ہے، تدریسی و صحافتی شعبوں سے برابر وابستہ ہیں، ایک ٹی وی چینل میں بطور اینکر بھی کام کررہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.