ان پڑھ عورت - محمد زبیر قلندری

آج شبو کے گھر میں بہت سارے مہمان اکٹھے تھے اور اکٹھے بھی کیوں نہ ہوتے شبو کی شادی جو تھی.اس شبو کی جو پنڈ کی سب سے خوبصورت اور چنچل لڑکی تھی. اور شادی بھی ایسی ویسی جگہ نہیں اس گاؤں کے واحد پڑھے لکھے نوجوان ماسٹر خورشید کے ساتھ!
شبو کی اماں کا سر فخر سےکچھ زیادہ اونچا لگ رہا تھا . پنڈ کی ساری کڑیاں شبو کو بہت زیادہ خوش قسمت سمجھ رہی تھیں. خود شبو کو محسوس ہو رہا تھا جیسے... وہ دنیا کی خوش قسمت لڑکی ہے جسے حقیقت میں شہزادہ مل گیا ہو.
شاید اس خوش نصیبی میں اس کی خوبصورتی کا بڑا ہاتھ تھا.
اس کے حسن کے چرچوں نے پنڈ کے بہت سارے لڑکوں کو امیدواروں کی فہرست میں لا کھڑا کیا تھا!
مگر... خورشید ان سب سے بازی لے گیا تھا.
خورشید کی نوکری ساتھ والے گاؤں لگی تھی وہ صبح سویرے گھی میں چپڑی روٹی کھا کے کلف لگے کپڑے پہن کر تدریس کے لئے روانہ ہو جاتا.

شبو منہ اندھیرے اٹھ کر خورشید کے لئے ناشتہ تیار کرتی اس کے کپڑے تیار کرتی اور پھر اس کے سکول جانے کے بعد گھر کے دوسرے کاموں میں جت جاتی.
شبو ڈھور ڈنگر کی ذمہ داری کےساتھ گھر کے سارے کام خوشدلی سے کرتی آخر کو نوکری والے شوہر کے ساتھ جو بیاہ ہوا تھا یہ نیچ کام اسے بھلا کہاں سوٹ کرتے. وہ تو گاؤں کا واحد پڑھا لکھا شخص تھا جس کی انانیت اسے تنکا تک اٹھانے سے بھی منع کرتی. اس لیے شبو نے خوشی خوشی سارے کاموں کا اکیلے ہی بیڑا اٹھا لیا.
گزرتے وقت کے ساتھ چار بچوں کی ذمہ داری بھی شبو پہ آگئی...
گھریلو ذمہ داری کے ساتھ صبح سویرے گوبر کی صفائی جانوروں کا دودھ دوہنا درجن بھر مویشیوں کا چارہ کاٹ کے گھر لے جانا چولھے کے لیے لکڑیوں کے گٹھے اٹھانا یہ سب کام اسے روزانہ اکیلے کرنا پڑتے.
،، ہر سال گرمیوں میں تپتی دوپہر کو وہ اکیلی جان کنک کاٹتی... پھر اسے گٹھیوں میں باندھ کے اکٹھا کرتی سردیوں میں کپاس چننا یہ علیحدہ اس کے کاندھوں پہ بوجھ تھا. ،،
جبکہ گاؤں کی دوسری عورتوں کے شوہر اپنی بیویوں کے ساتھ مل جل کے کام کرتے تو کام بٹ جاتا.
مگر شبو کا سرتاج تو پڑھا لکھا شوہر تھا...
یہ نیچ کام اس کی شان کے خلاف تھے مجبوراً یہ ذمہ داری اس دھان پان سی عورت کو اٹھانی پڑتی جس کی خوبصورتی جان لیوا مشقت میں کہیں کملا سی گی تھی.

وہی شبو جو پورے پنڈ میں اٹھکھیلیاں کرتی پھرتی تھی اب ایسی گھریلو ذمہ داریوں میں پھنسی کہ تن من کا ہوش نہ رہا.
شام کو جوڑ جوڑ دکھتے جسم کے ساتھ مجازی خدا کے کلف لگے سوٹ دھو کے استری کرنا نماز سے زیادہ فرض تھا.
کسی وجہ سے کوتاہی گویا گھر میں طوفان کو دعوت دینے کے مترادف تھی.
کہتے ہیں طوفان میں بڑے بڑے درخت اپنا وجود برقرار نہیں رکھ پاتے اور وہ تو عورت ذات تھی گٹھیا ترین مخلوق!!!
خورشید نوکری کے بعد گھر آ کے ایک تنکا تک اٹھانا اپنی توہین سمجھتا... پڑھے لکھے انسان میں کچھ انفرادیت تو ھونی چاہیے تھی ناں... !!!

اس کی یہی انفرادیت شبو کے لیے کسی تازیانے سے کم نہ تھی.

گاؤں کے سادہ لوح لوگ خورشید کو کسی مانیسٹر سے کم درجہ نہ دیتے.
آخر کو وہ اس گاؤں کی شان تھا فخر تھا... یہی فخر ہی تو شبو کو کولہو کے بیل کی طرح جتنے پہ مجبور کردیتا اس بات پہ اس نے کھبی شکوہ کرنے کا سوچنا بھی گناہ کبیرہ سمجھا تھا.
اللہ سوہنا اپنے حقوق تو پھر بھی معاف کر دیتا ہے مگر جن کے سینے علم سے منور ہوں ان کی توہیںن خود کو جہنم کے آخری درجے میں ڈالنے کے مترادف تھا.
وقت کی گزرتی چاپ کے ساتھ شبو کے کام کی رفتار بھی ڈھیلی پڑتی جا رہی تھی شاید وقت سے پہلے بڑھاپے نے دہلیز پار کرنی شروع کر دی تھی.
ایسی ہی شدید حبس اور گرمی کی شام تھی... شبو اس وقت تازہ روٹی خورشید کو دے کے جانوروں کا چارہ کاٹ کے انھیں ڈالنے لگی. خورشید کھانا کھانے کے بعد پنکھے کے آگے آلتی پالتی مارے دانتوں میں خلال کر رہا تھا جب گرمی میں مرتی شبو ساتھ والی منجی پہ تھوڑا سا ستانے کو آبیٹھی...
او جاہل ان پڑھ عورت تجھے اتنا شعور نہیں سامنے تیرا شوہر بیٹھا ہے...
تیرے پسینے کی بدبو سےمیرا دماغ خراب ہو رہا ہے آٹھ یہاں سے دفعہ ہو موڈ خراب کر دیا میرا...

نرگسیت کے شکار خورشید نے شبو کو دھتکار دیا.
شبو نے خاموشی سے اپنی منجی اٹھا کے جانوروں کے ساتھ جا ڈالی، جب دونوں کی اہمیت ایک جیسی ہو تو شاید جانوروں کی ماحول میں مہکتی گوبر کی مخصوص بو رچ بس جاتی ہے.
اماں تو رو رہی ہے، سب سے چھوٹے بیٹے نے ماں کے چہرے پر آنسوؤں کو کئی برسوں بعد گالوں پہ گرتے دیکھا تو حیرت سے پوچھا.
کچھ نہیں پتر کاش تیرا ابا پڑھا لکھا نہ ہوتا.
شبو نےزندگی میں پہلی بار علم اور علم کے ٹھیکیدار کی توہین کی تھی، پگلی شاید بھول گئی تھی کہ اس بات پہ اللہ میاں اسے جہنم کے نچلے درجے میں ڈال دے گا!