پاکستان کی سچی بیٹی، شیریں مزاری - ابو محمد

ڈاکٹر شیریں مزاری کے نام سے جانے جانے والی اس دلیر خاتون کا پورا نام ہے ”شیریں مہرالنسا مزاری“۔ مشہور سیاستندان شیر باز خان مزاری ان کے چچا ہیں، اور عاشق محمد خان مزاری جو سیاستدان اور سابقہ بیوروکریٹ تھے ان کے والد تھے۔ ان کے دو بچے ہیں، ان کے خاوند کا نام تابش اعتبار حاضر ہے جو کہ پمز ہسپتال اسلام آباد کے بچوں کے سیکشن Pediatric Infectious Diseases کے ہیڈ ہیں۔

ڈاکٹر شیریں مزاری نے بی ایس سی آنرز ”لندن اسکول آف اکنامکس اینڈ پولیٹیکل سائنس“ سے کیا، اس کے بعد اسی ادارے سے ”ملٹری سائنس اور پولیٹیکل سائنس“ میں ڈبل ایم ایس سی کیا۔ اس کے بعد انہوں نے امریکہ کی طرف رخت سفر باندھا اور وہاں کولمبیا یونیورسٹی سے پولیٹیکل سائنس میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ ان کے پی ایچ ڈی میں ”ملٹری ہسٹری، جیو اسٹریجیڈی، اور فارن پالیسی آف پاکستان“ شامل تھے۔

ڈاکٹر شیریں مزاری نے قائد اعظم یونیورسٹی میں ”ملٹری سائنس“ کے پروفیسر کی حیثیت سے خدمات سر انجام دیں اور بعد ازاں روزنامہ ”دی نیشن“ کو ایڈیٹر کی حیثیت سے جوائن کر لیا۔ ان کا پروفیشنل کیریئر یہیں نہیں رکتا بلکہ اس کے بعد وہ ”ڈائریکٹر جنرل انسٹیٹیوٹ آف اسٹریٹیجک اسٹڈیز“ کی حیثیت سے 2008ء تک ان کے تھنک ٹینک کے ساتھ خدمات انجام دیتے ہوئے ”دی نیوز انٹرنیشنل“ کے لیے کالم بھی لکھتی رہیں۔ ان کے کنٹریکٹ کی مدت 2009ء میں ختم ہو رہی تھی لیکن انہیں امریکی دباؤ پر اس سے پہلے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ محترمہ شیریں مزاری ساتھ ساتھ دی نیوز کے لیے کالم لکھتی رہیں، انہوں نے اس اخبار سے اس بنیاد پر استعفی دے دیا کہ صحافی اور امدادی ورکرز امریکی حکومت اور سی آئی اے کے ذریعے آپریٹ کیے جا رہے تھے۔ اس سے پہلے ایک نیوز کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکہ پاکستان کے داخلی مسائل میں اپنی ٹانگ اڑاتا ہے اور جب انہوں نے خطے میں امریکی کردار کے خلاف تنقیدی کالم لکھنا شروع کیے تو امریکی سفیر کے پریشر پر ادارے نے ان کے کالم شائع کرنا روک دیے جس کی بنیاد پر انہوں نے استعفی دے دیا۔ اس استعفی کے بمشکل چار دن بعد انہیں ایک اور بڑے اخبار ”دی نیشن“ نے ایڈیٹر کے لیے آفر کی جو انہوں نے قبول کر لی۔

شیریں مزاری کے ایڈیٹر بننے کے بعد دی نیشن نے مورخہ 5 نومبر 2009ء کو فرنٹ پیج پر ڈاکٹر شیریں مزاری کا ایک آرٹیکل شائع کیا جس کا عنوان تھا Journalists as spies in FATA۔ اس آرٹیکل میں وال اسٹریٹ جنرل کے ساؤتھ ایشیا کے نمائندے ”میتھیو روزنبرگ“ کے متعلق یہ انکشاف کیا گیا کہ وہ سی آئی اے اور اسرائیلی انٹیلی جنس اور امریکی ملٹری کنٹریکٹر بلیک واٹر کے لیے کام کر رہا ہے۔ اس آرٹیکل کے منظر عام پر آنے کے بعد وال اسٹریٹ جنرل کے مینیجنگ ڈائریکٹر رابٹ جیمز تھامسن نے شیریں مزاری کو اپنی صفائی پیش کرنے کے لیے لکھا۔ اسی وال اسٹیٹ جنرل کے صحافی ڈینیل پرل کو 2002ء میں اغوا کر کے قتل کر دیا گیا تھا، اور اس پر یہودی جاسوس ہونے ہی کا الزام لگایا گیا تھا۔ اس کے بعد اسلام آباد کی بین الاقوامی رابطے کی کمیونیٹی سے 21 بین الاقوامی نیوز ایڈیٹرز نے بھی ایک مشترکہ دستخط شدہ احتجاجی لیٹر لکھا، جس میں اس آرٹیکل پر شدید تنقید کی گئی اور کہا گیا کہ اس سے متھیو روزنبرک کی سلامتی کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ اس کے بعد ایک ٹیلی وژن انٹرویو میں شیریں مزاری نے اپنے مؤقف کا شدت سے دفاع کیا۔

مورخہ 20 نومبر 2009ء کو اخبار دی نیشن نے اپنے فرنٹ پیج پر ایک اور خبر شائع کی، جس میں غیر ملکیوں کی ایک تصویر کو ”Mysterious US nationals“ کا عنوان دیا گیا۔ اس خبر میں ایک تحقیقاتی ادارے کے مطابق ان غیر ملکیوں کو امریکی جاسوس ایجنسی سی آئی اے کے ایجنٹوں جیسا بتایا گیا تھا۔ بعد میں انکشاف ہوا کہ اس کا تعلق آسٹریلیا سے تھا اور وہ ایک ادارے ”Getty Images“ کے لئے کام کر رہا تھا۔ اس ادارے کے سینئر ڈائریکٹر نے 21 نومبر کو شیریں مزاری خط لکھا۔ یہ دونوں صحافی پاکستان چھوڑ گئے۔

شیریں مزاری ایک خاص واقعے کے بعد اپنی جان کو بہت خطرہ محسوس کرنے لگیں۔ 12 مئی 2011ء کو اسلام آباد ایف 6 کے ایک ریسٹورنٹ میں ایک امریکی مرد اور اس کے ساتھ موجود خاتون نے نفرت کا نشانہ بنایا۔ شیریں مزاری نے وہاں نرم خوئی دکھانے کے بجائے ان کو چلا کر یہ کہتے ہوئے ریسٹورنٹ چھوڑنے پر مجبور کر دیا کہ ”صدر زرداری ہر جگہ تمہاری حفاظت نہیں کر سکے گا۔“ اس روز ڈاکٹر شیریں مزاری کافی دیر سے ناشتہ کرنے لیے اس ریسٹورینٹ پہنچیں تھیں جب دو امریکیوں ایک مرد اور خاتون ان کے ساتھ والی ٹیبل پر آ کر بیٹھے۔ امریکی مرد نے اٹھتے ہوئے اپنی کرسی ان کی کرسی میں دے ماری، اس کا انداز بتا رہا تھا کہ اس نے یہ جان بوجھ کر کیا ہے، شیریں مزاری اس توقع سے مڑیں کہ شاید وہ معذرت کرے گا لیکن اس نے بے نیازی سے انہیں نظرانداز کر دیا۔ یہ شخص دیکھنے میں ہی فوجی جسامت رکھنے والا لگتا تھا۔

ڈاکٹر شیریں مزاری نے ایک مقامی ویب سائٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ جب وہ اٹھیں تو انہوں نے بھی جان بوجھ اپنی کرسی اس کی کرسی سے ٹکرا دی، وہ چلا کر اٹھا کہ ”واٹ دی ہیل“، اس پر انہوں نے اسے کہا کہ انہوں نے وہی کیا ہے جو اس نے ان کے ساتھ کیا تھا، اور معافی بھی نہیں مانگی۔ اس پر امریکی مرد غصے سے چلایا ”**** یو لیڈی“۔ ڈاکٹر شیریں مزاری نے بتایا کہ اس موقع پر وہ اپنے غصے پر کنٹرول کھو بیٹھیں، اور اسے کہا کہ تم پاکستانیوں کو ایسے ہی گالی دے کر نہیں جا سکتے، اور صدر زرداری ہر جگہ تمہاری حفاظت نہیں کر سکتا۔ ڈاکٹر شیریں مزاری نے اسے کہا کہ تم یہاں سے بغیر کھانا کھائے ابھی اور اسی وقت فورا ہوٹل چھوڑ دو، تمھاری یہ جرات کیسے ہوئی کہ تم مجھے گالی دے سکو، یہ امریکہ نہیں پاکستان ہے اور تم مجھے میرے ہی ملک میں گالی نہیں دے سکتے۔

ہوٹل مینیجمنٹ جو اس واقعے کی عینی شاہد تھی، نے ڈاکٹر شیریں مزاری کو اس سے ڈیل کرنے دیا۔ ڈاکٹر شیریں مزاری نے ہوٹل مینیجمنٹ سے کہا کہ اگر وہ معافی نہیں مانگتا تو اسے کھانا نہ دیا جائے۔ دوسری ٹیبل پر موجود ایک امیر نظر آنے والے پاکستانی نے جسے شیریں مزاری نے پاکستانی برگر کہا، نے یہ کہہ کر مداخلت کرنا چاہی کہ یہ ہمارے مہمان ہیں اور وہ ان کی طرف سے معذرت کرتا ہے تو شیریں مزاری نے اسے جواب دیا کہ تم جیسے لوگوں نے پاکستانیوں کو ان کی نظر میں برا بنا رکھا ہے، تم جیسے معذرت خواہوں نے، جو ان کی گالیاں سُن کر بھی انہیں ایسے ہی جانے دیتے ہو۔

اس سارے واقعے کا سب سے مزیدار حصہ وہ ہے جس میں اس امریکی نے شیرین مزاری سے پوچھا کہ ”تم کیسے جانتی ہو کہ میں ایک امریکن ہوں؟“۔ ڈاکٹر مزاری نے جواب دیا کہ تمہارا مغرورانہ طرز عمل بتا رہا ہے کہ تم امریکن ہو۔ ڈاکٹر مزاری نے مزید کہا کہ یہ تم امریکن ہی ہو جو پاکستانیوں کو قتل کرتے ہو۔ ڈاکٹر شیریں مزاری نے ہوٹل انتظامیہ پر زور دیا کہ یا تو اسے مجھ سے معافی مانگنا پڑے گی یا پھر ہوٹل سے جانا پڑے گا۔ اس امریکی جوڑے نے معافی مانگنے کے بجائے ایک سلور کلر کی اسلام آباد نمبر کی بی ایم ڈبلیو میں جانے کو ترجیع دی۔

ڈاکٹر شیریں مزاری کا اپنے انٹرویو میں کہنا تھا کہ یہ اسلام آباد کی سڑکوں پر کھلے عام گھوم رہے ہیں، جس کو چاہتے ہیں، روک لیتے ہیں، اور تنگ کرتے ہیں، اور جس علاقے میں ان کی رہائش ہے، اس میں بھی بڑی تعداد میں غیر ملکی موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے گھر کے پیچھے والا گھر بھی ایک امریکی کے پاس ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ ان کی نقل و حمل کو محدود کرے اور انہیں ان کے گھروں تک محدود رکھے کیونکہ وہ عام لوگوں کی عزت نفس کے لیے خطرہ بن چُکے ہیں۔

ڈاکٹر شیریں مزاری کے نظریات کو پاکستانیت اور دو قومی نظریے کی مضبوط آواز سمجھا جاتا ہے۔ پاکستان کی فارن پالیسی پر بہت کُھل کر بولنے والی ڈاکٹر شیریں مزاری ڈرون حملوں کی کھل کر مخالفت کرنے کے ساتھ ساتھ امریکہ اور پاکستان کے تعلقات کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بناتی رہی ہیں۔ آپ امریکہ کی افغان پاکستان پالیسی کی شدید ناقد ہیں اور کہہ چُکی ہیں کہ ان کی زندگی کو خطرات لاحق ہیں اور اگر انہیں کچھ ہوا تو امریکی سفارتکار اور وزارت داخلہ اس کی ذمہ داری ہو گی۔

ایک ماں، ایک بیٹی اور اک بیوی کی حیثیت رکھنے والی یہ خاتون اپنی ذات میں جرات اور بہادری کی ایک تاریخ رکھتی ہے۔ پاکستان کی اس بیٹی نے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر ہمیشہ سچ اور حق کے لیے آواز اٹھائی، خاص طور پر اپنے شعبے کے اندر رہتے ہوئے اس اکیلی عورت نے حکومت وقت اور سرکش امریکی جارح مزاجی کا بیک وقت سامنا کرتے ہوئے ہمیشہ اپنے وطن اور مٹی سے محبت کی بات کی۔ قوم کی یہ بیٹی زبان حال سے آپ سے اور کچھ نہیں، صرف ایک بیٹی اور بہن جیسی عزت مانگتی ہے۔