میں ولی خان بابر ہوں - مبین امجد

ژوب پاکستان کا شہر ہے، جانتے ہو؟
کیا کہا تھوڑا بہت۔ اچھا مجھے تو جانتے ہو نا، میں ولی خان بابر ہوں.

میں مسلمان ہوں اور مجھے اس قوم نے اپنی آغوش میں پالا ہے جس کا ایک ادنیٰ سا فرد کھڑا ہوتا ہے، اور 22 لاکھ مربع میل کے حکمران سے سوال پوچھتا ہے، اس کا احتساب کرتا ہے جس کے نام سے دنیا کی دو سپر پاورز تھرتھر کانپتی تھیں۔ جی ہاں وہ میرے ہی اسلاف تھے جنہوں نے پوچھا بتا اے عمر رضی اللہ عنہ! جب ایک چادر میں میرا سوٹ نہیں بنا تو تمہارا کیسے بن گیا؟ وہ حکمران بھی تو میرے اسلاف میں سے تھا۔ اس نے یہ نہیں کہا کہ مجھے تم سے ایسے ہی گھٹیا سوال کی امید تھی، بلکہ اس مرد قلندر نے اپنے بچے کو کھڑا کیا اور کہا کہ جواب دو میرا سوٹ کیسے بنا؟ اور پھر چشم فلک نے دیکھا کہ اس شان و شکوہ والے حاکم کا بیٹا کھڑا ہوا اور اس نے جواب دیا۔ ذرا تصور کریں کہ جواب کس نے مانگا ہے اور جواب دیا کس نے ہے؟

اچھا تو میں بتا رہا تھا کہ میں ولی خان بابر ہوں۔ میرا کام بھی سوال کرنا تھا، مگر میرے دیس کے لوگوں کو میرا سوال کرنا شاید ناگوار گزرا۔ شاید اسی لیے مجھے مار دیا گیا۔ میرا جرم صرف سچ بولنا ہی ٹھہرا تھا۔ مجھے سچ بولنے اور سوال اٹھانے کی اس قدر بھیانک سزا دی گئی کہ شاید اب برسوں کوئی سچائی اور راست گوئی کا راستہ اختیار کرتے ہوئے سو بار سوچے گا۔

آہ! میں مجرم تھا جو اس معاشرے میں پیدا ہوا۔ میں نے اس بے حس معاشرے میں آنکھ کھول کر ایک ناقابل معافی جرم کیا تھا۔ ہاں ہاں میں وہی ولی خان ہوں جو جھوٹ کے اس معاشرے میں سچ کا مجرم تھا۔ مجھے اس معاشرے میں رہنے کا کوئی حق نہیں تھا، اس لیے میرے کرم فرماؤں نے مجھے مار ڈالا، اور جب مجھے مارا گیا تو بڑے اعلانات ہوئے کہ ہم ولی خان کے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے، ہم ولی خان کو انصاف فراہم کریں گے۔ شاید مجھے انصاف ملا بھی مگر آپ ہی ذرا انصاف سے بتائیے کہ کیا اسے انصاف کہا جا سکتا ہے۔

حق اور سچ کی آواز دبانے کے لیے جو خونی شطرنج کی بساط بچھائی گئی، میں اس کا اکیلا مہرہ نہیں تھا بلکہ میرے اس وطن میں 2002ء سے 2015ء تک 71 صحافیوں کو قتل کر دیا گیا۔
اسلام آباد میں3 صحافیوں کو مارا گیا۔
پنجاب میں 4 سوال کرنے والے قتل کیے گئے۔
سندھ میں قتل ہونے والے صحافیوں کی تعداد 15 رہی۔
بلوچستان میں21 اور خیبر پختونخواہ میں 19 ایسے سوال کرنے والے تھے جنہوں کو مار ڈالا گیا۔
اور فاٹا میں میرے 9 ہم پیشہ لوگوں کو ظلم و بربریت کی بھینٹ چڑھا دیا گیا۔

جرم وہی سچ بولنا،گناہ وہی سوال کرنا، مگر کیا سوال کو دبانے سے کیا وہ سوال دب جاتا ہے؟ ہرگز نہیں، واللہ نہیں۔ ہاں سوال کو موت تبھی آئے گی جب اس کا جواب دیا جائے گا، ورنہ تو وقت کے ظالموں اور جابروں نے بہتیری کوششیں کیں کہ سوال کو مار دیا جائے، مگر وہ ناکام رہے، ہاں مگر سوال اٹھانے والوں کو ضرر مار دیا گیا، یا ان پہ ظلم و ستم ڈھائے گئے۔

میں تو حیران ہوں کہ سوال کرنا، سچ بولنا تو ہماری روایت تھی مگر اسے مغرب نے پروموٹ کیا۔ ہائیڈ پارک ایسی نعمت انھی کو میسر ہے۔ آزادی رائے کی بات وہ لوگ کرتے ہیں، جبکہ ادھر ہمارے ہاں سچ بولنے والوں کو، سوال اٹھانے والوں کو یا تو اٹھا لیا جاتا ہے یا اس قدر ظلم و ستم کا نشانہ بنایا جاتا ہے کہ وہ سوال اٹھانے کے قابل نہیں رہتا۔

خیر کافی سوالات ہیں، مگر جن کو اٹھانا اب آپ کے ذمے، کہ ہم اپنی ذمہ داری پوری دیانتداری سے ادا کرنے کے بعد تاریک راہوں میں مار دیے گئے۔ اور شاید ہم میں سے کئی کے نام بھی ہماری یہ بھلکڑ عوام بھول گئی ہے۔ آج میں ژوب میں خاک کی ردا اوڑھے لیٹا ہوں۔ کبھی جو اپنے لیے دست دعا دراز کرو تو ہمیں بھی یاد کر لیا کرنا۔ ہاں! نا بھی یاد کرو گے تو کوئی گلہ نہیں، ہاں مگر ایک عرض ضرور ہے کہ سوال اٹھانے کاعمل رکنا نہیں چاہیے۔

Comments

محمد مبین امجد

محمد مبین امجد

محمد مبین امجد انگریزی ادب کے طالب علم ہیں۔ مختلف اخبارات میں ہفتہ وار کالم اور فیچر لکھتے ہیں۔اسلامی و معاشرتی موضوعات میں خاص دلچسپی ہے۔ کہانی و افسانہ نگاری کا شوق رکھتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.