باڈی لینگویج اصل مسئلہ ہے - شاہد اقبال خان

اگر آپ سے پوچھا جائے کہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے مسائل کیا ہیں؟ تو آپ کافی قسم کے جوابات دے سکتے ہیں۔ جیسے آپ میں سے کچھ کہیں گے کہ پاکستان کی فیلڈنگ مغربی کلب ٹیموں سے بھی بری ہے۔ کوئی یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ پاکستان ٹیم کی بیٹنگ میں عدم استحکام شکست کی وجہ ہے۔ یہ جواب بھی دیا جا سکتا ہے کہ پاکستان ٹیم بہت پرانے زمانے کی کرکٹ کھیل رہی ہے۔ کچھ لوگوں سے ایسے جواب کی بھی توقع ہے کہ پاکستان کی باؤلنگ میں دم خم نہیں رہا۔ مگر میرے خیال میں پاکستان ٹیم کے دو بڑے مسائل ہیں۔ پہلا یہ کہ کھلاڑیوں میں اعتماد کی کمی ہے جس کی بہت سی وجوہات گنوائی جا سکتی ہیں، جیسے تعلیم کی کمی، غربت زدہ پس منظر اور وسائل کی کمی وغیرہ وغیرہ۔ دوسری بڑی وجہ کھلاڈیوں کی اپروچ ہے۔ اکثر کھلاڑی دفاعی سوچ کے حامل ہیں۔ یہاں تک کہ جارحانہ انداز مزاج والے بھی بطور سٹریٹجی دفاعی انداز سے ہی سوچتے ہیں۔ شاہد آفریدی کی مثال ہی لے لیجیے۔ ان سے زیادہ جارحانہ کرکٹر تاریخ نے کبھی پیدا نہیں کیا، مگر جب وہ کپتان بنے تو ٹیم سلیکشن سے لے کر فیلڈ سیٹنگ تک ہر فیصلے میں دفاعی اپروچ ہی نظر آئی۔

دنیائے کرکٹ میں کرکٹنگ کلچر ہی ٹیموں کو پستی یا بلندی پر لے جاتا ہے۔ تاریخی طور پر دنیا کی دو ٹیمیں ایسی ہیں جن کی باڈی لینگویج جارحانہ نظر آتی ہے۔ ایک آسٹریلیا اور دوسری جنوبی افریقہ۔ اب بھارت بھی اس کیٹیگری میں شامل ہو چکا ہے۔ ان ٹیموں کے خلاف جب بھی آپ کھیل رہے ہوں، وہ ہمیشہ مخالف ٹیم کو یہی تاثر دیتی ہیں کہ آپ چاہے جتنا بھی اچھا کھیل رہے ہیں، آپ ہم سے میچ نہیں جیت سکتے۔ ان کی باڈی لینگویج اس طرح کی ہوتی ہے کہ ایک عام سی سٹریٹجی بھی مخالف ٹیم کو ماسٹر پلان لگ رہا ہوتا ہے، جس سے وہ نروس ہو کر جیتے ہوئے میچز بھی ہار جاتی ہیں۔ یہ کلچر ڈومیسٹک کرکٹ کے کوچز کے ذریعے پروان چڑھتا ہے مگر افسوس پاکستانی ڈومیسٹک کرکٹ کے کوچز اس قابل ہی نہیں نہ ان کی اپنی سوچ اس طرز سے کام کرتی ہے.

موجودہ پاکستانی ٹیم پر اگر غور کیا جائے تو شرجیل خان، سرفراز احمد، عماد وسیم، بابر اعظم اور محمد عامر ہی ایسے کھلاڑی نظر آتے ہیں جو ماڈرن کرکٹ کے تقاضوں کو سمجھتے ہیں اور پراعتماد بھی نظر آتے ہیں، مگر جس اپروچ کی میں بات کر رہا ہوں اس لحاظ سے دیکھیں تو عماد وسیم واحد کرکٹر نظر آتا ہے جس میں آسٹریلین جیسی ”کلنگ اپروچ“ موجود ہے اور وہ مخالفین کو ایسا تاثر دیتا ہے کہ اس کے سامنے کوئی نہیں ٹک سکتا۔

عماد وسیم بطور کرکٹر بہت ٹیلنٹد نہیں ہے مگر کرکٹر کے لیے ٹیلنٹد ہونے سے زیادہ کچھ اور باتوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ عماد وسیم گیند کو زیادہ ٹرن نہیں کرتا مگر وہ اچھی طرح جانتا ہے کہ اس کی کیا حدود ہیں۔ باؤلنگ میں اسے اپنی لائن اور لینتھ پر مکمل کنٹرول ہے۔ وہ بلے بازوں کے ہاتھوں میں کھیلنے کے بجائے انہیں اپنے ہاتھوں میں کھلاتا ہے۔ بطور بلے باز وہ ان تمام کیلکولیشنز کے ساتھ کھیلتا ہے کہ اسے کب اور کس باؤلر کو کس جگہ ٹارگٹ کرنا ہے۔ سب سے بڑھ کر اسے اپنے آپ پر اعتماد ہوتا ہے کہ وہ ہر صورتحال میں ٹیم کو سنبھال سکتا ہے۔ اسے جب بھی جس بھی بلے باز کے خلاف گیند پکڑائی جائے، اس کی باڈی لینگویج ایک پیغام دے رہی ہوتی ہے کہ وہ اس بلے باز کے رنز کے دریا کو باندھ دے گا۔ پاکستانی ٹیم کی سلیکشن کمیٹی کو کرکٹرز کی سلیکشن کے وقت ان کی باڈی لینگویج بھی ضرور دیکھنی چاہیے جو کہ ڈرائنگ روم میں بیٹھ کر ممکن نہیں۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com