سیکولرز اور نیو سیکولرز کو بتانا ہوگا - ڈاکٹر غیث المعرفہ

ساختی تشدّد پر یقین رکھنے والے ہمارے سیکولرز اور نیو سیکولرز آج کل عجیب مخمصے میں ہیں، وہ کل تک کہہ رہے تھے کہ داعش، بوکو حرام، القاعدہ، طالبان اور دیگر تنظیمیں تو سید مودودیؒ اور قطب شہیدؒ کی فکری کوکھ سے پیدا ہوئی ہیں کیونکہ متشدد سوچ ایک ذہنی سانچے کی تشکیل ہے جو بالآخر مسلمان کو کسی ایک تنظیم کا ممبر بنا دیتی ہے، اس کے نتیجے میں یہ احباب تجویز فرما رہے تھے کہ اگر دہشت گردی کا خاتمہ کرنے میں ہم سنجیدہ ہیں تو نہ صرف جماعت اسلامی، اخوان المسلمون اور دیگر اسلامی تحریکوں کا خاتمہ ضروری ہے جو سیاست کو دینی بیانیہ فراہم کر رہی ہیں بلکہ مسلمانوں کی تاریخ سے ان حصوں کو تلف کرنا بھی ضروری ہو چکا ہے جس سے ایسا تاثر پیدا ہوتا ہے. اس کے ساتھ ساتھ ریاست کو ایسے بیانیے کی ضرورت ہے جس میں اسلام کو اقتدار تک آنے کی اجازت نہ ہو کیونکہ جب بھی مسلمان دین کی بنیاد پر سیاست کریں گے، غیر یقینی نتائج انہیں تشدد پسند بنا دیں گے.

ساختی تشدّد پر ایمان لانا خود شدت پسندی کی انتہائی شکل تھی لیکن بھینسوں اور سانڈوں کے اغوا کے بعد اس دیس کے سیکولرز اور نیو سیکولرز ایک نئے مخمصے کا شکار بن چکے ہیں، وہ جس ترازو پر دوسروں کو کل تک تول رہے تھے اسی پر خود بے وزن ٹھہرے ہیں وہ اغوا ہونے والے غیر بلاگرز کا سرگرم دفاع کر رہے ہیں اور ان کی رہائی کے لیے عالمی سطح پر ایکشن لابی وجود میں آ چکی ہے، بھینسوں اور سانڈوں کے اس دفاع کے مقابلے میں سید منور حسن کے منہ سے طالبان کے لیے نکلنے والے چند بول معمولی حیثیت رکھتے ہیں، ان فیس بک صفحات کو فنڈز فراہم کرنے والے اسی لائن قطار میں کھڑے نظر آئیں گے جو ٹی ٹی پی کو چندہ دیتے رہے ہیں، سماجی ذرائع ابلاغ پر ان عناصر کی طرف سے جو سرگرمیاں کی جاتی رہیں، اس کی بہتر جانکاری ان کا مقابلہ کرنے والے افراد بخوبی جانتے ہیں، اور چند تراشے ہمارے اردگرد بھی گھوم رہے ہیں، اغواء کے بجائے ان کے خلاف قانونی راستہ اختیار کیا جاتا تو ان کی تمام سرگرمیاں عوام اورعدالت میں پیش ہوتیں. افسوس ہے کہ ایسا نہیں ہوا، فی الحال یہ ہمارا موضوع نہیں. اہم یہ ہے کہ بھینسوں اور سانڈوں کے نام سے اغواء ہونے والے غیر بلاگرز سماجی ابلاغ پر جو اودھم مچاتے رہے، اسے کوئی بھی نظریہ رکھنے والا مہذب انسان قبول نہیں کر سکتا-

ذرا خود سوچیے جو نظریہ ”اپنا عقیدہ چھوڑو نہیں، دوسروے کا چھیڑو نہیں“ کا علمبردار ہو، وہ بھینسوں اور سانڈوں کی حمایت پر کیونکر آمادہ ہو سکتا ہے، جنہوں نے اسلام اور اس کے پیغمبر حضرت محمدﷺ پر بات کرنے کے لیے جہالت اور حیوانیت کا لبادہ اوڑھ لیا ہو لیکن پوری دنیا کے سیکولر نظریات رکھنے والے نہ صرف ان کا دفاع کر رہے ہیں بلکہ ان کے لیے مظاہرے اور تحریکیں چلائی جا رہی ہیں، اور ان آوازوں کی بازگشت تو اب وائٹ ہاؤس سے بھی اٹھ رہی ہے. تو کیا ہم ساختی تشدّد کے نظریات کا اطلاق اس ذہنی سانچے پر کرنے میں حق بجانب ہوں گے؟ علمی نظر سے دیکھا جائے تو ہم ان دونوں طبقات میں ایک باریک فرق موجود پاتے ہیں ”الحاد خدا کا انکار ہے اور سیکولر ازم خدا سے بیزار ہے“. سیکولرازم انسانی زندگی میں خدا کے لیے احترام کا رویہ رکھتا ہے لیکن زندگی کے خدوخال متعین کے لیے اس کو اپنی عملی زندگی سے علیحدہ کر دیتا ہے، سیکولرازم قوت مدرکہ، تخلیقی صلاحیت، عقل سلیم کے آلات سے سائنس کی دنیا تعمیر کرنے کی بات کرتا ہے، انسانی مسائل کے انسانی حل پر زور دیتا ہے اور ان کی مدد سے ترقی کے زینوں پر چڑھنے کی بات کرتا ہے جبکہ الحاد انھی آلات سے خدا کے وجود پر بات کرتا ہے، سیکولرازم احترامِ خدا میں خاموش رہتا ہے، وہیں لبرل ازم فرد کو ایسی بنیاد اور آزادی مہیا کرتی ہے جس پر وہ ہر بات کہنے اور ہر کام کرنے کا حق رکھتا ہے۔

حالیہ معاملہ محض یہیں تک نہیں ہے، بھینسوں اور سانڈوں نے خدا کے وجود پر شاید ہی کوئی عقلی اعتراضات اٹھائے ہوں، وہ ان ہتھیاروں سے دوسروں کے عقائد کا کلیجہ چبانے کی کوشش کرتے رہے ہیں، وہ آیات ِ قرآنی کا تمسخر اڑا رہے تھے، رسول اللہ ﷺ کی کردار کشی کر رہے تھے، اسلامی شعار کو مزاحیہ نظروں سے دیکھنے کے عادی تھے، اور مسلمانوں کے عمل کو خدا اور رسول ﷺ کا مظہر قرار دے کر اس کا مذاق اڑا رہے تھے، ”اپنا عقیدہ چھوڑو نہیں اور دوسروں کا چھیڑو نہیں“ کے علمبرار کس بنیاد پر ایسی سرگرمیوں کا دفاع کر رہے ہیں؟ اور ان بھینسوں اور سانڈوں کے بچاؤ کے لیے تگ و دو میں مصروف ہیں؟ کیا ہم ان بنیادوں کو ساختی تشدد جیسی تھیوریوں میں تلاش کریں؟