خطوطِ غالبؔ میں شوخی و ظرافت - ڈاکٹر محمد حسین مُشاہدؔ رضوی

اردو ادب میں مرزا غالبؔ کو جاننے اور پہچاننے کا عمومی وسیلہ اُن کی شاعری اورخاص ذریعہ اُن کا منفرد غزلیہ رنگ و آہنگ ہے۔ ویسے غالبؔ کی نثر بھی خاصے کی چیز ہے۔ انہوں نے اپنی شاعری کی طرح نثر میں بھی ایک نئی راہ نکالی ۔ سادہ و پرکاراور حسین و رنگین ،غالبؔ کا یہی نثری اسلوب جدید نثری ادب کا پیش خیمہ ثابت ہوا۔شبلیؔ نے اپنے ایک مقالے میں لکھا ہے کہ:” اردو انشا پردازی کا آج جو انداز ہے اور جس کے مجدد اور امام سرسید تھے اس کا سنگ بنیاد دراصل مرزا غالب نے رکھا تھا۔“

غالبؔ نے اپنے خطوط کے ذریعہ سے اردو نثر میں ایک نئے موڑ کا اضافہ کیااور مستقبل کے مصنفین کو طرز تحریر میں سلاست ، روانی اور برجستگی سکھائی ۔ البتہ مرزا غالب کے مخصوص اسلوب کو آج تک ان کی طرح کوئی نہ نبھا سکا۔ غالبؔ کی شخصیت انفرادیت کی مالک تھی۔ وہ فرسودہ اور روایتی راستوں پر چلنے والے مسافر نہیں تھے ۔غالبؔ کی فطرت میں اختراع و ایجادکا جذبہ مبدء فیاض نے ودیعت فرمایا تھا۔غالبؔ کی نثری خدمات کا اعلیٰ نمونہ ان کے خطوط ہیں ۔ سادگی ، سلاست ،بے تکلفی ، بے ساختگی ،طنز ، ظرافت، گنجلک اورمغلق اندازِ بیان کی بجائے سادا مدعا نگاری جیسے محاسن جو جدید نثر کا طرۂ امتیاز ہیں مکاتیب غالب میں نمایاں نظر آتے ہیں ۔غالبؔ کے خطوط آج بھی ندرتِ کلام کا بہترین نمونہ ہیں۔غالبؔ نے خط نویسی کی فرسودہ روایات کوختم کرکے وہ جدتیں پیدا کیںجن کے سبب اردو مکتوب نگاری باضابطہ ایک فن کی شکل اختیار کرگئی ۔

غالبؔ کے خطوط میں تین بڑی خصوصیات پائی جاتی ہیں اوّل یہ کہ انہوں نےپرتکلف خطوط نویسی کے مقابلے میں بے تکلف خطوط نویسی شروع کی۔ دوسرے یہ کہ انہوں نے خطوط نویسی میں اسٹائل اور طریقِ اظہار کے مختلف راستے پیدا کیے ۔ تیسرے یہ کہ انہوں نے خطو ط نویسی کو ادب بنا دیا۔ اُن کے متعلق کہا جاتا ہے کہ انہوں نے ”محمد شاہی روشوں “ کو ترک کرکے خطوط نویسی میں بے تکلفی کو رواج دیا اور القاب و آداب و تکلفا ت کے تمام لوازمات کو ختم کر ڈالا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ غالبؔ جدید اردو نثر کے رہنما ہیں ۔ آج نثر کی کوئی ایسی صنف موجود نہیں جس کے لیے خطوطِ غالبؔ میں طرزِ ادا کی رہنمائی نہ ملتی ہو۔ بہ قول اکرم شیخ:” غالبؔ نے دہلی کی زبان کو تحریر ی جامہ پہنایا اور اس میں اپنی ظرافت اور مؤثر بیانی سے وہ گلکاریاں کیں کہ اردو ےمعلی خا ص و عام کو پسند آئی اور اردو نثر کے لیے ایک طرزِ تحریر قائم ہوگیا۔ جس کی پیروی دوسروں کے لیے لازم تھی۔‘‘

اردو میں غالبؔ پہلے شخص ہیں جو اپنے خطوط میں اپنی شخصیت کو بے نقاب کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر غالبؔ کی شاعری سے یہ پتا نہیں چلتا کہ حالیؔ نے انہیں ’’حیوان ظریف ‘‘ کیوں کہا ہے۔ ان کے خطوط سے معلوم ہوتا ہے کہ غالبؔ کی طبیعت میں ظرافت تھی۔ غالبؔ کے کلام سے غالبؔ کی جو تصویر سامنے آتی ہے وہ اس غالبؔ کی ہے جو خیال کی دنیا میں رہتا ہے۔ لیکن خطوط میں وہ غالبؔ ہمیں ملتا ہے جس کے قدم زمین پر جمے ہیں ۔جس میں زندگی بسر کرنے کا ولولہ ملتا ہے۔ جو اپنے نام سے فائدہ اٹھاتا ہے مگر اپنے آپ کو ذلیل نہیں کرتا ۔ غالبؔ کی زندگی سراپا حرکت و عمل ہے۔ اس کی شخصیت میں ایک بے تکلفی ،بے ساختگی اور حقیقت پسندی کی موجودگی ان کے خطوط سے چھلکی پڑتی ہے۔ غالبؔ نے اپنے خطوط میں اپنے بارے میں اتنا کچھ لکھ دیا ہے اور اس انداز میں لکھا ہے کہ اگر اس مواد کو سلیقے سے ترتیب دیا جائے تو اس سے غالبؔ کی ایک آپ بیتی تیار ہوجاتی ہے۔ اس آب بیتی میں جیتا جاگتا غالب ؔاپنے غموں اور خوشیوں ، اپنی آرزوؤں اور خواہشوں ، اپنی محرومیوں اور شکستوں اپنی احتیاجوں اور ضرورتوں ، اپنی شوخیوں اور اپنی بذلہ سنجیوں کے ساتھ زندگی سے ہر صورت میںنباہ کرتا ہوا ملے گا۔غرض ان کی شخصیت کی کامل تصویر اپنی تمام تر جزئیات و تفصیلات کے ساتھ ان کے خطوط ہی میں دیکھی جا سکتی ہے۔

حالیؔ لکھتے ہیں کہ :’’جس چیز نے ان کے مکاتیب کو ناول اور ڈراما سے زیادہ دلچسپ بنا دیا ہے وہ شوخیِ تحریر ہے جو اکتساب ، مشق و مہارت یا پیروی و تقلید سے حاصل نہیں ہوسکتی۔ ہم دیکھتے ہیں کہ بعض لوگوں نے خط و کتابت میں مرزا کی روش پر چلنے کا ارادہ کیا اور اپنے مکاتبات کی بنیاد بذلہ سنجی و ظرافت پر رکھنی چاہی ہے۔ مگر ان کی اور مرزا کی تحریر میں وہی فرق پایا جاتا ہے جو اصل اور نقل یا روپ بہروپ میں پایا جاتا ہے۔مرزا کی طبیعت میں شوخی ایسی بھری ہوئی تھی جیسے ستار میں سر بھرے ہوئے ہیں ۔‘‘

یقیناً غالبؔ کے خطوط میں جب ظرافت کے عناصر کا تجزیہ کیا جاتا ہے تو بہ قول حالیؔ یہی کہنا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ غالبؔ بجائے ”حیوانِ ناطق“ ”حیوانِ ظریف “ کہلانے کا مکمل استحقاق رکھتے ہیں۔ غالبؔ نے اپنی طبیعت کی شوخی اور ظرافت سے کام لے کر خط جیسی محدود فضا میں بھی جابجا بذلہ سنجی اور شگفتگی کے گل و لالہ بکھیرے ہیں۔غالبؔ کے مزاج میں موجزن ظرافت کی غیرمعمولی حِس نے مکتوب الیہ کو گاہ گاہ خندہ بلب کیا ہے۔ کبھی لطیف چٹکیوں سے کام لیا ہےتو کبھی بے ساختہ شوخیوں اور سنجیدہ مذاق کا سہارا لیا ہے۔اور کہیں کہیں ہلکے پھلکے طنز کے وار بھی چلائے ہیں ۔ مرزا حاتم علی بیگ مہرؔ کے ایک خط کا جواب لکھتے ہوئے غالب ؔ جس طرح چٹکی لیتے ہیں وہ دیدنی ہے: ’’آپ کا خط کل پہنچا ۔ آج جواب لکھتا ہوں ۔داد دینا ، کتنا شِتاب لکھتا ہوں ۔

مطالبِ مندرجہ کے جواب کا بھی وقت آتا ہے ۔ پہلے تم سے یہ پوچھا جا تا ہے کہ برابر کئی خطوں میں تم کو غم و اندوہ کا شکوہ گزار پایا ہے۔ پس اگر کسی بے درد پر دل آیا ہے تو شکایت کی کیا گنجایش ہے؟بلکہ یہ غم تو نصیبِ دوستاں درخورافزایش ہے۔‘‘( خطوطِ غالب: غلام رسول مہر، ص ۲۲۲) مقفیٰ طرزِ نگارش روایتی اسلوب پر ہلکی سے چوٹ ہے۔مگر اس میں ’’دل آنے ‘‘ کی چٹکی لینا اور ’’نصیبِ دشمناں‘‘ کے وزن پر ’’نصیبِ دوستاں ‘‘ کی ترکیب غالبؔ کے مزاج میں رچی شوخی کی عکاس ہے۔ غالبؔ کی خوش طبعی اور ظرافت کو اکثر و بیشتر ان کے عزیز ترین شاگرداورمزاج سے ہم آہنگ میر مہدی مجروحؔ سے خط و کتابت کے دوران کھل کر ہنسی مذاق اور دل لگی کا سامان میسر آجاتا تھا ۔میر مہدی مجروحؔ کے نام لکھے گئے غالبؔ کے خطوط میں میر نصیرالدین ، میر سرفراز حسین اور میر میرن صاحب( میر افضل علی) کا جابجا ذکر ملتا ہے۔پانی پت میں ان مداحوں کی ایک ساتھ موجودگی کی وجہ سے غالبؔ کو بذلہ سنجی کا خوب موقع مل جاتا تھا ۔

مزاح کی مدد سے مرقومہ خط میں تندرست ہنسی اور قہقہوں کی خوب صورت لہریں اٹھتی محسوس ہوتی ہیں۔میر مہدی مجروحؔ کو غالبؔ اپنے مخصوص انداز میں یوں سرزنش کرتے ہیں: ’’وہ جو تم نے لکھا تھا کہ تیر اخط میرے نام کا میرے ہم نام کے ہاتھ جاپڑا۔ صاحب، قصور تمہارا تھا کیوں ایسے شہر میں رہتے ہو، جہاں دوسرا میر مہدی بھی ہو۔ مجھ کو دیکھو کہ میں کب سے دلی میں رہتا ہوں نہ کوئی اپنا ہم نام ہونے دیا ، نہ کوئی اپنا عرف ہونے دیا ، نہ ہم تخلص بہم پہنچایا۔‘‘(خطوطِ غالب:غلام رسول مہر ، ص ۲۶۸) اسی طرح میر مہدی مجروحؔ کے نام ایک بے تکلف خط میں غالبؔاپنی فطری ظرافت کے چلتے عیادت کے مضمون میں بھی شوخی کا اظہار کرتے ہوئے نہیں چوکتے : ’’برخوردار نور چشم میر مہدی کو بعددعاے صحت کے معلوم ہو بھائی تم نے بخار کو کیوں آنے دیا۔ تپ کو کیوں چڑھنے دیا ۔کیا بخار میرن صاحب کی صورت میں آیا تھا جو تم مانع نہ آئے ۔ کیا تپ’ ابن‘ بن کر آئی تھی جو اسے روکتے ہوئے شرمائے۔‘‘( خطوطِ غالب : غلام رسول مہر، ص ۳۰۲)

میرن صاحب کا تذکرہ اور میر مہدی مجروحؔ کی محبوبہ ’ابن‘ کا حوالہ خط کے حُسن کو دوبالا کررہا ہے۔متذکرہ بالا خط میں یہ نکتہ قابلِ تحسین ہے کہ عیادت کے لیے خوش طبعی اور ظرافت کا اظہار کرنا مریض کی دل جوئی میں مدد دیتا ہے۔ظرافت اور نفسیات شناسی کا یہ خوب صورت رچاواپنے شاگرد کے لیے غالبؔ کے مخلصانہ رویوں کا غماز ہے۔ بیماری ہی کے سلسلے میں غالبؔ کا شوخی و ظرافت سے مملو ایک اور بہترین خط نشانِ خاطر کریں ، نواب علاؤالدین خاں علائی کو ۳؍ جولائی ۱۸۶۲ء کو لکھتے ہیں: ’’علی حسین خاں آئے ۔ دو تین بار مجھ سے مل گئے ۔ اب نہ وہ آسکتے ہیںنہ میں جاسکتا ہوں ۔ نصیبِ دشمناں وہ لنگڑے مَیں لولا۔ ان کے پاؤں کااحوال تم کو معلوم ہوگا ۔جونکیں لگیں ، کیا ہوا؟ نوبت کہاں تک پہنچی ؟‘‘( خطوطِ غالب : غلام رسول مہر، ص۸۷) ایک مرتبہ میر مہدی مجروحؔ نے غالبؔ کو اپنے آشوبِ چشم میں مبتلا ہونے کے بارے میں تحریر کیا ۔مجروحؔ کی طرف سے لکھی گئی’’چشمِ بیمار‘‘ کی ترکیب سے استفادہ کرتے ہوئے غالبؔ نے جواب میں ظرافت کا جو عنصر پیدا کیا ہے وہ انھیں کا حصہ ہے: ’’میاں، کیوں ناسپاسی اور ناحق شناسی کرتے ہو؟ چشمِ بیمار کوئی ایسی چیز ہےجس کی کوئی شکایت کرے؟ تمہارا منہ چشمِ بیمار کے لائق کہاں؟ چشمِ بیمار میرن صاحب قبلہ کی آنکھ کو کہتے ہیں جس کو اچھے اچھے عارف دیکھتے رہیں ۔تم گنوار چشمِ بیمار کو کیا جانو؟خیر ! ہنسی ہوچکی ۔ اب حقیقت مفصل لکھو ۔ تم زحیّر کی عادت رکھتے ہو۔ عوارضِ چشم سے تم کو کیا علاقہ؟ میرے نورِ چشم کی آنکھ کیوں دُکھی؟‘‘ ( خطوطِ غالب : غلام رسول مہر، ص ۱۸۹)

اس خط میں ہم قافیہ الفاظ ، روزمرہ محاورات کا استعمال منہ کا لائق ہونا، آنکھوں کا دُکھنااور عوارضِ چشم کے ساتھ نورِچشم کی دل کش ترکیب محبت اور ظرافت کی آمیزش کی بہترین مثال ہے۔ عیادت کا یہ انداز اور پھر پیار بھرا اندازِ تخاطب دل و دماغ کو تر وتازہ کردیتا ہے۔ غلام حسین قدرؔ بلگرامی اپنے ایک خط میں غالبؔ اور ان کے بھانجے مرزا عباس کے بیٹے کے درمیان رشتہ داری کا صحیح تعین نہ کرسکے۔ جس پر غالبؔ کو اس غلطی پر ان کی گرفت کرنے کا مفت میںایک اچھا موقع ہاتھ آگیا اور وہ بھرپور ظریفانہ رنگ و آہنگ کے ساتھ غلام حسین قدرؔ بلگرامی سے یوں باز پرس کرتے ہیں: ’’صاحب، پہلے تم سے یہ پوچھا جاتا ہے کہ مرزا عباس میری حقیقی بہن کا بیٹا ہے ۔ تو پھر میں مرزا کی اولاد کانانا کیوں بنا؟ مرزا کی بیوی میری بہو ہے، تم نے جو لکھا ہے میرے نواسے کی شادی ہے ، کیا سمجھ کے لکھا؟ میں مرزا کی اولاد کی اولاد کا نانا کیوںکر بنا؟ بھانجی کی اولاد پوتا پوتی ہے۔یہ نواسا نواسی مجھ کو اس کی اولاد کا جدِ فاسد سمجھنا ٹکسال باہر کی بات ہے۔‘‘ ( خطوطِ غالب :غلام رسول مہر، ص ۵۵۳)

میر مہدی مجروحؔ کا طرزِ تحریربڑا عمدہ اور سلیس و رواں دواں ہے ۔ غالبؔ اپنے ایک خط میں میر مہدی مجروح کی اس خوبی کی تعریف ظریفانہ اسلوب میں اس طرح کرتے ہیں : ’’آفریں صد آفریں! اردو عبارت لکھنے کا اچھا ڈھنگ پیدا کیاہے مجھ کو رشک آنے لگا ۔سنو دلی کے تمام مال و متاع زر و گوہر کی لوٹ پنجاب کے احاطے میں گئی ہے۔ یہ طرزِ عبارت خاص میری دولت تھی ۔ سو ایک ظالم پانی پت انصاریوں کے محلے کا رہنے والا ، لوٹ لے گیا۔ مگر میںنے اسےسِجَل کیا۔‘‘( خطوطِ غالب : غلام رسول مہر، ص ۲۹۰) مذکورہ بالا خط ایک مخصوص طرز میں ڈھلا ہوا ہے ۔ یہ غالبؔ جیسے خود پسند اور قد آور شخص کے موے قلم سے نکلے ہوئے جملے ہیں ۔ اس خط میں انھوں نے اپنے شاگرد کی جس طرح کھل کر تعریف کی ہے اس سے ان کی اصاغر نوازی اور اپنے تلامذہ سے شفقت و محبت کا اظہاریہ ہوتا ہے۔

غالبؔکی طبیعت میں خوشامد اور تملق بھی پایا جاتا تھا ۔ وہ حُسنِ طلب کا ہنر بھی جانتے تھے۔ نواب یوسف علی خاں والیِ رام پور کے نام ایک خط میں حُسنِ طلب کے ساتھ ساتھ شوخی و ظرافت کا عنصر بھی ملتا ہے۔۲۷؍ جولائی ۱۸۶۱ء کو نواب صاحب کی طرف سے اُن کے منجھلے بیٹے کی شادی خانہ آبادی کے پُر مسرت موقع پر تورَہ اور خلعت کے لیے رقم پاکر نواب صاحب کا شکریہ ادا کرنے کے بعد غالبؔ یوں عرض کرتے ہیں : ’’یہ تحریر نہیں ، مکالمہ ہے ۔ گستاخی معاف کراکےاور آپ سے اجازت لے کے بطریقِ انبساط عرض کرتا ہوں کہ یہ سوا سو روپے جو تورہ و خلعت کے نام سے مرحمت ہوئےہیں۔میں کال کا مارا یہ سب روپیہ کھا جاؤں گا اور اس میں لباس نہ بناؤں گا تو میر ا خلعت حضور پر باقی رہے گا یا نہیں ۔‘‘( مکاتیبِ غالب:امتیاز علی خاں عرشی ص ۲۹) ظرافت کبھی کبھی مذاق اور طنز بھی بن جاتاہے ۔لیکن غالبؔ کا طنزیہ لب و لہجہ تیکھا اور کڑوا نہیں ہوتا ۔یہ بے ضرر مذاق مزاح کی حدود ہی میں رہتا ہے۔

مندرجہ ذیل خط سے جہاں غالبؔ کی آزاد خیالی کا اندازہ ہوتا ہے وہیں اہلِ زمانہ کی روش پر ہلکا سا طنز بھی ملتا ہے : ’’جب داڑھی مونچھ میں سفید بال آگئے ۔تیسرے دن چیونٹی کے انڈے گالوں پر نظر آنے لگے ۔ اس سے بڑھ کر یہ ہوا کہ آگے کے دو دانٹ ٹوٹ گئے ۔ ناچار مسی بھی چھوڑ دی اور داڑھی بھی۔ مگر یہ یاد رکھیے کہ اس بھونڈے شہر میں ایک وردی ہے عام ملا، بساطی ، نیچہ بند، دھوبی ، سقا، بھٹیارہ ،جولاہا ، کنجڑ ،منہ پر داڑھی ، سر پر بال،فقیر نے جس دن داڑھی رکھی ، اسی دن سر منڈوایا ۔ لاحول ولاقوۃ الا باللہ العلی العظیم ۔ کیا بک رہا ہوں۔ ‘‘(خطوطِ غالب: غلام رسول مہر، ص ۲۲۷) غم و اندوہ اور شوخی و ظرافت کے رچاو کا یہ نمونہ اپنی مثال آپ ہے: ’’کسی کے مرنے کا وہ غم کرے جو آپ نہ مرے ، کیسی اشک فاشانی، کہاں کی مرثیہ خوانی، آزادی کا شکر بجا لاؤ، غم نہ کھاؤاور اگر ایسے ہی اپنی گرفتاری سے خوش ہو تو ’’چنّا جان ‘‘ نہ سہی ’’منّاجان سہی‘‘ میں جب بہشت کا تصور کرتا ہوں اور سوچتا ہوں کہ مغفرت ہوگئی اور ایک قصر ملا اور ایک حور ملی، اقامت جاودانی ہے اور اسی ایک نیک بخت کے ساتھ زندگانی ہے ۔

اس تصور سے جی گھبراتا ہے اور کلیجہ منہ کو آتا ہے ۔ ہے ہے ، وہ حور اجیرن نہ ہوجائے گی، طبیعت کیوں نہ گھبرائے گی ؟ وہی زمردیں کاخ اور وہی طوبیٰ کی ایک شاخ ، چشمِ بددور ، وہی ایک حور۔ بھائی ، ہوش میں آؤ ۔ کہیں اور دل لگاؤ۔‘‘ ( خطوطِ غالب : غلام رسول مہر، ص ۲۲۹)\n مرزا حاتم علی بیگ مہر کے نام ارسال کردہ متذکرہ بالا تعزیت نامہ غالبؔ کے تشکک کے ساتھ ساتھ تنوع پسندی اور آزاد روی کی عکاسی کرتا ہے۔اس خط میں جنت کے روایتی تصور سے اختلاف ممکن ہے جس پر غالبؔنے ردیف اور قوافی کا لحاظ رکھتے ہوئے پھبتی کسی ہے۔ اس میں ’’ہے ہے ‘‘ کی بین نے عبارت میں جان ڈال دی ہے۔ ’’طوبیٰ ‘‘ اور’’ زمردیں کاخ‘‘ کے مقدس خیال اور’’چشمِ بددور‘‘ کے محاورے کے بعد ’’کہیں اور دل لگاؤ‘‘ کا محاورہ اسی طرح ’’چنّا جان ‘‘ اور ’’منّا جان‘‘ کے فوراً بعد جنت کا ذکر یہ سب گویا صوتی اور معنوی لہروں کی آمیزش ہے جو غالبؔ کے شوخ اور بیباک ذہن کا پتا دیتی ہے ۔شوخی و ظرافت کا یہ خوب صورت اظہاریہ اپنی ملازمہ بی وفادار کی کردارنگاری میں بھی پوری طرح عیاں ہوتا ہے:

’’بی وفادار جن کو تم کچھ اور بھائی خوب جانتے ہیں ۔ اب تمہاری پھوپھی نےان کو وفادار بیگ بنادیا ہے۔ باہر نکلتی ہیں ۔سودا تو کیا لائیں گی۔مگر خلیق و ملنسار ہیں۔ رستہ چلتوں سے باتیں کرتی پھرتی ہیں ۔جب وہ محل سے نکلیں گی ممکن نہیں کہ اطرافِ نہر کی سیر نہ کریں ۔ ممکن نہیں کہ پھول نہ توڑیں ۔اور بی بی کو لے جاکر نہ دکھائیں اور نہ کہیں کہ ’’یہ پھول تمہارے چچا کے بیٹے کی کائیں کی ایں‘‘ ۔(تمہارے چچا کے بیٹی کی کیاری کے ہیں)ہے ہے ، ایسے عالی شان دیوان خانے کی یہ قسمت اور مجھ سے نازک مزاج دیوانے کی یہ شامت۔‘‘(خطوطِ غالب: غلام رسول مہر، ص ۹۰) اس خط کے یہ جملے ’’سوداتو کیا لائیں گی مگر خلیق و ملنسار ہیں۔‘‘ ہلکے پھلکے طنز کے آئینہ دار ہیں۔اور اسی کے ساتھ ساتھ بی وفادار کے مردانہ کردار ، چہل پہل اور ان کے مخصوص لب و لہجے کی نقل ’’یہ پھول تمہارے چچا کے بیٹے کی کائیں کی ایں‘‘مزاح سے بھرپور اور ظرافت سے معمور ذہن کی پروازِ تخیل ہے۔ غالبؔ کے ذہن و فکر کی پختگی اور ان کے مزاج کی شوخی و ظرافت کا اظہاریہ ایک خط میں مختلف انداز میں ملتا ہے۔ علاؤ الدین خاں علائی کا غالبؔ سےبار بار اصرار ہے کہ ان کا قصیدہ اور رباعیاں جلد سے جلد واپس کردی جائیں ۔غالبؔ اس سے پہلے ان کو لکھ چکے تھے کہ یہ چیزیں ان کے پاس نہیں ہیں ۔چناں چہ دوبارہ تقاضے پر غالبؔ بگڑ جاتے ہیں اپنے منفرد انداز سے ایک نیا پیرایۂ بیان نکالتے ہیں :

’’مکرر لکھ چکا ہوں کہ مجھے یاد نہیں کہ کون سی رباعیاں مانگتے ہو ۔ پھر لکھتے ہو کہ رباعیاں بھیج۔ قصیدہ بھیج ۔معنی اس کے یہ کہ تو جھوٹا ہے ۔اب کے تو مکرر بھیجے گا۔ بھائی ، قرآن کی قسم ، انجیل کی قسم ، توریت کی قسم ، زبور کی قسم ، ہنود کے چار بید کی قسم ، دساتیر کی قسم ، زَند کی قسم ، پازند کی قسم ، استا کی قسم ، گورو کے گرنتھ کی قسم ، نہ میرے پاس وہ قصیدہ نہ مجھے رباعیاں یاد۔‘‘ (خطوطِ غالب: غلام رسول مہر ، ص ۸۰) انکار کے لیے دس دس قسموں کاکھاناجہاں غالبؔ کی وسیع المشربی کو ظاہر کرتا ہے وہیں اس بات کو بھی عیاں کرتا ہے کہ غالبؔ کا ذہن کس قدر تیزی سے سوچتا تھا۔غالبؔ کا اس طرح مختلف قِسموں کی قَسمیں کھانا اس بات کا بھی اشاریہ ہے کہ شاید کوئی قسَم تو مکتوب الیہ کے لیے قابلِ قبول ہو۔ دراصل یہ انداز علائی صاحب کے ساتھ غالبؔ کی بے تکلفانہ مذاق کا غماز ہے ۔ غالبؔ کے خطوط اردو نثر میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں جنھیں اردو ادب کے عظیم نثر پاروں میں شمار کیا جاتاہے۔ کیونکہ یہ خطو ط فطری اور بامعنی ہیں۔ انہوں نے القاب و آداب غائب کر دئیے ہیں۔ اور ان میں ڈرامائی عنصر شامل کر دیا ہے۔ اُ ن کا اسلوب خود ساختہ ہے۔ وہ چھوٹی چھوٹی چیزوں کو بیان کرنے کا سلیقہ جانتے ہیں ۔ مشاہدہ بہت تیز ہے ۔ منظر نگاری خاکہ نگاری میں بھی ملکہ حاصل ہے۔ اُن کے خطوط کی سب سے بڑی خصوصیت لہجہ کی شیرینی اور مزاح کی خوش بینی ہے۔ شوخی و ظرافت اور مزاح کا رنگ و آہنگ تو بہت خوب ہے۔ جس میں طنز کی ہلکی ہلکی لہریں بھی دکھائی دیتی ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ غالبؔ کو اگر شاعری میں ایک انفرادی حیثیت حاصل ہے تو نثر میں بھی وہ ایک الگ اور منفرد مقام رکھتے ہیں۔