آزادی اظہار اور اس کی حفاظت - ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

آزادی رائے بلاشبہ بہت قیمتی شے ہے، اور اسی لیے اس کی حفاظت بھی نہایت اہم ہے. ان سب معاشروں میں جہاں یہ پنپتی ہے، اس کے تحفظ کے لیے بہت سنجیدہ اقدامات لیے جاتے ہیں.

اس سلسلہ میں سب سے پہلا اور اہم ترین مرحلہ وہ ہے جو ایک فرد خود پر روا رکھتا ہے تاکہ اس کا حقِ اظہار محفوظ رہے. وہ اپنی بات کا وزن طنز و طعن کے بجائے دلیل، بردباری اور سیاق و سباق کے حوالوں سے قائم رکھتا ہے. پھر وہ اپنے لہجے میں جارحانہ تیزی سے دانستہ گریز کرتا ہے تاکہ اس کی آزادی دوسروں کے لیے باعث آزار نہ بن جائے.

اگلا مرحلہ سماج کی ذمہ داری ہوتا ہے کہ وہ تلقین اور انضباطی کارروائی سے، جس میں ایڈیٹوریل چیک سب سے اہم ہے، اس مطلوب رویہ سے انحراف کرنے والوں کو اس دائرہ سے باہر نہ نکلنے دے جس کا ذکر اوپر ہوا تاکہ ہیئت مقتدرہ کو معاشرے میں زباں بندی کا موقع نہ ملنے پائے.

سوشل میڈیا کے ضمن میں یہ بات اور بھی اہم ہو جاتی ہے کیونکہ کوئی باقاعدہ ایڈیٹوریل چیک موجود نہیں ہوتا.

اگر مندرجہ بالا دونوں فلٹرز کام نہ کر رہے ہوں تو پھر ریاست حرکت میں آ جاتی ہے. ریاست کے حرکت میں آنے کے بالعموم تین مراحل ہوتے ہیں. وارننگ، تفتیشی گرفتاری اور پھر باقاعدہ گرفتاری و مقدمہ.

ہمارے ہاں ریاستی مداخلت کے پہلے مرحلہ کا کوئی ذکر نہیں کرتا، یا اگر کرتا ہے تو ہیرو بننے کے لیے. تیسرے کی بوجوہ نوبت نہیں آتی. دوسرا مرحلہ وہ ہے جس کے متعلق ہمارے ہاں زیادہ زور و شور رہتا ہے. زور ریاست کا، اور شور متاثرین کا.

کہا جاتا ہے کہ ریاست نے سچ بولنے والوں کو پکڑ لیا.

ریاست کو بالعموم ”سچ“ سے اتنی تکلیف نہیں ہوتی جتنا تجسس اسے اس بات کا ہوتا ہے کہ مذکورہ سچ بیان کرنے کی وجہ کیا ہے.... ٹائمنگ کے لحاظ سے بھی اور content کی وجہ سے بھی. اور یہ کہ یہ آپ کے ضمیر کی آواز ہے یا کسی اور کا مافی الضمیر ہے جسے لانچ کرنے کی ذمہ داری آپ پر ڈال دی گئی ہے. نیز اس سچ کا ڈھنگ اور آہنگ بھی توجہ کا باعث ہوتا ہے. اگر آپ سچ میں اپنی سطح پر ہی بات کر رہے ہیں تو بالعموم حکومتیں آپ کو کچھ نہیں کہیں گی، بلکہ اپنی ”برداشت“ کے ماڈل کے طور پر آپ کو کام کرنے کی آزادی دے دیتی ہیں. اپنے نوم چومسکی صاحب کی طرح. یا پھر جیسا کہ آنجہانی اردشیر کاؤس جی.

یہ بھی پڑھیں:   اے پتر ہٹاں تے نہیں وکدے - اسماء طارق

دنیا بھر میں آزادی اظہار کے چیمپئن معاشروں سمیت اس سے کوئی استثناء نہیں. ہوم لینڈ سیکیورٹی ہو، rendition program ہو یا پھر ہمارے جیسے تیسری دنیا کے ممالک، 9/11 کے بعد دنیا سچ میں بدل گئی ہے. اب معاملہ Habeas Corpus یعنی ”حبس بے جا“ کا نہیں بلکہ ”حفظ ما تقدم“ کا ہے. بھارت نے بیک جنبش قلم اپنے ملک میں سرگرم 33 ہزار میں سے 20 ہزار این جی اوز کو بند کر دیا، اور ان کے حسابات منجمد کر کے تحقیقات شروع کر دیں. ان کے ملک کے اندر یا باہر کوئی چوں بھی سنائی دی آپ کو ؟ یہ اس لیے کہ دنیا میں اب نقض امن اصل مسئلہ ہے، انسانی حقوق اس کے بعد.

ان معاملات کو ہینڈل کرنے کے لیے امریکہ و یورپ سمیت پاکستان میں ایسے قوانین سامنے آ چکے ہیں جن کا آج سے 15 سال قبل تصور بھی محال تھا، بالخصوص مغرب کے ہاں روا انسانی حقوق کے معیارات دیکھتے ہوئے. ستم ظریفی یہ ہے کہ اس وقت عدل کا معیار یہ نہیں کہ سکہ بند روایات کیا ہیں، بلکہ بات یہاں تک سمٹ آئی ہے کہ ”سب“ سے ایک جیسا ”سلوک“ ہو رہا ہے یا نہیں.

اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم آزادی اظہار کی حفاظت کے لیے ڈٹ جائیں اور اس کی کنجی اس میں مضمر ہے کہ ہم تمام چیک اینڈ بیلنس سب سے پہلی سطح پر رکھیں. یعنی انفرادی ذمہ داری کی سطح پر. اپنی گفتگو کو تہذیب کے دائرے میں رکھیں. مقصد اپنی بات کا ابلاغ ہو، دوسرے کے سینے پر مونگ دلنا نہیں. اپنی بات کو ون لائنرز یا تضحیک سے مرصع کرنے کے بجائے ریفرنس اور آرگومنٹ سے مزین کریں اور خود کو حق و باطل، روشن خیالی و دقیانوسی وغیرہ کے فیصلے جاری فرمانے سے حتی الامکان باز رکھیں.

بات کریں، بات سنیں اور بات کرنے دیں، پھر دیکھتے ہیں کون آزادی رائے کو یرغمال بناتا ہے.

Comments

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش کی دلچسپی کا میدان حالاتِ حاضرہ اور بین الاقوامی تعلقات ہیں. اس کے علاوہ سماجی اور مذہبی مسائل پر بھی اپنا ایک نقطہ نظر رکھتے ہیں اور اپنی تحریروں میں اس کا اظہار بھی کرتے رہتے ہیں.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.