بُتوں کے پجاری - ریحان اصغر سید

خود ہی تصویر بناتا ہوں، مٹا دیتا ہوں
بُت گری میرے لیے بت شِکنی ہو جیسے
میں تو نہیں سمجھ پایا پر اس شعر میں شاعر نے یقیناً کوئی خوبصورت بات ہی کہی ہو گی۔ میرا اسے یہاں لکھنے کا مقصد آپ پر اپنے شعری ذوق کا رعب گانٹھنے کے سوا کچھ نہیں۔

بات بتوں کی چل نکلی ہے تو آپ کو بتائے دیتے ہیں کہ دنیا میں بُتوں اور انسانوں کا تعلق بہت پرانا ہے۔ پہلے ان سے فقط برہمن ہی فیض پاتے تھے، پھر وقت گزرا، زمانہ بدلا تو بُت گروں اور پرشاد کھانے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ اب تو ہر طرف بُتوں کا ہی چرچا ہے۔ بُتوں کے فوائد بے شمار ہیں۔ بُت نہ ہوتے تو سومنات کا مندر بھی نہ ہوتا۔ مندر نہ ہوتا تو محمود غزنوی کس پر سترہ حملے کرتا؟ اور بُت شکن کا لقب کیسے پاتا؟

سب سے زیادہ بُت بھارت میں پائے جاتے ہیں۔ جن کی تخلیق کا مقصد بظاہر بالی وڈ کی فلموں میں کسی مردے کو زندہ کرنا، اور گانے فلمانا ہے۔ جب فلم کا کوئی کردار زیادہ رنجیدہ ہوتا ہے تو وہ اپنے دل کی بھڑاس کسی مندر کے بُت کے سامنے جا کر نکالتا ہے، یا پھر مخصوص صورتحال میں لڑکی کی ماں سارا موُدہ بُت پر ڈالنے کے لیے یہ کہتی ہے۔ ہائے بھاگوان یہ تو نے کیا کیا؟

بتوں کی اقسام اور شکلیں بے شمار ہیں۔ پہلے بُت صرف لکڑی اور پتھر کے بنائے جاتے تھے۔ پھر شاعروں نے اپنے محبوب کو بھی اشارتاً بُت کہنا شروع کر دیا۔ کافی عرصہ مسلمان عُلماء برہمن سے حسد کا شکار رہے تاوقتیکہ انھیں اکابر کے بُت میسر آئے۔ عام مسلمانوں کا اصرار تھا کہ ہمارے پاس بھی اپنے بُت ہونے چاہییں، اس لیے انھیں قبروں اور شخصیات کے بتوں سے بہلایا گیا۔

میڈیا اس دوڑ میں پیچھے کہاں رہنے والا تھا، اس نے اپنا بُت گری کا کارخانہ لگا لیا۔ جہاں آرڈر پر شخصی بُت تیار کرنے کے علاوہ اپنے مفاد کے لیے بھی بُت تراشے جاتے ہیں۔ پہلے سب کو ان کی پرستش پر راغب کیا جاتا ہے۔ جب ہم جیسے توحید پرست بھی اُن بتوں سے رغبت کی شکایت پانے لگتے ہیں تو میڈیا کا مفاد مزاج یار کی طرح بدل چکا ہوتا ہے اور میڈیا اپنے تراشے بُت پر ہی سنگ باری شروع کر دیتا ہے۔ اب اتنی بھی کیا بے مروتی کے جس بُت کو کل تک سجدے کیے جاتے تھے، اسے ریالوں کے طعنے دیے جائیں۔ آپ کا طریق آپ کو مبارک ہم باز آئے بُت پرستی سے۔

ہماری سُن ہی رہے ہیں تو ایک لطیفہ بھی سُنتے جائیے۔
ایک پنڈت صاحب منہ اندھیرے مندر پہنچے کہ دکانداری کا آغاز کیا جائے لیکن انھوں نے بڑے بُت کو زار و قطار روتے پایا۔ وجہ پوچھنے پر بُت نے جواب دیا کہ مجھے بنانے کی کُل لاگت دو سو روپے ہے، اور یہاں جو آتا ہے مجھ سے لاکھوں مانگتا ہے۔ اگر میں کسی کام جوگا ہوتا تو بُت ہی ہوتا؟