بچوں کو ”ڈیٹ“ پر جانے دینا چاہیے یا نہیں؟ زینی سحر

بچوں کو ”ڈیٹ“ پر جانے دینا چاہیے یا نہیں، اس پر کچھ تحریریں نظر سے گزری ہیں. پہلے پہل شاید اس کی حمایت میں تحریر آئی اور پھر مخالفت میں.

میرا تو ان لوگوں سے بس اتنا سوال ہے کہ ڈیٹ ہے کیا؟
اگر تو اس کا مطلب اور مقصد وہی ہے جو عام طور پر لیا جاتا ہے، تو اس کے حق میں لکھنے والے کو سوچنا چاہیے کہ میں اس کی طرفداری میں لکھوں گی اور اس میں کوئی برائی نہیں سمجھوں گی، تو پڑھنے والا شخص سب سے پہلے مجھ سے ہی یہ سوال پوچھے گا کہ آپ یہ نیک اور اچھا کام کتنی بار سرانجام دے چکی ہیں؟ اس صورت میں مجھے چاہیے کہ بجائے اپنا کنٹرول کھونے کے، اس کے حق میں مزید بہتر دلائل دوں اور لوگوں کو موٹی ویٹ کروں. اگرچہ ایسا نہیں ہوا بلکہ ردعمل اس کے برعکس دیکھا گیا اور بات گالم گلوچ اور لعن طعن تک جا پہنچی.

جب ہم کچھ بولتے ہیں تو، ہماری آواز کو چند لوگ ہی سن پاتے ہیں لیکن جب ہم کچھ لکھتے ہیں تو وہ الفاظ ہمشہ کے لیے محفوظ ہو جاتے ہیں، اور ہزاروں لوگوں کی نگاہوں سے گزرتے ہیں. لفظوں کا ہم پر بڑا قرض ہوتا ہے، کہیں نہ کہیں ہمیں اس کا جواب دہ ہونا پڑتا ہے. لکھتے وقت یہ سوچنا چاہیے کہ جو بات ہم لکھ رہے ہیں، وہ ہمارے مذہب اور معاشرے سے متصادم تو نہیں، یا جو بات ہم دوسروں کو سکھا رہے ہیں، وہ جب ہماری ذات پر آئے گی تو ہمارا جواب کیا ہوگا.

ڈیٹ پر جانے کے حق میں لکھنے والے یہ دلائل دیتے نظر آتے ہیں کہ شادی سے پہلے لڑکا لڑکی کا ایک دوسرے کو جاننا اور سمجھ لینا ضروری ہے، اس کے لیے اکیلے میں ڈیٹ کرنے یعنی تنہائی میں ملنے میں کوئی حرج نہیں. بجاطور پر یہ سوال کیا جا سکتا ہے کہ ایسی کتنے ڈیٹ پر جانے والے ہیں جن کا انجام شادی کی صورت میں سامنے آتا ہے. مغرب میں تو لوگ بہت ڈیٹ کرتے ہیں، تو کیا وہ سبھی آپس میں شادی کرتے ہیں، اگر ہاں تو پھر گڈ ہو گیا اور اگر نہیں تو کیا آپ وہاں کا کلچر اپنانا چاہتے ہیں؟ پاکستان میں بھی اب کالجز اور یونیورسٹیوں میں لڑکے اور لڑکیاں ڈیٹ مارتے ہیں، ان میں سے کتنے سنجیدہ ہوتے ہیں، کیا یہ حقیقت نہیں کہ ان کی اکثریت بس ٹائم پاس کر رہی ہوتی ہے، اور اس ٹائم پاس میں سب کچھ کر گزرتی ہے.

یہ بھی پڑھیں:   ’’چونیاں ،قصور بچوں کا کیا قصور ! ذمہ دار کون ؟‘‘نسیم الحق زاہدی

ایک طبقے کو ڈیٹ کا بہت شوق ہے، تو خوشی سے اپنائیے لیکن ان ڈیٹس کے جو نتائج ہوں گے، انہیں کون پالے گا؟ مغرب میں تو حکومتیں پالتی ہیں جبکہ آپ کے یہاں کچرے کے ڈبوں میں ملتے ہیں جہاں کتے ان معصوموں کو بھنبھوڑتے ہیں. چلیے مان لیتے ہیں کہ آپ بہت مضبوط کردار کے مالک اور فرشتہ صفت ہیں، اور آپ کے ہاں ڈیٹ کا مطلب حال چال پوچھنا اور صرف بیٹھ کر باتیں کرنا ہے وہ بھی تنہائی میں، لیکن ہم جس دین فطرت کے پیروکار ہیں، وہ تو یہ کہتا ہے کہ جب دو لوگ تنہائی میں ہوں تو تیسرا شیطان ہوتا ہے. وہ دین تو یہ بتاتا ہے کہ جوان ہوتے بہن بھائیوں کو علیحدہ بستروں اور علیحدہ کمروں میں رکھو، اور جب شادی کی عمر کو پہنچیں تو ان کی رضامندی سے ان کی شادی کر دو. کیا اس سے بہتر کوئی اور بات ہو سکتی ہے؟

شادی کے لیے ایک دوسرے کو جاننے کا پیمانہ کیا ہے آپ کے پاس جو صرف اکیلے ڈیٹ کرنے سے ہی بھرتا ہے. ہمارے ماں باپ اور دادا دادی نے کتنی ڈیٹس کے بعد شادی کی تھی، تب تو دلہا دلہن ایک دوسرے کو شادی کے بعد ہی دیکھتے تھے، لیکن پھر بھی تا عمر ساتھ رہتے اور ایک دوسرے کی عزت کرتے. آج شادیوں کی کامیابی کا ریشو دیکھ لیں اور کل کا بھی جائزہ لے لیں.

میرا رب اگر مجھے کسی نامحرم سے تنہائی میں ملنے سے روکتا ہے تو مجھے رک جانا چاہیے کیونکہ اس میں میری ہی بھلائی ہے. یاد رکھیے کہ انسان چاہے کتنا ہی مضبوط کیوں نہ ہو، محبت کے سامنے کمزور پڑ جاتا ہے، جو طلب محض طلب ہوتی ہے وہ محب کو لے کر دو آتشہ ہو جاتی ہے اور اس کے نتائج صرف عورت بھگتتی ہے.

خدارا اپنی روشن خیالی کی بھینٹ میرے وطن کی معصوم بیٹیوں کو نہ چڑھائیں.
ہم مان ہیں، ہمیں کھلونا مت بنائیے.

ٹیگز

Comments

زینی سحر

زینی سحر

زینی سحر میرپور آزاد کشمیر سے ہیں۔ حساس دل کی مالک ہیں، شاعری سے شغف رکھتی ہیں۔ خواتین اور بچوں سے متعلقہ مسائل پر لکھتی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.