حقیقی و غیرجانبدار دانشور کیسا ہوتا ہے؟ داؤد ظفر ندیم

میں ہمیشہ سوچتا ہوں کہ پاکستان کا دانشور چاہے اس کا تعلق رائٹ سے ہو یا لیفٹ سے، اپنے اکثر تجزیوں میں جانبدار اور انتہا پسند ہوتا ہے۔ رائٹ والوں کے بارے میں مجھے پورا یقین تھا کہ وہ کارل مارکس، ہندو دشمنی، مسلمانوں کی جھوٹی عظمت اور جذباتیت اور اب مغرب اور امریکی زندگی میں انتہا پسندی اور جانبدار رہتا ہے، مگر عبدالکریم عابد سے باتوں اور ملاقاتوں کے بعد مجھے معلوم ہوا کہ ایک حقیقی دانشور کیسا ہوتا ہے۔

عبد الکریم عابد کا نام آتے ہی ذہن میں ایک نہایت ہی مشفق اور مہربان ہستی کا خیال آتا ہے، جنہوں نے میری سوچ اور خیالات کی تشکیل میں اہم کر دار ادا کیا۔ میں 1989ء کے اواخر میں جناب عبدا لکریم عابد سے متعارف ہوا تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب میں نے ایک سماجی کارکن کے طور پر اپنی زندگی کا آغاز کیا تھا۔ میرے ساتھ ان کا بیٹا سلمان عابد بھی اس شعبہ میں آغاز کر رہا تھا۔ میں مارکسٹ خیالات کے زیر اثر تھا اور سلمان عابد اسلامی نظام کاحامی، خیالات کے اس فرق کے باوجود ہم بہت جلد ایک دوسرے کے قریب آگئے، بلکہ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اس فرق کی وجہ سے ہم دونوں ایک دوسرے کی توجہ اور دوستی کا باعث بنے۔ توازن اور اعتدال کی وجہ سے یہ دوستی چند ہی دنوں میں گہری دوستی میں تبدیل ہو گئی، اور یوں میں ان کے گھر آنے جانے لگا۔ یہیں میری ملاقات سلمان عابد کے والد جناب عبدالکریم عابد سے ہوئی اور خیالات میں اختلافات کے باوجود انھوں نے میرے خیالات اور سمجھ بوجھ میں توازن پیدا کرنے میں بہت شفقت اور توجہ سے رہنمائی کی۔

محترم عبد الکریم عابد کے بارے میں پہلا تاثر یہی تھا کہ وہ ایک الگ تھلگ رہنے والے اور لا تعلق سے انسان ہیں، جو صرف اپنی دنیا میں مگن رہنا پسند کرتے ہیں۔ جب مجھے پتا چلا کہ یہ ایک نامور صحافی اور اسلامی دانشور ہیں تو میں نے پہلا تاثر یونیورسٹی کے جمعیت کے رہنماؤں کے تجربے کی رو سے یہی قائم کیا کہ یہ ایک سخت گیر اور انتہا پسند قسم کے انسان ہوں گے جو مارکس کے نام پر بدک اُٹھیں گے۔ میں نے ان سے پہلا تعلق اسی کوشش میں بنانے کی کوشش کی کہ ان کو بتاسکوں کہ ان کے بیٹے کی کس قسم کے لوگوں کے ساتھ راہ و رسم ہے جو کارل مارکس سے متاثر اور مرعوب ہیں۔ مگر دو چار ملاقاتوں میں ہی مجھے اندازہ ہو گیا کہ محترم عبد الکریم عابد جماعت اسلامی سے اپنے تمام تر تعلق کے باوجود ایک مختلف مزاج کے شخص ہیں۔ محترم عبد الکریم عابد سوشلزم اور کمیونزم کے ساتھ ایک نظریاتی اختلاف ضرور رکھتے تھے۔ ایک مذہبی انسان کے طور پر وہ قدرتی طور پر ایسی فلاسفی کی ہمدردی نہیں کرسکتے تھے جو مذہب کے بارے میں تنقید کرتی ہو، مگر وہ مارکس کمیونزم کے بارے میں بہت کچھ جانتے تھے اور محض مذہبی جوش و جذبے والے مخالف نہیں تھے۔ انھوں نے ہی مجھے بتایا کہ مارکس فلسفے کا دہریت لازمی جز نہیں، حالانکہ میں مارکس کے مخالف لوگوں کے علاوہ اس کے ماننے والوں سے بھی سن چکا تھا کہ دہریت مارکس فلسفے کا ایک لازمی جز ہے۔ عبد الکریم عابد نے مغرب میں بہت سے ایسے سوشلسٹ فلاسفرکے بارے میں بتایا جو مختلف انبیاء خصوصاً یسوع مسیح کی زندگی اور اقوال سے متاثر ہیں، حتیٰ کہ محترم عابد صاحب نے تو مجھے یہ کہہ کر حیران کر دیا کہ مارکس نے بائبل سے اپنا مرکزی خیال لیا تھا۔ انھوں نے قدرے تفصیل سے مسئلے کی وضاحت کی کہ مارکس نے اپنے سوشلسٹ خیالات میں بائبل کیسے استعمال کی تھی۔ انھوں نے کرسچن سوشلزم کی پوری تحریک کے بارے میں روشنی ڈالی کہ وہ یسوع مسیح کی زندگی اور اقوال سے کیسے متاثر ہے۔

مجھے توقع تھی کہ وہ دوسرے مذہبی لوگو ں کی طرح مارکس پر طعن و تشنیع بھی کریں گے، میرا خیال تھا کہ وہ بتائیں گے کہ مارکس کس طرح صیہونی سازش کا حصہ ہے اور اس سے مرعوب ہونا کس طرح سے اسلام دشمنی ہے مگر اس کے بجائے میں نے مارکس فلسفے کے بارے میں بہت سی نئی باتیں ان سے سیکھیں۔ ان کا خیال تھا کہ ایک سچا مارکسی اور کمیونسٹ مذہب کے خلاف نہیں ہوتا بلکہ وہ ایک نئے معاشی نظام میں دلچسپی رکھتا ہے جو سرمایہ داریت کے خلاف ہو اور سوشلسٹ مذہب پر مبنی ہو۔ انھوں نے مجھے یہ بتا کر حیران کردیا کہ اسلام میں ایسے بہت سے فرقوں کی مثالیں ہیں، جو مشترکہ اثاثوں کی بنیاد پر ایک عادلانہ معاشرے کے قیام پر یقین رکھتے تھے۔ انھوں نے اپنی وضاحت میں مہدی جونپوری کے فرقے کا حوالہ دیا۔ مہدی جونپوری ایک فرقے کے بانی تھے، جو کمیونزم کی ایک قدیم شکل پر یقین رکھتا تھا، جس میں فرقے کے اراکین اشیاء کی مشترکہ مالیت رکھتے تھے۔ انھوں نے مجھے بتایا کہ انڈیا کے مشہور کمیونسٹ شاعر مخدوم محی الدین نے بھی کئی دفعہ اسلامی سوشلزم کی اصطلاح استعمال کی تھی، اور حیدر آباد جنگ کی تین رکنی کمیٹی بھی بنائی، جو ایک منصفانہ اسلامی نظام کا خاکہ تیار کرے، مخدوم اس کمیٹی کے ممبر تھے۔ ان کے خیال میں ہمارے دور میں اقبال اس معاشرے کے عظیم علمبردار تھے۔ علامہ اقبال نے انقلاب اکاوتر کو نئے سورج کے طلوع ہونے سے تعبیر کیا تھا۔ علامہ اقبال نے مارکس کے برابری کے تصور کی قرآن کی اس آیت سے تائید کی کہ آپ کے پاس جو بھی آپ کی ضرورت سے زائد ہے، اسے بانٹ دیجیے۔

ایک مذہبی اور نظریاتی شخص سے کارل مارکس اور کمیونزم کے بارے میں اس قسم کے خیالات کی توقع نہیں تھی، تاہم سوشلزم اور مارکس کے بارے میں ان کے ہمدردانہ خیالات کے باوجود محترم عابد صاحب انڈیا اور پاکستان کے کمیونسٹوں کے خلاف تھے۔ ان کی مخالفت انڈیا اور پاکستان کے کمیونسٹوں کے اصل رویہ کو جاننے کی وجہ سے تشکیل پائی تھی۔ بھارتی کمیونسٹوں کے بارے میں ان کی رائے تھی کہ اگرچہ وہ اپنے آپ کو سیکولر ظاہر کرتے ہیں مگر جب آپ گہرائی میں جا کر ان کے رویوں کا تجزیہ کریں تو اس میں کانگرسیوں اور مہاسبھانیوں کی مانند ہندو تعصب کی کوئی نہ کوئی شکل جھلکتی نظر آتی ہے۔ یہ بات انھوں نے سب ہندو کمیونسٹوں کے بارے میں نہیں کہی تھی، مگر ان میں سے بعض چیدہ چیدہ افراد کے بارے میں ان کی یہی رائے تھی۔ پاکستان کے کمیونسٹوں کے بارے میں محترم عابد صاحب بہت سخت خیالات رکھتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ سوشلزم اور لسانی قوم پرستی دو الگ الگ بلکہ متضاد باتیں ہیں۔ مگر پاکستان میں سوشلزم علاقائی قوم پرستی، اور علاقائی قوم پرستی سوشلزم میں تبدیل ہو گئی ہے۔ محترم عابد کا یقین تھا کہ لینن ازم میں علاقائی اور لسانی قوم پرستی کی نفی کی گئی ہے۔ ہر جگہ کمیونسٹوں نے قوم پرستوں کی مخالفت کی ہے، انھوں نے قوم پرستوں کو فسطائیوں اور نازیوں کے برابر قرار دیا ہے، اور یہ نتیجہ نکالا ہے کہ قوم پرستی کی کوئی بھی شکل پُر تشدد اور فسطائی حربوں سے پاک نہیں ہے۔ کلچر کی بنیاد پر تشکیل دی جانے والی قوم پرستی کی اکثر صورت تعصب اور محدود سوچ پر مبنی ہوتی ہے۔ سوشلزم میں اس بیمار قوم پرستی کی کوئی گنجائش نہیں ہے، اور پاکستان میں سوشلسٹوں کو اس بیماری سے چھٹکارا حاصل کرنا چا ہیے۔ محترم عابد کے نزدیک قوم پرستی اکثر صورتوں میں ہمیشہ بیماری ہے۔ اگرچہ وہ علاقائی زبانوں اور ثقافتوں کے خلاف نہیں تھے، مگر وہ اس کی بنیاد پر پاکستان اور اردو کے خلاف محاذ بنانے کے خلاف تھے۔ عابد صاحب قوم پرستی کو پوری طرح رد نہیں کرتے تھے بلکہ وہ مانتے تھے کہ قوم پرستی ایک فطری انسانی جذبہ ہے مگر وہ اس کے لسانی اور بورژوائی استعمال کے خلاف تھے۔ وہ کہتے تھے کہ لینن کاحقِ خود اختیاری کا مقصد کچھ اور تھا اور کمیونزم کے لبادے کو پہناتے ہوئے پاکستانی جاگیردار اور سرمایہ دار اس کے مختلف معانی اخذ کرتے تھے۔ لینن اپنے تصور میں بہت واضح تھا۔ کمیونسٹ پارٹی عوام کے حق خود اختیاری کو تسلیم کرتی ہے مگر وہ بورژوائی فسطائیت پر مبنی قومی ریاستوں کے قیام کی حمایت نہیں کرتی جبکہ پاکستانی کمیونسٹ ایسا کرنے کی کوشش کیا کرتے تھے۔

عبد الکریم عابد جناب بھٹو کے سوشلزم کے بارے میں بہت دلچسپ رائے رکھتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ یہ افسر شاہی اور فیوڈل ازم کا سوشلزم تھا، جس کا اصل سوشلزم سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ تاہم وہ یہ بھی مانتے تھے کہ بھٹو کے ساتھ بعض جینوئن سوشلسٹ لوگ بھی شامل تھے، مگر ان کا خیال تھا کہ یہ لوگ ان تمام امکانات کو صحیح طریقے سے استعمال نہیں کرسکے جو انھیں جناب بھٹو کی وجہ سے میسر آئے تھے۔

مارکس اور کمیونزم کے بارے میں ان کی سوچ سن کر میں بہت حیران ہوتا تھا، کہ ان کی ہر رائے مدلل اور حقائق پر مبنی ہوتی تھی۔ وہ مخالفت برائے مخالفت کے قائل نہیں تھے۔ مگر اصل حیرت تب ہوتی ہے جب وہ برصغیر میں اسلامی تحریکوں اور رہنماؤں کے بارے میں بات کرتے تھے۔ اس سلسلے میں بھی جناب عبد الکریم عابد کا نقطہ نظر توازن اور معقولیت پر مبنی تھا۔ وہ مانتے تھے کہ عدم برداشت برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں کا بنیادی رویہ رہا ہے، مسلمانوں کے مزاج کا یہی عنصر ہے۔ اسی رویے کو عبد الکریم عابد مسلمانوں کے تنزل کا بنیادی سبب قرار دیتے تھے۔ عبد الکریم عابد مسلم سیاست کا جائزہ لیتے ہوئے برصغیر کے مسلمانوں کی بڑی سیاسی کمزوریوں کی نشان دہی کرتے تھے۔ ان میں سے ایک ان اعلیٰ اخلاقی اقدار کی غیر موجودگی تھی جو کہ ہمارے مذہب ادب اور تاریخ میں تلاش کی جا سکتی تھی۔ اس کا ایک اظہار ان کے کردار کے اس پہلو سے ہوتا تھا کہ وہ کسی ایک رہنما کے مکمل طور پر گرویدہ ہو جاتے تھے اور باقی تمام کو مکمل طور پر رد کر دیتے تھے۔ ہر چھوٹے بڑے رہنما اور دانشور کو مخالفین کے ایک گروہ کا سامنا کرنا پڑتا تھا اور یہ گروہ بہت ناشائستہ رویہ اپناتا تھا۔

دوسروں کے بارے میں نازیبا باتیں کرنا مسلمان سیاست اور صحافت کا عام وطیرہ تھا۔ مذہبی حلقے اس معاملے میں زیادہ شدت برتتے تھے۔ ان کے اس نازیبا تکلم کی کوئی حد نہیں تھی۔ کوئی مخالف شیطان سے کم نہیں ہوتا تھا. جب مسلمان رہنما اور علماء شائستگی کو اپنانے سے قاصر تھے تو ان کے پیروکاروں میں برداشت، رواداری اور بردباری کے اوصاف کیسے پیدا ہوسکتے تھے۔ مسلمانوں کے اس مزاج کی پرورش علماء نے کی تھی جو اپنے تمام مخالفین کو گردن زنی سمجھتے تھے۔ سیاست دانوں نے علما کے اس رویے کو اپنایا تھا۔ اسی ثقافت کا فروغ کلاشنکوف بردار مذہبی اورسیا سی گروہوں کی صورت میں برآمد ہوا ہے۔ ان کی باتوں کو میں آج کے حالات کے حوالے سے سوچتا ہوں تو حیران ہو جاتا ہوں کہ ان کا تجزیہ اور سوچ کس قدر حقیقت پر مبنی تھے اور کس قدر دکھ کی بات ہے کہ اب معتدل اور متوازن دانشور کہیں نظر نہیں آ رہا۔

محترم عبدالکریم عابد مانتے تھے کہ مسلمانوں کے مزاج کی ایک اور خصوصیت ان کا یہ تصور ہے کہ وہ کسی اعلیٰ اور ارفع نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ دوسرے مذاہب کا ذکر بہت تحقیر سے کرتے ہیں۔ ’’ہندوؤں کی کیا اہمیت ہے، ہم انھیں چیونٹیوں کی طرح مسل دیں گے‘‘۔ یہ احساسِ تفاخر اس سوچ سے پیدا ہوا تھا کہ مسلمان حکمران نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ زیادہ تر مذہبی اور سیاسی تحریکوں نے نفرت کے جذ بے کو فر وغ دیا۔ اس سے ان میں یہ تصو رراسخ ہوا کہ موجودہ تنزل کے باوجود کسی معجزے کی بدولت وہ جنت میں داخل ہو جائیں گے۔

میں ایک سخت مذہبی دانشور کی طرف سے یہ باتیں سن کر حیران ہو جاتا تھا۔ تب مجھے اندازہ ہوا کہ جینوئن دانشور کہیں بھی ہو سکتا ہے اور وہ کبھی غیر جانبداری نہیں چھوڑتا۔ شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ مختلف اقسام کی سیاسی تحریکوں سے قربت اور صحافت سے منسلک رہنے کی وجہ سے محترم عابد کو برصغیر اور عالمی سیاست میں مسلمانوں کے رویے کے حقیقی تجزیے کا موقع ملا تھا۔ میں یہ بھی سوچتا ہوں کہ برصغیر کے مسلم اکثریتی علاقوں کے رہنے والے دانشور وں کو مسلمانوں، ان کے رہنمائوں اور سیاسی تحریکوں کی ان خامیوں کا اس طریقے سے اندازہ نہیں ہو سکتا تھا۔ ان خصوصیات کاصحیح اندازہ وہی دانشور لگا سکتا ہے جو مسلم اقلیتی علاقوں میں ایک فعال زندگی گزار چکا ہو۔ ہر مسلمان کو ان علاقوں میں جو خطرات اور نقصانات کا سامنا تھا، اس کے درست تجزیے سے ہی ایک غیر جانبدار اور درست سوچ کی تشکیل ممکن ہے۔ محترم عابد صاحب مانتے تھے کہ زیادہ تر معاملات میں مسلمانوں نے جذباتی اور تصوراتی ردعمل کو اختیار کیا ہوا ہے۔

محترم عابد علامہ اقبال کے حوالے سے کہتے تھے کہ اقبال نے مسلمانوں کا ذکر ایسے گروہ کے طور پر کیا تھا جو حالات کی لگام اپنے ہاتھوں میں تھامنے کے بجائے وقت کے دھارے کے ساتھ بہہ رہا تھا، چاہے اس کی سمت کہیں بھی ہو۔ یہ غیرمنظم لوگ سیاسی اور سماجی شعور نہیں رکھتے تھے، اور مطلع پر ابھرنے والی کسی بھی جذباتی اور ہیجانی قیادت کے ساتھ جانے کو تیار تھے۔ جدید حالات اور موجودہ دنیا کے حقائق سے لاعلم یہ لوگ استدلا ل کے بجائے جذبات کی زبان سمجھتے تھے۔ یہ جذبات انگیز ی اسلامی روایات کے مبہم تصورات کے ساتھ ملا کر کی جاتی تھی اور ان مبہم خیالات کو اسلام کے مساوی قرار دیا جاتا تھا۔ تحریک خلافت اور تحریک پاکستان دونوں میں ہی اسلامی اقدار کی بالا دستی کے بجائے مسلمانوں کے جذبات کا استعمال کیا گیا۔

محترم عابد اسلامی قوم پرستی کا بھی بہت تجزیہ کرتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے، یہ ہندو فسطائیت کا مسلمانوں کی طرف سے ایک ردعمل تھا۔اسے پین اسلام ازم کے تصورکے ساتھ گڈ مڈ کر دیا گیا۔ اس مسلم قومیت میں اگر اسلام کا کوئی عنصر بھی تھا تو اس کی حیثیت ثانوی تھی مگر یہ وہ جذبہ تھا جس میں شعور شامل نہیں تھا۔ یہ صرف ایک سطحی جذباتی اور ہیجانی لہر کا پھیلاؤ تھا، مسلمانوں کے مزاج میں غلط توقعات شامل تھیں۔ وہ ٹھنڈے اور غیر جذباتی ذہن کے ساتھ حقیقت کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے تھے۔ میں اب اس بات کو موجودہ مسلم شدت پسندی کے ساتھ جوڑتا ہوں تو یہ تجزیہ بہت درست لگا کہ یہ شدت پسندی بھی زیادہ تر ردعمل اور جذباتی کیفیت سے پروان چڑھنے والا معاملہ ہے جس کا حقیقت اور شعور سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔

مجھے حیرت ہوتی ہے کہ تمام تر مذہبی وابستگی کے باوجود محترم عابد، دوسرے مذہبی لوگوں کی طرح ہندو دشمن نہیں تھے۔ وہ کہتے تھے کہ پاکستان موومنٹ میں قائداعظم کے علاوہ مسلمانوں اور مسلمان رہنما عمومی طور پر واضح اور ٹھنڈے دل سے سوچنے میں ناکام رہے تھے۔ وہ سوچتے تھے کہ کسی طرح دہلی، لکھنو، بھوپال، دکن پاکستان میں شامل ہو جائیں جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان موومنٹ ایک ہندو مخالف تحریک تک محدود ہو گئی۔

محترم عابد پاکستانی خود مختاری اور امریکی تعلق کا بڑا دلچسپ تجزیہ کرتے تھے۔ وہ اس کا موازانہ حیدرآباد دکن کی خود مختاری سے کرتے تھے کہ دکن کے لوگ سمجھتے تھے کہ وہ انگریزوں کی باجگزار ریاست نہیں بلکہ ان کے حلیف ہیں۔ اس کہانی کی بنیاد سمجھوتوں اور سیاسی معاہدوں پر تھی جو جنگی ضرورتوں کی وجہ سے نظام اور انگریز کے مابین طے پائے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ دکن کے لوگ خصوصاً مسلمان اس غلط فہمی میں رہتے تھے کہ وہ ایک خود مختار ریاست ہیں جو انگریزوں کے حلیف ہیں، اور یہی حالت آج پاکستان کے عوام کی ہے جو یہ خیال کرتی ہے کہ وہ امریکہ کی حلیف ہے مگر اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ وہ خودمختاری کی کسی تحریک کے حامی تھے، بلکہ وہ اس صورت حال میں متنبہ کرتے تھے کہ ہم کسی دوسرے جذباتی اور غیر حقیقی راستے کا انتخاب نہ کریں جیسا کہ دکن والوں نے کیاتھا۔ وہ جذبات کی بنیاد پر سیاست کے سخت مخالف تھے۔ وہ اس کی مثال 1947-1948ء میں حیدرآباد کے مسلمان ریاست کی خود مختاری کی تحریک کی دیتے تھے۔ محترم عابد اس تحریک کی رہنما جماعت مجلس اتحاد المسلمین اور رہنما قاسم رضوی کی خصوصیات کا حقیقی تجزیہ کرتے تھے۔ انھوں نے قاسم رضوی کو سمجھانے کے لیے مولانا مودودی کے ایک خط کا بھی حوالہ دیا ہے جس کو قاسم رضوی نے پڑھنے سے بھی انکار کر دیا تھا کیونکہ اس وقت وہ جذبات کے سحر میں پوری طرح جکڑا ہوا تھا۔ مسلمان رہنماؤں نے یہ جانتے ہو ئے بھی کہ وسائل بہت محدود ہیں، ہندوستان کی حملہ آور افواج کا مقابلہ کیا اور بہت سے معصوم نوجوانوں کو اس غیر مساوی جنگ میں لقمہ اجل بننا پڑا۔ یہ اس جذباتیت کی سب سے شدید مثال تھی جو ہندوستانی مسلمانوں نے حقیقت سے عاری سیاسی تاریخ میں اپنائے رکھی تھی۔ وہ امریکہ کے ساتھ تعلق میں بھی اس تاریخ کو مدنظر رکھنے کے قائل تھے۔ اس وقت مذہبی جماعتوں نے امریکی مخالفت شروع کی تھی۔ وہ اس مہم جوئی کے بجائے منطق اور توازن کے ساتھ تعلقات کے حامی تھے۔

آج کے حالات میں ایسا اعتدال و توازن والا اور غیر جانبداردانشور نہیں نظر آ رہا، جس کی مذہبی حلقوں میں اتنی عزت بھی ہو اور وہ ان کا اتنی غیر جانبداری سے تجزیہ بھی کرسکے۔ یہ غنیمت ہے کہ ان کا بیٹا سلمان عابد ان کی روش پر گامزن ہے اور غیر جانبدار اور متوازن ذہن کے ساتھ اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہے۔

Comments

دائود ظفر ندیم

دائود ظفر ندیم

دائود ظفر ندیم تاریخ، عالمی اور مقامی سیاست، صوفی فکر اور دیسی حکمت میں دلچسپی رکھتے ہیں، سیاسیات اور اسلامیات میں ماسٹر کیا ہے۔ دلیل کے لیے باقاعدہ لکھتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.