خواب میں خواب - مبین امجد

رات میں نے خواب میں خواب دیکھا۔
کیا دیکھتا ہوں کہ میں خواب میں سویا ہوں اور اچانک میری آنکھ ایک کھٹکے سے کھل گئی۔ میرے کمرے میں ایک آدمی تھا۔ میں نے پوچھا کون؟
بولا انشاء
کون انشاء؟۔۔۔۔۔ یار وہی انشاء۔۔۔۔۔۔ کون؟
اچھا میں تمہیں ایک شعر سناتا ہوں۔
انشا جی اٹھو اب کوچ کرو
قبل اس کے کہ وہ اگلا مصرع پڑھ کر میری سمع خراشیوں کا موجب بنتا، میں نے کہا اب کوچ کرو اور مجھے سونے دو۔
بولا یار بڑے بےمروت ہو، میں اتنی دور سے تمہیں ملنے آیا ہوں اور تمھیں سونے کی پڑی ہے۔
پوچھا کہ مجھے کیوں ملنے آئے ہو؟ میں عام بندوں سے نئیں ملتا۔۔
رونی صورت بنا کر بولا یار اب تم مجھے یوں ذلیل کر رہے ہو، ورنہ وہ بھی ایک زمانہ تھا کہ تم پاس ہونے کے لیے میری کہانیاں پڑھا کرتے تھے۔
میں نے کہا یار دماغ نا خراب کر، جا اب چلا جا۔
وہ بولا، اچھا چلا تو جاتا ہوں مگر میں تمہیں یہ کہنے آیا ہوں کہ صبح میری برسی ہے اور تم نے ابھی تک میرے لیے کوئی مضمون نئیں لکھا۔ کیا ناراضگی ہے کوئی؟
نئیں کوئی ناراضی نئیں لکھ دوں گا مضمون۔ پر میں لکھوں گا کیا؟ تو ہی کچھ بتا نا ۔۔
میری کتابوں کے بارے میں لوگوں کو بتانا ۔۔
اچھا اپنی کسی کتاب کا نام بتاؤ پھر ۔۔
”دنیا گول ہے“ میری ایک شہرہ آفاق کتاب ہے ۔۔ م
یں نے پوچھا اچھا کیا ہے اس میں؟
بولا میں اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر ملکوں ملکوں گھوما اور پھر آخر میں اپنے تجربات کی روشنی میں نوجوانان ملت کو تنبیہ کی کہ ”کبھی سفر کا ارادہ نہ کرنا۔ اجنبی دیسوں میں جگہ جگہ کے خطرات ہوتے ہیں۔ ٹیکسی والے ہیں، چور اچکے ہیں، سامان لوٹنے والے ہیں اور صبر و قرار لوٹنے والے ہیں.“
میں نے کہا او بھائی! ہم کنواروں کے پاس سوائے صبر و قرار کے اور کچھ نہیں ہے اور ہم تو یہ چاہتے ہیں کہ کوئی ہمارا صبر و قرار لوٹنے والی جلد ملے ۔۔
کہنے لگا آگے بھی سن نا۔۔
اچھا اور سناؤ۔۔
کہنے لگا'قلی وغیرہ کی قسم کی چیز بھی باہر کے ملکوں میں کم ہی ملتی ہے۔ انسان کو اپنے سوٹ کیس اور بقچیوں کے علاوہ اپنے ناز بھی خود اٹھانے پڑتے ہیں.
میں نے کہا بھائی لگتا تم کبھی بھائی پھیرو کے اڈے پہ نہیں گئے۔۔ بندہ اگر ادھر چلا جائے تو رکشے والے لپک لپک کر آپ کو اپنی سواری بنانے کی کوشش کرتے ہیں، مگر ہم چونکہ ان رکشوں پہ سواری کرنا اپنے شایان شان نئیں سمجھتے، اور ہمیشہ بس پہ سفر کرتے ہیں۔ اور بس والے بھی کوئی کم مروت نہیں رکھتے، بلکہ دو بس والے ہمیں شرقاََ غرباََ کھینچ رہے ہوتے ہیں تو تیسرے ہماری بقچیوں کو اپنی بس پہ لوڈ کرنے کے درپے ہیں جبکہ چوتھے ہمارے نازوں (بچوں) اور نازو کو اپنی بس میں زبردستی بٹھا چکے ہوتے ہیں۔۔
اب حالات یہ ہیں کہ ہماری گھر والی ایک بس کے بیچ بچوں سمیت اور سامان دوسری کے بیچ جبکہ خود ہم تیسری اور چوتھی بس کے کنڈیکٹروں کے بیچ۔۔ رہے نام اللہ کا
تو اے انشاء تمہارے تجربات ہمارے کسی کام کے نئیں ۔۔۔ اب نکل لو پتلی گلی سے۔۔۔
اور پھر انشاء غالب کا یہ مصرعہ سیڈ آواز میں گاتے ہو ئے نکل لیا
بہت بے آبرو ہو کر ترے کوچے سے ہم نکلے
نوٹ: انشا جی کی برسی کل گزری ہے، دعا ہے کہ اللہ پاک اردو کے اس عظیم ادیب و شاعر کی مغفرت فرمائے آمین!

Comments

محمد مبین امجد

محمد مبین امجد

محمد مبین امجد انگریزی ادب کے طالب علم ہیں۔ مختلف اخبارات میں ہفتہ وار کالم اور فیچر لکھتے ہیں۔اسلامی و معاشرتی موضوعات میں خاص دلچسپی ہے۔ کہانی و افسانہ نگاری کا شوق رکھتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.