شامی مہاجرین، مغربی ممالک کی ضرورت یا بوجھ؟ تزئین حسن

مغرب میں پناہ گزین بحران کو دہشت گردی اور مغربی سیاست کے ساتھ خلط ملط کرکے نسل پرستی کو فروغ دیاجا رہا ہے.

21 سالہ یسریٰ ماردینی اُن ایک کروڑ بیس لاکھ سے زائد شامی مہاجرین میں سے تھیں جنہیں خانہ جنگی کی وجہ سے اپنی جنت چھوڑنی پڑی۔ یسریٰ کا تعلق دمشق کے ایک خوشحال خاندان سے تھا، وہ جمناسٹک کلب کی ممبر ہونے کے علاوہ بہت اچھی تیراک بھی تھیں۔ پھر2011ء کی عرب بہار کے بعد شام میں خانہ جنگی چھڑگئی اور یسریٰ کی جنت تیزی سے دوزخ میں بدلنے لگی۔ آخرکار یسریٰ اور اس کی بہن کو شام چھوڑ کر جرمنی میں پناہ لینا پڑی۔ تھنک ٹینک ”پیو ریسرچ سینٹر“ کی ایک رپورٹ کے مطابق2011ء میں شامی صدر بشار الاسد کے خلاف احتجاج کے آغاز سے اب تک ہر 10 میں سے 6 شامیوں کو لڑائی کے سبب اپنا گھر چھوڑنا پڑا۔ کسی ایک ملک کی آبادی کے اس قدر بڑی تعداد میں بےگھر ہونے کی انسانی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ ان بےگھر افراد میں سے74 لاکھ افراد اپنے ہی ملک کے دوسرے علاقوں میں جبکہ تقریباً 48 لاکھ مہاجرین پڑوسی ممالک میں منتقل ہوئے، جن میں ترکی میں 27 لاکھ جبکہ لبنان، اردن، مصر اورعراق میں مجموعی طور پر 21 لاکھ مقیم ہیں۔ اس طرح تقریباً 50 لاکھ سے زائد شامی مشرق وسطیٰ ہی کے مختلف ملکوں میں پناہ گزین کے طور پر رجسٹرڈ ہیں۔ غیر رجسٹرڈ مہاجرین بھی بڑی تعداد میں انھی ملکوں میں ٹھہرے ہوئے ہیں۔ دوسری طرف مسلم دنیا کے امیر ترین ممالک سعودی عرب، کویت، قطر، عرب امارات اور عمان نے ان کے لیے اپنے دروازے بند کر رکھے ہیں۔ تاہم سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر کا دعویٰ ہے کہ 24 لاکھ شامی مہاجرین سعودی عرب میں مقیم ہیں۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (UNHCR) ہی کے اعداد و شمار کے مطابق اپریل 2011ء سے اکتوبر 2016ء تک یورپ کے37 ملکوں میں پناہ کی درخو است دینے والے شامی مہاجرین کی تعداد آٹھ لاکھ 84 ہزار 461 یعنی ایک ملین سے بھی کم ہے۔ یہ شامی مہاجرین کی مجموعی تعداد کا 10 فیصد سے بھی کم ہے، مگر بین الاقوامی میڈیا کی توجہ کا اصل مرکز عموماً مغربی منظرنامہ ہی ہے، اور مغربی دنیا کی سیاست بھی فی الو قت بڑی حد پناہ گزین مسئلہ کے گرد گھوم رہی ہے. آئیے میڈیا کے بیانات اور ہسٹیریا سے ہٹ کر اعداد و شمار اور حقائق کی روشنی میں پناہ گزین مسئلہ کا جائزہ لیں۔

گزشتہ سال جب کینیڈا میں پہلا فوجی جہاز 163 شامی مہاجرین کو لے کر ٹورنٹو کے پیرسن انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر اترا تو مسافروں کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ ملک کا نومنتخب وزیر اعظم بنفس نفیس شدید برف باری کی پرواہ نہ کرتے ہوئے آدھی رات کو ان کے استقبال کے لیے موجود ہوگا۔ خصوصاً ڈونلڈ ٹرمپ کے مسلم اور پناہ گزین مخالف بیانات کی وجہ سے جواں سال کینیڈین رہنما جسٹن ٹروڈو کے اس اقدام کو ساری دنیا میں سراہا گیا۔ اُس وقت پیرس اور بیلجیم کے بعد امریکی ریاست کیلی فورنیا کے شہر سان برنارڈینو میں ہونے والے دہشت گرد حملوں سے مغربی دنیا صدمے کی حالت میں تھی، اور وہاں مقیم مسلمان دم بخود تھے۔ ایک عرب صحافی کے بقول ائیرپورٹ پر شامی مہاجرین کے فقید المثال استقبال کا منظر دیکھ کر انسانیت پر میرا ایمان پھر تازہ ہوگیا۔ کینیڈا میں شامی مہاجرین کے رشتے داروں کے علاوہ بےشمار سفید فام خاندانوں نے کثیر رقم خرچ کر انہیں سپانسر کیا۔ 25000 شامی مہاجرین کو کینیڈا میں آباد کرنا لبرل پارٹی کے انتخابی وعدوں میں تھا جسے اس نے جیتنے کے بعد بھی اپنی ترجیحات میں شامل رکھا. لبرلز کے مقابلے میں کنزرویٹو پارٹی نے نقاب پر پابندی لگا کر امیگرینٹس کے خلاف سفید فام کارڈ کھیلنے کی کوشش کی مگر اس کے انتخابی نعروں کو، جو عموماً تقسیم اور ڈر کی سیاست پر مبنی تھے پذیرائی نہ مل سکی۔

کینیڈا کے برعکس پناہ گزینوں ہی کے مسئلہ پر جرمنی کی چانسلر اینجلا مرکل کو شدید سیاسی دباؤ برداشت کرنا پڑا۔ مرکل یورپ کی ان سیاستدانوں کی نمائندہ تھیں جو بظاہر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر مگر درحقیقت یورپی ملکوں میں آبادی کے بحران پر قابو پانے کے لیے بڑی تعداد میں مہاجرین کو اپنے ملک میں آباد کرنے میں سنجیدہ تھے۔ تاہم دائیں بازو کی سیاسی جماعتیں پناہ گزین مخالف جذبات کی نمائندگی کر رہی تھیں۔ ابتداء میں ان کے مہاجر مخالف جلسوں میں حاضری نہ ہونے کے برابر تھی، اور یورپ کے عوام عمومی طور پر پناہ گزینوں کی مدد کے متمنی تھے۔

یہ بھی پڑھیں:   شامی مہاجرہ کی کرب انگیز داستان - واحد بشیر

پناہ گزین مخالف جماعتوں کو اصل پذیرائی اس وقت حاصل ہوئی جب 2015ء کے آغاز میں فرانس کے رسالے چارلی ہیبڈوکے دفتر پر حملہ ہوا اور ایڈیٹر سمیت سٹاف کے 15 افراد ہلاک ہوئے۔ اس حملے نے پناہ گزینوں سے متعلق مغربی دنیا کے خیر سگالی کے جذبات کو کسی حد تک منافرت اور نسل پرستی میں بدل دیا۔ چارلی ہیبڈو کے بعد پیرس اور بیلجیم حملے سے یورپ کی رائے عامہ کا دل عمومی طور پر مہاجرین کے لیے سخت ہوتا چلا گیا۔

سن 2016ء کے نصف آخر میں فرانس کے شہر نیس پر ٹرک کے ذریعہ دہشت گرد حملے کے بعد جرمنی کے مختلف شہروں میں دہشت گردی کی پے درپے چار وارداتیں ہوئیں۔ ان کا اصل فائدہ مرکل کے سیاسی مخالفین اور پناہ گزینوں کے خلاف تنظیموں کو پہنچا۔ جرمن اخبار دیراسپیگل کے مطابق ”پناہ گزین مخالف تنظیم پگیڈا مہاجرین کے خلاف کھلم کھلا نازی نعرے استعمال کر رہی ہے“، مگر دائیں بازو کی جماعتیں اس حقیقت کا ادراک کرنے سے قاصر ہیں کہ ماضی میں اس سوچ سے جرمنی کو کتنا نقصان ہوا۔ یہ تنظیمیں پناہ گزینوں کے علاوہ پولیس پر بھی حملوں میں ملوث ہیں۔ امیگریشن پالیسی کو تبدیل کرنے سے انکار پر مرکل کی پارٹی کو رواں سال کے ضمنی الیکشن میں واضح شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک دلچسپ صورتحال اس وقت سامنے آئی جب مسلمانوں کی حمایت کے الزام کے طور پر الیکٹرونک میڈیا اورمہاجر مخالف جلسوں میں مرکل کی برقع میں ملبوس تصاویر سامنے آئیں۔ مرکل کے خلاف سیاسی دباؤ اس قدر بڑھا کہ مرکل کو بھی نقاب اور امیگریشن پر پابندی کی بات کرنی پڑی۔

اِن حملوں کی دہشت کو دائیں بازو کی جماعتیں مہاجر مخالف پروپیگنڈے کے ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہیں۔ بائیں بازو کا آزاد لبرل میڈیا برملا اس رائے کا اظہار کر رہا ہے کہ پچھلے دو برسوں سے ہونے والے پے در پے دہشت گرد حملے دراصل جعلی حملے ہیں، جن کا مقصد یوروپی رائے عامہ کو پناہ گزینوں کے خلاف ابھارنا ہے، اور اس کی وجہ اسلاموفوبیا کے علاوہ یہ خوف بھی ہے کہ یہ مہاجرین کہیں یورپ کا ثقافتی منظرنامہ تبدیل نہ کر دیں۔. امریکی اخبار ”وال سٹریٹ جرنل“ کے سابق اسسٹنٹ ایڈیٹر پال کریگ رابرٹس کا کہنا ہے کہ پیرس، جرمنی، بیلجیم اور امریکا میں ہونے والے حملے سرد جنگ کے دوران نیٹو کے خفیہ آپریشن گلیڈیو Gladio Operation سے قریبی مماثلت رکھتے ہیں، جن میں نیٹو اور سی آئی اے نے بعض یورپی حکومتوں کے ساتھ مل کر ان کے شہریوں پر عام مقامات پر حملے کیے اور ان کا الزام کمیونسٹوں پر ڈال دیا۔ یہ جعلی حملے جو مغربی یورپ کو کمیونسٹ خطرے سے بچانے کے عظیم اور مقدس مقصد کو سامنے رکھ کر کیے گئے، اب کوئی راز نہیں رہے۔ حکومتی سطح پر اٹلی کے سابق وزیراعظم گیلیوآندریوٹی نے اٹلی کی حکومت کے گلیڈیو آپریشن اور جعلی حملوں میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا۔

عام طور سے سیاستدان اور میڈیا دونوں اس حقیقت کو بے نقاب نہیں کرتے کہ پناہ گزینوں کو آباد کرنا دراصل انسانی ہمدردی سے زیادہ آبادی کے تناسب کو برقرار رکھنے کے لیے مغربی ممالک کی مجبوری ہے۔ مثلاً اس وقت جرمنی میں پیدائش کی شرح دنیا میں سب سے کم ہے، اور کام کرنے والی عمر کے جوانوں کے مقابلے میں پینشنر بوڑھوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ جرمنی جیسے تیزی سے ترقی کرتے صنعتی ملک کی معیشت کے لیے بہت تشویشناک مسئلہ ہے۔ جرمن ریسرچ اداروں کے مطابق ملکی صنعت کو لاکھوں ہنر مند اور غیر ہنر مند کارکنوں کی ضرورت ہے۔ اسی طرح کینیڈا کو اپنی آبادی میں توازن قائم رکھنے کے لیے ہر سال تقریباً ایک سے ڈھائی لاکھ نئے مہاجرین کو آباد کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ مہاجرین ان ملکوں کی معیشت کے لیے تازہ خون کی حیثیت رکھتے ہیں۔ مرکل یا ٹروڈو کا معاشی مہاجرین اور پناہ گزینوں کی حوصلہ افزائی کوئی خیرات نہیں بلکہ اپنے ملکوں کے مستقبل کے لیے سرمایہ کاری ہے۔ کینیڈین اخبار ”گلوب اینڈ میل“ کے صحافی ڈاگ سینڈرز کے مطابق ”یورپ کو آج ماضی کی نسبت ورکرز کی زیادہ ضرورت ہے۔ صرف جرمنی کی تیزی سے ترقی کرتی معیشت کو کام کرنے والی عمر کے 70 لاکھ افراد کی ضرورت ہے۔“

یہ بھی پڑھیں:   شامی مہاجرہ کی کرب انگیز داستان - واحد بشیر

جرمنی کے بعد ہنگری میں بھی شدید پناہ گزین مخالف رحجانات دیکھنے میں آئے، جب ستمبر 2016ء میں آبادی کی اکثریت نے مہاجرین کی آباد کاری کے خلاف ووٹ دیا۔ یاد رہے کہ اس ریفرنڈم سے پہلے ہنگری کی حکمران جماعت نے بذات خود بل بورڈز کے ذریعہ پناہ گزینوں کے خلاف مہم چلائی جس میں عوام کو یقین دلایا گیا کہ یورپ میں دہشت گردی کرنے والے دراصل مہاجرین ہی ہیں جبکہ جرمن اخبار DW کے مطابق رواں سال ہنگری کی لیبر مارکٹ 35000 افراد کار کی کمی کا شکار رہی۔ اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے ہنگری کے صنعت کاروں کی کنفیڈریشن کے وائس پریزیڈنٹ فرنیس کا کہنا تھا کہ ہمارے لیے امیگریشن انتہائی اہم ہے، ہماری افرادی قوت ہر سال 40 سے 50 ہزار کم ہو جاتی ہے، جس کا مطلب ہے کہ اگلے دس سال میں ہمیں پانچ لاکھ ورکرز کی کمی کا سامنا ہو گا۔ یاد رہے کہ ہنگری کی آبادی بہت تیزی سے گر رہی ہے۔

مغربی میڈیا کا رویہ بھی سیاست دانوں جیسا ہی ہے۔ ذرائع ابلاغ مہاجر مسئلہ کو ”انسانی المیہ“ کے طور پر پیش کرتا ہے، اور بظاہر با اختیار اداروں اور حکومتوں سے انسانی ہمدردی کی اپیل بھی کرتا ہے مگر ساتھ ہی ساتھ ہر دہشت گردی کی واردات کے بعد تحقیقات سے پہلے ہی پولیس اور انٹیلی جنس اداروں کے بیانات کو دہراتا بھی رہتا ہے، جبکہ صحافتی اصولوں کے مطابق میڈیا کو واقعات کی آزادانہ تحقیقات کرنی چاہییں، سرکاری بیانات اور موقف کو چیلنج بھی کرنا چاہیے۔ مغرب کو درپیش آبادی کے مسئلے سے عوام کو پوری طرح آگاہ کرنے کی کوشش نہیں کیاجاتا اور نہ ہی ان اعداد و شمار کو سامنے لایا جاتا ہے جن کے مطابق مہاجرین یورپ کے مستقبل کے لیے ناگزیر ہیں۔ یہ بات بھی غور طلب ہے کہ شامی تنازع کے آغاز سے ہی مشرق وسطی میں 48 لاکھ پناہ گزینوں کی موجودگی کے باوجود یورپ کے برعکس یہاں ان کے خلاف ایک مظاہرہ بھی نہیں ہوا، نہ ہی کسی نے ان کے خلاف نفرت بھڑکا کر اپنی سیاست چمکائی۔

مہاجر مسئلہ، دہشت گردی اور مغربی سیاست کے ساتھ خلط ملط ہو کر نسل پرستی کو فروغ دے رہا ہے اور دنیا تیزی سے تہذیبوں کے تصادم کی طرف بڑھتی جا رہی ہے۔ پناہ گزین بحران پر خلیجی ممالک کے رویہ پر تمام مسلم دنیا کو مورد الزام ٹھہرایا جا سکتا ہے نہ ہی ڈونلڈ ٹرمپ اور جرمنی کی پرو نازی تنظیموں کے رویہ پر تمام مغربی دنیا کو۔ اس کرہ ارض پر لبنان، پاکستان، ایران اور ترکی جیسے ملک بھی موجود ہیں جن کا شمار خود تیسری دنیا کے جنگ یا تنازع سے متاثرہ ملکوں میں ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود طویل عرصہ سے فلسطینی، افغانی اور اب لاکھوں کی تعداد میں شامی مہاجرین کا بار خاموشی سے اٹھائے ہوئے ہیں۔ اسی دنیا میں کینیڈا جیسے ملک بھی موجود ہیں جہاں اگر ایک فرد شامی مہاجرین پر مرچوں کا اسپرے کر دے تو ملک کا وزیراعظم خود ٹوئٹر پر اس کی معافی مانگتا ہے اور مرکل جیسے سیاستدان بھی ہیں جو طویل عرصہ تک پناہ گزین مسئلہ پر سیاسی نقصانات برداشت کرتی رہیں، لیکن اپنے اصولی موقف سے پیچھے نہ ہٹیں۔ امریکا کی جنگ مخالف سیاسی کارکن سنڈی شیہان کا کہنا ہے کہ ”پناہ گزین مسئلہ کا اصل حل ان حالات کو ختم کرنا ہے جن کی وجہ سے انھیں ہجرت کرنا پڑی، اور یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک بڑی طاقتیں مشرق وسطیٰ میں تنازع کا شکار فریقین کی حوصلہ افزائی کرکے اپنی پراکسی لڑائیاں لڑنا بند نہیں کریں گی“۔