مجوزہ مسلم افواج، راحیل شریف اور ہمارا ففتھ کالمسٹ - حامد کمال الدین

حیرت کی بات یہ ہے کہ ہمارا میڈیا ’داعش‘ اور ’ٹیررزم‘ کے خلاف سب کے نعروں کا یقین کر رہا ہے، بلکہ داد بھی دیتا ہے۔ ہمارے اِس لاچار عالم اسلام میں امریکہ، روس، ایران وغیرہ قوتیں ’داعش‘ کا نام لے کر جس کو بھی ماریں اور اپنی ریگولر آرمی لے کر جس بھی ملک میں جا گھسیں، سب چلتا اور ہضم ہوتا ہے... اور ’ٹیررزم کے خلاف جنگ‘ کا بھرم قائم رہتا ہے۔

البتہ اسی ’داعش‘ اور ’ٹیررزم‘ کے خلاف سعودیہ یا یہ مجوزہ مسلم ممالک کی فوج کوئی نعرہ لگا کر آئے اور لاکھ کہے کہ اس ’ٹیررزم‘ کے علاوہ کوئی اس کا ہدف نہیں، تو ہمارے میڈیا کے جغادری اس کا یقین کرنے پر آمادہ نہیں! کیا یہ کھلا تضاد نہیں؟ یہاں یہ آپ کو ’اندر کی بات‘ بتا سکتے ہیں کہ نہیں اس الائنس کا ہدف کوئی اور ہے! (باوجود اس کے کہ داعش اور ٹی ٹی پی وغیرہ ایسی تنظیموں کی کارروائیوں کا سب بڑا اور واضح ہدف (victim) اب تک کوئی رہا ہے تو وہ اِس الائنس کے مرکزی ممالک پاکستان، سعودی عرب، اور ترکی ہی ہیں، جس کی بنا پر یہ تین اسلامی ملک یہ رائے قائم کرنے تک میں حق بجانب ہیں کہ ایسی دہشت گرد تنظیموں کے ذریعے سے کچھ بیرونی قوتیں ان کو غیرمستحکم کرنے کےلیے کوشاں ہیں لہٰذا اس کے سدباب کےلیے ان کو خود اپنے زورِ بازو پر سہارا کرتے ہوئے کوئی مشترکہ لائحۂ عمل سامنے لانا ہوگا)۔ یہاں آپ نے دیکھا، اسی ٹیررزم کے خلاف کسی مسلم فوج کے آئیڈیا پر (اگرچہ تاحال وہ ایک آئیڈیا ہی ہے اور اس کی کامیابی کے کچھ ایسے امکانات بھی ابھی روشن نہیں) یہ سیکولر میڈیا چلا اٹھتا ہے، اور بالکل نہیں مانتا کہ اس کا ہدف مڈل ایسٹ میں ’ٹیررزم‘ کے خلاف جاری جنگ میں راحیل شریف ایسے جرنیل کی خدمات اور ’طویل تجربے‘ سے فائدہ اٹھانا ہے!

یہ بھی پڑھیں:   کیا سید صلاح الدین دہشت گرد ہے؟ آصف محمود

کیا آپ کو یاد ہے جس وقت تک پاکستان میں ’ٹیررزم‘ مذہب سے جڑا رہا، اس کے خلاف جنگ پر راحیل شریف کو خوب داد دی گئی۔ مگر جیسے ہی اس کا رخ بلوچ نیشنلسٹوں اور کراچی میں جاری بوری بند ’غیرمذہبی‘ ٹیررزم کی بیخ کنی کی طرف ہوا (جبکہ ’را‘ وغیرہ کی پشت پناہی کے شواہد اُس ’مذہبی ٹیررزم‘ کے پیچھے بھی عیاں رہے تھے اور اِس ’غیرمذہبی ٹیررزم‘ کے پیچھے بھی صاف بولتے ہیں) تو یہاں البتہ راحیل شریف اور فوج کے اقدامات ’متنازعہ‘ ہو جاتے ہیں، اور اس مسئلہ کو دیکھنے کی کچھ ’اور جہتیں‘ بھی یکلخت سامنے آ جاتی ہیں! یہاں تک کہ عاصمہ جہانگیر وغیرہ ایسے ’دانشور‘ فوج کے خلاف ایسی زبان بولنے لگتے ہیں جیسی دشمن کے خلاف بولی جاتی ہے، اور لمز ایسے تعلیمی اداروں میں لبرل لابی بلوچ علیحدگی پسندوں کو اپنے یہاں ہوسٹ کرنے تک پر سنجیدہ ہو جاتی ہے، اور سرکاری دباؤ کے بعد کہیں جا کر اپنے اس مکروہ ارادے سے دستبردار ہوتی ہے۔ (تھوڑی دیر یہاں جیو نے بھی یہ بولی بولنا چاہی، مگر ’انگور کھٹے‘ دیکھ کر بہت جلد لہجہ تبدیل کر لیا)۔ ’’ولتعرفنھم فی لحن القول‘‘ کے مصداق آپ بہرحال ان کی باڈی لینگویج ٹیررزم کے خلاف جنگ کے حالیہ ’غیر مذہبی فیز‘ میں صاف دیکھ سکتے ہیں کہ وہ گرمجوشی بہرحال نہیں جو چند سال پہلے پھوٹ پھوٹ کر آ رہی تھی۔

اور اب اندازہ کر لیجیے، ’راحیل شریف‘ کےلیے ان حضرات کی برسوں کی گرم جوشی اس ایک ہی واقعے کی تاب نہیں لا سکی کہ کسی مجوزہ مسلم ممالک کی افواج کی سربراہی ان کے ملک کے ایک فرزند کو سونپ دی گئی ہے! اس پر خوش ہونے کے بجائے گویا صفِ ماتم بچھ گئی اور ’ٹیررزم کےخلاف جنگ‘ کا نعرہ بھی یہاں اپنی سب قیمت اور کشش کھو گیا! حالانکہ اِسی ’وار آن ٹیرر‘ کا نعرہ لگنے کے بعد تو ’ہیٹس آف‘ (hats off) ہو جایا کرتے تھے اور اس کے بعد تو کسی بات کی گنجائش ہی نہیں ہوا کرتی تھی! ہاں پسِ ریٹائرمنٹ کسی امریکی پروگرام سے وابستہ ہو جاتے تو کوئی بات نہیں تھی!
*****
زمینی حقائق کی روشنی میں، اگرچہ ہم کسی ’مسلم نیٹو‘ کی بابت پر امید نہیں ہیں، لیکن اپنے یہاں کے ففتھ کالم کی پریشانی جاننے کےلیے یہ بات دلچسپ ہو سکتی ہے کہ دی گارڈین اس مسلم الائنس کو کس طرح دیکھتا ہے۔
ملاحظہ فرمائیے یہ لنک:
https://www.theguardian.com/world/2017/jan/08/former-pakistan-army-chief-raheel-sharif-lead-muslim-nato

Comments

حامد کمال الدین

حامد کمال الدین

حامد کمال الدین ایقاظ (ماہنامہ، ویب سائٹ) کے ایڈیٹر، اور 20 سے زائد کتب کے مصنف ہیں۔ دین سے وابستہ تحریک اور معاشرہ، اصولِ سنت، تجدید اور تجدد کے مابین خط فاصل کا بیان ان کا دلچسپی کے موضوعات ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں