سیکولر بھینسا، قانون اور سماج – آصف محمود

سیکولر بھینسا اس وقت زیر بحث ہے۔ بظاہر یہ بحث ایک صاحب کی گمشدگی کے بعد شروع ہوئی ہے۔ سوشل میڈیا پر ایک بد زبان اور شیطان صفت بھینسے نے جو اودھم مچا رکھا تھا، یہ تاثر قائم ہو چکا ہے کہ وہ بھینسا یہی صاحب تھے۔ یہ تاثر اس وقت مزید مضبوط ہو جاتا ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ موصوف کی گمشدگی کے بعد بھینسے کی بولتی بند ہو چکی ہے۔گویا یا تو یہ صاحب خود ہی بھینسا تھے یا یہ اس قبیلے کے ایک ایسے فکری سانڈ تھے جن کے منظر سے غائب ہونے کے بعد بھینسے کو خود ہی عقل آ گئی ہے اور وہ اپنے باڑے کے وسیع تر مفاد میں خاموش ہو چکا ہے۔

اس معاملے کو دیکھنے کے دو رخ ہیں، ایک قانونی اور دوسرا سماجی، اور ایک متوازن رائے قائم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ دونوں پہلو ہمارے پیش نظر رہیں. جہاں تک قانونی معاملے کا تعلق ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی شخص کی گمشدگی ایک قابل مذمت چیز ہے۔ دستور پاکستان ریاست کے شہریوں کو جو حق دیتا ہے اس حق کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے۔ کسی شخص پر کتنا ہی سنگین الزام کیوں نہ ہو، اس کے ساتھ معاملہ صرف اور صرف قانون کی روشنی میں ہونا چاہیے.

فیئر ٹرائل کا حق ایک مسلمہ حق ہے۔ انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے ( یونیورسل ڈیکلیئریشن آف ہیومن رائٹس)کے دیباچے اس کے آرٹیکل آرٹیکل تین،آرٹیکل پانچ،آرٹیکل سات اورآرٹیکل بارہ اس بارے میں رہنما اصول وضع کر چکے ہیں کہ حقوق انسانی کی توہین نہیں ہوگی، ہر کسی کو زندگی، آزادی، اور جان کی سلامتی کا حق حاصل ہے، قانون کی نظر میں سب برابر ہیں اور سب کو قانونی تحفظ کا حق حاصل ہے۔ یہی بات انٹر نیشنل کوویننٹ آن سول اینڈ پولیٹیکل رائٹس کے آرٹیکل چھ، آرٹیکل سولہ اور آرٹیکل اکیس میں کی گئی ہے اور دستور پاکستان ،یں بھی ان تصورات کو تحفظ دیا گیا ہے۔ آئین پاکستان کا آرٹیکل چار قرار دے چکا ہے کہ یہ ہر شخص کا حق ہے کہ اس کے ساتھ قانون کے مطابق معاملہ کیا جائے۔ آرٹیکل نو کے مطابق کسی شخص کو اس کی آزادی یا زندگی سے محروم نہیں کیا جا سکتا ماسوائے اس کے کہ جب قانون اس کی اجازت دیتا ہو۔ آرٹیکل 10 (a) فیئر ٹرائل کی بات کرتا ہے جس کی آسان تشریح یہ ہے کہ کسی بھی فرد پر کتنا ہی سنگین الزام کیوں نہ لگایا جائے، اس کا حق ہے کہ اسے الزام کے بارے میں بتایا جائے، اس کو اپنے دفاع کا موقع دیا جائے اور عدالت ہی فیصلہ کر سکتی ہے کہ وہ مجرم ہے یا نہیں۔

یہ ہے معاملے کا قانونی پہلو۔ کوئی مجرم ہے یا نہیں، اس کا تعین کیسے ہوگا اور سزا کیسے دی جائے گی، اس بارے میں آئین بہت واضح ہے، اور آئین سے ماورا کسی اقدام سے ایک بالغ نظر معاشرہ وجود میں نہیں آ سکتا۔ ریاست کا فرض ہے، اپنے باشندوں کی حفاظت کرے۔

معاملے کا دوسرا پہلو سماجی ہے اور وہ بھی بہت خوفناک ہے۔ بھینسے سے جو لوگ واقف ہیں وہ بخوبی جانتے ہیں کہ یہ ایک غلیظ اور مکروہ قسم کی واہیات چیز تھی۔ اب جس شخص کے بارے میں تاثر ہے کہ وہ اس گندگی اور غلاظت کو آپریٹ کر رہا تھا، کیا کسی کو شک ہے کہ وہ کس صف میں کھڑا ہے؟ کیا یہ محض حقوق انسانی ہیں کہ سیکولر طبقہ اپنے بھینے کے لیے ماتم کناں ہے؟ یہ مشترکہ مفادات پر پڑنے والی ضرب کا دکھ بھی ہو سکتا ہے۔ ورنہ یہ شمشیر بکف مردان حق عافیہ صدیقی کے معاملے میں گونگا شیطان نہ بنتے، میں نے عافیہ کیس کا مطالعہ کر رکھا ہے اور اس پرمیری ایک کتاب بھی آ چکی ہے جس کا نام ہے
afiya Trial: Travesty of Justice
اور میری رائے میں اس سا شرمناک کیس شاید ہی کوئی اس دور میں چلایا گیا ہو جس طرح عافیہ کو سزا دی گئی. پچیس سوالات ہیں اس کیس میں جن کا کسی کے پاس کوئی جواب نہیں، اور ایک سوال یہ ہے کہ عافیہ کو سزا اس جرم میں کیوں دی گئی، جو اس نے مبینہ طور پر گرفتاری کے بعد تفتیشی پر حملہ آور ہو کر کیا۔ اسے اس جرم میں کیوں سزا نہیں دی گئی جس جرم میں اسے گرفتار کیا گیا؟ اور جس جرم کی پاداش میں اسے لیڈی القاعدہ کہا گیا؟ جرم تھا تو سزا اسی میں دی جاتی. اگر سزا گرفتاری کے بعد والے جرم پر دی گئی تو گرفتار کس جرم میں کیا گیا؟ باقی سوالات اٹھانے کا یہ موقع نہیں، ان پر تفصیل سے پھر کبھی بات کر لیں گے۔

گویا یہ سیکولر طبقہ جو حقوق انسانی اور اخلاقی قدروں کی بات کرتا ہے، اس کا اصل روپ یہ تھا کہ یہ بھینسا نامی گندگی سے اس سماج کو متعفن کر رہا تھا، اور اب جب بھینسے کی دم پر پاؤں آ یا ہے تو باڑے میں درفنطنی پھیل گئی ہے۔ ان کی اخلاقی حالت دیکھیے۔ ان کے قبیلے کا سرکردہ آدمی مبینہ طور پر سوشل میڈیا کی واہیات ترین سائٹ سرگرمی میں مصروف رہا۔ کیا مذہب کی توہین کرنا اور ریاست کو گالیاں بکنا سیکولرزم ہے۔؟ یہی رویے ہیں جن کی بنیاد پر میں کہتا ہوں کہ سیکولر زم رد عمل کی بیمار نفسیات کا نام ہے۔

اب سیکولر احباب کہیں گے کہ بھینسے کی شناخت کے بارے میں کوئی حتمی طور پر کیسے کچھ کہہ سکتا ہے تو جناب اصولی طور پر بات درست ہے لیکن یہ بھی تو کہیے کہ ایک گمشدگی پر بھینسے کی بولتی بند کیوں ہو گئی ہے؟ اس کی دُم پر پاؤں آ گیا ہے یا وہ سانڈ سے بچھڑنے پر دکھی ہے؟ ویسے حتمی طور پر تو یہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ اس آدمی کی گمشدگی میں کس کا ہاتھ ہے۔ لیکن تعزیر کا کوڑا ہے کہ برسا جا رہا ہے۔ سوال ہے کہ کیوں؟ اور جواب ہے کہ ایک تاثر موجود ہے کہ گمشدگی کیوں ہوتی ہیں اس لیے۔ یہی تاثر بھینسے اور سانڈ کے بارے میں بھی ہے۔ سوال یہ ہے کہ سیکولر حضرات اپنے بھینسے کے بارے میں کیا فرماتے ہیں؟

تاثر کی بنیاد پر ہی معاملہ ہونا ہے تو جناب ذرا ٹھہریے، معاملہ یہ نہیں کہ یہ آدمی کوئی نیلسن منڈیلا ہے، معاملہ یہ ہے کہ اس کے مبینہ جرائم اگر واقعی اس سے سرزد ہوئے ہیں تو ان کی سزا اسے عدالت میں ہونی چاہیے اور اگر تاثر درست ہے تو ایک مثالی سزا جو سارے بد مست سانڈوں کو بات کرنے کے آداب سکھا دے۔

Comments

FB Login Required

آصف محمود

آصف محمود اسلام آباد میں قانون کی پریکٹس کرتے ہیں، روزنامہ نئی بات میں کالم لکھتے ہیں، روز نیوز پر اینکر پرسن ہیں اور ٹاک شو کی میزبانی کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اپنی صاف گوئی کی وجہ سے جانے جاتے ہیں

Protected by WP Anti Spam