کیا اور کیوں کے مرض کا مختصرا جواب - سید عبدالرؤف حسین شاہ

جرمنی کے دارالحکومت برلن سے بذریعہ ”FLIX BUS“ سفر کا آغاز بڑا پُرجوش اور شاندار تھا، ڈھلتے سورج کی دھوپ آخری سانسیں لے رہی تھی، ہواؤں میں میں خنکی کی مقدار بڑھنے لگی، ہائی وے پہ موٹرکاروں، گاڑیوں اور بڑی بسوں کی بھیڑ بھاڑ، اور ہجوم، ہر ایک کے چہرے پہ اکتاہٹ و غضب کی کیفیت پیدا کرنے کے لیے کافی تھا۔ الجھن و بےچینی کے اثرات صورتوں و چہروں سے زائل نہیں ہو رہے تھے، اس کیفیت و تاثر کی بڑی وجہ ہجوم میں گاڑیوں کا دھیمی رفتار سے رواں دواں ہونا تھا۔ جس کا چہرہ دِکھتا کھنچا کھنچا محسوس ہوتا، شاہراہوں پر یہ ہجومِ کثیر برلن سے ہمبرگ تک کے سفر کو خوب طوالت و درازی کی چادر میں لیپٹ رہا تھا، ہر گاڑی والا اپنی ذات کو کوستا کہ اس وقت میں نے اپنی موٹر شاہراہ پر کیوں ڈالی؟

سب کی ظاہری حالت دیکھ کر مجھ پر بھی یہی کیفیت طاری ہو نے لگی، ادھر اُدھر نظریں دوڑائیں، ساری موٹرکاریں کچھوے کی چال چل رہی تھی، فوراً لیپ ٹاپ کھولا، گود میں رکھا، لیپ ٹاپ کی سکرین پر چند بُکس اور فولڈرز الٹ پلٹ کیے، جی نہ بھرا تو اسے بند کر کے موبائل اور بس کے وائے فائے کے درمیان رابطے کی کوشش کی، لیکن بے سود، کیونکہ انٹرنیٹ ڈیٹا یوزیج کی لمٹ ختم ہوچکی تھی۔ طبیعت میں اکتاہٹ اور بوریت کا عنصر غالب ہوتا گیا، سیٹ کے بائیں جانب بیٹھے ایک ”گورے“ کی طرف دیکھا، وہ بھی ترسیلی اور غصیلی نگاہوں سے ”FLIX BUS“ کی ونڈو سے باہر دیکھ رہا تھا۔ ہائے، کیسے ہو آپ؟ میں نے اپنی اکتاہٹ و بیزارگی کی حالت سے خود کو نکالتے ہوئے اس اجنبی ”گورے“ کو اس غرض سے مخاطب کیا کہ چلو اس سے اِدھر اُدھر کی باتیں کرکے الجھن اور بوریت کو ختم کرنے کا اہتمام کرتے ہیں. جی میں اچھا ہوں، اس نے آہستہ اور مستحکم انداز میں جواب دیا، اور دھیان دوبارہ ونڈو سے باہر لے گیا۔ میں نے اس کی عدم توجہ اور بے دھیانی کو نظرانداز کرتے ہوئے فوراً ہی دوسرا سوال جڑ دیا تاکہ سلسلہ کلام کو طول دے سکوں. آپ کہاں جا رہے ہو؟ مکمل استفہامی لہجے میں جوں ہی اس نے سوال پر سوال کرتے ہوئے جواباً ”کیوں“ کہا تو میری ذات کے آئینے میں اعتماد پھسلتا اور ڈگمگاتا نظر آیا، وہ اس لیے کہ میرے پاس فوراً اس کی ”کیوں“ کا جواب نہ تھا۔ خیر قدرت کا بھلا کہ اللہ نے فوراً ہی میرے ذہن میں ”کیوں“ کا جواب ڈال دیا اور میں نے بےاعتمادی اور ٹوٹی پھوٹی انگلش میں جواب دیا کہ جس شہر کی طرف میں جا رہا ہوں، پتہ نہیں ہے کہ وہ کب آئے گا، اگر آپ بھی اسی سمت جا رہے ہیں، تو میری رہنمائی کر دیجیےگا اور جوں ہی وہ شہر آئے تو مجھے بتا دیجیے گا۔گورے نے فوراً سنبھلتے ہوئے مجھے ساری ڈائریکشن سمجھائی اور ساتھ یہ یقین دہانی بھی کرائی کہ جب منزل آئے گی تو میں بتا دوں گا۔

اس کے بعد میری طبع اس کی ”کیوں“ پر اٹکی رہی، منتظر تھا کہ کب وہ بات ختم کرے ، اور میں دوبارہ اس سے ”بےتکا“ سوال کرنے کی جسارت نہ کروں، اور سلسلہ گفتگو رواں رکھنے سے بہتر ہے کہ سر لیپ ٹاپ میں گھسا لوں۔ یہ آج پہلا موقع تھا جب میری حالت پتلی ہوتی نظر آئی کہ کسی سے ایسا فضول اور بے تکا سوال نہیں کرنا، جس کا جواب ”کیوں“ میں آسکتا ہو۔!

غیر ضروری اور بےربط و بےفائدہ سوالات سے اپنا وقت بھی ضائع کرتے ہیں مخاطب کا بھی، اس نے ایک اجتماعی مسئلہ کا روپ دھار لیا ہے، اور بعض دفعہ ایسا سوال بھی پوچھ لیا جاتا ہے، جو غیرمتعلق و غیر ضروری ہوتا ہے اور جس کا جواب دوسرا آدمی دینا پسند نہیں کرتا، جواباً اسے ٹال مٹول سے کام لینا پڑتا ہے. سب سے بڑا نقص اور المیہ یہ ہے کہ سوال کرنے کا طریقہ اور سلیقہ تک نہیں معلوم ہوتا کہ فلاں سوال کس انداز ، کس حالت اور کس محل پر کرنا ہے؟ درج سوالات بجائے مکمل حال احوال معلوم کرنے کے، ہلکے پھلکے تعارف کے فوراً بعد ہی پوچھے جاتے ہیں ۔
٭ آپ کی تنخواہ کتنی ہے؟
٭ آپ کیا کام کرتے ہیں ؟
٭ آپ کی شادی ہوئی ہے ؟
٭ آپ کے کتنے بچے ہیں؟
٭ آپ کے پاس کونسا ویزہ ہے؟
٭ آپ کی عمر کیا ہے ؟
٭ آپ فیملی کے ساتھ رہتے ہیں یا اکیلے؟
٭ آپ کہاں اور کیوں جارہے ہیں؟

اس طرح ”کیوں، کیسے کیا“ کی شکل میں درجنوں سوالات ہیں، جو پوچھنے کی فضول عادت ہے۔ اس بات کا ادراک مجھے ذاتی تجربے کے بعد کئی مرتبہ ہوچُکا ہے، لیکن پھر بھی مجبوراً بعض دفعہ ٹال دینا اور بعض اوقات پردہ پوشی سے کام لیتا پڑتا ہے جبکہ اکثر پوچھنے والا جواب نکلوا کر ہی چھوڑتا ہے۔ کاش ہمیں بامقصد سوال کا سلیقہ و طریقہ معلوم ہوجائے۔

Comments

سید عبدالرؤف حسین شاہ

سید عبدالرؤف حسین شاہ

سید عبدالرؤف حسین شاہ جرمنی میں مقیم ہیں۔ خطابت اور تدریس سے وابستہ ہیں۔ اصلاح احوال اور نیکی کی دعوت ان کی دلچسپی کا موضوع ہے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.