نصف ایمان نہایت آسان - مفتی عزیز الرحمن

نجمہ کے چچا نجیم M.B.B.S کے تکمیل کے لیے اپنے ہوسٹل ہی میں رہتے تھے۔ گھر سے جب بھی انہیں کوئی فون جاتا تو اس میں نجمہ کی کسی نہ کسی بیماری کا ضرور ذکر ہوتا۔ تو ان کے چچا سوچ میں پڑ جاتے۔ چھوٹی عید کی چھٹیوں پر وہ گھر آئے تو انہیں نجمہ کی بیماری کی جڑ کا علم ہوا۔

نجمہ جب صبح اٹھی تو سیدھا ناشتے کی میز پر جا پہنچی۔ جب نجیم نے دیکھا تو نجمہ کو کہا: میرے پاس آؤ، میں تمہیں تمھاری بیماری کی وجہ بتاؤں، تو وہ بھاگ کر ان کے پاس آگئی۔ اس پر اس کے چچا نے بتانا شروع کیا کہ کھانے پینے کے بعد جب تک خوب اچھی طرح کلیاں نہ کی جائیں اور دانت صاف نہ کیے جائیں تو ہمارے منہ میں غذا کے ذرات رہ جاتے ہیں جو رات بھر گل سڑ کر زہریلا مادہ بن جاتے اور پھر اگر صبح کو دانت صاف کیے بغیر کھا پی لیں تو وہ سارا زہریلا مادہ سانس کی نالی اور معدے میں پہنچ جاتا ہے، جس کی وجہ سے بہت سی بیماریاں پیٹ کو اپنا گھر بنا لیتی ہیں۔ جیساکہ ٹافی کھاکر کلی نہیں کروگی تو کیڑوں کی موج لگ جائے گی اور وہ دانتوں میں بسیرا کرنے لگ جائیں گے۔

نجمہ یہ سن کر ڈر گئی اور بولی: افوہ! میری توبہ! میں اب ہر روز صبح کو دانت صاف کیا کروں گی۔ اس پر چچا نے اسے بتایا کہ اسی وجہ سے تو ہمارے پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم رات کو سونے سے پہلے مسواک کرتے، صبح اٹھ کر مسواک کرکے پھر وضو میں دوبارہ مسواک کرتے اور اللہ میاں کے پاس جانے سے پہلے بھی مسواک کی تھی۔

چھٹیاں گزار کر چچا میاں واپس چلے گئے تو کچھ دن بعد نجمہ نے انہیں ویڈیو کال کرکے کہا: چچا میاں! میں آپ کے ڈاکٹر بننے سے پہلے ہی ٹھیک ہوگئی ہوں۔ اب میں روزانہ دانت صاف کرتی ہوں۔ اب میرے دانت چمکنے لگ گئے ہیں۔ یہ کہہ کر اس نے انہیں چھوٹے چھوٹے چار پانچ صاف اور خوبصورت دانت دکھائے تو چچا نے خوش ہو کر اسے شاباش دی جس پر وہ پھولی نہ سماتی تھی۔

پاکستان میں ایسی نجمہ صرف ایک نہیں بلکہ ہزاروں ایسی بچیاں اور بچے ہیں جو صحت و صفائی کا خیال نہیں رکھتے یا ان کی صفائی کا خاص خیال نہیں رکھا جاتا۔ مثلا چھوٹے بچے جو پاکی پلیدی کے شعور کی منزل تک نہیں پہنچے، مائیں انہیں قضائے حاجت کراتی ہیں اور صابن سے ہاتھ نہیں دھوتیں۔ اسی طرح بچے نے چھوٹا پیشاب کیا ہے تو اس کے دونوں کے کپڑے گندے ہوگئے، تو وہ بچے کے کپڑے تو تبدیل کرادیں گی پر اپنے کپڑوں کا خاص خیال نہ کریں گی۔ اسی طرح اپنے ناپاک ہونے والے ہاتھوں کو نہیں دھوئیں گی اور کسی کام میں مصروف ہوجائیں گی، پھر انہی ہاتھوں سے بچے کو کھلا پلا رہی ہوں گی.

عدم احتیاط اور صفائی کا خیال نہ رکھنے کی وجہ سے پاکستان میں بچوں کی اموات زیادہ ہو رہی ہیں۔ عالمی ادارے یونیسیف کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں صفائی کی ناقص صورت حال کی وجہ سے سالانہ پانچ سال کی عمر کے 40159 بچے اسہال، دست اور اس جیسی بیماریوں کی وجہ سے جاں بحق ہورہے ہیں، جبکہ دوسری جانب دنیا بھر میں شرح اموات 2 لاکھ 80 ہزار ہے۔

پاکستان میں صفائی کے بڑے بڑے مسائل میں کچرا، انسانی و مشینی فضلہ جات، بارش کا پانی، گٹر کا پانی، دھواں، کھلے مین ہول و کھلی نالیاں اور صفائی کی اہمیت و شعور کا فقدان ہے۔ جبکہ جن چیزوں کی صفائی ضروری ہے، ان میں ذاتی جسمانی صفائی، روحانی صفائی، گھر کی صفائی، گلی کی صفائی، کچرے کو اٹھانا اور ٹھکانے لگانا، نکاسی آب خواہ وہ پانی گٹر کا ہو یا بارش کا، دھوئیں کو کم کرنا اور درختوں کا بچانا اور لگانا، گٹر اور نالیوں کا ڈھانپنا وغیرہ شامل ہیں۔

معاشرے کا مزاج بن چکا ہے کہ گھر سے کچرا نکال کر گلی میں پھینک دیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے نالیاں اور گٹر بند ہوجاتے ہیں جبکہ بچے اور بڑے ہسپتال پہنچ جاتے ہیں۔
کچرا اٹھانا اصل میں بلدیہ اور سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کا کام ہوتا ہے، جس کے لیے وہ اربوں روپے کا فنڈ منظور کراتی ہے۔ مثلا حکومت نے سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کے سالانہ ترقیاتی پروگرام 2015-16 میں 3ارب 1کروڑ 60لاکھ روپےمختص کیے ہیں، لیکن اس کے باوجود اس کا مناسب نظام موجود نہیں، کچرے کے ڈھیر پڑے ہوئے ہیں۔ لوگ حکومتی اداروں کوستے ہیں جبکہ ادارے لوگوں کی بے احتیاطی اور وسائل کی کمی کا رونا روتے ہیں۔ حالانکہ ان کا اپنا حال یہ ہے کہ ایک خبر کے مطابق سالانہ 35 لاکھ روپے لیز پر لی ہوئی 20 میں سے 14 گاڑیاں ڈرائیور نہ ہونے کے باعث ناکارہ کھڑی ہیں۔ مزید برآں یہ کہ جب ہر سال کروڑوں روپے خرد برد ہوجاتے ہوں تو وسائل کیسے پورے ہوسکتے ہیں۔
اس لیے سب سے پہلے تو ایمان دار اور کڑی نگرانی کرنے والے افسران کا تقرر کیا جائے اور روزانہ کی بنیاد پر کچرا اٹھا کر اس سے فائدہ اٹھایا جائے جیساکہ سندھ میں مختلف پرائیوٹ کمپنیز نے پیشکش کی ہے کہ اگر انہیں 24 سو سے 3 ہزار ٹن کچرا روزانہ فراہم کیا جائے تو وہ اس سے 3 ہزار میگاواٹ بجلی تیار کرسکتے ہیں۔

کوڑا اٹھانے میں اٹلی کی کمپنی کا طریقہ بھی زبردست ہے کہ اس نے تمام گھروں میں تین طرح کے بیگ بھجوائے۔ جن میں اشیائے خود و نوش کا بیگ مکئی کا بنا ہوا تھا تاکہ کچھ عرصہ بعد کھاد کا کام دے سکے۔ جبکہ کاغذات و اوراق کا بیگ الگ تھا، تیسرا بیگ کوڑا کرکٹ ڈالنے کے لیے تھا۔ اسی طرح ہر بلڈنگ کے باہر درختوں کی ڈالیاں اور پتے ڈالنے کے لیے بھی ڈبے رکھ دیے۔ آپ اس طریقہ کو پڑھیے اور سر دھنیے کہ کیا کمال کا طریقہ اور کیا کمال کے لوگ ہیں۔

اگر حکومتی ادارے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کر رہے تو اس کا دوسرا طریقہ یہ ہے کہ ایسے پڑھے لکھے نوجوانوں کی خدمات حاصل کی جائیں جو انسانیت کا درد رکھنے والے ہیں۔ سیاسی و سماجی انقلاب کے داعی ہیں۔ انہیں باور کرایا جائے کہ انقلاب کی تیاری کا پہلا قدم صحت و صفائی ہے۔ اگر لوگوں کا دماغ و جسم صحت مند نہ ہوگا تو انقلاب کون لائے گا، نیز وہ خود بھی بیماریوں کا شکار ہوسکتے ہیں۔ لہذا ان پر دوہری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس حوالہ سے متحرک ہوں۔

یہ تجربہ کامیاب بھی ہے۔ لاہور کے مرتضی کمیل خواجہ، سیف حمید اور عمر رشید نے خود کو ذمہ دار شہری قرار دیتے ہوئے لاہور شہر کو صاف کرنے کا بیڑا اٹھایا۔ انہوں نے لاہور کے متمول علاقوں سے اپنے تعلق رکھنے والے 60 سے زائد لڑکوں اور لڑکیوں کو لیا، اتوار کو انار کلی بازار سے کوڑا کرکٹ اٹھا کر مناسب طریقہ سے ٹھکانے لگا دیا۔ مقامی رہائشی اور دکان داروں نے کچھ اتوار تو انہیں حیران ہو کر کچرا اٹھا کر تھیلیوں میں ڈالتے دیکھا۔ لیکن پھر ہر اتوار مقامی لوگ بھی ان کے طرز عمل کو دیکھ از خود بھی دلچسپی لینے لگ گئے۔

تیسرا طریقہ یہ ہے کہ اگر ایسے لوگ بھی دستیاب نہیں ہیں تو پھر عوام کو اس حقیقت سے آگاہ کرنا چاہیے کہ آپ کا کام صرف عالیشان گھر بنانا اور اسے صاف ستھرا رکھنا ہی نہیں بلکہ گلی کو پختہ کرانا اور صاف رکھنا بھی آپ ہی کا فرض ہے۔ اگر گلی میں نالیاں کھلی اور کچرے کے ڈھیر ہوں گے تو بیکٹیریا اور وائرس ہوا کے ذریعہ ان کے بند کمروں تک بھی پہنچیں گے۔ ان کے بچے گندگی میں رہیں گے، گندے ماحول میں کھیلیں گے، وہ خود گندی فضا میں سانس لیں گے اور بیماریوں کا شکار ہوں گے۔ لوگوں کو بتایا جائے کہ انسانی معاشرے میں ماحول اور گھر کی صفائی صحت مند رہنے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ قوموں کی تہذیب اور شائستگی کو جانچنے کا معیار یہ ہے کہ وہ قوم کس قدر صفائی پسند ہے۔ کیونکہ صحت مند قوم صحت مند جسم پیدا کرتا ہے اور صحت مند جسم، صحت مند دماغ پیدا کرتا ہے۔ گندگی اور تعفن زدہ ماحول میں پرورش پانے والی نسلیں کبھی بھی صحت مند اور ترقی یافتہ اور مہذب قوم نہیں بن سکتیں۔

سیرت النبی صلی اللہ علیہ و سلم کے مطالعہ سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ آپ نے مدینہ میں جو ریاست قائم کی تھی۔ اس کے گلی کوچوں اور بازاروں کی صفائی کا بہترین نظام وضع کیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے صفائی کو نصف ایمان قرار دے کر صفائی ستھرائی کو زندگی کا لازمی جزو بنا دیا تھا۔ مدینہ شہر سے باہر وادی عقیق میں ایک تفریح گاہ بنائی تھی جہاں پیڑ پودے لگوائے تھے۔ اگر ہم اپنے گھر، گلی اور قصبے کو صاف رکھیں اور جہاں جہاں گندگی نظر آئے تو اسے صاف کرنے کے لیے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال دیں۔ تو ممکن ہے کہ ہمارا نصف ایمان آسانی سے مکمل ہو جائے۔ ہم جیسے گناہگاروں کو اگر نصف ایمان کی دولت یوں بہت آسانی سے مل جائے تو پھر دنیا کی کسی دولت کی ضرورت چنداں نہیں رہتی۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */