اسلامی ریاست انعام الہی ہے یا حکم الہی؟ وسیم گل

سادہ ترین الفاظ میں:
1- انسان کے لیے… اللہ کا ہر حکم دراصل انعام (Blessing) ہی ہوتا ہے. اس کی وجہ یہ ہے کہ خالق (Creator) کو اپنی مخلوق (Creature) کی کیمسٹری کا مکمل علم ہے. وہ اس کے مادی جسم اور روح، دونوں کی کیفیت و صلاحیت اور ان کے تقاضوں سے مکمل واقفیت رکھتا ہے اور انھی سب پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے اس نے انسان کے لیے وہ اصول کار (Working Principles) نازل کیے جن پر عمل پیرا ہو کر انسان دنیا کی زندگی کو احسن طریقے سے گزار سکتا ہے اور اپنی آخرت کی زندگی سنوار سکتا ہے. یہی وہ اصول کار ہیں جنھیں ہم عموما احکام (Commands) کے طور پر جانتے ہیں. خالق نے مخلوق یعنی انسان کی ان احکام کی روشنی میں تعلیم و تربیت کے لے انبیاء و رسل کا سلسلہ جاری کیا جنہوں نے اپنے زمان و مکان (Space-Time) کے لحاظ سے لوگوں تک اللہ کے احکام پہنچائے اور ان کی تربیت انہی احکام کی روشنی میں کی. اس سلسلے کی آخری کڑی محمد صلی اللہ علیہ وسلم تھے جنہوں نے اپنے زمان و مکان ہی نہیں بلکہ قیامت تک آنے والے انسانوں تک احکام الہی اور ان کی تربیت کا سامان کر دیا… رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے طریق دعوت و تربیت (Process) کو سنت کہا جاتا ہے.

2- محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے زمان و مکان میں موجود اور آنے والی نسلوں کو بتا دیا کہ جس نے بھی اللہ کے انعام (Blessing) کا حقدار بننا ہو، وہ اسی ماخذ یعنی کتاب و سنت سے رجوع کرے اور اسی کے مطابق عمل کرے… لہذا اللہ کا انعام یا انعام الہی دراصل حکم الہی کی اس طریقے کے مطابق پیروی کرنے کا نام ہے جس کی عملی صورت گری (Modelling) رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سنت کے ذریعے کی. اس پیروی کا بظاہر نتیجہ خواہ کچھ بھی نکلے. یہ نتیجہ کوئی ظاہری کامیابی بھی ہو سکتی ہے اور کوئی ظاہری ناکامی بھی. یہ نتیجہ اہم نہیں بلکہ اہم یہ ہے کہ انسان نے حکم الہی کی پیروی ٹھیک ٹھیک سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق کی یا نہیں؟ پس انعام کی اصل اور صحیح تعریف حکم الہی کی پابندی و پیروی کی انتہائی کوشش (Utmost Effort) ہے. ”انعام“ کا معنی اس دنیا میں لازمی کامیابی سے بہت بالاتر ہے.

3- محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے زمان و مکان میں موجود انسانوں کو احکام الہی کا شعور بذریعہ دعوت و تربیت بخشا اور پھر ان کو ایک اجتماعیت میں اکٹھا کر کے مدینہ میں ایک اسلامی ریاست کی بنیاد ڈالی. اس سلسلے میں انھیں جن رکاوٹوں، مصائب و مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، ان کا تذکرہ خود قرآن و حدیث یا سیرت کی کتابوں میں موجود ہے. لیکن یہ ایک طے شدہ حقیقت ہے کہ مکہ میں ابتدائے دعوت (Initiation) سے لے کر مدینہ میں ایک اسلامی ریاست کے قیام کی انتہائی منزل (Ultimate Goal) کے حصول تک کی ساری جدوجہد میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شعوری کوشش (Deliberate Effort) کار فرما تھی. ہم ایسا اس لیے سمجھتے ہیں کہ ہمارے نزدیک محمد (ص) کی حیثیت ایک رسول کی ہے جس کا کام احکام الہی کی عملی صورت گری ہوتا ہے نہ کہ صرف ایک نامہ بر (Postman) کی؟ لہذا جو احکام الہی تھے وہ رسول نے پوری طرح انسان تک پہنچا بھی دیے اور وہ احکام جس جس معاملے سے بھی متعلق تھے، ان کی عملی صورت گری (Practical Modelling) بھی بتا، دکھا اور سکھا دی. ان ہی احکام میں سے ایک ”اسلامی ریاست کے قیام کی جدوجہد“ بھی ہے… یہ حکم الہی ہے اور اس کوشش کو کرنا ہی دراصل ”انعام الہی“ ہے.. اور اس انعام کا حقدار وہی ہو گا جو اس کا بیڑا اٹھائے گا، خواہ وہ اس کوشش میں کامیاب ہو جائے یا ناکام…

غلط فہمی تب پیدا ہوتی ہے جب انسان انعام (Blessing) کا معنی اسی مادی دنیا میں کسی جزاء (Reward) کو سمجھ لیتا ہے. دنیا میں کسی بھی معاملے میں کامیابی کا لازمی مطلب یہ نہیں ہوتا کہ اس کامیابی کے حصول میں جو راستہ اور طریقہ (Process) اختیار کیا گیا ہے، وہ حکم الہی یعنی کتاب و سنت پر ہی مبنی ہوتا ہے. دنیا میں کتنے ہی افراد/گروہ ایسے ہیں جو حکم الہی کے خلاف چل کر دنیا میں کامیاب نظر آتے ہیں اور کتنے ہی ایسے افراد/گروہ ایسے ہیں جو حکم الہی کی پیروی کرنے کے باوجود دنیا میں ناکام نظر آتے ہیں، لہذا اصل ”انعام الہی“ وہی ہے جو ”حکم الہی“ ہے. اور ”اسلامی ریاست کے قیام کی شعوری کوشش“ کا حکم الہی بھی انعام الہی ہی ہے. اس انعام کا حقدار وہی ہوتا ہے جو اس حکم الہی کی پیروی کرے، قطع نظر اس کے کہ وہ اس پیروی کے نتیجے میں اس دنیا میں ناکام ہو یا کامیاب.

دوسری غلط فہمی کسی چیز کا خود بخود وقوع پذیر (Spontaneous Occurrence) کا تصور ہے. اس غلط تصور کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ جو لوگ پانی پینے جیسے معمولی کام کے لیے بھی شعوری کوشش کو لازمی (Must) سمجھتے ہیں، وہ اسلامی ریاست کے قیام کے بارے میں یہ تصور رکھتے ہیں کہ یہ کام خود بخود ہو جائے گا. وہ یہ بھول جاتے ہیں یا پھر جان بوجھ کر بھولے بن جاتے ہیں کہ دنیا دار الاسباب ہے اور اس میں بسنے والے انسان کے لیے اللہ کی سنت یہ ہے کہ انسان کو وہی کچھ ملے گا جس کی وہ کوشش کرے گا. اب پانی پینے سے لے کر شادی کے انتظامات تک، انگلینڈ اور فرانس کے ویزے لگوانے سے لے کر امارات کی کسی مسجد میں مولوی کی ملازمت حاصل کرنے تک، اور جان کے مصنوعی خطرے سے ڈر کر کینیڈا و ملائشیا بھاگ جانے کے لیے تو شعوری کوشش کو فرض مانا جائے لیکن جس کام کا حکم اللہ نے اپنی کتاب میں دیا ہو اور جسے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک طویل اور جاں گسل جدوجہد کے ذریعے کر کے دکھایا ہو، اس کے بارے میں یہ خیال کرنا کہ وہ خود بخود ہو جائے گا، کوئی ذی شعور تسلیم نہیں کر سکتا.

وسیم گل

وسیم گل چین میں شعبہ اتصالات سے وابستہ ہیں اور ایریکسن کمپنی کی مختلف اسائنمنٹس کے سلسلے میں دنیا کے مختلف ممالک میں خدمات سرانجام دیتے ہیں۔ دلیل کے مستقل لکھاری ہیں

فیس بک تبصرے

تبصرے

Protected by WP Anti Spam