عورت کا گھر کون سا؟ شہر بانو

بیٹی اپنے گھر کو جنت بنا دینا، ہماری عزت پہ آنچ نہ آنے دینا، باپ کا سر شرم سے مت جھکانا، اس طرح کے ایسے کئی جملے جو ایک مشرقی معاشرے میں بیٹی کو رخصتی سے پہلے سنائے جاتے ہیں، یا سمجھے تو اس کا مائنڈ سیٹ کیا جاتا ہے کہ شادی کے بعد اس کا اصل مقام اس کے شوہر کا گھر اور اس کا سسرال ہی ہوگا، میکہ جو اس کی پیدائش سے لے کر جوانی تک کا سائبان تھا، اک شادی کے بعد وہ مکمل بیگانہ بنادیا جاتا ہے، جہان بس وہ بعد میں کچھ دنوں کی مہمان یا چند گھنٹوں کی مہمان ہی بن کر جاسکتی ہے.

شادی کے بعد سسرال ہی اس کا اصل ٹھکانہ ہے، بس پھر وہ اس نئے مسکن کو اپنا گھر بنانے میں دن رات ایک کر جاتی ہے، نئے لوگوں کو اپنا بنانے میں سالوں گزر جاتے ہیں، اور جس کاغذی رشتے کے ساتھ وہ خونی رشتے بنائے چلی جاتی ہے. وہ ہی رشتہ اگر اس کے لیے بس اک برائے نام کا ہی رہ جائے تو پھر؟
جو اس کی عزت قدر کو اک پاؤں کی جوتی سے بڑھ کر کچھ نہ سمجھے تو؟
جو بس اپنی زمہ داریاں ہی نبھاتا چلا جائے، اولاد کی پرورش عورت کی ذمہ داری اور کمانا مرد کی زمہ داری ہوتی ہے، مگر ان ذمہ داریوں میں وہ کھو جانے والے لمحات احساسات خوشیاں کیا دوبارہ حاصل ہو سکتی ہیں؟

عورت کبھی بھی اپنا پیار سے سینچا گھر خراب نہیں کرسکتی مگر کبھی کبھار حالات ایسے ہوجاتے ہیں کہ وہ سب کچھ تباہ کرنے کے دہانے پہ ہوتی ہے، مگر اس وقت اس کو اپنی اولاد نظر آتی ہے، جس کو اس نے اس دنیا میں لا کر فخرمحسوس کیا تھا کہ وہ اب اک ماں کے مقام پر فائز ہوچکی ہے، اور وہ پھر ایک بےبس لاچار عورت کے روپ میں آکر خاموشی سے واپس اک کمزور ماں کے مقام پر چلی جاتی ہے، جہاں اس کو اپنی اولاد سے زیادہ کوئی عزیز نہیں، نہ عزت نفس نہ کوئی انا، اور جب یہ ہی اولاد بڑا ہو کر اس کو کہہ دے کہ ماں اب میں تم کو اپنے پاس نہیں رکھ سکتا، میری فیملی لائف ڈسٹرب ہو رہی ہے، تو اس عورت کے لیے کون سا گھر اس کا اپنا ہوگا، نہ میکہ جو کبھی اس کا تھا ہی نہیں، نہ سسرال جس کو اپنا گھر بنانے میں عمر بیتی، اور اب بیٹے کا گھر بن چکا وہ، تو آخر کار عورت کا گھر ہے کون سا؟

شاید اللہ تعالی نے عورت کو اس درجے پہ فائز کر دیا ہے، جدھر یہ دنیاوی ٹھکانے فضول ہیں، شاید اس کے لیے جنت میں کوئی محل ہی بنا دیا گیا ہوگا، یا قبر ہی اس کا اصل ٹھکانہ ہوگی؟

ٹیگز
WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */