باتیں کروڑوں کی اور دکان پکوڑوں کی - ساجد ناموس

اسلامی جمہوری اتحاد کے پلیٹ فارم پر جب انتخابی ٹکٹوں کی تقسیم کا عمل شروع ہوا، تو اس وقت کے امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمد نے نوازشریف سے کہا کہ میاں صاحب ایسے لوگوں کو ٹکٹ دیے جائیں جو آئین کی دفعہ 62 اور 63 پر پورے اترتے ہوں، تو میاں صاحب بے ساختہ بولے کہ پھر تو سارے ٹکٹ جماعت اسلامی کے امیدواروں کے دینے پڑیں گے۔ 26 سال کے بعد اسی بات کی بازگشت ملک کے معتبر ادارے کی جانب سے سنائی دی، جب سپریم کورٹ میں پانامہ کیس کی سماعت کے دوران بینچ کے سربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیے کہ اگر 62 اور 63 کی دفعات پر عمل کیا تو پارلیمنٹ میں صرف امیر جماعت اسلامی سراج الحق ہی بچیں گے۔

جماعت اسلامی کے کھرے کردار کے اپنے اور پرائے سب معترف ہیں، اس کی امانت و دیانت اور خدمت کی سب گواہی دیتے ہیں، اور اس نے تاریخی تعامل سے یہ ثابت بھی کیا ہے. اس کے وابستگان کے نام پانامہ و دبئی سمیت کسی لیکس میں نہیں ہیں، پلاٹ لینے اور قرض معاف کرانے والوں میں بھی وہ شامل نہیں، کرپشن و کمیشن مافیا میں بھی کسی جگہ ان کا نام نہیں آتا، بھتہ و چائنا کٹنگ سے بھی اس کے لوگ نا آشنا ہیں. ہاں جب جب عوامی خدمت کا موقع ملے تو سراج الحق کی بہترین فنانشل مینجمنٹ کا اعتراف عالمی ادارے اور اسحق ڈار کرتے ہیں، عنایت اللہ خان کے بہترین وزیر ہونے کی گواہی عمران خان دیتے ہیں، گیلپ کہتا ہے کہ سیاسی جماعتوں میں داخلی جمہوریت میں اس کا اول نمبر ہے اور پارلیمانی کارکردگی میں اس کے ممبران 4 ہونے کے باوجود سب پر بھاری ہیں.گیلپ گزشتہ 20 سالوں کی کارکردگی کا جائزہ لیتا ہے تو لیاقت بلوچ بہترین پارلیمنٹرین قرار پاتے ہیں، ڈاکٹر فرید احمد پراچہ 2002ء سے 2007ء سب سے متحرک ممبر کے طور پر سامنے آتے ہیں، پروفیسر خورشید احمد اور پروفیسر ابراہیم خان کا نام کارکردگی کے اعتبار سے سب سے بہترین سینیٹرز بالترتیب پہلے اور دوسرے نمبر پر آتا ہے. نعمت اللہ خان میئر کراچی بنیں تو اربوں کا بجٹ اپنے تصرف میں ہونے کے باوجود کرپشن چھوڑیں، طے شدہ تنخواہ تک نہیں لیتے۔ ملک میں کوئی ناگہانی آفت سیلاب، زلزلہ وغیرہ آجائے تو جماعت کے کارکنان سب سے پہلے وہاں پہنچتے ہیں اور سب سے آخر میں نکلتے ہیں۔ اس کردار کا بھی کھلے دل سے اعتراف کیا جاتا ہے. معاملہ ملکی سالمیت کا ہو تو پتہ چلتا ہے کہ اس جرم میں ملکی سطح کی قیادت کو پھانسی کے پھندوں پر لٹکادیاجاتا ہے۔

یہ سب باتیں درست اور اعترافات خوش آئند لیکن اس سب کے بعد اکثر لوگ سوال کرتے ہیں کہ انتخابی معرکے میں جماعت کو کامیابی کیوں نہیں ملتی؟
گزارش یہ ہے کہ ہم جس سماج میں رہتے ہیں اس میں کردار اور اخلاق اب ثانوی چیزیں بن کر رہ گئی ہیں، معاشرے میں سب سے زیادہ اولیت جس چیز کو دی جاتی ہے، وہ ہے پیسہ اور طاقت، عوام خود ”اسٹیٹس کو“ کو پسند کرتی ہے اور اس کی سب سے بڑی محافظ بھی ہے، اب دیکھیں نا، جس امیدوار کے پاس بڑی گاڑی نہ ہو، سکیورٹی کے لوگ نہ ہوں، ہٹو بچو کی آوازیں اور زندہ باد کے نعرے نہ ہوں، تو وہ لیڈر تو نہ ہوا، وہ تو ہماری طرح کا مینگو پیپل ٹھہرا، اب مینگو پیپل کو تو اوپر لانے سے رہے، کیونکہ ہم اس سماج میں رہتے ہیں جو اپنے بچوں کے رشتوں میں پیسے اور عہدے کو ہی اولیت دیتا ہے۔ رہ گیا اخلاق و کردار تو اس کے لیے ایک سے ایک تاویل گھڑ لی جاتی ہے۔

اب ذرا سوچیں جو معاشرہ اپنی قیمتی ترین متاع حیات یعنی اپنے بچوں کے لیے کردار اور اخلاق ، امانت و دیانت کے بجائے طاقت اور روپیہ پیسہ کا انتخاب کرتا ہو، اس سے یہ توقع رکھنا کہ وہ ملکی معاملات ایسے لوگوں کے حوالے کرے گاجو ایماندار، بلند کردار اور اچھے اخلاق کے حامل ہوں، سادگی اور بےوقوفی نہیں تو اور کیا ہے۔
عوام اچھے اخلاق کو سراہتے ہیں اور بلند کردار پر ستائش کرتے ہیں، لیکن ووٹ اسی کو دیا جائے گا جو طاقتور ہو، چاہے ظالم ہی کیوں نہ ہو. ووٹ اسی کو دیں گے جس کے پاس دولت ہو، چاہے وہ پیسہ اسی عوام سے ہی لوٹا ہوا کیوں نہ ہو۔ ووٹ اسی کو دیا جائے گا جو صرف انتخابات کے ایام میں ہی نظر آئے گا، اس کو نہیں جو ان کی طرح گلی محلوں میں رہتا اورگھومتا ہو۔

اب ذرا دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں!
جو بندہ خود مڈل کلاس کا ہو، امانت و دیانت کا پیکر ہو، لیکن رہتا پانچ مرلے کے مکان میں ہو، چلاتا بائیک ہو اور وعدہ کرے کہ ملکی معاملات کو وہ اور اس کے ساتھی ٹھیک کردیں گے، ترقی کا پہیہ پوری قوت سے گھومے گا، بےروزگاری ختم اور تعلیم کی شرح سو فیصد ہوگی، قانون سب کے لیے برابر ہوگا، کوئی ظلم نہیں کرسکے گا، کرپشن کا خاتمہ ہوگا، صلاحیت کو پروان چڑھائیں گے، اقربا پروری ختم ہوگی، تو سننے والا زیر لب مسکراتے اور جاتے ہوئے کہتا ہے، باتیں کروڑوں کی اور دکان پکوڑوں کی۔

Comments

ساجد ناموس

ساجد ناموس

ساجد ناموس دشتِ صحافت کے سیاح ہیں۔ دنیا نیوز سے بطور اسائنمنٹ ایڈیٹر وابستہ ہیں۔ جامعہ پنجاب کے شعبہ ابلاغ عامہ کے گریجویٹ سیاسی میدان کی خاک بھی چھانتے رہے۔ کاٹ دار جملے اور نوک دار الفاظ تحریر کا خاصہ ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */