میں اس جمعیت کا ناظم تھا (آخری قسط) - اقبال شاہد

ناقدین جتنا بھی کہیں کہ گلاس آدھا خالی ہے، ہم اتنا ہی تسلی کروائیں گے کہ یہ آدھا بھرا ہوا ہے، کیونکہ یہ اختلاف سوچ اور اپروچ کا ہے، اور یہی اس انسانی معاشرے کا حسن ہے. اشفاق احمد صاحب فرماتے تھے کہ ہم ماضی میں رہنے والے لوگ ہیں اور لگتا ہے آپ بھی ماضی کے کسی رنجش کو لے کر بیٹھے ہوئے ہیں، اور اس کو بھول نہیں پا رہے ہیں.
تیرے قبیلے کے عمر رسیدہ لوگ
جانے کیوں رنجشیں جوان رکھتے ہیں

گستاخ انگریز کے مقابلے میں اپنے آنکھوں دیکھے حال کو تاریخ کی سچائی کے طور پر لکھا گیا مگر یاد رکھیے کہ مؤرخ گستاخ انگریز ہو یا کوئی غیر اسلامی انتہا پسند، وہ جمعیت یا اسلام کے نام پر بننے والی ہر تنظیم کی کردار کشی کو اپنا حق سمجھتا ہے. لیکن یہاں جمعیت اور طلبہ تنظیموں کے نام پر اسلامی یونیورسٹی جیسے معتبر ادارے کے تشخص کو خراب کرنے کی کوشش کی تلافی شاید ممکن ہی نہ ہو.

جمیعت کی تاسیس پہ سوال اٹھایا گیا کہ اس نے ملک کو دیا کیا؟ اور پھر جانے بغیر فیصلہ صادر فرما دیا گیا کہ صرف جمعیت ہی نہیں بلکہ اسلام کے نام پر بننے والے ہر طلبہ تنظیم با عث خیر نہیں، یہ مافیا کا روپ دھار چکے ہیں، تعلیمی اداروں میں فسطائیت کی نشانی اور گھٹن کا سبب ہیں، بزرگوں نے ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے صرف جمعیت کی اقدار سے دوری کا گلہ کیا تھا مگر یہاں شعور کی پختگی کے ساتھ اس کے وجود کو ہی خرابی کا باعث قرار دے دیا گیا.

یہ جمعیت کی خوش بختی ہے کہ اس کے یوم تاسیس پر اپنے اور بیگانے، سب قلم کمان اٹھا لیتے ہیں، ورنہ دوسری طلبہ تنظیموں کے یوم تاسیس تو کیا، ان کے نام بھی شاید کسی کو معلوم نہ ہوں. تعلیمی اداروں میں فسطائیت کی نشانی اور گھٹن کا سبب یہ طلبہ تنظیمیں نہیں ہیں، بعض لوگ اپنی خواہشات کے پورا نہ ہونے کو دوسروں کی زبردستی سمجھ بیٹھتے ہیں. راقم الحروف نے اسلامی یونیورسٹی کے بعد تین مزید یونیورسٹیز سے تعلیم حاصل کی ہے، فرق بس اتنا ہے کہ وہاں مخلوط نظام تعلیم اور ناچ گانے کے پروگرام ہوتے ہیں اور اسلامی یونیورسٹی میں اس کے متبادل کے طور پر کلچرل ویک منایا جاتا ہے جس کی مثال پورے پاکستان میں کہیں بھی نہیں ملتی، بہرکیف مخلوط نظام تعلیم نہ ہونے کی وجہ سے کسی کو گھٹن محسوس ہوئی ہو تو اس کی ذمہ داری جمعیت پر نہیں ڈالی جا سکتی، کیونکہ یونیورسٹی کی بنیاد رکھنے کے ساتھ ہی اس کے کیمپس علیحدہ بنا دیے گئے تھے، آنے اور لے جانےوالی بسوں کے علاوہ راستے بھی علیحدہ تھے. جمعیت کے زیراہتمام سالانہ محفل مشاعرہ، ویلکم پارٹیز، دروس قرآن، سرکل سٹڈیز، سیمسٹر سپورٹس گالا، استقبال رمضان، سیرت النبی سمیت لاتعداد پروگرامز میں شرکت کرکے گھٹن دور کی جا سکتی تھی. شکر ہے کہ یونیورسٹی میں گھٹن کی طرح پاکستانی فلم انڈسٹری کی ناکامی کی ذمہ داری بھی طلبہ بالخصوص اسلامی تنظیموں پر نہیں ڈالی گئی.

بزرگوں کا گلہ درست ہے مگر انھیں یہ بات سمجھنی ہوگی کہ اقدار اور اقتدار دائم رہنے والی چیزیں نہیں ہیں، ٹھنڈی آہ بھرنے اور اعتراض کرنے سے پہلے بزرگ یہ سوچیں کہ ہم دے کر کیا گئے ہیں. شعور کی پختگی کے ساتھ طلبہ تنظیموں کے وجود کے خاتمے کا فیصلہ سنانے پر عمران خان صاحب کا مشہور بیان ہی (تھوڑی سی تبدیلی کے ساتھ) حوالے کے طور پر پیش خدمت ہے کہ اس عمر (بہت پختگی) میں انسان کا دماغ کام چھوڑ جاتا ہے. مگر ﮐﺒھﯽ ﻣﺎیوس ﻣﺖ ہوﻧﺎ،
ﺍﻧﺪھیرﺍ ﮐﺘﻨﺎ گہرا ہو،
ﺳﺤﺮ ﮐﯽ راہ میں حائل،
کبھی بھی ہو نہیں ﺳﮑﺘﺎ،
ﺳﻮیرا ہو کے رہتا ہے،

طلبہ تنظیموں پر پابندی مسئلے کا حل نہیں ہے، اگر کسی کے مطالبے پر انھیں ختم کر دیا جائے تو پھر یہ یاد رکھنا چاہیے کہ دھرنوں میں انسانوں کو تو راتوں کو جگایا جا سکتا ہے مگر ان کے شعور کو نہیں، وہ اس قیدی کی طرح ہو جاتے ہیں جنھیں اپنی زنجیروں سے محبت ہوجاتی ہے. اس نظام تعلیم کی بنیاد پر اچھے نوکر تو پیدا کیے جا سکتے ہیں مگر اچھی اور باشعور قیادت نہیں. اس طرح تو کہا جا سکتا ہے کہ انسان کو ہی کرہ ارض پر نہیں ہونا چاہیے کہ خرابی اس کے وجود میں ہے. یہ پیدا ہوتا نہ یہ فساد ہوتے.

ناقدین مافیا کی بات کرتے ہیں تو گزارش ہے کہ اگر طلبہ تنظیمیں بالخصوص جمعیت مافیا کی شکل اختیار کرچکی ہوتی تو آج ہر کوئی منہ اٹھا کر اس کے خلاف نہ لکھتا، بلکہ لوگ کراچی کے نامعلوم افراد کی طرح ان کا نام لینے سے بھی ڈرتے. انگریزی محاورے Opposition Oppose everything and propose nothing والا کام نہ کیا جائے بلکہ مشورہ دیا جائے کہ کس طرح ان تنظیموں کو مثبت کاموں اور سرگرمیوں کےلیے استعمال کیا جا سکتا ہے.

یہ اعتراض کہ میس چلانے میں معیشت کے امکانات چھپے ہوتے ہیں، اس کا جواب تو پہلی قسط میں سوالات کی صورت میں دے دیا گیا تھا، یہاں اس پہلو کا تذکرہ مفید رہےگا کہ اسلامی یونیورسٹی میں اس وقت میس رضاکارانہ طور پر چلائے جاتے تھے. میس کمیٹی میس مینیجر، کوالٹی اور اکاؤنٹنٹ پہ مشتمل ہوتی تھی، ہاؤس ٹیوٹر اس کا انچارج ہوتا تھا اور یونیورسٹی کا ایک ملازم خریداری کا ذمہ دار ہوتا تھا، بینک چیک کے ذریعے دکاندروں کو رقم کی ادائیگی ہوتی تھی. طلبہ کا کردار اس میں اتنا ہوتا تھا کہ ایک تو کوالٹی کو کم پیسوں میں یقینی بنایا جا سکے، اور دوسرا خریدی جانے والی چیزوں کے قیمتوں کا موازنہ کرنا کہ کہیں مارکیٹ سے زیادہ قیمت میں تو نہیں خریدی جاتیں. اس کمیٹی کے انتخاب کا طریق کار پروسٹ طے کرتا تھا، طلبہ سے سنیارٹی اور اچھی ساکھ والے طلبہ کی لسٹیں مانگ کر کمیٹی بنائی جاتی تھی نہ کہ تنظیموں کی بنیاد پر، بہرکیف اگر اس میں کسی بھی تنظیم کی معیشت کے امکانات چھپے ہوتے ہیں تو میرے پاس 19 میس مینیجرز، 6 ہاؤس ٹیوٹرز، 2 ہاسٹل ایڈمن آفیسرز کی فہرست موجود ہے، اور ماشاءللہ یونیورسٹی بھی، تو کبھی وقت نکالیں تاکہ اس پر ایک شو کا انعقاد کیا جا سکے. اس سے زیادہ خوشی کیا ہوگی کہ ان طلبہ تنظیموں کے ساتھ کرپٹ انتظامیہ کو بھی احتساب کے دائرے میں لایا جائے. اطلاعا عرض ہے کہ جمعیت کو پیسے جمع کرنے کا شوق ہوتا تو 2003ء کے سالانہ ٹرپ سے واپسی پر سب طلبہ کو فی کس 700 روپے واپس نہ کیے جاتے.

یہ اعتراض کہ چندے کے نام پر بھتہ لیا جاتا ہے، اور جو بھتہ نہ دے، مختلف طریقوں سے اس کا جینا حرام کر دیا جاتا ہے، تو ذہن میں رہنا چاہیے کہ یہ طلبہ تنظیمیں ہیں، ایم کیو ایم نہیں، ورنہ اچھے اچھوں کی طرح نام لیتے پاؤں کانپ رہے ہوتے. الزام لگانے کے ساتھ یہ نہیں بتایا گیا کہ بھتہ سے کیا کام کرتے تھے؟ کیا جمعیت یا پھر بھائی لوگوں نے کوئی اثاثے بھی خریدے کہ نہیں؟ اور بھتہ وصولی کا کوئی ثبوت یا بس لکھ اور کہہ دینا کافی ہے. اس پر صرف اتنا کہا جا سکتاہے کہ یہ جمعیت ہے، کوئی مریم یا بلاول کے پاپا کے کاروبار نہیں. الزام لگانے والوں کے پاس بھتہ لینے کے شاید ثبوت نہ ہو اور ”مردوں کا آسمان تلے نام رہ گیا“ کے مصداق کوئی ایسا بندہ نہ ہو جو ہمت کرکے گواہی دے سکے، لیکن میں اقبال جرم کرنے کے لیے تیار ہوں کہ جمعیت والے اب بھی چندہ، اور بقول کسے ”بھتہ“ لیتے ہیں مگر قلم کی نوک پر، پس و پیش تو بلیک میل بھی کرتے ہیں، مگر یقین کیجیے کہ جب یہ لینے نہیں آتے تو میں خود یونیورسٹی دینے جاتا ہوں. میرے پاس ان تمام افراد کی لسٹ موجود ہے جن سے ہم معاونت کی مد میں اعانت لیتے تھے اور کوئی چاہے تو کسی بھی وقت آڈٹ رپورٹ لے سکتا ہے بمع تفصیلات کہ پیسہ آیا کہاں سے اور خرچ کہاں ہوا؟ اور یہ جان کر خوشی ہوگی کہ اس میں کسی قطری شہزادے کا خط ہوگا نہ دادا جان کی وصیت. طلبہ کیا، سیاسی تنظیموں میں بھی سوائے جماعت اسلامی کے، کسی کے ہاں آڈٹ کا رواج نہیں ہے، مگر جمعیت کے مرکز سے لے کر چھوٹے یونٹ تک باقاعدہ آڈٹ ہوتا ہے اور آمدن و خرچ کا حساب رکھا جاتا ہے. جمعیت کا وجود اور کردار تو ایک نعمت تھا اور ہے کہ وہ اپنے سابقین و معاونین سے پیسے لیتی ہے اور طلبہ پر خرچ کرتی ہے. یونیورسٹی کے موجودہ دو دو پروفیسرز جمعیت کے شعبہ امداد طلبہ کے تحت اس ناچیز ناظم بھائی کے دور میں پڑھ چکے ہیں، اور ایسی لاتعداد مثالیں ہیں. جمعیت کا اصل کردار یہ ہے، وہ نہیں جو ناقد سمجھتے ہیں، بہرکیف ڈر اور وہم کا علاج تو لقمان حکیم کے پاس بھی نہیں تھا.

یہ کہنا کہ ہاسٹلوں میں ٹی وی رکھنا حرام ہے، اور ڈاکٹر محمود غازی صاحب (مرحوم و مغفور) کا حوالہ کہ جمعیت نے TV رکھنے پہ پابندی لگائی ہوئی تھی، جس کا مطلب یہ ہے کہ جمعیت اس میں رکاوٹ تھی. یہ شاید اس وقت کی بات ہوگی جب ہمارے بزرگ گھروں میں بھی رکھنے کی اجازت نہیں دیتے تھے. یونیورسٹی کے پرانے طلبہ جانتے ہیں کہ جمعیت میچز کے لیے TV کرائے پر لاتی تھی اور کویت ہوسٹل کے کیفےٹیریا میں سب طلبہ مل کر ا نجوائے کرتے تھے. یہ طب کی بات ہے جب ٹی وی اتنا عام نہیں ہوا تھا اور وی سی آر اور ٹی وی کرائے پر ملتے تھے. بدلتے وقت کے ساتھ ساتھ لوگ بھی بدلتے گئے اور اقدار بھی، ڈاکٹر عبدالجبار صاحب نے ہاسٹل نمبر 2 (موجودہ عمر بلاک) میں میٹنگ بلائی تو یہ ناچیز بطور ناظم اس میں شریک ہوا. انھوں نے بتایا کہ ہم رکھنا چاہ رہے ہیں، مگر سنا ہے کہ جمعیت والے نہیں رکھنے دے رہے، تو میں نے جوابا عرض کیا کہ یہ شاید ماضی کی بات ہو، آپ لے آئیے، یہ وقت کا تقاضا ہے، مگر رولز بنا لیجیے، کہیں ایسا نہ ہو کہ چینل بدلنے پر بھی لڑائیاں ہو رہی ہوں. اور اب ٹی وی رکھے ہوئے ہیں، لہٰذا اس پر اعتراض چہ معنی دارد. ڈاکٹر محمود غازی صاحب سے ایک اور سوال بھی کر لیا جاتا تو بات واضح ہو جاتی کہ جمعیت تو سیلف فنانس اور ہاسٹل میں سمر فیس سمیت باقی پروگرامز کی سیمسٹر فیسسوں میں اضافے کے خلاف تھی، اس نے جلسے کیے، احتجاج کیا تو پھر کیوں یونیورسٹی نے اس کی نہیں مانی؟ حقیقت یہ ہے کہ اقتدار اور عہدے والا صرف وہی کرتا ہے جس میں اس کا فائدہ ہو.

اگر کسی زمانے میں TV دیکھنے کے لیے کسی کو یونیورسٹی سے باہر جانا پڑا، اور آج بھی اس پر احتجاج ریکارڈ کروایا جا رہا ہے، کیونکہ اس میں جمعیت کا منفی پہلو سامنے آتا ہے، (اگرچہ ہے حقیقت کے برعکس جیسا کہ اوپر ذکر کیا) مگر جب پانی نہیں تھا اور لوگ لان سے لوٹوں میں پانی لے کر جاتے تھے، واش روم/ٹوائلٹ میں لوگ صرف اس انتظار میں ہوتے تھے کہ شاید کوئی آئے اور ایک پیپر دے دے تاکہ نکل تو سکیں، موبائل نہیں تھا اور مدد کے لیے کسی کو بلانا ممکن نہیں تھا، نوجوان نہانے کو ترس گئے تھے، بجلی نہیں تھی، روزانہ ایک وقت کا کھانا کھانے کے لیے ایک طرف سے 2/3 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرکے جانا پڑتا تھا، طالب علم روزانہ ٹیکسی والوں سے قیمتوں پر جھگڑے کر رہے ہوتے تھے، مگر ناقد تو صرف جمعیت کا ناقد ہے، اس پر آخر کیوں بات کرے گا کہ جمعیت کی تعریف کا پہلو نکل آئے گا. CDA اور یونیورسٹی کو 6 گھنٹے کے طویل احتجاج کے بعد مذاکرات پر آمادہ کیا اور ہوسٹل کے کمرے میں ان کا بجلی اور پانی کا ایگریمنٹ کرا کے ہی فارغ کیا، ناقدین کو شاید سنننے اور دیکھنے کا اتفاق نہ ہوا ہوگا مگر زیرو پواینٹ پہ اس تاریخی احتجاج کے بہت گواہان مل جا ئیں گے. احتجاج کے ذریعے ہی CDA سے زمین حاصل کی گئی جس پر ہوٹلز بنے اور ناقدین سمیت وہاں آکر سگریٹ کے کش لینے والوں نے ناظم اور بھائی لوگوں کی برائی کی ہوگی کہ اچھا بھلا 2/3 کلومیٹر کاسفر کرکے کھانے کے لیے جاتے تھے، منہ ہاتھ دھونے سے جان چھوٹی ہوئی تھی، بجلی نہ ہونے کی وجہ سے پڑھائی نہیں کرنی پڑتی تھی اور لان میں بیٹھ کر گپ شپ لگانے کا موقع ملتا تھا، لیکن ان کی بھائی گیری کی وجہ سے یہ سب مسائل حل ہوگئے. یہی ان طلبہ تنظیموں کا مثبت کردار ہے جو ناقدین کو نظر نہیں آتا. اسی سے مستقبل کے لیے معاشرے کے مختلف طبقات کے لیے لیڈرز اور اچھے مینیجرز پیدا ہوتے ہیں، مگر اس پہلو پر کیونکر بات کی جائے کہ یہ سب مسائل تو جمعیت نے حل کروائے، اسی جمعیت نے جسے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور سنا جاتا ہے.

ہاسٹلز پر قبضے کے الزام کو فضول ہی کہا جا سکتا ہے کیونکہ یہ ایک ہی شعبہ تھا جو پروسٹ استاد محترم الدکتور شرف الدین اور قاری باری صاحب کی ایمانداری کی وجہ سے صاف و شفاف طریق کار کے ساتھ چلتا رہا اور جن کے سامنے عام طالب عالم اور ناظم بھائی میں کوئی تفریق نہ تھی. اس پر تو یہی کہا جا سکتا ہے کہ ”جو بات کی خدا کی قسم لاجواب کی.“

استاد محترم پروفیسر عاطف کے حوالے سے مذکورہ سکینڈل میں خود ہی رات گزارنے والی خواتین کا ذکر کیا گیا اور وہی بتایا گیا جو 2003ء میں سنا تھا کہ وہ ان کی ماں اور بہن ہی تھیں. حقیقت اس کی یہ ہے کہ جمعیت نے اس بات پر کوئی پریس کانفرنس کی نہ کوئی جلسہ جلوس، قوانین کی خلاف ورزی پر بس یونیورسٹی انتظامیہ کی توجہ دلائی تاکہ اس طرح کے اقدامات کی حوصلہ شکنی کی جا سکے، کہیں ایسا نہ ہو کہ کل دیگر یونیورسٹیز کی طرح اسلامی یونیورسٹی کا تشخص بھی خطرے میں ہو اور جو ماں باپ آنکھیں بند کر کے اپنی بیٹیوں کو حصول تعلیم کے لیے یہاں بھیجتے ہیں، انھیں اپنے فیصلے پر شرمندگی کا سامنا نہ کرنا پڑے. بحیثیت پروفیسر ان کو خود ان باتوں کا خیال رکھنا چاہیے تھا کہ کہیں طلبہ اس کو حوالہ بنا کر اپنی ”ماؤں“ کو لے کر نہ آنا شروع کر دیں.

لڑائی جھگڑے سے جمعیت کے وابستگان کو بھی اتنی ہی نفرت ہےجتنی کسی اور کو ہو سکتی ہے. خونی لکیر والی جس لڑائی کا ذکر کیا گیا، اور اسے جمعیت کے خلاف استعمال کیا گیا ہے، المیہ یہ ہے کہ وہ خون کی لکیر لا ڈیپارٹمنٹ کے آخری سیمسٹر کے طالب علم اور جمعیت کے کارکن کی تھی، جو پمز ہسپتال میں پڑا تھا، اس کی FIR اور ابتدائی کارروائی رپورٹ فراہم کی جا سکتی ہے. اس کے بعد البتہ جو ہوا، اس پر حیران ہونے کی ضرورت نہیں کیوں کہ اس طرح کے معاملات میں ریوڑیاں نہیں بانٹی جاتیں، دونوں طرف اگر جوان خون ہو تو اور بھی مشکل ہو جاتا ہے. جب کوئی چیز مسلط کردی جائے تو پھر عدم تشدد کے فلسفے کا پرچار ممکن نہیں رہتا. اس کے باوجود بطور سابق ناظم کے میری یہ رائے ہے کہ یہ کوئی قابل تعریف واقعہ نہیں تھا، اور جمعیت اور یونیورسٹی انتظامیہ کو اس جیسے واقعات کے تدارک کے لیے عملی اقدامات کرنے چاہییں.

ان ڈور گیمز، اور حمد و نعت کے پروگرام کی پیشگی اجازت، اور اجازت نہ لینے اور نہ بلانے پر اسلام کے خطرے کی بات بھی کی گئی، بس یہی فرق ہوتا ہے جب طالب علم صرف کتاب کا علم حاصل کر کے اسکالر بن جاتا ہے مگر معلومات سے اتنا عاری ہوتا ہے جتنا کہ بالعموم ناقدین ہیں. کسی بھی پروگرام کے لیے یونیورسٹی انتظامیہ سے پیشگی اجازت لینی پڑتی تھی، اور اجازت بھی صرف طالب علموں کو ہی ملتی تھی. اجازت کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ کی طرف سے سیکورٹی گارڈز اور انفارمر جبکہ ملک و قوم کی خدمت کرنے والے خفیہ اداروں کے لوگ بھی شریک ہوتے تھے. یہاں اس بات کا تذکرہ مفید رہے گا کہ ان ڈور گیمز کے لیے ہاسٹل میں کامن رومز کو اس مقصد کے لیے مخصوص کر دیا گیا تھا، وہ بھی اس ناچیز ناظم بھائی کے مشورے پر، جہاں خود ناظم بھائی بھی شطرنج کھیلنے جاتے تھے. ہوسٹلز کے نام کی تجویز بھی اس ناظم بھائی بلکہ بھائی لوگوں کی تھی. ناظم بھائی بھی ایک طالب علم اور انسان ہی تھے، لہذا بمشکل جمعیت کے پروگرام میں شرکت ہوتی تھی ورنہ وہاں بھی کسی نمائندے کو بھیج دیتے تھے، لہٰذا دوسروں کے پروگرامات میں شرکت پر میں صرف یہی کہا جا سکتا ہے کہ ”پیر کسی اور پیر کی بیعت نہیں کرتے“ اور اس سے اسلام کو خطرہ بھی لاحق نہیں ہوتا. مزید معلومات کے لیے عرض ہے کہ اس وقت جمعیت نے تمام طلبہ تنظیموں پر مشتمل متحدہ طلبہ محاذ بنایا ہوا تھا جو ان کے بھائی چارے کا عملی ثبوت تھا. شاید مخبر مصروفیات کے باعث اس حوالے سے مطلع نہ کر سکا ہوگا.

یہ اعتراض کہ جہاں اشرافیہ کے بچے پڑھتے ہیں، وہاں جمعیت کیوں نہیں؟ جماعت اسلامی کے اپنے پرائیویٹ اداروں میں کیوں نہیں؟ یہ اعتراض یا سوال بھی کم علمی پر مبنی ہے، اسلامی جمعیت طلبہ ہر صوبے بشمول کشمیر اور گلگت بلتستان میں موجود ہے لیکن ضروری نہیں اور شاید ممکن بھی نہ ہو کہ ہر تعلیمی ادارے میں نظم موجود ہو، چاہے وہ سرکاری ہوں، اشرافیہ والے ہوں یا جماعت اسلامی والے، مگر ہر جگہ کوشش ضرور کی جاتی ہے، پرائیویٹ اداروں کے لیے الگ سے نظم موجود ہے اور سوسائٹیز کے عنوان سے بھی اور جمعیت کے نام سے بھی کام ہو رہا ہے. جمعیت رہائشی علاقوں اور اسکولز میں کالجز اور یونیورسٹیز سے بھی بڑے حجم پر کام کرتی ہے جہاں ان طلبہ کواسلام کا پیغام پہنچایا جاتا ہے. بیکن ہاؤس اور فروبل کی بات کی گئی تو فروبل کا پہلا طالب علم ملک میں ایک پارٹی کی قیادت سنبھال چکا ہے، بلاول بھٹو زرداری، باقی سمجھ تو گئے ہوں گے.

جمعیت کی پیدا کردہ قیا دت پر یہ اعتراض کہ پیدا ہی کرنے تھے تو سید ابوالاعلیٰ مودودی یا خرم مراد کے پائے کے لوگ پیدا کیے ہوتے. حقیقت یہ ہے کہ ان جیسے لوگو تو صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں. جمعیت کے ساتھ ایک طالب علم 4 سے 6 سال کا اوسط وقت گزارتا ہے، اس کا اصل مقصد پڑھائی ہوتی ہے، جمعیت کا بنیادی کام منسلک لوگوں کی سوچ اور فکر کو اسلامی رخ دینا ہے تاکہ وہ جہاں بھی رہے اپنی حقیقت یعنی اسلام کو نہ بھولیں. اسلامی جمعیت طلبہ سے جانے کے بعد ان کی مرضی ہے کہ وہ پروفیسر خورشید احمد اور سراج الحق کی طرح جماعت اسلامی میں جائیں، جاوید ہاشمی اور احسن اقبال کی طرح مسلم لیگ، یا اعجاز چودھری و دیگر کی تحریک انصاف یا بابر اعوان و دیگر کی طرح پیپلزپارٹی کو پسند کریں، اور بہت سے ہم جیسے جو کسی بھی تحریک یا سیاسی پارٹی کا حصہ نہیں ہیں. اور صرف سیاست نہیں، زندگی کے ہر شعبے میں جمعیت سے جانے والے نمایاں مقام پر موجود ہیں، اور اپنا کردار ادا کر رہے ہیں. جمعیت کے پیدا کردہ یہ افراد چاہے جہاں بھی ہوں، احساس ذمہ داری کا ثبوت دیں گے، بھاگنے والے ہوں گے نہ عدالتوں کے پیچھے چھپنے والے، جمعیت کو چھوڑے 12 سال ہوگئے مگر آج بھی اس دور کے حوالے سے سوال کرے گا، حساب مانگے گا، احتساب کرے گا تو ہم حاضر ہوں گے، پانامہ زدہ قیادت نہیں ہیں جو تاریخ پر تاریخ والا کام کریں. یہ اسلامی جمعیت طلبہ کی تربیت ہی ہے کہ الزامات کا جواب گالیوں سے نہیں دلیل سے دیا ہے.

جمعیت شاید مولانا مودودی اور خرم مراد کے پائے کے لوگ تو پیدا نہ کرے مگر یہ بات یقینی طور پر کہی جا سکتی ہے کہ وہ کم از کم ایسے ناقد نہیں پیدا کرے گی جو شاید اپنی ذاتی خلش اور پسند ناپسند کی بنیاد پر کسی تنظیم یا اپنی مادر علمی اور قابل احترام اساتذہ پر بےبنیاد الزامات لگا کر ان کی کی کردارکشی کریں.

ناقدین سے آخری گزارش کے ساتھ اجازت چاہوں گا کہ آئندہ تحریر کا عنوان یہ دیا کریں ”اسلامی جمعیت طلبہ مخالف تنظیم کی نظر میں“، باقی رہی ہماری بات تو
دیکھو یہ میرے خواب تھے، دیکھو یہ میرے زخم ہیں
میں نے تو سب حساب جاں بر سر عام رکھ دیا

اللہ ہمیں حق کو سننے، سمجھنے اور دیکھنے کی توفیق عطا فرمائے.

پہلی قسط یہاں ملاحظہ کریں

(اقبال شاہد اسلامی جمعیت طلبہ، اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے سابق ناظم ہیں)

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com